Print

بسم الله الرحمن الرحيم

اَلْحَمْدُ لِله رَبِّ الْعَالَمِيْن،وَالصَّلاۃ وَالسَّلام عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن۔

وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا
نبوت ایسا عظیم منصب ہے جو ہر کسی کو عطا نہیں کیا جاتا ہے، اور نہ کوئی شخص اپنی خواہش اور کوشش وجدجہد سے اِس منصب پر فائز ہوسکتا ہے۔ یہ صرف اور صرف اللہ تبارک وتعالیٰ کا عطیہ ہے جس کو چاہتا ہے اُسے اپنے فضل وکرم سے نوازتا ہے۔ جیساکہ اللہ تبارک وتعالیٰ قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے: اَللّٰہُ ےَصْطَفِی مِنَ الْمَلَاءِکَۃِ رُسُلًا وَّمِنَ النَّاسِ، اِنَّ اللّٰہَ سَمِےْعٌ بَصِےْرٌ۔ (سورۃ الحج ۷۵) اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے رسول منتخب کرلیتا ہے فرشتوں میں سے اور لوگوں میں سے۔ بیشک اللہ تعالیٰ سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔
ہم سب کا یہ ایمان ہے کہ تمام ابنیاء کرام عام لوگوں کے مقابلے میں بہت زیادہ افضل وبہتر ہیں، مگر خود ابنیاء کرام بھی یکساں فضیلت کے حامل نہیں ہیں۔ بعض انبیاء کرام کادرجہ بعض دوسرے انبیاء کرام سے بڑھا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: تِلْکَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَہُمْ عَلَی بَعْضٍ، مِنْہُمْ مَنْ کَلَّمَ اللّٰہُ، وَرَفَعَ بَعْضَہُمْ دَرَجَاتٍ (سورۃ البقرہ ۲۵۳)یہ حضراتِ انبیاء ایسے ہیں کہ ہم نے اِن میں سے بعض کو بعض دوسرے پر فضیلت دی ہے۔ بعض اِن میں وہ ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے کلام فرمایا ہے اور بعض کو اِن میں سے بہت سے درجوں پر سرفراز کیا ہے۔
اس دنیا میں اللہ تعالیٰ نے بندوں کی ہدایت ورہنمائی کے لئے تقریباً ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام مبعوث فرمائے جو سب لائق تعظیم اور انتہائی فضیلت کے حامل ہیں۔ مگر آخری نبی حضور اکرم ﷺ سب سے افضل وبلند مرتبہ والے ہیں۔ اگرچہ حضور اکرم ﷺ سب سے آخر میں نبی ورسل بناکر بھیجے گئے مگر آپ ﷺ تمام ابنیاء ورسل بلکہ ساری مخلوقات میں سب سے افضل واعلیٰ ہیں۔ اب تک تمام انبیاء کرام ورسل کو خاص زمانہ اور خاص لوگوں کے لئے مبعوث فرمایا گیا مگر تاجدار مدینہ حضور اکرم ﷺ کو پوری دنیا میں قیامت تک آنے والے تمام انس وجن کے لئے نبی ورسل بناکر بھیجا گیا۔
آپ ﷺکی عظمت وفضیلت پر بہت کچھ لکھا گیا اور بولا گیا ہے اور جب تک دنیا باقی ہے حضور اکرم ﷺ کے اوصاف حمیدہ بیان کئے جاتے رہیں گے۔اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب جسے اللہ تعالیٰ نے ۲۳ سال کے عرصہ میں حضور اکرم ﷺ پر بذریعہ وحی نازل فرمائی ، سرکار دوعالم ﷺ کے محاسن وفضائل اور کمالات کا ایک حسین وجمیل گلدستہ بھی ہے، اور آپ ﷺ کے اخلاق عالیہ واوصاف حسنہ کا ایک خوب صورت اور صاف شفاف آئینہ بھی۔ قرآن کریم میں متعدد مقامات پر آپ ﷺ کا ذکر خیر موجود ہے، کہیں آپ کو اللہ کا رسول کہا گیا ہے، کہیں لوگوں کو خوش خبری سنانے والا اور ڈرانے والا بتلایا گیا ہے، کہیں کہا گیا ہے کہ اے محمد آپ کی رسالت پوری کائنات کے لئے ہے، کہیں کہا آپ آخری نبی ہیں۔ کہیں فرمایا: اَلَمْ نَشْرَحْ لَکَ صَدْرَک کہیں فرمایا: سُبْحَانَ الَّذِیْ اَسْرَی بِعَبْدِہِ لَےْلاً مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَی الْمَسْجِدِ الْاَقْصَیکہیں فر مایا : اِنَّآ اَعْطَےْنَاکَ الْکَوْثَرْ کہیں فرمایا: لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِی رَسُولِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ کہیں فرمایا: اِنَّ اللّٰہَ وَمَلَاءِکَتَہُ ےُصَلُّونَ عَلَی النَّبِیِّ، ےَآاَیُّہَا الَّذِےْنَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَےْہِ وَسَلِّمُوا تَسْلِےْماً۔۔۔ غرضیکہ قرآن کریم میں آپ ﷺ کے بے شمار اوصاف بیان کئے گئے ہیں مگر وَمَا اَرْسَنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعَالَمِےْن (سورۂ الانبیاء ۱۰۷)کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کا ایک امتیازی وصف بیان کیا ہے۔ اور وہ ہے کہ ہم نے آپ کو دنیا جہاں کے لوگوں کے لئے رحمت بناکر بھیجا۔ یعنی آپ ﷺکی ذات سراپا رحمت ہے، نہ صرف اُس زمانہ کے لئے جس میں آپ مبعوث ہوئے اور نہ صرف اُن لوگوں کے لئے جن کے سامنے آپ مبعوث فرمائے گئے، بلکہ قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کے لئے آپ ﷺ کو نبی رحمت یعنی سراپا رحمت بناکر بھیجا ہے۔
سیرت النبی کی کتابوں کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے کفار مکہ کے ہاتھوں کیا کچھ تکلیفیں اور اذیتیں نہ سہیں، لیکن کبھی نہ کسی کے لئے بددعا فرمائی اور نہ کسی پر نزول عذاب کی تمنا کی بلکہ اگر آپ ﷺ کو عذاب کا اختیار بھی دیا گیا تب بھی از راہِ رحمت وشفقت آپ ﷺ نے ہر تکلیف نظر انداز کی اور ظالموں سے درگزر کیا، حالانکہ اُن کا جرم کچھ کم نہیں تھا کہ وہ اللہ کے پیارے رسول کو ایذا دینے کے گناہ میں مبتلا ہوئے تھے، اُن پر اللہ تعالیٰ کا عذاب قہر بن کر نازل ہونا چاہئے تھا لیکن آپ ﷺ نے ہمیشہ عفو وکرم سے کام لیا اور محض آپ کی صفت رحمت کے باعث وہ قہر خداوندی سے محفوظ رہے۔
سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت سراپارحمت ہے، آپ ﷺ کی یہ خصوصیت آپ کی شخصیت کے ہر پہلو میں بہ تمام وکمال موجود ہے۔ آپ ﷺ اپنی گھریلو زندگی میں ، گھر سے باہر کے معاملات میں، اپنوں اور غیروں کے ساتھ، بڑوں اور بچوں کے ساتھ، ایک ناصح مشفق اور ہمدرد غم گسار کی حیثیت سے نمایاں نظر آتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺکو رحمت سے معمور دل عطا فرمایا تھا جو کمزوروں کے لئے تڑپ اٹھتا تھا، جو مسکینوں اور یتیموں کی حالتِ زار پر غم سے بھر جاتا تھا۔ سارے جہاں کا درد آپ ﷺکے دل میں سمٹ آیا تھا۔ یہاں تک کہ رحمت کا وصف آپ کی طبیعت ثانیہ بن گیا تھا، کیا چھوٹا، کیا بڑا، کیا اپنا کیا پرایا، کیا مسلمان، کیاکافر سب آپ ﷺکے رحم وکرم سے بہروہ رہا کرتے تھے۔
آپ ﷺکی صاحبزادیوں کو طلاق دی گئی، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے علاوہ آپ ﷺکی تمام اولاد کا انتقال آپ ﷺ کی زندگی میں ہوا۔ آپ ﷺ کو برا بھلا کہا گیا، آپ ﷺ کے اوپر گھر کا کوڑا ڈالا گیا، آپ ﷺکے راستوں پر کانٹے بچھائے گئے، آپ ﷺ اور آپ کے خاندان وصحابۂ کرام کا تقریباً تین سال تک بائیکاٹ کیا گیا۔ آپ ﷺ کو طرح طرح سے ستایا گیا۔ آپ ﷺ کے دندان مبارک شہید ہوئے۔ آپ ﷺ کو اپنے وطن عزیز سے نکالا گیا مگر قربان جائیے اُس نبی رحمت پر کہ آپ ﷺ نے اُف تک نہ کہا۔
بچوں پر آپ ﷺ کی شفقت کا نظارہ قابل دید تھا، مدینہ منورہ کی گلیوں میں کوئی بچہ آپ کو کھیلتا کودتا نظر آتا تو آپ خوشی میں اس کو لپٹا لیا کرتے تھے، اس کو بوسے دیتے، اس کے ساتھ ہنسی مزاق کرتے، ایک مرتبہ آپ ﷺ اپنے نواسے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو پیار کررہے تھے کہ ایک دیہاتی کو یہ منظر دیکھ کر بڑی حیرت ہوئی اور کہنے لگا کہ کیا آپ اپنے بچوں کو پیار بھی کرتے ہو،ہم تو نہیں کرتے، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا :کیا اللہ تعالیٰ نے تمہارے دل سے رحمت کا جذبہ ختم کردیا ہے؟
ایک مرتبہ آپ ﷺ اپنی نواسی امامہ بنت زینب رضی اللہ عنہا کو اٹھائے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے، جب آپ سجدہ میں تشریف لے جاتے تو امامہ کو زمین پر بٹھادیتے اور کھڑے ہوتے تو انہیں گود میں اٹھالیتے۔۔۔۔ اسی طرح ایک مرتبہ نماز کے دوران بچے کے رونے کی آواز سنی تو آپ ﷺنے نماز مختصر کردی تاکہ بچے کو زیادہ تکلیف نہ ہو۔
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں نماز کی نیت باندھ کر لمبی قرأت کرنا چاہتا ہوں کہ اچانک بچے کے رونے کی آواز سن کر مختصر کردیتا ہوں تاکہ اُس کی ماں کو پریشانی نہ ہو۔
آپ ﷺ بچوں کو بڑی محبت سے گود میں لے لیا کرتے تھے، کبھی بچے آپ کے کپڑے بھی خراب کردیتے لیکن آپ ﷺکو ناگواری نہ ہوتی۔ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ ایک بچہ آپ ﷺ کی خدمت میں لایا گیا آپ ﷺنے اُس کو گود میں لے لیا تو اُس نے آپ ﷺ کے کپڑوں پر پیشاب کردیا۔ آپ ﷺنے پانی منگواکر کپڑے پاک کئے اور اُس بچہ کو پھر گود میں لے لیا۔
فصل کا نیا میوہ جب آپ ﷺ کے پاس آتا تو سب سے کم عمر بچے کو جو اُس وقت موجود ہوتا عطا فرماتے۔ غرضیکہ آج سے چودھ سو سال قبل رحمۃ للعالمین نے ایسے وقت بچوں کو اللہ تعالیٰ کی رحمت اور آرام کا ذریعہ قرار دیا جب ناک اونچی کرنے کے لئے بچیوں کو زندہ دفن کردینے کا رواج تھا۔ آپ ﷺ نے اُس وقت اُن پر تحفظ وسلامتی اور شفقت ومحبت کی ایک ایسی چادر تان دی تھی جب دنیا کے دوسرے حصوں میں بھی بچیوں کے تحفظ وسلامتی کے لئے کوئی قانون نہ تھا۔ رحمۃ للعالمین نے بچوں اور بچیوں کو نہ صرف دائمی تحفظ بخشا بلکہ انہیں گود میں لے کر ،انہیں کندھوں پر بٹھاکر، اپنے سینے مبارک سے لگاکر، انہیں معاشرہ میں ایسا مقام دیا جس کی مثال دنیا میں نہیں ملتی۔
بشریت کے تقاضے کی بناء پر آپ ﷺ بھی رنج وغم کی کیفیات سے گزرتے تھے اور فرطِ غم سے آپ ﷺ کی آنکھیں بھی چھلک اٹھتی تھیں۔ آپ ﷺ کے صاحبزادے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی تو آپ ﷺ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ رورہے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا یہ وہ رحم ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے دلوں میں پیدا فرمادیا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے اُن بندوں پر رحم کرتا ہے جن کے دلوں میں رحم ہوتا ہے۔
عورتیں فطرتاً کمزور ہوتی ہیں ، آپ ﷺ نے باربار صحابۂ کرام کو تلقین فرمائی کہ وہ عورتوں کے ساتھ نرمی کا معاملہ کریں، اُن کی دل جوئی کریں، اُن کی طرف سے پیش آنی والی ناگوار باتوں پر صبروتحمل کا مظاہرہ کریں۔ ایک مرتبہ حضور اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا : خبردار! عورتوں کے ساتھ حسن سلوک کرو، اس لئے کہ یہ عورتیں تمہاری نگرانی میں ہیں ۔
ایک مرتبہ لڑکیوں کی تعلیم وتربیت کے سلسلہ میں حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جس شخص نے کسی لڑکی کی صحیح سرپرستی کی اور اس کی اچھی تربیت کی تو یہ لڑکی قیامت کے دن اس کے لئے دوزخ کی آگ سے رکاوٹ بن جائے گی۔
آپ ﷺ نے خود اپنے طرز عمل سے صحابۂ کرام کے سامنے خواتین کے ساتھ حسن سلوک کی اعلی مثالیں قائم کیں، ایک مرتبہ ام المؤمنین حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا اونٹنی پرسوار ہونے لگیں تو آپ ﷺ سواری کے پاس بیٹھ گئے اور حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا آپ کے گھٹنوں کے اوپر پاؤں رکھ کر اونٹنی پر سوار ہوئیں۔
آپ ﷺکی لخت جگر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا تشریف لاتیں تو آپ ﷺبہت خوش ہوتے اور انہیں اپنے ساتھ بیٹھاکر ان کا بہت احترام کرتے۔
ایک مرتبہ خواتین نے اجتماعی طور پر حاضر ہوکر عرض کیا کہ مردوں کو آپ سے استفادہ کا خوب موقع ملتا ہے، ہم عورتیں محروم رہ جاتی ہیں، آپ ہمارے لئے کوئی خاص دن اور وقت متعین فرمادیں۔ آپ ﷺ نے اُن کی درخواست قبول فرمائی اور اُن کے لئے ایک دن متعین فرمادیا۔ اُس دن آپ خواتین کے اجتماع میں تشریف لے جاتے اور اُن کو وعظ ونصیحت فرماتے۔۔۔۔ حضور اکرم ﷺ نے بیواؤں سے نکاح کرکے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ بیواؤں کو تنہا نہ چھوڑو بلکہ اُنہیں بھی اپنے معاشرہ میں عزت بخشو۔
آپ ﷺ کو خادموں اور نوکروں کا بھی بڑا خیال تھا چنانچہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ یہ خاد م تمہارے بھائی ہیں، انہیں اللہ تعالیٰ نے تمہارا ماتحت بنادیا ہے، اگر کسی کا بھائی اُس کا ما تحت بن جائے تو اُسے اپنے کھانے میں سے کچھ کھلائے، اس کو ایسا لباس پہنائے جیسا وہ خود پہنتا ہے، اس کی طاقت وہمت سے زیادہ کام نہ لے، اگر کبھی کوئی سخت کام لے تو اُس کے ساتھ تعاون بھی کرے۔ ۔۔۔ اسی طرح حضور اکرم ﷺ کا ارشاد ہے کہ اگر تمہارا خادم یعنی نوکر چاکر تمہارے لئے کھانا بناکر لائے تو اُسے اپنے ساتھ بٹھاکر کھلاؤ یا اُس کھانے میں سے اُسے کچھ دیدو، اس لئے کہ آگ کی تپش اور دھویں کی تکلیف تو اُس نے برداشت کی ہے۔
یتیموں کے لئے بھی آپ ﷺکے دل میں بڑی ہمدردی تھی، اس لئے آپ صحابۂ کرام کو یتیموں کی کفالت کرنے پر اکسایا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا دونوں جنت میں اِس طرح ہوں گے ، آپ نے قربت بیان کرنے کے لئے بیچ اور شہادت کی انگلی سے اشارہ فرمایا۔ یعنی یتیم کی کفالت کرنے والا حضور اکرم ﷺ کے ساتھ جنت میں ہوگا۔
آپ ﷺ کی رحمت کا دائرہ صرف انسانوں تک محدود نہ تھا بلکہ بے زبان جانور بھی آپ ﷺ کی رحمت سے مستفید ہوتے تھے۔ احادیث میں ہے کہ ایک مرتبہ حضور اکرم ﷺ کسی انصاری صحابی کے باغ میں تشریف لے گئے ، وہاں ایک اونٹ موجود تھا، آپ ﷺ کو دیکھ کر اونٹ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ آپ ﷺ یہ منظر دیکھ کر اُس اونٹ کے پاس تشریف لے گئے، اُس کے بدن پر ہاتھ پھیرا یہاں تک کہ پرسکون ہوگیا۔ اُس کے بعد آپ ﷺ نے دریافت کیا : اونٹ کس کا ہے؟ ایک انصاری نوجوان نے عرض کیا یارسول اللہ! میرا ہے۔ آپ ﷺنے اُن سے فرمایا کہ کیا تم اللہ سے نہیں ڈرتے جس نے تمہیں اِس جانور کا مالک بنایا ہے۔ اِس نے مجھ سے تمہاری شکایت کی ہے کہ تم اِسے بھوکا رکھتے ہو اور اِس سے زیادہ کام لیتے ہو۔
ایک مرتبہ آپ ﷺنے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کے ساتھ حسن سلوک کا حکم فرمایا ہے۔ اگر تم ذبح کرو تو اچھے طریقے پر ذبح کرو، ذبح کرنے سے پہلے اپنی چھری تیز کرلیا کرو تاکہ جانور کو زیادہ تکلیف نہ ہو۔
بے زبان چیزیں بھی آپ ﷺ کے دائرہ رحمت میں شامل تھیں، سیرت کی کتابوں میں ایک حیرت انگیز واقعہ موجود ہے، جس سے پتہ چلتا ہے کہ بے زبان چیزوں سے بھی آپ ﷺ کا کتنا تعلق تھا۔ مسجد نبوی میں جب آپ ﷺ خطبہ دیتے دیتے تھک جاتے تو ایک ستون سے ٹیک لگالیا کرتے تھے۔ بعد میں آپ ﷺ کے لئے منبر تیار کردیا گیا۔ آپ ﷺ اُس پر تشریف رکھنے لگے۔ ظاہر ہے کہ وہ ستون آپ کے جسم اطہر کے لمس سے محروم ہوگیا۔ اُس بے زبان ستون کو اِس واقعہ سے اِس قدر صدمہ پہونچا کہ وہ تڑپ اٹھا یہاں تک کہ اُس کے رونے کی آواز آپ ﷺ نے بھی سنی اور صحابۂ کرام کے کانوں تک بھی پہنچی۔ آپ ﷺ منبر سے اترکر ستون کے پاس تشریف لے گئے، اور اُس پر دستِ شفقت رکھ کر اُسکو پر سکون کیا۔ آپ ﷺ نے صحابۂ کرام سے ارشاد فرمایا کہ اگر میں اسے گلے نہ لگاتا تو یہ ستون قیامت تک اسی طرح روتا رہتا۔
مکی دور میں قریش مکہ نے آپ ﷺ کو کتنا ستایا، آپ ﷺ اور آپ کے صحابہ پر کتنے مظالم ڈھائے گئے یہاں تک کہ آپ کو اپنا وطن عزیز بھی چھوڑنا پڑا۔ اِس سے بڑھ کر تکلیف دہ واقعہ انسان کے کیا ہوسکتا ہے کہ وہ اپنے ہم وطنوں کے ظلم وستم سے عاجز آکر اپنا گھربار سب کچھ چھوڑکر دیار غیر میں جاکر فروکش ہوجائے۔ اِس کے باوجود جب چند سال بعد آپ ﷺ فاتحانہ مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو عجز وانکساری سے آپ ﷺکی گردن مبارک جھکی ہوئی تھی اور آپ ﷺکی زبان مبارک پر یہ الفاظ تھے : لَا تَثْرِےْبَ عَلَیکُمُ الْےَوْمَ تم پر آج کوئی گرفت نہیں ہے۔ حالانکہ آپ ﷺ اُس دن چاہتے تو اپنے تمام دشمنوں سے گن گن کر بدلہ لے سکتے تھے، مگر آپ ﷺنے انتقام پر عفو وکرم کو ترجیح دی اور فرمایا: الیوم یوم الرحمۃ آج رحمت کا دن ہے۔
قرآن کریم میں آپ ﷺ کو رحمتِ کائنات کا لقب دیا ہے۔ وَمَا اَرْسَنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعَالَمِےْن عالمین عالم کی جمع ہے، جس میں ساری مخلوقات انس، جن ، حیوانات، نباتات، جمادات سبھی داخل ہیں۔حضور اکرم ﷺ کا اِن سب چیزوں کے لئے رحمت ہونا اس طرح ہے کہ تمام کائنات کی حقیقی روح اللہ تعالیٰ کا ذکراور اس کی عبادت ہے، یہی وجہ ہے کہ جس وقت زمین سے یہ روح نکل جائے گی اور زمین پر کوئی اللہ اللہ کہنے والا نہ رہے گا تو ان سب چیزوں کی موت یعنی قیامت برپا ہوجائے گی۔ جب ذکر اللہ کا اِن سب چیزوں کی روح ہونا معلوم ہوگیا تو رسول اللہ ﷺ کا اِن سب چیزوں کے لئے رحمت ہونا خود بہ خود ظاہر ہوگیا، کیونکہ اِس دنیا میں قیامت تک ذکر اللہ اور عبادت آپ ﷺ ہی کی تعلیمات سے قائم ہے۔
آپ ﷺ کے رحمۃ للعالمین ہونے کا یہ مفہوم بھی لیا گیا ہے کہ آپ ﷺ جو شریعت لے کر دنیا میں تشریف لائے ہیں وہ انسانوں کی بھلائی اور خیر خواہی کے لئے ہے۔ آپ کی ہر تعلیم اور شریعت محمدیہ کا ہر حکم انسانیت کے لئے باعث خیر ہے۔
وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا ایسا عظیم موضوع ہے کہ رحمۃ للعالمین کے رحم وکرم اور شفقت پر پر دن رات بھی لکھا جائے تو اِس موضوع کا حق ادا نہیں کیا جاسکتا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی بیوی، بچے، گھر کے افراد اور گھر کے باہر لوگوں کے ساتھ ویسا ہی معاملہ کرنے والا بنائے جو رحمۃ للعالمین نے اپنے قول وعمل سے قیامت تک آنے والے انسانوں کے لئے پیش فرمائے، آمین۔
محمد نجیب قاسمی سنبھلی (www.najeebqasmi.com)