Print

بسم الله الرحمن الرحيم

اَلْحَمْدُ لِله رَبِّ الْعَالَمِيْن،وَالصَّلاۃ وَالسَّلام عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن۔

نبی اکرم ﷺ کی اولاد
نبی اکرم ﷺ کی ساری اولاد آپ ﷺ کی پہلی بیوی حضرت خدیجہؓ سے مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئی، سوائے آپ کے بیٹے حضرت ابراہیمؓ کے، وہ حضرت ماریہ القبیطہؓ سے مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔
نبی اکرم ﷺ کے تین بیٹے : ۱۔ قاسمؓ ۲۔ عبداللہؓ ۳۔ ابراہیمؓ
قاسمؓ : مکہ مکرمہ میں نبوت سے قبل پیدا ہوئے۔ دو سال چھ ماہ کے ہوئے تو ان کا انتقال ہوگیا۔ بعض حضرات نے لکھا ہے کہ قاسمؓ ۷ ماہ کی عمر میں ہی اللہ کو پیارے ہوگئے تھے۔ مکہ مکرمہ میں مدفون ہیں۔ انہیں کی طرف نسبت کرکے آپ ﷺ کو ابو القاسم کہا جاتا ہے۔
عبداللہؓ : مکہ مکرمہ میں نبوت کے بعد پیدا ہوئے۔ ۲ سال سے کم عمر ہی میں ان کا انتقال ہوگیا۔ مکہ مکرمہ میں مدفون ہیں۔ ان کو طیب وطاہر بھی کہا جاتا ہے۔ ان ہی کی موت پر کسی شخص نے آپ ﷺ کو ابتر کہا ( وہ شخص جسکی کوئی اولاد نہ ہو) ، تو سورہ الکوثر نازل ہوئی، جسمیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تیرا دشمن ہی بے اولاد رہے گا۔
ابراہیمؓ: ان کی پیدائش مدینہ منورہ میں ۸ ہجری میں ہوئی۔ ابراہیمؓ کی پیدائش پر آپ ﷺ اور صحابہ کرام بہت خوش ہوئے۔ سات دن کے ہونے پر آپ ﷺ نے ان کاعقیقہ کیا، بال منڈوائے، بالوں کے وزن کے برابر مسکینوں کو صدقہ دیا، اور بالوں کو دفن کردیا۔ ۱۰ ہجری میں ۱۶ یا ۱۸ ماہ کی عمر میں بیماری کی وجہ سے ابراہیم ؓ کا انتقال ہوگیا۔ ابراہیمؓ کے انتقال پر آپ ﷺ کافی رنجیدہ ومغموم ہوئے۔ مدینہ منورہ کے مشہور قبرستان (البقیع) میں مدفون ہیں۔ انہیں کے انتقال کے دن سورج گرہن ہوا ، لوگوں نے سمجھا کہ ابراہیمؓ کی موت کی وجہ سے یہ سورج گرہن ہوا ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا : سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، یہ کسی کی زندگی یا موت پر گرہن نہیں ہوتے ہیں۔
نبی اکرم کی چار بیٹیاں: ۱۔ زینبؓ ۲۔ رقیہؓ ۳۔ ام کلثومؓ ۴۔ فاطمہؓ
آپ ﷺ کی تین بیٹیاں آپ کی حیاتِ مبارکہ ہی میں انتقال فرماگئیں، البتہ حضرت فاطمہؓ کا انتقال‘ آپ ﷺ کی رحلت کے چھ ماہ بعد ہوا۔ چاروں بیٹیاں مدینہ منورہ کے مشہور قبرستان (البقیع) میں مدفون ہیں۔
زینبؓ : آپ ﷺ کی سب سے بڑی صاحبزادی ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ کی عمر جب ۳۰ سال کی تھی، یہ پیدا ہوئیں۔ ان کے شوہر حضرت ابو العاص بن ربیع ؓ تھے۔ ان سے دو بچے علیؓ اور امامہؓ پیدا ہوئے۔ نبی اکرم ﷺ کے مدینہ منورہ ہجرت کرنے کے بعد حضرت زینبؓ اپنے شوہر کے ساتھ کافی دنوں تک مکہ مکرمہ ہی میں مقیم رہیں۔ جب اسلام نے مشرکین کے ساتھ نکاح کرنے کو حرام قرار دیا تو حضرت زینبؓ نے اپنے شوہر سے اپنے والد کے پاس جانے کی خواہش ظاہر کی، کیونکہ وہ اس وقت تک ایمان نہیں لائے تھے۔ چنانچہ حضرت زینبؓ کافی تکلیفوں اور پریشانیوں سے گزرکر مدینہ منورہ اپنے والد کے پاس پہونچیں۔ کچھ دنوں کے بعد حضرت ابو العاص بن ربیع ؓ بھی ایمان لے آئے، آپ ﷺ نے حضرت زینبؓ کا حضرت ابو العاص بن ربیع ؓ کے ساتھ دوبارہ نکاح کردیا۔ لیکن مدینہ منورہ پہونچکر حضرت زینبؓ صرف ۷ یا ۸ ماہ ہی حیات رہیں، چنانچہ ۳۰ سال کی عمر میں ۸ ہجری میں انتقال فرماگئیں۔
رقیہ ؓ : آپ ﷺ کی دوسری صاحبزادی ہیں۔ نبی اکرم ﷺ کی عمر جب ۳۳ سال کی تھی، یہ پیدا ہوئیں۔ اسلام سے پہلے ان کا نکاح ابو لہب کے بیٹے عتبہ سے ہوا تھا۔ جب سورہ تبت نازل ہوئی تو باپ کے کہنے پر عتبہ نے حضرت رقیہ ؓ کو طلاق دیدی۔ پھر ان کی شادی حضرت عثمانؓ بن عفان سے ہوئی۔ ان سے ایک بیٹا عبداللہؓ پیدا ہوا جو بچپن میں ہی انتقال فرماگیا۔ حضرت رقیہ ؓ ؓ ۲ ہجری میں انتقال فرماگئیں ۔ انتقال کے وقت حضرت رقیہ ؓ کی عمر تقریباً ۲۰ سال تھی۔
ام کلثوم ؓ : آپ ﷺ کی تیسری صاحبزادی ہیں۔ اسلام سے پہلے ان کا نکاح ابو لہب کے دوسرے بیٹے عتیبہ کے ساتھ ہوا تھا۔ جب سورہ تبت نازل ہوئی تو ابولہب کے کہنے پر اس بیٹے نے بھی حضرت ام کلثوم ؓ کو طلاق دیدی۔ حضرت رقیہؓ کے انتقال کے بعد، ان کی شادی حضرت عثمانؓ بن عفان سے ہوئی۔ ۹ ہجری میں انتقال فرماگئیں ۔ انتقال کے وقت حضرت ام کلثومؓ کی عمر تقریباً ۲۵ سال تھی۔ حضرت ام کلثوم ؓ کے انتقال کے وقت آپ ﷺ نے فرمایا تھا کہ اگر میرے پاس کوئی دوسری لڑکی (غیر شادی شدہ ) ہوتی تو میں اسکا نکاح بھی حضرت عثمان غنی ؓ سے کردیتا۔
فاطمہ الزہراء ؓ : آپ ﷺ کی سب سے چھوٹی صاحبزادی ہیں۔ آپ ﷺ حضرت فاطمہؓ سے بہت محبت فرماتے تھے۔ نبی اکرم ﷺ کی عمر جب ۳۵ یا ۴۱ سال تھی، یہ پیدا ہوئیں۔ ان کا نکاح مدینہ منورہ میں حضرت علیؓ بن طالب کے ساتھ ہوا۔ سبحان اللہ ، الحمد للہ، اللہ اکبر کی تسبیحات ‘ حضرت فاطمہؓ کی دن بھر کی تھکان کو دور کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت جبرئیل علیہ السلام نبی اکرم ﷺ کے پاس لے کر آئے تھے۔ نبی اکرم ﷺ کے انتقال کے چھ ماہ بعد حضرت فاطمہ ؓ ۲۳ یا ۲۹ سال کی عمر میں انتقال فرماگئیں۔
حضرت فاطمہؓ بنت النبی ا کی اولاد: حسنؓ ، حسینؓ ، زینبؓ ، اور ام کلثومؓ
حضرت حسن ؓ : رمضان ۳ ہجری میں پیدا ہوئے۔ حضرت حسنؓ سر سے سینے تک نبی اکرم ﷺ کے مشابہ تھے۔ حضرت جبرئیل علیہ ا لسلام حسن نام کو جنت کے ریشم میں لپیٹ کر نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں لے کر آئے تھے، اور حسین ‘ حسن سے ماخوذ ہے۔ حضرت علیؓ کی شہادت کے بعد ۴۱ ہجری میں آپ کے ہاتھ پر بیعت کی گئی اور ان کو امیر المؤمنین کا لقب دیا گیا۔ ربیع الاول ۴۱ ہجری میں حضرت معاویہؓ سے صلح کرلی۔ اس طرح حضرت حسنؓ ۶ ماہ اور ۲۰ دن امیر المؤمنین رہے۔ حضرت حسن ؓ کو زہر دیا گیا، ۴۰ دن تک زہر سے متاثر رہے اور ربیع الاول ۴۹ ہجری میں انتقال فرماگئے۔ مدینہ منورہ (البقیع)میں مدفون ہیں۔
حضرت حسین ؓ : ۴ ہجری میں پیدا ہوئے۔ نبی اکرم ﷺ نے حضرت حسن ؓ کی طرح حضرت حسین ؓ کا بھی عقیقہ کیا۔ حضرت حسینؓ سینے سے ٹانگوں تک نبی اکرم ا کے مشابہ تھے۔ ۱۰ محرم الحرام، جمعہ کے دن ، ۶۱ ہجری میں ملکِ عراق میں کوفہ شہر کے قریب میدانِ کربلا میں شہید ہوئے۔
حضرت ام کلثومؓ : یہ حضرت عمر فاروق ؓ کی اہلیہ ہیں۔ ان سے حضرت زید ؓ اور حضرت رقیہؓ پیدا ہوئے۔
حضرت زینب ؓ : ان کا نکاح ‘ حضرت عبداللہ بن جعفر الطیّارؓ بن ابی طالب کے ساتھ ہوا۔ ان سے جعفرؓ ، عون الاکبرؓ، ام کلثومؓ اور علیؓ پیدا ہوئے۔
حضرت زینبؓ بنت النبی ﷺکی اولاد: ۱۔ علی ؓ ۲۔ امامہ ؓ
حضرت علی بن زینبؓ : ان کے والد حضرت ابو العاص ؓ ہیں جو ان کی والدہ حضرت زینبؓ کے خالہ زاد بھائی تھے۔
حضرت امامہ بنت زینبؓ : نبی اکرم ﷺ ان سے بہت محبت فرماتے تھے۔ نماز کے دوران کبھی کبھی وہ اپنے نانا کے کندھے پر بیٹھ جاتی تھیں۔ حضرت فاطمہؓ کے انتقال کے بعد حضرت فاطمہؓ کی وصیت کے مطابق امیر المؤمنین حضرت علیؓ نے ان سے نکاح فرمالیا تھا۔
 محمد نجیب قاسمی سنبھلی، ریاض