بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيْم

اَلْحَمْدُ لِلّهِ رَبِّ الْعَالَمِيْن،وَالصَّلاۃ وَالسَّلامُ عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن۔

سورج اور چاند گرہن اللہ تعالی کی دو اہم نشانیاں
(پوری کائنات مل کر بھی سورج یا چاند کے گرہن کو نہیں روک سکتیں)


دنیا کے مختلف ممالک میں 7/ اگست 2017 کو چاند گرہن اور 21/اگست 2017کو سورج گرہن دیکھا جائے گا۔ سورج یا چاند گرہن کیوں ہوتا ہے؟ اس کے مختلف اسباب ذکر کیے جاتے ہیں۔ سائنسی اعتبار سے کہا جاتا ہے کہ زمین کے گرد چاند گردش کرتا ہے اور چاند زمین کی طرح تاریک ہے ، وہ سورج سے روشنی حاصل کرتا ہے، جب وہ سورج کے گرد گردش کرتے ہوئے سورج اور زمین کے درمیان آجاتا ہے تو سورج کی روشنی زمین پر پہنچنے سے رک جاتی ہے جس سے سورج گرہن واقع ہوتا ہے۔ اور جب زمین درمیان میں آجاتی ہے اور وہ چاند پر روشنی نہیں پڑنے دیتی تو چاند گرہن واقع ہوتا ہے۔ زمانۂ جاہلیت میں سمجھا جاتا تھا کہ کسی شخص کی موت یا کسی بڑے حادثہ پر سورج یا چاند کو گرہن لگتا ہے۔ بر صغیر میں لوگوں کا خیال ہے کہ اس موقعہ پر حاملہ عورتیں چھری وغیرہ کا استعمال نہ کریں کیونکہ سورج یا چاند کے گرہن ہونے کی وجہ سے ان کے پیٹ میں موجود بچے کا ہونٹ وغیرہ کٹ جاتا ہے، حالانکہ حقیقت سے اس کا کوئی بھی تعلق نہیں ہے، نہ شرعی اعتبار سے اور نہ ہی سائنس کے اعتبار سے، یہ صرف لوگوں کا وہم وگمان ہے اور جاہلانہ بات ہے۔ ہمارا یہ ایمان وعقیدہ ہے کہ شریعت اسلامیہ میں زندگی گزارنے کا مکمل طریقہ بیان کیا گیا ہے۔ اگر واقعی اس موقعہ پر حاملہ عورت کے لیے چھری وغیرہ کا استعمال کرنا نقصان دہ ہوتا تو پوری کائنات کے نبی حضرت محمد مصطفیﷺ اللہ کے حکم سے اس کے متعلق احکام ضرور بیان فرماتے۔ ایک مرتبہ آپ ﷺ کی حیات مبارکہ میں جب سورج گرہن ہوا، اسی دن آپﷺ کے صاحبزادے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی اور بعض لوگ یہ کہنے لگے تھے کہ گرہن ان کی موت کی وجہ سے ہوا ہے، تو آپ ﷺ نے اس کی تردید کرکے بیان کیا کہ سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ کسی کی موت کی وجہ سے یہ گرہن نہیں ہوتے۔ نبی اکرم ﷺ نے اس موقع پر لمبی نماز پڑھی۔ نبی اکرمﷺ کی تعلیمات کے مطابق آج تک پوری امت مسلمہ کا یہی معمول ہے کہ اس موقع پر نماز پڑھی جائے، اللہ کا ذکر کیا جائے اور دعاکی جائے۔

دنیا میں ایسا عظیم الشان نظام ہے کہ وقت پر سورج کا طلوع ہونا، غروب ہونا، چاند اور کروڑوں ستاروں کا خلا میں موجود ہونا، ہواؤں کا چلنا، سورج اور چاند سے روشنی کا ملنا، زمین کے اندر بے شمار خزانے اور زمین میں بڑے بڑے پہاڑوں کا موجود ہونا، بادلوں سے بارش کا ہونا، زمین میں پیداواری کی صلاحیت کا ہونا، پھلوں میں طرح طرح کے ذائقہ کا پیدا ہونا، پانی اور آگ کا موجود ہونا، اسی طرح چرندوں ، درندوں اور پرندوں کی بے شمار مخلوقات کا موجود ہونا سب اس بات کی واضح دلیل ہے کہ ان کو پیداکرنے والی کوئی نہ کوئی ذات ہے، ورنہ یہ سارا نظام کیسے اور کیوں قائم ہوگیا؟ آج ہم ایک چھوٹا سا کام بھی کرتے ہیں تو اس کا کوئی نہ کوئی مقصد ہوتا ہے، نیز اس کے لیے بہت کچھ کرنا ہوتا ہے اور پھر وہ ایک نہ ایک دن ختم بھی ہوجاتا ہے۔ بڑی بڑی حکومتوں کے چودھری ایک گززمین میں دفن کردئے گئے۔ مضبوط قلعے کھنڈرات میں تبدیل ہوگئے۔ اور حویلیاں ویران ہوگئیں۔ یقیناً وہ اللہ تعالیٰ کی ہی ذات ہے جو نہ صرف انس وجن کا خالق ہے بلکہ پوری کائنات کا پیدا کرنے والا ہے اور صرف وہ ہی اس پوری کائنات کے نظام کو چلانے والا ہے۔ ہم سب اس کے بندے ہیں۔ دنیا کی بے شمار چیزیں نہ سمجھنے کے باوجود ہم تسلیم کرلیتے ہیں، اسی طرح بات سمجھ میں آئے یا نہیں ہمارا یہ ایمان وعقیدہ ہے کہ اتنی بڑی کائنات خود بخود نہیں بن سکتی اور اتنا بڑا نظام خود بخود قائم نہیں رہ سکتا ۔ سورج وچاند کا کیسا عجیب وغریب نظام ہے کہ ہزاروں سال گزرنے کے باوجود ایک سیکنڈ کا بھی فرق نہیں آیا۔ جس طرح وقتی طور پر اللہ کے حکم سے سورج یا چاند کو گرہن لگتا ہے، ایک دن ایسا ضرور آئے گا کہ یہ سورج اللہ کے حکم سے مشرق کے بجائے مغرب سے طلوع ہوگا جیسا کہ آج کے سائنس دانوں نے بھی اس کے امکان کو تسلیم کرلیا ہے، حالانکہ شریعت اسلامیہ نے 1400 سال قبل ہی اس کو بتا دیا تھا۔ اس کے بعد آہستہ آہستہ پوری دنیا ختم ہوجائے گی اور پھر دنیا کے وجود سے لے کر تمام انسانوں کو ان کے کئے ہوئے اعمال پر جزا یا سزا دی جائے گی۔ غرضیکہ سورج یا چاند کے گرہن لگنے میں کسی مخلوق کا نہ دخل ہے اور نہ ہی پوری کائنات مل کر سورج یا چاند کے گرہن کو روک سکتی ہیں۔ اس لیے سورج یا چاند کے گرہن کے وقت صرف اللہ تعالیٰ کی ہی پناہ مانگی جائے، اسی کے سامنے جھکا جائے اور اسی کے در پر جاکر پیشانی ٹیکی جائے کیونکہ وہی اس کائنات کا خالق بھی ہے اور مالک ورازق بھی۔ نبی اکرم ﷺ سورج گرہن لگنے پر مسجد میں داخل ہوکر نماز میں مصروف ہوئے تھے، اس لیے اگرایسے موقع پر باہر نکلنے سے بچا جائے اور براہ راست سورج کو نہ دیکھا جائے تو یہ عمل احتیاط پر مبنی ہوگا ،کیونکہ سائنسی اعتبار سے بھی اس نوعیت کی احتیاط مطلوب ہے، لیکن گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ہمارا تو ایمان ہے کہ جو تکلیف یا آسانی اللہ تعالیٰ کی جانب سے مقدر میں ہے وہ مل کر ہی رہے گی، اگرچہ تکلیف سے بچنے اور آسانی کے حصول کے لیے تدابیر واسباب ضرور اختیار کرنے چاہئیں۔

لہذا جب بھی سورج گرہن ہوجائے تو مسلمانوں کو چاہئے کہ خالق کائنات کی طرف متوجہ ہوں، دو رکعت نماز اذان واقامت کے بغیرباجماعت ادا کریں اور اللہ تعالیٰ سے خوب دعائیں مانگیں۔ بعض علماء کی رائے ہے کہ دو رکعت سے زیادہ بھی ادا کرسکتے ہیں۔ قراء ت آہستہ پڑھنی چاہئے، اگرچہ بعض علماء کی رائے میں بلند آواز کے ساتھ بھی پڑھ سکتے ہیں۔ چاند گرہن کے موقعہ پر انفرادی نماز پڑھنی چاہئے، اگرچہ بعض علماء کی رائے کے مطابق جماعت کے ساتھ بھی پڑھنے کی گنجائش ہے۔ اُن اوقات میں یہ نماز نہیں پڑھنی چاہئے جن اوقات میں نماز پڑھنا منع ہے، اگرچہ بعض علماء کی رائے ہے کہ اوقات مکروہہ میں بھی پڑھ سکتے ہیں۔ سورج گرہن (Solar Eclipse) کے موقع پر پڑھی جانے والی نماز کو صلاۃ الکسوف، جبکہ چاند گرہن (Lunar Eclipse) کے موقع پر پڑھی جانے والی نماز کو صلاۃ الخسوف کہتے ہیں۔ اس نمازمیں قراء ت، رکوع اور سجدہ وغیرہ کو اتنا لمبا کرنا چاہئے کہ نماز پڑھتے پڑھتے ہی گرہن ختم ہوجائے، کیونکہ نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح ثابت ہے۔جس طرح سے دورکعت نماز پڑھی جاتی ہے اُسی طریقہ سے یہ نماز پڑھی جائے گی، اگرچہ بعض علماء کا موقف ہے کہ ہر رکعت میں دو رکوع کئے جائیں۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ علماء احناف کی رائے ہے کہ اس موقع پر دو رکعات عام نماز کی طرح پڑھی جائے اور سورج گرہن کے موقع پر جماعت کے ساتھ لیکن آہستہ قراء ت سے ، جبکہ چاند گرہن کے موقع پر انفرادی نماز ادا کی جائے۔ ہاں اگر کسی جگہ مثلاً سعودی عرب میں جماعت کے ساتھ ادا ہورہی ہو تو اس میں شریک ہوسکتے ہیں۔ اِن دونوں نمازوں میں لمبے قیام ورکوع اور سجدے کیے جائیں۔ اللہ تعالیٰ کا ذکر بھی کیا جائے اور خوب دعائیں مانگی جائیں۔

حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں سورج گرہن ہوا۔ آپ ﷺ اپنی چادر گھسیٹتے ہوئے (تیزی سے) مسجد پہنچے۔ صحابۂ کرام آپ کے پاس جمع ہوگئے۔ آپ ﷺ نے انھیں دو رکعت نماز پڑھائی اور گرہن بھی ختم ہوگیا۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ کسی کی موت کی وجہ سے یہ گرہن نہیں ہوتے(بلکہ زمین اور آسمان کی دوسری مخلوقات کی طرح ان پر بھی اللہ تعالیٰ کا حکم چلتا ہے اور ان کی روشنی وتاریکی اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے) اس لئے جب سورج اور چاند گرہن ہو تو اس وقت تک نماز اور دعا میں مشغول رہو جب تک ان کا گرہن ختم نہ ہوجائے۔ چونکہ رسول اللہ ﷺ کے صاحبزادے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کی وفات (اسی دن) ہوئی تھی اور بعض لوگ یہ کہنے لگے تھے کہ گرہن ان کی موت کی وجہ سے ہوا ہے، اس لئے رسول اللہ ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی۔ (بخاری ۔ باب الصلاۃ فی کسوف القمر) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں سورج گرہن ہوا ............... نماز سے فارغ ہوکر آپ ﷺنے فرمایا: سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی دو نشانیاں ہیں۔ یہ دونوں کسی کے مرنے یا پیدا ہونے سے گرہن نہیں ہوتے۔ اے لوگو! جب تم کو یہ موقعہ پیش آئے تو اللہ کے ذکر میں مشغول ہوجاؤ، دعا مانگو، تکبیر وتہلیل کرو، نماز پڑھو اور صدقہ وخیرات ادا کرو۔ (مسلم ۔ باب صلاۃ الکسوف) حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا جب سورج یا چاند گرہن ہوجائے تو اسی کیفیت پر نماز پڑھو جس طرح تم نے یہ آخری نماز پڑھی ہے (نماز فجر کی طرح)۔ (نسائی ۔ باب صلاۃ الکسوف) حضرت قبیصہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ مدینہ منورہ میں تھے کہ سورج گرہن ہوگیا۔ آپ گھبراکر جلدی سے باہر نکلے اپنے کپڑے کو کھنچتے ہوئے اور دو رکعت خوب لمبی پڑھیں۔ نسائی ۔ باب صلاۃ الکسوف

ڈاکٹر محمد نجیب قاسمی سنبھلی (www.najeebqasmi.com)