بسم الله الرحمن الرحيم

اَلْحَمْدُ لِله رَبِّ الْعَالَمِيْن،وَالصَّلاۃ وَالسَّلام عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن۔

حضور اکرم ﷺ خاتم النبیین ہیں
اللہ تعالیٰ نے حضور اکرم ﷺ کو خاتم الانبیاء وسید المرسلین بناکر مبعوث فرمایا ہے۔آپ ﷺ کے بعد نبوت ورسالت کا دروازہ ہمیشہ کے لئے بند کردیا گیا ہے۔ آپﷺ کو دین کامل عطا کیا گیا ہے، چنانچہ قیامت تک صرف اور صرف شریعت محمدیہ (یعنی قرآن وحدیث اور ان سے ماخوذ علوم) ہی انسانوں کے لئے مشعل راہ ہے۔ حضور اکرم ﷺ پر سلسلہ نبوت ورسالت کے اختتام کی ایک واضح دلیل یہ بھی ہے کہ آپﷺ قیامت تک پوری انسانیت کے لئے پیغمبر بناکر بھیجے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کی عالمی رسالت کو اپنے پاک کلام میں متعدد مرتبہ بیان فرمایا ہے، صرف تین آیات پیش خدمت ہیں:
قُلْ ٰٓیاَیُّھَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ جَمِیْعَانِ الَّذِیْ لَہٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ(اے رسول! ان سے) کہو کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف اُس اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں جس کے قبضے میں تمام آسمانوں اور زمین کی سلطنت ہے۔ (سورۃ الاعراف: ۱۵۸)
وَمَا اَرْسَلْنٰکَ اِلَّاکَآفَّۃً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّنَذِیْرًا اور (اے پیغمبر!) ہم نے تمہیں سارے ہی انسانوں کے لئے ایسا رسول بناکر بھیجا ہے جو خوشخبری بھی سنائے اور خبردار بھی کرے۔ (سورۃ سبا: ۲۸)
وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ اور (اے پیغمبر!) ہم نے تمہیں سارے جہانوں کے لئے رحمت ہی رحمت بناکر بھیجا ہے۔ (سورۃ الانبیاء: ۱۰۷)
میرے دینی بھائیو!
ابتداء اسلام سے لے کر آج تک پوری امت مسلمہ قرآن وحدیث کی روشنی میں متفق ہے کہ نبوت کا سلسلہ آپ ﷺ پرختم ہوگیا ہے۔ تقریباً چودہ سو برس سے کروڑہا مسلمان اس عقیدہ پر قائم ہیں۔لاکھوں محدثین، مفسرین، فقہاء وعلماء کرام نے قرآن وحدیث کی تفسیر وتشریح کرتے ہوئے واضح فرمادیا ہے کہ نبوت ورسالت کا سلسلہ ختم ہوگیا ہے اور اب قیامت تک صرف اور صرف شریعت محمدیہ ہی نافذ رہے گی۔ غرضیکہ مسلمانوں کے تمام مکاتب فکر، عام وخاص، عالم وجاہل، شہری ودیہاتی، مسلمان ہی نہیں بلکہ بعض غیر مسلم حضرات بھی جانتے ہیں کہ مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے کہ حضور اکرم ﷺ آخری نبی ورسول ہیں اور اب کوئی نبی یا رسول پیدا نہیں ہوگا۔ وقتاً فوقتاً نبوت کا دعویٰ کرنے والے پیدا ہوتے رہے ہیں لیکن پوری امت مسلمہ نے ایک ساتھ مدعی نبوت سے بھرپور مقابلہ کرکے اپنے نبی کا دفاع کیا اور اسلام کے پرچم کو بلند کیا۔
قرآن کریم کی متعدد آیات میں آپ ﷺ کے آخری نبی ہونے کا ذکر موجود ہے حتی کہ حضرت مولانا مفتی محمد شفیع رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب (ختم نبوت) میں تقریباً ایک سو آیات قرآنیہ، ۲۱۰ احادیث نبویہ، اجماع امت اور سینکڑوں اقوال صحابہ اور تابعین وائمہ دین سے مسئلہ ختم نبوت کو مدلل کیا ہے۔ بعض علماء نے تو قرآن کریم کی ہر سورت سے ختم نبوت کو ثابت کیا ہے۔ میں اختصار کی وجہ سے صرف ایک آیت پیش کررہا ہوں: مَا کَانَ مُحَمَّد’‘ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِکُمْ وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ (مسلمانو!) محمد تم مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، لیکن وہ اللہ کے رسول ہیں، اور تمام نبیوں میں سب سے آخری نبی ہیں۔ (سورۃ الاحزاب: ۴۰)
زمانہ جاہلیت میں متبنیٰ (منہ بولے بیٹے) کو حقیقی بیٹا سمجھا جاتا تھا۔ اس آیت کے شروع میں اسی کی تردید کی کہ متبنیٰ حقیقی بیٹے کے حکم میں نہیں ہے، لہٰذا آپﷺ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے باپ نہیں ہیں۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ آپ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں۔ میرے اس مختصر مضمون کا تعلق اس مذکورہ بالا آیت میں اسی عبارت سے ہے۔اس سے صاف صاف معلوم ہوگیا کہ دین اسلام اور نعمت نبوت ورسالت حضوراکرم ﷺ پر تمام ہوچکی ہے۔ آپﷺ کے بعد کسی نبی کی گنجائش اور ضرورت نہیں ہے۔ جیساکہ اللہ تعالیٰ نے دوسری جگہ ارشار فرمایا: الْےَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِےْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَےْکُمْ نِعْمَتِیْ (سورۃ المائدہ : ۳) ہم نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کردیا اور اپنی نعمت تم پر تمام کردی۔ اللہ تعالیٰ رب العالمین ہے یعنی قیامت تک آنے والے تمام انس وجن اور پوری کائنات کا پالنے والا ہے، اسی طرح حضوراکرمﷺ صرف عربوں کے لئے یا اپنے زمانے کے لوگوں کے لئے یا صرف مسلمانوں کے لئے نبی ورسول بناکر نہیں بھیجے گئے بلکہ آپﷺ قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کے لئے نبی ورسول ہیں اور قیامت تک اب کوئی نبی یا رسول پیدا نہیں ہوگا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی نزول کے بعد شریعت محمدیہ ہی پر عمل کریں گے اور اسی کی لوگوں کو دعوت دیں گے۔
اللہ تعالیٰ کے کلام کے ساتھ حضور اکرم ﷺ کے ارشادات بھی دین اسلام کا ایک اہم جز ہیں، بلکہ ہم حضوراکرم ﷺ کے اقوال وافعال کے بغیر اللہ تعالیٰ کے کلام کو سمجھ ہی نہیں سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے سینکڑوں آیات میں اپنی اطاعت کے ساتھ رسول کی اطاعت کا حکم دیا ہے۔ غرضیکہ قرآن کریم کے ساتھ حدیث نبوی شریعت اسلامیہ کا اہم ماخذ ہے۔ احادیث کے ذخیرہ میں حضور اکرم ﷺ کے سینکڑوں ارشادات موجود ہیں جن میں وضاحت موجود ہے کہ آپﷺ کے بعد کوئی نبی یا رسول نہیں آئے گا۔ اور یہ ارشادات متواتر طور پر امت کے پاس پہنچے ہیں ۔ چنانچہ آیات قرآنیہ اور احادیث نبویہ کی روشنی میں پوری امت مسلمہ کا اتفاق ہے کہ جس طرح آپﷺ پر ایمان لائے بغیر کوئی انسان مسلمان نہیں ہوسکتا،اسی طرح آپ کو آخری نبی تسلیم کئے بغیر بھی انسان مؤمن نہیں بن سکتا ہے۔ کتب حدیث میں حضوراکرمﷺ کے سینکڑوں اقوال ختم نبوت پر واضح طور پر دلالت کرتے ہیں، یہاں صرف دو احادیث پیش خدمت ہیں:
حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: میری مثال مجھ سے پہلے انبیاء کے ساتھ ایسی ہے جیسے کسی شخص نے گھر بنایا اور اس کو بہت عمدہ اور آراستہ وپیراستہ بنایا ، مگر اس کے ایک گوشہ میں ایک اینٹ کی جگہ تعمیر سے چھوڑ دی، پس لوگ اس کے دیکھنے کو جوق در جوق آتے ہیں اور خوش ہوتے ہیں اور کہتے جاتے ہیں کہ یہ ایک اینٹ بھی کیوں نہ رکھ دی گئی(تاکہ مکان کی تعمیر مکمل ہوجاتی) چنانچہ میں نے اس جگہ کو پُر کیا اور مجھ سے ہی قصر نبوت مکمل ہوا، اور میں ہی خاتم النبیین ہوں، اور مجھ پر تمام رسل ختم کردئے گئے۔ (صحیح مسلم ، ترمذی، نسائی، مسند احمد) حضور اکرمﷺ نے ایک مثال دے کر ختم نبوت کے مسئلہ کو روز روشن کی طرح واضح فرمادیا۔
حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: بنی اسرائیل کی سیاست خود ان کے انبیاء علیہم السلام کیا کرتے تھے، جب کسی نبی کی وفات ہوتی تھی تو اللہ تعالیٰ کسی دوسرے نبی کو ان کا خلیفہ بنا دیتا تھا، لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں، البتہ خلفاء ہوں گے اور بہت ہوں گے۔ (بخاری ومسلم)
قرآن وحدیث کی روشنی میں خیر القرون سے آج تک پوری امت مسلمہ کا اتفاق ہے کہ نبوت ورسالت کا سلسلہ آپ ﷺ پر ختم ہوگیا ہے، اب کوئی نبی پیدا نہیں ہوگا۔ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور قیامت تک پوری انسانیت کے لئے پیغمبر ہیں۔ صرف اور صرف شریعت محمدیہ (یعنی قرآن وحدیث اور ان سے ماخوذ علوم) ہی انسانوں کے لئے مشعل راہ ہے۔
محمد نجیب قاسمی (www.najeebqasmi.com)