بسم الله الرحمن الرحيم

اَلْحَمْدُ لِله رَبِّ الْعَالَمِيْن،وَالصَّلاۃ وَالسَّلام عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن۔

حجیتِ حدیث

اُس کلام کو حدیث کہا جاتا ہے جس میں نبی اکرم ﷺ کے قول یا عمل یا کسی صحابی کے عمل پر آپ ﷺکے سکوت، یا آپ ﷺکی صفات میں سے کسی صفت کا ذکر کیا گیا ہو۔ حجیت کے معنی استدلال(کسی حکم کو ثابت کرنا )کرنے کے ہیں، یعنی قرآن کریم کی طرح حدیث نبوی سے بھی عقائد واحکام وفضائل اعمال ثابت ہوتے ہیں، البتہ اس کا درجہ قرآن کریم کے بعد ہے۔ جس طرح ایمان کے معاملہ میں اللہ اور اس کے رسول کے درمیان تفریق نہیں کی جاسکتی ہے کہ ایک کو مانا جائے اور دوسرے کو نہ مانا جائے۔ ٹھیک اسی طرح کلام اللہ اور کلام رسول کے درمیان بھی کسی تفریق کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ ایک کو واجب الاطاعت مانا جائے اور دوسرے کو نہ مانا جائے کیونکہ ان دونوں میں سے کسی ایک کے انکار پر دوسرے کا انکار خود بخود لازم آئے گا۔ خدائی غیرت گوارا نہیں کرتی کہ اس کے کلام کو تسلیم کرنے کا دعویٰ کیا جائے مگر اس کے نبی کے کلام کو تسلیم نہ کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے پاک کلام میں صاف صاف بیان فرمادیا: فَاِنَّہُمْ لَا ےُکَذِّبُوْنَکَ وَلٰکِنَّ الظَّالِمِےْنَ بِآےَاتِ اللّٰہِ ےَجْحَدُوْنَ (سورۃ الانعام ۳۳) پس اے نبی! یہ لوگ آپ کے کلام کو نہیں ٹھکراتے بلکہ یہ ظالم اللہ کی آیتوں کے منکر ہیں۔ غرضیکہ قرآن کریم پر ایمان اور اس کے مطابق عمل کرنے کی طرح احادیث نبویہ پر ایمان لانا اور ان کے مطابق زندگی گزارنا ایمان کی تکمیل کے لئے ضروری ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ عہدہ دیا کہ آپ کی زبان مبارک سے جس چیز کی حلت کا اعلان ہوگیا وہ حلال ہے اور جس کو آپ ﷺ نے حرام فرمادیا وہ حرام ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر اپنے پاک کلام میں بیان فرمادیا کہ قرآن کریم کے پہلے مفسر حضور اکرم ﷺ ہیں، جن کی اطاعت قیامت تک آنے والے ہر انسان کے لئے لازم اور ضروری ہے اور حضور اکرم ﷺ کی اطاعت آپ ﷺ کے اقوال وافعال کے مطابق زندگی گزارنا ہی تو ہے اور آپ ﷺ اقوال وافعال ہمیں ذخیرۂ حدیث میں ہی تو ملتے ہیں۔
حجیت حدیث قرآن کریم سے:
اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے پاک کلام قرآن کریم میں متعدد مرتبہ حدیث رسول ﷺکے قطعی دلیل ہونے کو بیان فرمایا ہے، جن میں سے چند آیات مندرجہ ذیل ہیں:
*
وَاَنْزَلْنَا اِلَےْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَےْہِمْ وَلَعَلَّہُمْ ےَتَفَکَّرُوْنَ (سورۂ النحل ۴۴) یہ کتاب ہم نے آپ کی طرف اتاری ہے کہ لوگوں کی جانب جو حکم نازل فرمایا گیا ہے، آپ اسے کھول کھول کر بیان کردیں، شاید کہ وہ غوروفکر کریں۔
*
وَمَآ اَنْزَلْنَا عَلَےْکَ الْکِتَابَ اِلَّا لِتُبَیِّنَ لَہُمُ الَّذِیْ اخْتَلَفُوا فِےْہِ(سورۂ النحل ۶۴) یہ کتاب ہم نے آپ پر اس لئے اتاری ہے کہ آپ ان کے لئے ہر چیز کو واضح کردیں جس میں وہ اختلاف کررہے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے ان دونوں آیات میں واضح طور پر بیان فرمادیا کہ قرآن کریم کے مفسر اول حضور اکرم ﷺہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبی اکرم ﷺ پر یہ ذمہ داری عائد کی گئی ہے کہ آپ امت مسلمہ کے سامنے قرآن کریم کے احکام ومسائل کھول کھول کر بیان کریں۔ان دونوں مذکورہ آیات کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی سینکڑوں آیات میں اپنی اطاعت کے ساتھ رسول کی اطاعت کا بھی حکم دیا ہے۔ کہیں فرمایا: (اَطِےْعُوا اللّٰہَ وَاَطِےْعُوا الرَّسُوْلَ)، کہیں فرمایا: (اَطِےْعُوا اللّٰہَ وَرَسُوْلَہ)، کسی جگہ ارشاد ہے: (اَطِےْعُوا اللّٰہَ والرَّسُوْلَ) اور کسی آیت میں ارشاد ہے: (اَطِےْعُوا الرَّسُوْلَ)۔ ان سب جگہوں پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندوں سے ایک ہی مطالبہ ہے کہ فرمانِ الہی کی تعمیل کرو اور ارشاد نبوی ﷺکی اطاعت کرو۔ غرضیکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں متعدد جگہوں پر یہ بات واضح طور پر بیان کردی کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی اطاعت بھی ضروری ہے اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت رسول اکرم ﷺ کی اطاعت کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں رسول کی اطاعت کا حکم دیا اور رسول کی اطاعت جن واسطوں سے ہم تک پہونچی ہے یعنی احادیث کا ذخیرہ ، اگر ان پر ہم شک وشبہ کریں تو گویا ہم قرآن کریم کی سینکڑوں آیات کے منکر ہیں یا زبان حال سے یہ کہہ رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ایسی چیز کا حکم دیا ہے یعنی اطاعت رسول ،جو ہمارے اختیار میں نہیں ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔
*
مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہَ، وَمَنْ تَوَلّٰی فَمَآ اَرْسَلْنَاکَ عَلَےْہِمْ حَفِےْظًا (سورۂ النساء ۸۰) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کو اطاعت الہی قرار دیتے ہوئے فرمایا: جس شخص نے رسول اللہ کی اطاعت کی ، اس نے دراصل اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی۔
*
قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِی ےُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ وَےَغْفِرْ لَکُمْ ذُنُوْبَکُمْ (سورۂ آل عمران ۳۱)اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اطاعتِ رسول کو حب الہی کا معیار قرار دیا یعنی اللہ تعالیٰ سے محبت رسول اکرم ﷺکی اطاعت میں ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: اے نبی! لوگوں سے کہہ دیں کہ اگر تم حقیقت میں اللہ تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی اختیار کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہوں کو معاف فرمائے گا۔
*
وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہُ ےُدْخِلْہُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہَارُ خَالِدِےْنَ فِےْہَا، وَذٰلِکَ الْفُوْزُ الْعَظِےْمُ۔ وَمَنْ ےَعْصِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہُ وَےَتَعَدَّ حُدُوْدَہٗ ےُدْخِلْہُ نَاراً خَالِدًا فِےْہَا وَلَہُ عَذَابٌ مُّہِےْنٌ (سورۂ النساء ۱۳۔۱۴) جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا اسے اللہ تعالیٰ ایسی جنتوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور ان باغوں میں وہ ہمیشہ رہیں گے، اور یہی بڑی کامیابی ہے۔ اور جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا، اور اس کی مقررہ حدوں سے آگے نکلے گا ، اسے وہ جہنم میں ڈال دے گا، جس میں وہ ہمیشہ رہے گا، ایسوں ہی کے لئے رسوا کن عذاب ہے۔ غرضیکہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت نہ کرنے والوں کا ٹھکانا جہنم ہے۔
*
وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہُ ےُدْخِلْہُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہَارُ، وَمَنْ یَّتَوَلَّ ےُعَذِّبْہُ عَذَاباً اَلِےْماً (سورۂ الفتح ۱۷)جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا اسے اللہ تعالیٰ ایسی جنتوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ اور جو منہ پھیرے گا ، اسے وہ دردناک عذاب دے گا۔ان دو آیات میں اللہ تعالیٰ نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت پر ہمیشہ ہمیشہ کی جنت اور اللہ اور اس کے رسول ﷺکی نافرمانی پر ہمیشہ ہمیشہ کے عذاب کا فیصلہ فرمایا۔
*
وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَالرَّسُوْلَ فَاُولٰءِکَ مَعَ الَّذِےْنَ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَےْہِمْ مِنَ النَّبِیِّینَ وَالصِّدِّےْقِےْنَ وَالشُّہَدَاءِ وَالصَّالِحِےْنَ وَحَسُنَ اُولٰءِکَ رَفِےْقًا (سورۂ النساء ۶۹) جو لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کریں گے وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام نازل فرمایا ہے، یعنی انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین۔ کیسے اچھے ہیں یہ رفیق جو کسی کو میسر آئیں۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرنے والوں کا حشر انبیاء، صدیقین، شہداء اور نیک لوگوں کے ساتھ ہوگا۔
*
وَمَا کَانَ لِمُوْمِنٍ وَّلَا مُوْمِنَۃٍ اِذَا قَضَی اللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ اَمْراً اَن یَّکُوْنَ لَہُمُ الْخِےَرَۃُ مِنْ اَمْرِہِمْ۔ وَمَنْ ےَعْصِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہُ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالاً مُّبِےْناً (سورۂ الاحزاب ۳۶)کسی مومن مرد ومومنہ عورت کویہ حق نہیں ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی معاملے کا فیصلہ کردیں تو پھر اسے اس معاملہ میں خود فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ اور جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺکی نافرمانی کرے گا، وہ صریح گمراہی میں پڑے گا۔
*
فَلا وََرَبِّکَ لَا ےُوْمِنُوْنَ حتَیّٰ ےُحَکِّمُوَکَ فِےْمَا شَجَرَ بَےْنَہُمْ ثُمَّ لَا ےَجِدُوْا فِی اَنْفُسِہِمْ حَرَجاً مِّمَّا قَضَےْتَ وَےُسَلِّمُوا تَسْلِےْماً (سورۂ النساء ۶۵)(اے میرے نبی!) تیرے رب کی قسم ! یہ کبھی مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں آپ کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں، پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو، اس پر اپنے دلوں میں تنگی بھی محسوس نہ کریں بلکہ سر تسلیم خم کرلیں۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کے فیصلوں کی نافرمانی کو عدم ایمان کی نشانی اور آپ ﷺ کی اطاعت کو ایمان کی علامت قرار دیا۔
*
لَقَدْ مَنَّ اللّٰہُ عَلَی الْمُؤمِنِےْنَ اِذْ بَعَثَ فِےْہِمْ رَسُوْلاً مِنْ اَنْفُسِہِمْ ےَتْلُوْ عَلَےْہِمْ آےَاتِہِ وَےُزَکِّےْہِمْ وَےُعَلِّمُہُمُ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَۃَ (سورۂ آل عمران ۱۶۴) حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے مؤمنوں پر بڑا احسان کیا کہ ان کے درمیان انہی میں سے ایک رسول بھیجا جو ان کے سامنے اللہ کی آیتوں کی تلاوت کرے، انہیں پاک صاف بنائے اور انہیں کتاب وحکمت کی تعلیم دے۔ اس آیت سے واضح طور پر معلوم ہوا کہ رسول کا کام صرف کتاب پہنچانا نہیں تھا، بلکہ اللہ کی کتاب سناکر اس کے احکام کو سیکھانا بھی تھا۔ نیز لوگوں کا تزکیہ کرنا بھی آپ کی بعثت کے مقاصد میں تھا۔ تزکیہ صرف کتاب ہاتھ میں دینے سے نہیں ہوتا بلکہ اس کے لئے قول وعمل سے رہنمائی ضروری ہے۔ جس کو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ وہ نبی لوگوں کو کتاب اور حکمت سکھاتا ہے، کتاب سے مراد قرآن کریم اور حکمت سے مراد قول وعمل سے لوگوں کی رہنمائی یعنی حدیث نبوی۔
*
ےَا اَیُّہَا الَّذِےْنَ آمَنُوٓا اسْتَجِےْبُوْا لِلّٰہِ وَلِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاکُمْ لِمَا ےُحْےِےْکُمْ (سورۂ الانفال ۲۴)اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کی پکار پر لبیک کہو جبکہ رسول تمہیں اس چیز کی طرف بلائے جو تمہیں زندگی بخشنے والی ہے۔
*
ےَاْمُرُہُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَےَنْہٰہُمْ عَنِ الْمُنْکَرِ وَےُحِلُّ لَہُمُ الطِّیِّبَاتِ وَےُحَرِّمُ عَلَےْہِمُ الْْخَبَاءِثَ (سورۂ الاعراف ۱۵۷) رسول امی ان کو نیکیوں کا حکم دیتے ہیں اور برائیوں سے روکتے ہیں اور پاکیزہ چیزوں کو ان کے لئے حلال قرار دیتے ہیں اور گندی چیزوں کو ان پر حرام قرار دیتے ہیں۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حضور اکرم ﷺ کو حلال قرار دینے والا اور حرام قرار دینے والا بتایا ہے۔غرضیکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ عہدہ دیا کہ آپ کی زبان مبارک سے جس چیز کی حلت کا اعلان ہوگیا وہ حلال ہے اور جس کو آپ ﷺ نے حرام فرمادیا وہ حرام ہے۔
*
لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِی رَسُولِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ لَِّمَنْ کَانَ ےَرْجُو اللّٰہَ وَالْےَوْمَ الْآخِرَ وَذَکَرَ اللّٰہَ کَثِےْراً (سورۂ الاحزاب ۲۱)یقیناًتمہارے لئے رسول اللہ میں عمدہ نمونہ موجود ہے، ہر اس شخص کے لئے جو اللہ تعالیٰ کی اور قیامت کے دن کی توقع رکھتا ہے اور بکثرت اللہ تعالیٰ کی یاد کرتا ہے۔ یعنی نبی اکرم ﷺکی زندگی جو احادیث کے ذخیرہ کی شکل میں ہمارے پاس محفوظ ہے کل قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کے لئے بہترین نمونہ ہے کہ ہم اپنی زندگیاں اسی نمونہ کے مطابق گزاریں۔
*
وَمَن یُّشاقِقِ الرَّسُوْلَ مِن بَّعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُ الْہُدٰی وَےَتَّبِعْ غَےْرَ سَبِےْلِ الْمُوْمِنِےْنَ نُوَلِّہِ مَا تَوَلّٰی وَنُصْلِہِ جَہَنَّمَ وَسَاءَ تْ مَصِےْراً (سورۂ النساء ۱۱۵) اس آیت میں اللہ حکم رسول ﷺاور سنت نبوی ﷺکی مخالفت کرنے والوں کو جہنم کی سزا سناتے ہوئے فرماتا ہے : جو شخص رسول کی مخالفت کرے اور اہل ایمان کی روش کے سوا کسی اور کے راستے پر چلے جبکہ ہدایت اس پر واضح ہوچکی ہے تو اس کو ہم اسی طرف چلائیں گے جدھر وہ پھر گیا اور اسے جہنم میں جھونکیں گے، جو بدترین ٹھکانا ہے۔
غرضیکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں متعدد جگہوں پر یہ بات واضح طور پر بیان کردی کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے ساتھ رسول ﷺ کی اطاعت بھی ضروری ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی اطاعت رسول اکرم ﷺ کی اطاعت کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں رسول کی اطاعت کا حکم دیا اور رسول کی اطاعت جن واسطوں سے ہم تک پہونچی ہے یعنی احادیث کا ذخیرہ ، ان پر اگر ہم شک وشبہ کرنے لگیں تو گویا یا تو ہم قرآن کریم کی اِن مذکورہ تمام آیات کے منکر ہیں یا زبان حال سے یہ کہہ رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ایسی چیز کا حکم دیا ہے یعنی اطاعت رسول ،جو ہمارے اختیار میں نہیں ہے۔
حجیت حدیث نبی اکرم ﷺ کے اقوال سے:
سارے انبیاء کے سردار و آخری نبی حضور اکرم ﷺنے بھی قرآن کریم کے ساتھ سنت رسول ﷺکی اتباع کو ضروری قرار دیا ہے، حدیث کی تقریباً ہر کتاب میں نبی اکرم ﷺکے ارشادات تواتر کے ساتھ موجود ہیں، ان میں سے صرف تین احادیث پیش خدمت ہیں:
*
رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا: جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی۔ (بخاری ومسلم) * رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا: جب میں تمہیں کسی چیز سے روکوں تو اس سے باز آجاؤ اور جب میں تمہیں کسی کام کا حکم دوں تو حسب استطاعت اس کی تعمیل کرو۔ (بخاری ومسلم)
*
رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا: میری امت کے تمام افراد جنت میں جائیں گے، سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے انکار کیا۔ آپ ﷺسے کہا گیا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ ! دخولِ جنت سے کون انکار کرسکتا ہے؟ تو آپ ﷺنے فرمایا : جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہوگیا، اور جس نے میری نافرمانی کی، اس نے (دخول جنت سے) انکار کیا۔ (بخاری ومسلم)
حجیت حدیث اجماع سے:
نبی اکرم ﷺکی زندگی میں اور انتقال کے بعد صحابۂ کرام کے عمل سے امت مسلمہ نے سنت رسول ﷺکے حجت ہونے پر اجماع کیاہے، کیونکہ صحابۂ کرام کسی بھی مسئلہ کا حل پہلے قرآن کریم میں تلاش کیا کرتے تھے، پھر نبی اکرم ﷺکی سنت میں ۔ اسی وجہ سے جمہور علماء کرام نے وحی کی دو قسمیں کی ہیں، جیساکہ سورۂ النجم کی ابتدائی آیات (وَمَا ےَنْطِقُ عَنِ الْہَوٰی اِنْ ہُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰی) (اور نہ وہ اپنی خواہش سے کوئی بات کہتے ہیں ۔ وہ تو صرف وحی ہے جو اتاری جاتی ہے) سے معلوم ہوتا ہے:
(
۱) وحی متلو: وہ وحی جس کی تلاوت کی جاتی ہے، یعنی قرآن کریم، جس کا ایک ایک حرف کلام الٰہی ہے۔
(
۲) وحی غیر متلو: وہ وحی جس کی تلاوت نہیں کی جاتی ہے، یعنی سنت رسول ﷺ،جس کے الفاظ نبی اکرم ﷺکے ہیں ، البتہ بات اللہ تعالیٰ کی ہے۔
بعض حضرات قرآن کریم کی چند آیات مثلاً (تِبْےَاناً لِکُلِّ شَیْءٍ) (سورۂ النحل ۸۹) اور (تَفْصِےْلاً لِکُلِّ شَیْء) (سورۂ الانعام ۱۵۴) سے غلط مفہوم لے کر یہ بیان کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ قرآن کریم میں ہر مسئلہ کا حل ہے اور قرآن کریم کو سمجھنے کے لئے حدیث کی کوئی خاص ضرورت نہیں ہے۔ حالانکہ حدیث رسول ﷺ بھی قرآن کریم کی طرح شریعتِ اسلامیہ میں قطعی دلیل اور حجت ہے، جیسا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے پاک کلام میں متعدد مقامات پر مکمل وضاحت کے ساتھ ذکر کیا ہے، یعنی نبی اکرم ﷺکے قول وعمل سے بھی احکام شرعیہ ثابت ہوتے ہیں۔
قرآن کریم میں عموماً احکام کی تفصیل مذکور نہیں ہے، نبی اکرم ﷺنے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اپنے اقوال واعمال سے ان مجمل احکام کی تفصیل بیان کی ہے۔ اسی لئے تو اللہ تعالیٰ نبی ورسول کو بھیجتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احکام اپنے اقوال واعمال سے امتیوں کے لئے بیان کرے۔ مثلاً اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بے شمار مقامات پر نماز پڑھنے، رکوع کرنے اور سجدہ کرنے کا حکم دیا ہے، لیکن نماز کی تفصیل قرآن کریم میں مذکور نہیں ہے کہ ایک دن میں کتنی نمازیں ادا کرنی ہیں؟ قیام یا رکوع یا سجدہ کیسے کیا جائے گا اورکب کیا جائے گا ؟اور اس میں کیا پڑھا جائے گا؟ ایک وقت میں کتنی رکعت ادا کرنی ہیں؟
اسی طرح قرآن کریم میں زکاۃ کی ادائیگی کا تو حکم ہے لیکن تفصیلات مذکور نہیں ہیں کہ زکاۃ کی ادائیگی روزانہ کرنی ہے یا سال بھر میں یاپانچ سال میں یا زندگی میں ایک مرتبہ؟ پھر یہ زکاۃ کس حساب سے دی جائے گی؟ کس مال پر زکاۃ واجب ہے اور اس کے لئے کیا کیا شرائط ہیں؟
غرضیکہ اگرحدیث کی حجیت پر شک کریں تو قرآن کریم کی وہ سینکڑوں آیات جن میں نماز پڑھنے ، رکوع کرنے یا سجدہ کرنے کا حکم ہے یا زکاۃ کی ادائیگی کا حکم ہے، وہ سب نعوذ باللہ بے معنی ہوجائیں گی۔
اسی طرح قرآن کریم (سورۂ المائدہ ۳۸) میں حکم ہے کہ چوری کرنے والے مرد اور عورت کے ہاتھوں کو کاٹ دیا جائے۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ دونوں ہاتھ کاٹیں یا ایک ہاتھ؟ اور اگر ایک ہاتھ کاٹیں تو داہنا کاٹیں یا بایاں؟ پھر اسے کاٹیں تو کہا ں سے؟ بغل سے؟ یا کہنی سے؟ یا کلائی سے؟ یا ان کے بیچ میں کسی جگہ سے؟ پھر کتنے مال کی قیمت کی چوری پر ہاتھ کاٹیں؟ اس مسئلہ کی وضاحت حدیث میں ہی ملتی ہے، معلوم ہوا کہ قرآن کریم حدیث کے بغیر نہیں سمجھا جاسکتا ہے۔
اسی طرح قرآن کریم (سورۂ الجمعہ) میں یہ ارشاد ہے کہ جب جمعہ کی نماز کے لئے پکارا جائے تو اللہ تعالیٰ کے ذکر کی طرف دوڑو اور خرید وفروخت چھوڑدو۔ سوال یہ ہے کہ جمعہ کا دن کونسا ہے؟ یہ اذان کب دی جائے؟ اس کے الفاظ کیا ہوں؟ جمعہ کی نماز کب ادا کی جائے؟ اس کو کیسے پڑھیں؟ خریدو فروخت کی کیا کیا شرائط ہیں ؟ اس مسئلہ کی مکمل وضاحت احادیث میں ہی مذکور ہے۔
بعض حضرات سند حدیث کی بنیاد پر ہوئی احادیث کی اقسام یا راویوں کو ثقہ قرار دینے میں محدثین وفقہاء کے اختلاف کی وجہ سے حدیث رسول ﷺ کو ہی شک وشبہ کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، حالانکہ انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم قیامت تک آنے والے تمام عرب وعجم کی رہنمائی کے لئے نبی اکرم ﷺپر نازل فرمایا ہے اور قیامت تک اس کی حفاظت کا وعدہ کیاہے۔ اور اسی قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے متعدد جگہوں (مثلاً سورۂ النحل ۴۴، ۶۴)پر ارشاد فرمایا ہے کہ اے نبی! یہ کتاب ہم نے آپ پر نازل فرمائی ہے تاکہ آپ ﷺ اس کلام کو کھول کھول کر لوگوں کے لئے بیان کردیں۔ تو جس طرح اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے الفاظ کی حفاظت کی ہے، اس کے معانی ومفاہیم جو نبی اکرم ﷺنے بیان فرمائے ہیں وہ بھی کل قیامت تک محفوظ رہیں گے، ان شاء اللہ۔ قرآن کریم کے الفاظ کے ساتھ ساتھ اس کے معنی ومفہوم کی حفاظت بھی مطلوب ہے ورنہ نزول قرآن کا مقصد ہی فوت ہوجائے گا۔
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ احادیث کے ذخیرہ میں بعض باتیں غلط طریقہ سے نبی اکرم ﷺکی طرف منسوب کردی گئی ہیں۔ لیکن محدثین وعلماء کی بے لوث قربانیوں سے تقریباً تمام ایسے غلط اقوال کی تحدید ہوگئی ہے جو حدیث کے کامل ذخیرہ کا ادنی سا حصہ ہے۔ جہاں تک راویوں کے سلسلہ میں محدثین وعلماء کے اختلافات کا تعلق ہے تو اس اختلاف کی بنیاد پر حدیث کی حجیت پر شک وشبہ نہیں کیا جاسکتا ہے، کیونکہ اختلاف کا اصل مقصد خلوص کے ساتھ احادیث کے ذخیرہ میں موضوعات کو الگ کرنا اور احکام شرعیہ میں ان ہی احادیث کو قابل عمل بنانا ہے جس پر کسی طرح کا کوئی شک وشبہ نہ رہے۔ جہاں کوئی شک وشبہ ہوا تو ان احادیث کو احکام کے بجائے صرف اعمال کی فضیلت کی حد تک محدود رکھا جائے۔
مثلاً مریض کے علاج میں ڈاکٹروں کا اختلاف ہونے کی صورت میں ڈاکٹری پیشہ کو ہی رد نہیں کیا جاتاہے۔ اسی طرح مکان کا نقشہ تیار کرنے میں انجینئروں کے اختلاف کی وجہ سے انجینئروں کے بجائے مزدوروں سے نقشہ نہیں بنوایا جاتا ہے۔ موجودہ ترقی یافتہ دور میں بھی تعلیم وتعلم کے لئے ایک ہی کورس کے مختلف طریقے رائج ہیں۔ ہر علاقہ میں زندگی گزانے کے طریقے مختلف ہیں، غرضیکہ زندگی کے تقریباً ہر شعبہ میں اختلاف موجود ہے، ان اختلافات کے باوجود ہم زندگی کے ہی منکر نہیں بن جاتے، تو احادیث کی تقسیم اور راویوں کو ثقہ قرار دینے میں اختلاف کی وجہ سے حدیث کا ہی انکار کیوں؟ بلکہ بسا اوقات یہ اختلافات امت کے لئے رحمت بنتے ہیں کہ زمانے کے خدوخال کے اعتبار سے مسئلہ کا فیصلہ کسی ایک رائے کے مطابق کردیا جاتا ہے۔ نیز ان اختلافات کی وجہ سے تحقیق کا دروازہ بھی کھلا رہتا ہے۔
خلاصۂ کلام:صحابۂ کرام ، تابعین، تبع تابعین، محدثین ومفسرین وفقہاء وعلماء ومؤرخین غرضیکہ ابتداء اسلام سے عصر حاضر تک‘ امت مسلمہ کے تمام مکاتب فکرنے تسلیم کیا ہے کہ قرآن کے بعد حدیث اسلامی قانون کا دوسرا اہم وبنیادی ماخذ ہے اور حدیث نبوی بھی قرآن کریم کی طرح شریعت اسلامیہ میں قطعی دلیل اور حجت ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں متعدد مرتبہ ذکر فرمایا ہے۔ نیز قرآن کریم میں ایک جگہ بھی یہ مذکورہ نہیں ہے کہ صرف اور صرف قرآن کریم پر عمل کرو۔ غرضیکہ احکام قرآن پر عمل کے ساتھ حضور اکرم ﷺ کے اقوال وافعال یعنی حدیث نبوی کے مطابق زندگی گزارنا ضروری ہے۔ حق تو یہ ہے کہ قرآن فہمی حدیث نبوی کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے کیونکہ اللہ کی جانب سے حضور اکرم ﷺ پر یہ ذمہ داری عائد کی گئی ہے کہ آپ امت مسلمہ کے سامنے قرآن کریم کے احکام ومسائل کھول کھول کر بیان کریں۔ اور ہمارا یہ ایمان ہے کہ آپ ﷺ نے اپنی ذمہ داری بحسن خوبی انجام دی ہے۔ مگر عصر حاضر میں مستشرقین نے توریت وانجیل کی حفاظت وتدوین کے طریقوں پر چشم پوشی کرکے حدیث نبوی کی حفاظت وتدوین پر اعتراضات کئے ہیں، مگر وہ حقائق کے بجائے صرف اور صرف اسلام دشمنی پر مبنی ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو قرآن وسنت کے مطابق زندگی گزارنے والا بنائے، آمین۔
محمد نجیب سنبھلی قاسمی، ریاض (www.najeebqasmi.com)