بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيْم

اَلْحَمْدُ لِلّهِ رَبِّ الْعَالَمِيْن،وَالصَّلاۃ وَالسَّلامُ عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن۔

مدینہ الرسول ﷺ میں مسجد نبوی کے قریب دل دہلانے والا واقعہ

محسن انسانیت وخیر البریہ وافضل الرسل ﷺکی مسجد میں دنیا کے کونے کونے سے آئے ہوئے لاکھوں زائرین خالق کائنات کا نام لے کر ۲۹ ویں روزہ کا افطار کر ہی رہے تھے کہ انسانیت کے دشمن، نہ صرف قابل مذمت بلکہ قابل لعنت ایک ظالم شخص کو جب مسجد نبوی کے قریب سکیورٹی کے افراد نے شک وشبہات کی بناء پر اسے آگے بڑھنے سے روکا تو اس ظالم شخص نے خود کش حملہ سے نہ صرف اپنے آپ کو موت کے گھاٹ اتار دیا، بلکہ مسجد نبوی کی حفاظت میں مصروف چار سکیورٹی افراد کو بھی شہید کردیا۔ دہشت گردی کے بڑے بڑے واقعات دنیا میں رونما ہوتے ہیں لیکن اس واقعہ نے دنیا کے مسلمانوں کی دلوں کی دھڑکنوں کو اس طرح تیز کردیا کہ دنیا کے چپہ چپہ میں مسلمانوں کی زبان سے بس یہ دعا نکل رہی تھی کہ اللہ تعالیٰ سب سے افضل واعلیٰ بشر اور قیامت تک آنے والے انسانوں کے پیغمبر کی مسجد( جہاں آپ ﷺ مدفون ہیں) کو تمام شر سے محفوظ فرمائے۔ یہ مسجد ایسی عظیم ہستی کی طرف منسوب ہے کہ دنیا کے وجود سے لے کر آج تک تمام اوصاف حمیدہ سے متصف شخص دنیا میں نہ کبھی آیا ہے اور نہ کل قیامت تک پیدا ہوگا، جس نے صرف ۲۳ سالہ نبوت والی زندگی میں اپنے قول وعمل کے ذریعہ زندگی کا ایسا اسوہ اور نمونہ انسانیت کے سامنے پیش فرمایا کہ ان کی تعلیمات پر عمل کئے بغیر دنیا میں امن وسکون قائم نہیں کیا جاسکتا۔ اس مسجد کی حفاظت کے لئے لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں مسلمان اپنی جان کانذرانہ پیش کرنے میں دونوں جہاں کی کامیابی وکامرانی سمجھتے ہیں۔ سکیورٹی کے چاروں افراد جو اس ناپاک حملہ میں جاں بحق ہوئے ہیں یقیناًشہید ہیں اور اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے گا ان شاء اللہ۔ اللہ تعالیٰ ان چاروں شہیدوں کے پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق عطا فرمائے اور ان کے لئے دنیوی زندگی میں بہترین سہارے کا انتظام فرمائے۔

سعودی عرب کی موجود ہ حکومت، جو حرمین شریفین کی خدمت کو اپنا نصب العین سمجھتی ہے، ان شاء اللہ حرمین شریفین کی حفاظت کے لئے مزید خصوصی انتظام فرمائے گی تاکہ اسلام مخالف طاقتیں اپنے مقاصد میں کبھی کامیاب نہ ہوسکیں، جیسا کہ سعودی عرب کے بادشاہ شاہ سلمان بن عبد العزیز نے دہشت گردوں کے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ میں اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہوں کہ موجودہ سعودی حکومت کی ہر طرف سے مدد فرمائے، اس ملک کے امن وامان کو باقی رکھے اور حرمین شریفین ومقامات مقدسہ کی مکمل حفاظت فرمائے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ اس سلسلہ میں حکومت سعودی عرب بہت محتاط رہے گی کیونکہ اسلام مخالف طاقتیں دہشت گرد تحریکوں سے حرمین شریفین یا مقامات مقدسہ میں خاص کر حج کی ادائیگی کے دوران کوئی بھی دہشت گردی کا واقعہ کراسکتی ہیں۔ زائرین اور حج وعمرہ کی ادائیگی پر آنے والے اللہ کے مہمانوں سے بھی درخواست ہے کہ حکومت اور سکیورٹی کے افراد کا مکمل تعاون کریں تاکہ حرمین شریفین اور تمام مقامات مقدسہ میں کوئی بھی دہشت گردی کا واقعہ رونما نہ ہوسکے۔

اسلام میں قتل کی سنگینی: قرآن وحدیث میں کسی انسان کو ناحق قتل کرنے پر ایسی سخت وعیدیں بیان کی گئی ہیں جو کسی اور جرم پر بیان نہیں ہوئیں۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق کسی انسان کو نا حق قتل کرنا شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ ہے، بلکہ بعض علماء نے سورۃ النساء آیت نمبر ۹۲ کی روشنی میں فرمایا ہے کہ کسی مسلمان کو ناحق قتل کرنے والا ملت اسلامیہ سے ہی نکل جاتا ہے: ’’اور جو شخص کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اللہ اس پر غضب نازل کرے گا اور لعنت بھیجے گا اور اللہ نے اس کے لئے بڑا عذاب تیار کررکھا ہے۔‘‘ قرآن کریم میں دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے ایک شخص کے قتل کو تمام انسانوں کا قتل قرار دیا: ’’اسی وجہ سے بنی اسرائیل کو یہ فرمان لکھ دیا تھا کہ جو کوئی کسی کو قتل کرے جب کہ یہ قتل نہ کسی اور جان کا بدلے لینے کے لئے ہواور نہ کسی کے زمین میں فساد پھیلانے کی وجہ سے ہو تو یہ ایسا ہے جیسے اس نے تمام انسانوں کو قتل کردیا اور جو شخص کسی کی جان بچالے تو یہ ایسا ہے جیسے اس نے تمام انسانوں کی جان بچالی۔‘‘ (سورۃ المائدہ ۳۲) غرضیکہ اللہ تعالیٰ نے ایک شخص کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیا کیونکہ کوئی شخص قتل ناحق کا ارتکاب اسی وقت کرتا ہے جب اس کے دل سے انسان کی حرمت کا احساس مٹ جائے، نیز اگر کسی کو ناحق قتل کرنے کا چلن عام ہوجائے تو تمام انسان غیر محفوظ ہوجائیں گے، لہٰذا قتل ناحق کا ارتکاب چاہے کسی کے خلاف کیا گیا ہو، تمام انسانوں کو یہ سمجھنا چاہئے کہ یہ جرم ہم سب کے خلاف کیا گیا ہے۔حضوراکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک مسلمان شخص کے قتل سے پوری دنیا کا ناپید (اور تباہ ) ہوجانا ہلکا (واقعہ) ہے۔ (ترمذی۔ باب ماجاء فی تشدید قتل المؤمن ) ان دو آیات اور ایک حدیث سے کسی شخص کو ناحق قتل کرنے کی سخت ترین سزا معلوم ہوئی۔ اب ذرا سوچیں کہ مسجد نبوی (جہاں تمام نبیوں کے سردار اور ساری کائنات میں سب سے افضل واعلیٰ وتاجدار مدینہ حضور اکرم ﷺآرام فرمارہے ہیں) کے قریب پہنچ کر جو شخص دہشت گردی کے مذموم عمل کا ارادہ رکھتا ہو وہ کتنے بڑے جرم کا مرتکب کہلائے گا۔ لہذا ۲۹ ویں روزہ کی افطار کے وقت مسجد نبوی کے قریب ہوئے دہشت گردانہ عمل کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہی کم ہے۔

آئیے! اس موقع کو غنیمت سمجھ کر مسجد نبوی کی مختصر تاریخ اور اللہ کے حبیب محمد رسول اللہ ﷺ کی زبان مبارک سے اس مبارک سرزمین کی اہمیت اور فضیلت کو پڑھیں:

مسجد نبوی: جب حضور اکر م ﷺ مکہ مکرمہ سے ہجرت کرکے مدینہ منورہ تشریف لائے توآپ ﷺ نے ۱ ہجری میں مسجد قبا کی تعمیر کے بعد صحابۂ کرام کے ساتھ مسجد نبوی کی تعمیر فرمائی، اس وقت مسجد نبوی ۱۰۵ فٹ لمبی اور ۹۰ فٹ چوڑی تھی۔ ہجرت کے ساتویں سال فتح خیبر کے بعد نبی اکرم ﷺ نے مسجد نبوی کی توسیع فرمائی۔ اس توسیع کے بعد مسجد نبوی کی لمبائی اور چوڑائی ۱۵۰ فٹ ہوگئی۔حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں مسلمانوں کی تعداد میں جب غیر معمولی اضافہ ہوگیا اور مسجد ناکافی ثابت ہوئی تو ۱۷ ھ میں مسجد نبوی کی توسیع کی گئی۔ ۲۹ ھ میں حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے زمانے میں مسجد نبوی کی توسیع کی گئی۔اموی خلیفہ ولید بن عبد الملک نے ۸۸ ھ تا ۹۱ھ میں مسجد نبوی کی غیر معمولی توسیع کی۔ حضرت عمر بن عبد العزیز ؒ اس وقت مدینہ منورہ کے گورنر تھے۔ اموی اور عباسی دور میں مسجد نبوی کی متعدد توسیعات ہوئیں۔ ترکوں نے مسجد نبوی کی نئے سرے سے تعمیر کی، اس میں سرخ پتھر کا استعمال کیا گیا، مضبوطی اور خوبصورتی کے اعتبار سے ترکوں کی عقیدت مندی کی ناقابل فراموش یادگار آج بھی برقرار ہے۔حج اور عمرہ کرنے والوں اور زائرین کی کثرت کی وجہ سے جب یہ توسیعات بھی ناکافی رہیں تو موجودہ سعودی حکومت نے قرب وجوار کی عمارتوں کو خریدکر اور انھیں منہدم کرکے عظیم الشان توسیع کی جو اب تک کی سب بڑی توسیع مانی جاتی ہے۔

حجرہ مبارکہ (روضۂ اقدس ﷺ): حضور اکرم ﷺ نے اپنی زندگی کے آخری دس گیارہ سال مدینہ منورہ میں گزارے۔ آپ ﷺ کے انتقال کے بعد حضور اکرم ﷺ کی تعلیمات کے مطابق مسجد نبوی سے متصل حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ میں ہی آپ ﷺ کو دفن کردیا گیا،اسی حجرہ میں آپﷺ کا انتقال بھی ہوا تھا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ بھی اسی حجرہ میں مدفون ہیں۔ اسی حجرہ مبارکہ کے پاس کھڑے ہوکر سلام پڑھا جاتا ہے۔ حجرہ مبارکہ کے قبلہ رخ تین جالیاں ہیں جس میں دوسری جالی میں تین سوراخ ہیں، پہلے اور بڑے گولائی والے سوراخ کے سامنے آنے کا مطلب ہے کہ حضور اکرم ﷺ کی قبر اطہر سامنے ہے۔ دوسرے سوراخ کے سامنے آنے کا مطلب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی قبر سامنے ہے اور تیسرے سوراخ کے سامنے آنے کا مطلب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی قبر سامنے ہے۔اب یہ حجرہ مبارکہ مسجد نبوی کے اندر واقع ہے۔

ریاض الجنۃ:قدیم مسجد نبوی میں منبراور حجرہ مبارکہ (روضۂ اقدس) کے درمیان جو جگہ ہے وہ ریاض الجنۃ کہلاتی ہے۔ حضور اکرم ﷺ کا ارشاد ہے: ’’منبراور روضۂ اقدس کے درمیان کی جگہ جنت کی کیاریوں میں سے ایک کیاری ہے۔‘‘ ریاض الجنۃ کی شناخت کے لئے یہاں سفید سنگ مرمر کے ستون ہیں۔ ان ستونوں کو اسطوانہ کہتے ہیں،ان ستونوں پر ان کے نام بھی لکھے ہوئے ہیں۔ ریاض الجنۃ کے پورے حصہ میں جہاں سفید اور ہری قالینوں کا فرش ہے نمازیں ادا کرنا زیادہ ثواب کا باعث ہے، نیز قبولیت دعا کے لئے بھی خاص مقام ہے۔

اصحابِ صفہ کا چبوترہ: مسجد نبوی میں حجرۂ شریفہ کے پیچھے ایک چبوترہ بنا ہوا ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں وہ مسکین وغریب صحابہ کرام قیام فرماتے تھے جن کا نہ گھر تھا نہ در، اور جو دن ورات ذکر وتلاوت کرتے اور حضور اکرم ﷺ کی صحبت سے مستفید ہوتے تھے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اسی درسگاہ کے ممتاز شاگردوں میں سے ہیں۔ اصحاب صفہ کی تعداد کم اور زیادہ ہوتی رہتی تھی،کبھی کبھی ان کی تعداد ۸۰ تک پہونچ جاتی تھی۔ سورۃ الکہف کی آیت نمبر (۲۸) انہیں اصحاب صفہ کے حق میں نازل ہوئی، جس میں اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺکو ان کے ساتھ بیٹھنے کاحکم دیا۔

مدینہ طیبہ کے فضائل: مدینہ منورہ کے فضائل ومناقب بے شمار ہیں، اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک اس کا بلند مقام ومرتبہ ہے۔ مدینہ منورہ کی فضیلت کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ تمام نبیوں کے سردار حضرت محمد مصطفی ﷺ کا دار الہجرہ اور مسکن ومدفن ہے۔ اسی پاک ومبارک سرزمین سے دین اسلام دنیا کے کونے کونے تک پھیلا۔ اس شہر کو طیبہ اور طابہ (یعنی پاکیزگی کا مرکز) بھی کہتے ہیں۔ اس میں اعمال کا ثواب کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔

حضور اکرمﷺ کی زبان مبارک سے مدینہ منورہ کے چند فضائل پیش خدمت ہیں:

۱) رسول اللہ ﷺ نے دعا کرتے ہوئے فرمایا: اے اللہ! مدینہ کی محبت ہمارے دلوں میں مکہ کی محبت سے بھی بڑھا دے۔ (بخاری)

۲) نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: یا اللہ! مکہ کو تو نے جتنی برکت عطا فرمائی ہے مدینہ کو اس سے دوگنی برکت عطا فرما۔ (بخاری)

۳) رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: جس نے (مدینہ کے قیام کے دوران آنے والی) مشکلات ومصائب پر صبر کیا، قیامت کے روز میں اس کی سفارش کروں گا یا فرمایا میں اس کی گواہی دوں گا۔ (مسلم)

۴) حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: مدینہ کے راستوں پر فرشتے مقرر ہیں اس میں نہ کبھی طاعون پھیل سکتا ہے نہ دجال داخل ہوسکتا ہے۔ (بخاری)

۵) رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص مدینہ میں مر سکتا ہے (یعنی یہاں آکر موت تک قیام کرسکتا ہے) اسے ضرور مدینہ میں مرنا چاہئے کیونکہ میں اس شخص کے لئے سفارش کروں گا جو مدینہ منورہ میں مرے گا۔ (ترمذی)

۶) رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ایمان (قرب قیامت) مدینہ میں سمٹ کر اس طرح واپس آجائے گا جس طرح سانپ گھوم پھر کر اپنے بل میں واپس آجاتا ہے۔ (بخاری)

۷) رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو بھی مدینہ کے رہنے والوں کے ساتھ مکر کرے گا وہ ایسا گھل جائے گا جیسا کہ پانی میں نمک گھل جاتا ہے (یعنی اس کا وجود باقی نہ رہے گا)۔ (بخاری ومسلم)

۸) رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: مدینہ برے لوگوں کو یوں الگ کردیتا ہے جس طرح آگ چاندی کے میل کچیل کو دور کردیتی ہے۔ مسلم

مسجد نبوی کی زیارت کے فضائل:

۱) رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: تین مساجد کے علاوہ کسی دوسری مسجد کا سفر اختیار نہ کیا جائے مسجد نبوی، مسجد حرام اور مسجد اقصی۔ (بخاری)

۲) رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: میری اس مسجد میں نماز کا ثواب دیگر مساجد کے مقابلے میں ہزار گنا زیادہ ہے سواء مسجد حرام کے۔ (صحیح مسلم) ابن ماجہ کی روایت میں پچاس ہزار نمازوں کے ثواب کا ذکر ہے۔جس خلوص کے ساتھ وہاں نماز پڑھی جائے گی اسی کے مطابق اجروثواب ملے گا، ان شاء اللہ۔

۳) رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس شخص نے میری اس مسجد (یعنی مسجد نبوی) میں فوت کئے بغیر (مسلسل) چالیس نمازیں ادا کیں اس کے لئے آگ سے براء ت، عذاب سے نجات اور نفاق سے براء ت لکھی گئی۔ (ترمذی، طبرانی، مسند احمد) بعض علماء نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے لیکن دیگر محدثین نے صحیح قرار دیا ہے۔

قبر اطہر کی زیارت کے فضائل:

۱) حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص میری قبر کے پاس کھڑے ہوکر مجھ پر درود وسلام پڑھتا ہے میں اس کو خود سنتا ہوں اور جوکسی اور جگہ درود پڑھتا ہے تو اس کی دنیا وآخرت کی ضرورتیں پوری کی جاتی ہیں اور میں قیامت کے دن اس کا گواہ اور اس کا سفارشی ہوں گا۔ (بیہقی)

۲) حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص میری قبر کے پاس آکر مجھ پر سلام پڑھے تو اللہ تعالیٰ مجھ تک پہونچادیتے ہیں، میں اس کے سلام کا جواب دیتا ہوں۔ (مسند احمد، ابو داود)

۳) رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: جس شخص نے میری قبر کی زیارت کی اس کے لئے میری شفاعت واجب ہوگئی۔ (دار قطنی، بزاز)

۴) حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو میری زیارت کو آئے اور اس کے سوا کوئی اور نیت اس کی نہ ہو تو مجھ پر حق ہوگیا کہ میں اس کی شفاعت کروں۔ (طبرانی)

۵) نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس نے مدینہ آکر ثواب کی نیت سے میری (قبر کی) زیارت کی وہ میرے پڑوس میں ہوگا اور میں قیامت کے دن اس کا سفارشی ہوں گا۔ (بیہقی)

۶) حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: یا اللہ! میری قبر کو بت نہ بنانا۔ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں پر لعنت فرمائی ہے جنہوں نے انبیاء کی قبروں کو عبادت گاہ بنالیا۔ مسند احمد

مسجد حرام، مسجد نبوی اور تمام مقامات مقدسہ کی حفاظت دین اسلام کی حفاظت کی طرح مطلوب ہے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ موجودہ سعودی حکومت ان شاء اللہ حفاظت کے مزید خصوصی انتظام فرمائے گی۔ ضیوف الرحمن اور زائرین سے درخواست ہے کہ سیکروٹی افراد کا مکمل تعاون کرکے مقامات مقدسہ کی حفاظت میں اپنی شرکت فرمائیں۔ عام مسلمانوں سے بھی درخواست ہے کہ سوشل میڈیا پر آنے والی خبروں کی تحقیق کے بغیر دوسروں کو ہرگز ارسال نہ کریں بلکہ اپنے قول وعمل سے ایسی کوشش کریں کہ اسلام مخالف طاقتیں اپنے گھناؤنی جرائم کے ارتکاب میں کامیاب نہ ہوسکیں۔ نیز پوری دنیا میں امن وامان قائم کرنے کی حتی الامکان کوشش کریں اور رب للعالمین سے دنیا میں خاص کر رحمۃ للعالمین کے شہر طیبہ اور طابہ (یعنی پاکیزگی کا مرکز) میں سلامتی اور امن وسکون کے قیام کی خوب دعائیں کریں۔

محمد نجیب قاسمی سنبھلی (www.najeebqasmi.com)