Print

بسم الله الرحمن الرحيم

اَلْحَمْدُ لِله رَبِّ الْعَالَمِيْن،وَالصَّلاۃ وَالسَّلام عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن۔

ادیب عرب محمد ﷺ کے اقوال کے الفاظ بعینہ مروی ہیں
اسلام ہی دنیا میں ایسا مذہب ہے جس میں تعلیم کے ساتھ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ علم مستند واسطوں سے کس طرح ہمارے پاس پہنچا ہے۔ شریعت اسلامیہ کے دونوں اہم وبنیادی ذرائع (قرآن وحدیث) کا ایک ایک لفظ کن کن واسطوں سے ہمارے پاس پہنچا ہے، راویوں کے احوال وکوائف کے ساتھ علماء کرام کی بے لوث خدمات سے آج تک محفوظ ہے۔ مدارس میں پڑھائی جانے والی کتب حدیث کی سند کا سلسلہ حضور اکرم ﷺ تک پہنچتا ہے، یعنی حدیث کی تشریح وتوضیح کے ساتھ طلبہ کو یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ فلاں حدیث حضور اکرم ﷺ، صحابی، تابعی اور کن کن واسطوں کے ذریعہ استاذ اور پھر طالب علم کے پاس پہنچی ہے۔قرآن کریم کا ایک ایک لفظ تواتر کے ساتھ یعنی مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد کے ذریعہ امت مسلمہ کے پاس پہنچا ہے۔حدیث نبوی کا ایک حصہ تواتر کے ساتھ یعنی ہر زمانہ میں اتنی بڑی تعداد نے اس کو روایت کیا ہے کہ ان کا جھوٹ پر متفق ہونا ناممکن ہے۔ احادیث نبویہ کا قابل قدر حصہ مشہور ہے یعنی روایت کرنے والوں کی ایک بڑی جماعت ہے، جبکہ احادیث نبویہ کا ایک حصہ اخبار آحاد سے بھی مروی ہے۔ احادیث نبویہ کی یہ مذکورہ اقسام مشہور ومعروف کتب حدیث تحریر کرنے تک ہے، لیکن دوسری اورتیسری صدی ہجری میں مشہور ومعروف کتب حدیث کے امت مسلمہ میں مقبول ہوجانے کے بعد سے تمام ہی احادیث درجات کے اعتبار سے قابل عمل ہیں، الّا یہ کہ ان میں سے کسی کے موضوع ہونے کا فیصلہ کیا گیا ہو۔ محدثین وعلماء نے ہزاروں صفحات پر مشتمل اسماء الرجال کی بحث کے ذریعہ موضوعات کو احادیث سے الگ کردیا ہے جن کی تعداد حدیث کے ذخیرہ میں بہت زیادہ نہیں ہے۔ عقائد واحکام میں ان ہی احادیث کو تسلیم کیا گیا ہے جن کی سند میں کسی طرح کا کوئی شک وشبہ نہ ہو، جبکہ احادیث ضعیفہ کو قرآن کریم واحادیث صحیحہ سے ثابت شدہ عمل کی صرف فضیلت کے لئے تسلیم کیا گیا ہے۔
احادیث کو عمومی طور پر لفظ بلفظ ہی نقل کیا گیا ہے، البتہ مستشرقین کا خیال ہے کہ حدیث کے الفاظ کے بجائے حدیث کے مفہوم کو روایت کیا گیا ہے۔ بعض مسلمان بھائی جھوٹ کے پلندوں پر مشتمل مستشرقین کے نام نہاد ریسرچ سے متاثر ہوکر ان کے قول کی کسی حد تک تایید کردیتے ہیں، حالانکہ مستشرقین کا یہ قول حقائق پر نہیں بلکہ صرف اور صرف اسلام دشمنی پر مبنی ہے۔ مستشرقین توریت اور انجیل کی تدوین وحفاظت کے طریقوں پر چشم پوشی کرکے قرآن وحدیث کی جمع وتدوین وحفاظت پر انگلیاں اٹھاتے ہیں۔ مشہور ومعروف محدث ہند نزاد سعودی ڈاکٹر محمد مصطفی اعظمی قاسمی (جنہوں نے مستشرقین کے اعتراضات کے مدلل جوابات دئے ہیں) کی تحقیق کے مطابق مستشرقین سب کچھ جانتے ہوئے بھی صرف قرآن وحدیث کو مشکوک ثابت کرنے کی ناپاک کوشش کرتے ہیں۔ دنیا کے مختلف مذاہب کی کتابوں کا مقارنہ اگر قرآن وحدیث کی جمع وتدوین وحفاظت سے کیا جائے تو انسان اگر وہ واقعی عقل وشعور رکھتا ہے یہی کہے گا کہ قرآن وحدیث کی جمع وتدوین وحفاظت کے لئے جو اقدامات کئے گئے ہیں وہ کسی بھی دوسرے مذہب کی کتاب کی حفاظت کے لئے دور دور تک موجود نہیں ہیں بلکہ قرآن وحدیث کی جمع وتدوین وحفاظت کے اقدامات وتدابیر کا دیگر مذاہب کی کتابوں سے کوئی مقابلہ ہی نہیں کیا جاسکتا۔ حق بات تو یہ ہے کہ دنیا کے کسی بھی مذہب میں روایت والا نظام موجود ہی نہیں ہے بلکہ انہوں نے چوں چرا کئے بغیر صرف مان لیا ہے، جب کہ علماء ومحدثین نے احادیث کے راویوں پر مکمل بحث کرنے کے بعد ہی ان کے علم وتقویٰ کی بنیاد پر ہی ان سے مروی احادیث کو تسلیم کیا ہے۔
مستند دلائل کے ساتھ یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ احادیث کے الفاظ کو روایت کیا گیا ہے یعنی جو الفاظ حضور اکرم ﷺ سے سنے گئے ہیں ان کو کسی تبدیلی کے بغیر بعینہ نقل کیا گیا ہے۔ ہاں اگر کسی راوی نے مثلاً سو احادیث ( تقریباً ہزار الفاظ) مکمل اہتمام کے ساتھ دوسرے لوگوں کو روایت کیں، اگر چند مترادف الفاظ استعمال کئے گئے ہیں تو اسے روایت الحدیث بالمعنی نہیں بلکہ روایت الحدیث باللفظ ہی کہا جائے گا اور وہ راوی عربی زبان سے معرفت کے ساتھ علوم قرآن وحدیث سے بھی اچھی طرح واقف ہے اور اللہ تعالیٰ کے خوف کے ساتھ شریعت اسلامیہ کا منشا بھی سمجھتا ہے۔
ادیب عرب محمد ﷺنے صحابۂ کرام اور امت مسلمہ کو خصوصی تعلیمات بھی دیں کہ احادیث کے الفاظ کو کسی تبدیلی کے بغیر بعینہ روایت کیا جائے، نہ صرف آپ ﷺنے ترغیب دی بلکہ الفاظ کی معمولی تبدیلی کی صورت میں اصلاح بھی فرمائی، حالانکہ معنی ومفہوم کے اعتبار سے کوئی فرق بھی نہیں پڑ رہا تھا۔ صحابۂ کرام نے بھی حضور اکرم ﷺ کی تعلیمات کی اتباع کی اور انہوں نے قیامت تک آنے والے انس وجن کے پیغمبر کے اقوال کو پوری احتیاط کے ساتھ کسی تبدیلی کے بغیر امت مسلمہ تک پہنچایا۔
محدثین وعلماء کرام کی ایک جماعت کا موقف ہے کہ روایت الحدیث بالمعنی جائز ہی نہیں ہے اور جن علماء ومحدثین نے روایت الحدیث بالمعنی کے جواز کا فتویٰ دیا ہے اس کے لئے متعدد شرائط ضروری قرار دئے ہیں، ان میں سے اہم شرط یہ ہے کہ راوی اللہ تعالیٰ کے خوف کے ساتھ عربی زبان پر عبور رکھتا ہو یعنی حدیث کے الفاظ ومعانی سے بخوبی واقف ہو۔ غرضیکہ باتفاق محدثین روایت الحدیث باللفظ ہی اصل ہے کیونکہ ادیب عرب محمد ﷺ نے امت مسلمہ کو اسی کی تعلیمات دی ہیں، چند دلائل پیش خدمت ہے:
حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: نَضَّرَ اللّٰہُ امْرَءً سَمِعَ مِنَّا حَدِےْثاً فَحَفِظَہُ حَتَّی ےُبَلِّغَہُ غَےْرَہُ فَرُبَّ حَامِلِ فِقْہٍ اِلَی مَنْ ہُوَ اَفْقَہُ مِنْہُ وَرُبَّ حَامِلِ فِقْہٍ لَےْسَ بِفَقِیہٍ (ترمذی ۔ کتاب العلم ۔ باب ما جاء فی الحثِّ علی تبلیغ السماع) اللہ اس شخص کو تروتازہ رکھے جس نے ہم سے کوئی حدیث سنی، پھر اسے یاد رکھا یہاں تک کہ اس کو دوسروں تک پہنچایا کیونکہ کبھی کبھار فقہ لئے پھرنے والے ایسے شخص تک لے جاتے ہیں (یعنی پڑھاتے، سناتے اور پہنچاتے ہیں) جو اس اٹھانے والے سے زیادہ سمجھ دار ہوتا ہے اور بعض فقہ (کے مسائل والفاظ) کے یاد کرنے والے فقیہ نہیں ہوتے ہیں۔
ترمذی ہی کی دوسری حدیث کے الفاظ اس طرح ہیں: نَضَّرَ اللّٰہُ امْرَءً سَمِعَ مِنَّا شَےْئاً فَبَلَّغَہُ کَمَا سَمِعَہُ فَرُبَّ مُبَلِّغٍ اَوْعَیٰ مِنْ سَامِعٍ اللہ تروتازہ رکھے اس کو جو ہم سے کوئی چیز سنے، پھر اسے اسی طرح آگے پہنچائے (دوسروں تک) جیسی اس نے سنی ہو کہ بعض پہنچائے ہوئے سننے والے سے زیادہ یاد کرنے والے ہوتے ہیں (یعنی مطلب کو زیادہ بہتر سمجھتے ہیں) ۔
(
فَبَلَّغَہُ کَمَا سَمِعَہُ) سے محدثین کی ایک جماعت نے روایت الحدیث بالمعنی کی ممانعت پر استدلال کیا ہے، جس پر کلام کیا جاسکتا ہے مگر حضور اکرم ﷺکے اس فرمان سے اتنا ضرور معلوم ہوا کہ حدیث کے صرف مفہوم کو روایت کرنے سے بچنا چاہئے بلکہ حدیث کے الفاظ کو بعینہ نقل کرنے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہئے ۔
اسی طرح حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : مَنْ کَذَبَ عَلَیَّ مُتَعَمِّداً فَلْےَتَبَوَّا مَقْعَدَہُ مِنَ النَّارِ جو شخص مجھ پر جھوٹ باندھے، وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنالے۔ (صحیح بخاری ۔ کتاب العلم ۔ باب اثم من کذب علی النبی ) حضور اکرم ﷺ نے اس شخص کے لئے سخت وعید سنائی ہے جو حضور اکرم ﷺ کی طرف اس بات کو منسوب کرے جو آپ ﷺ نے نہیں فرمائی۔ اگر کوئی راوی جانتا ہے کہ یہ الفاظ نبی اکرم ﷺ نے اپنے کلام میں استعمال نہیں کئے، پھر بھی جان بوجھ کر اس کو حضور اکرم ﷺ کی طرف منسوب کرے تو وہ بھی کسی حد تک اس وعید کے ضمن میں آئے گا۔ حضور اکرم ﷺ کا یہ فرمان تواتر کے ساتھ متعدد راویوں سے مروی ہے اور حدیث کی تقریباً ہر کتاب میں موجود ہے۔ اس سخت وعید کی موجودگی میں صحابۂ کرام یا تابعین عظام کیسے روایت الحدیث بالمعنی کو اصل بنا سکتے ہیں۔
روایت الحدیث باللفظ کے اصل ہونے کے لئے قوی دلیل حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے جو حضرت امام بخاری ؒ نے اپنی کتاب (صحیح بخاری ۔ کتاب الوضو۔ باب فضل من بات علی الوضوء) میں ذکر فرمائی ہے، حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم اپنے بستر پر لیٹنے آؤ، اسی طرح وضو کرو جیسے نماز کے لئے کرتے ہو، پھر دائیں کروٹ پر لیٹ جاؤ اور یوں کہو : (اَللّٰہُمَّ اَسْلَمْتُ وَجْہِیْٓ اِلَےْکَ وَفَوَّضْتُ اَمْرِیْٓ اِلَےْکَ وَاَلْجَاْتُ ظَہْرِیْٓ اِلَےْکَ رَغْبَۃً وَّرَہْبَۃً اِلَےْکَ لَا مَلْجَاَ وَلَا مَنْجَآ مِنْکَ اِلَّآ اِلَےْکَ، اَللّٰہُمَّ آمَنْتُ بِکِتَابِکَ الَّذِیْ ٓ اَنْزَلْتَ وَبِنَبِیِّکَ الَّذِیْٓ اَرْسَلْتَ)۔ اگر کوئی شخص یہ دعا پڑھنے کے بعد اسی رات انتقال کرجائے تو فطرت (یعنی دین) پر انتقال کرے گا اور اس دعا کو سب سے آخر میں پڑھو۔۔۔ حضرت براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضور اکرم ﷺ کے سامنے اس دعا کو دوبارہ پڑھا۔ جب میں اَللّٰہُمَّ آمَنْتُ بِکِتَابِکَ الَّذِیْٓ اَنْزَلْتَ پر پہنچا، تو میں نے وَبِرَسُوْلِکَ کا لفظ کہا۔ آپ ﷺ نے فرمایا، نہیں بلکہ یوں کہو وَبِنَبِیِّکَغرضیکہ حضور اکرم ﷺ نے نبی کی جگہ رسول کے لفظ کی تبدیلی کی اجازت نہیں دی۔
اس حدیث میں حضور اکرم ﷺ نے روایت الحدیث باللفظ کو مضبوطی کے ساتھ پکڑنے کی تعلیمات دی ہیں یعنی ایک ہی مفہوم کے لفظ کو تبدیل کرنے کی آپ ﷺ نے اجازت نہیں دی۔ چنانچہ صحابۂ کرام نے حضور اکرم ﷺکے اس اہتمام کا پوری توجہ وعنایت کے ساتھ خیال رکھا۔ صحابۂ کرام نے حضور اکرم ﷺ کے اقوال کو محفوظ کرکے اس بات کا اہتمام کیا کہ کوئی راوی حضور اکرم ﷺکے قول کا کوئی لفظ بھی نہ بدل دے خواہ مترادف لفظ ہی کیوں نہ ہو۔ صحابۂ کرام کے بعد تابعین نے بھی اسی منہج کو اختیار کرکے آئندہ نسلوں کے لئے اسوہ بنایا۔ غرضیکہ صحابۂ کرام نے پوری کوشش کی کہ حضور اکرم ﷺ کے قول کو اسی طرح نقل کیا جائے جس طرح حضور اکرم ﷺ سے سماعت فرمایا گیا حتی کہ بعض صحابۂ کرام ایک لفظ کو دوسرے لفظ کی جگہ یا ایک لفظ کو دوسرے لفظ سے مقدم یا مؤخر کرنا تو درکنار ایک حرف بدلنے کے لئے بھی تیار نہیں تھے جیسا کہ امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے: مَنْ سَمِعَ حَدِےْثاً فَحَدَّثَ بِہِ کَمَا سَمِعَ فَقَدْ سَلِمَجس شخص نے حدیث سن کر بعینہ نقل کردی تو وہ سالم ہوگیا۔ (المحدث الفاضل بین الراوی والواعی للرامہزمی)
صحابۂ کرام میں سے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما خود بھی روایت الحدیث باللفظ کا اہتمام فرماتے تھے اور دوسروں سے بھی اس کا اہتمام کرواتے تھے کہ کسی حذف واضافہ یا تقدیم وتاخیر کے بغیر لفظ بلفظ حدیث نقل کی جائے۔ مشہور ومعروف حدیث (بُنِیَ الْاِسْلَامُ عَلَی خَمْسٍ) جب روایت کی گئی تو ایک راوی نے وہ حدیث سن کر بیان کی اور حج کو رمضان کے روزے سے پہلے ذکر کردیا تو حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فوراً اس کی اصلاح فرمائی کہ اس طرح کہو کہ رمضان کا روزہ اور حج کیونکہ میں نے حضور اکرم ﷺ سے ایسے ہی سنا ہے۔ (صحیح مسلم ۔ کتاب الایمان ۔ باب قول النبی ﷺ) حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے لفظ کی تقدیم وتاخیر کی بھی اجازت نہیں دی اور وجہ بیان کی کہ میں نے حضور اکرم ﷺ سے اسی طرح سنا ہے۔
مشہور تابعی حضرت عروۃ بن زبیر ؒ (۲۳ھ ۔ ۹۴ھ) نے اپنی خالہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حکم پر حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے دو مرتبہ ایک سال کے فرق پر علم کی اہمیت پر ایک حدیث سماعت فرمائی اور دونوں مرتبہ ایک ہی الفاظ سے روایت کرنے پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے متعلق فرمایا: میں ان کو سچا جانتی ہوں اور انہوں نے اس میں کسی لفظ کی کمی بیشی نہیں کی۔ (صحیح مسلم ۔ کتاب العلم ۔ باب رفع العلم وقبضہ وظہور الجہل والفتن فی آخر الزمان) غرضیکہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے روایت الحدیث باللفظ کا اہتمام فرمایا۔
بعض مرتبہ حضور اکرم ﷺ مخاطبین سے انہیں کے لب ولہجہ میں گفتگو فرماتے تھے، چنانچہ ایک مرتبہ یمن کے افراد سے مخاطب ہوکر ارشاد فرمایا: لَےْسَ مِنْ امْبِرِّ امْصِےَامُ فِی امْسَفَرِ (طبرانی وبیہقی) حضور اکرم ﷺکا اصل ارشاد یہ تھا: لَےْسَ مِنَ الْبِرِّ الصِّےَامُ فِی السَّفَرِلیکن یمنی لوگ لام کو میم سے بدل دیتے ہیں جیسے (مَرَرْنَا بِامْقَوْمِ ای بِالْقَوْمِ)۔ غرضیکہ صحابہ وتابعین نے حضور اکرم ﷺ کے اقوال کے الفاظ کو بعینہ نقل کرنے کا اہتمام کیا جو اس بات کی واضح علامت ہے کہ روایت الحدیث باللفظ ہی اصل ہے۔
بعض مرتبہ راوی کو جب کسی لفظ پر شک ہوجاتا یا دو الفاظ کی ترتیب کو بھول جاتا یعنی حدیث میں تو کسی طرح کا کوئی شک وشبہ نہیں ہے مگر کسی معین لفظ کے متعلق یا دوا لفاظ کی تقدیم وتاخیر کو بھول گیا تو راوی حدیث ذکر کرتے وقت کہتا: (کذا وکذا)۔ اگر روایت الحدیث بالمعنی اصل ہوتی تو پھر راوی کو اس طرح کہنے کی کوئی ضرورت ہی نہیں تھی۔
صحابۂ کرام نے حضور اکرم ﷺ کے اقوال کو امت مسلمہ تک پہنچانے کے لئے حضور اکرم ﷺ کے الفاظ یاد کرنے کو اپنا معمول بھی بنایا جیساکہ صحابی رسول حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رات کو تین حصوں میں تقسیم کرتا تھا، ایک تہائی رات نماز پڑھنے میں، ایک تہائی رات سونے میں اور ایک تہائی رات حضور اکرم ﷺ کی احادیث کو یاد کرنے میں۔ (الجامع لاخلاق الراوی وآداب السامع ۔ علامہ خطیب بغدادیؒ ) حضور اکرم ﷺ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے اشتیاق یا حرصِ حدیث سے پوری طرح آگاہ تھے ، چنانچہ جب ایک موقع پر انہوں نے آپ ﷺ سے پوچھا کہ یا رسول اللہ! قیامت کے دن آپ کی شفاعت سے کون کون خوش بخت سعادت اندوز ہوں گے، تو آپ ﷺ نے فرمایااے ابوہریرہ! جب سے میں نے تمہاری حرصِ حدیث کا اندازہ کیا ہے تو مجھے یقین ہوا کہ تمہارے سوا کوئی دوسرا شخص اس بارے میں مجھ سے سوال نہیں کرے گا۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: جس نے دل وجان سے صرف اللہ کی رضا کے لئے اللہ کی وحدانیت کا اقرار کیا وہ قیامت کے دن میری شفاعت سے سعادت اندوز ہوگا۔ (صحیح بخاری۔ کتاب العلم۔ باب الحرص علی الحدیث)
صحابۂ کرام صرف انفرادی طور پر ہی نہیں بلکہ آپس میں احادیث کو یاد کرنے کے لئے مذاکرہ بھی فرمایا کرتے تھے جیسا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ : تذاکروا الحدیث، فانکم الا تفعلوا یندرس (مستدرک علی صحیحین ۔ کتاب العلم ۔ فضیلۃ مذاکرۃ الحدیث)
معلوم ہواکہ صحابۂ کرام نے حضور اکرم ﷺ کے اقوال کو اپنے سینے میں محفوظ فرماکر کل قیامت تک آنے والے انسانوں کے لئے اللہ تبارک وتعالیٰ کی کتاب قرآن کریم کی پہلی اور بنیادی تفسیر کو انتہائی مستند وقابل اعتماد وسائل سے امت مسلمہ کو پہنچادیا۔ اگر حضور اکرم ﷺ کے اقوال محفوظ نہ رہتے تو قرآن کریم کا سمجھنا ناممکن تھا کیونکہ قرآن فہمی حدیث نبوی کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے۔ حضور اکرم ﷺ کی بعثت کا ایک اہم مقصد قرآن کریم کے احکام ومسائل کو بیان کرنا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: وَاَنْزَلْنَا اِلَےْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَےْہِمْ وَلَعَلَّہُمْ ےَتَفَکَّرُوْنَ (سورۂ النحل ۴۴) یہ کتاب ہم نے آپ ﷺ کی طرف اتاری ہے کہ لوگوں کی جانب جو حکم نازل فرمایا گیا ہے، آپ اسے کھول کھول کر بیان کردیں، شاید کہ وہ غوروفکر کریں۔حضور اکرم ﷺ نے اپنے اقوال وافعال یعنی احادیث نبویہ سے قرآن کریم کی تفسیر بیان کی ہے۔قرآن کریم کی سینکڑوں آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی اطاعت کے ساتھ رسول کی اطاعت کا حکم دیا ہے۔ رسول کی اطاعت احادیث نبویہ پر عمل کرنا ہی تو ہے۔
ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہئے کہ احادیث نبویہ کو یاد کرکے محفوظ کرنے میں اس ذاکرہ کو بھی کافی دخل ہے جو اللہ تعالیٰ نے شریعت اسلامیہ کی حفاظت کے لئے صحابۂ کرام اور تابعین کو عطا فرمائی تھی چنانچہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اپنے حافظہ کے لئے مشہور تھے کہ وہ ایک مرتبہ میں حدیث یاد کرلیتے تھے، ان کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ۸۰ اشعار پر مشتمل عمر بن ابی ربیعہ کا قصیدہ ایک مرتبہ سن کر یاد کرلیا تھا۔ صحابی رسول حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے قرآن کریم کا نازل شدہ مکمل حصہ بلوغ سے قبل ہی حفظ کرلیا تھا اور یہودی کی زبان صرف ۱۷ دن میں سیکھ لی تھی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی ذکاوت کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔ تابعین میں سے حضرت نافع ؒ ایک بار کسی بات کو یاد کرلیتے توکبھی نہ بھولتے۔ حضرت امام بخاریؒ اور حضرت امام مسلم ؒ کی ذہانت کو رہتی دنیا تک یاد کیا جائے گا۔
احادیث نبویہ کی حفاظت کے لئے تقریباً وہی طریقے اختیار کئے گئے ہیں جو قرآن کریم کی حفاظت کے لئے یعنی حفظ، کتابت اور عمل، اور ان ہی واسطوں کے ذریعہ احادیث نبویہ کی حفاطت ہوئی ہے جن واسطوں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی حفاظت کی ہے۔ ہاں قرآن کریم کی حفاظت کے انتظامات احادیث نبویہ کی حفاظت کے مقابلہ میں زیادہ قوی ومستند ہیں کیونکہ قرآن کریم کی ایک ایک آیت تواتر کے ساتھ یعنی امت مسلمہ کی بہت بڑی تعداد نے نقل کی ہے اور قرآن کریم کی کتابت آپ ﷺ اپنی نگرانی میں خود کرواتے تھے، اگرچہ حضوراکرم ﷺکی وفات تک مکمل قرآن کریم ایک مصحف یا ایک جگہ میں لکھا ہوا موجود نہیں تھا بلکہ مختلف چیزوں پر لکھا ہوا قرآن کریم صحابۂ کرام کے پاس موجود تھا۔ غرضیکہ قرآن کریم کی سب سے پہلی اور اہم حفاظت اس طرح ہوئی کہ صحابۂ کرام نے اس کو حفظ کرکے اپنے دلوں میں محفوظ کرلیا تھا۔
حضور اکرم ﷺ کی خوبی بھی تھی کہ آپ ﷺ بہت ہی اچھے انداز میں مخاطب سے گفتگو فرماتے تھے کہ مخاطب کے دل میں بات بہت جلد پیوست ہوجاتی تھی۔ حضوراکرم ﷺ کے کلام کا ایک ایک لفظ موتی کی طرح واضح ہوتا تھا۔ آپ ﷺ اطمینان سے ٹھہر ٹھہر کر گفتگو فرماتے تھے کہ مخاطب اس کو کبھی بھول ہی نہیں سکتا تھا۔ نیز آپ ﷺ اپنی بات کو بعض مرتبہ تین تین دفعہ دہراتے تاکہ صحابۂ کرام کو اچھی طرح یاد بھی ہوجائے۔
صحابۂ کرام نے صرف یاد کرکے ہی حضور اکرم ﷺ کے ارشادات کو محفوظ نہیں کیا بلکہ صحابۂ کرام کی ایک جماعت نے احادیث نبویہ کے لکھنے کا بھی اہتمام فرمایا۔ متعدد واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی اکرم ﷺ کی حیات مبارک ہی میں احادیث نبویہ لکھی جانے لگی تھیں، چند واقعات پیش ہیں:
ایک انصاری صحابی نے حضور اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا : یا رسول اللہ! میں آپ سے حدیث سنتا ہوں، وہ مجھے اچھی معلوم ہوتی ہے لیکن بھول جاتا ہوں ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اپنے دائیں ہاتھ سے مدد لو یعنی لکھ لیا کرو، اور اپنے ہاتھ سے لکھنے کا اشارہ فرمایا۔ (ترمذی) اسی طرح حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : علم کو لکھ کر محفوظ کرو۔ (دار قطنی) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺکے صحابہ میں آپ ﷺ کی حدیثیں مجھ سے زیادہ کسی کے پاس نہیں سوائے حضرت عبد اللہ بن عمرو کے کہ وہ لکھ لیا کرتے تھے اور میں (اُس وقت) نہیں لکھتا تھا۔ (صحیح بخاری ۔ کتاب العلم ۔ باب کتابۃ العلم) حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے حضور اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا: یارسول اللہ! میں آپ کی احادیث روایت کرنا چاہتا ہوں، لہٰذا میں نے ارادہ کیا ہے کہ اگر آپ مناسب سمجھیں تو میں اپنے قلب کے علاوہ اپنے ہاتھ کی کتابت سے مدد لوں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اگر میری حدیث ہو ، پھر اپنے قلب کے ساتھ اپنے ہاتھ سے مدد لو۔ (سنن دارمی)
غرضیکہ حضور اکرم ﷺ اور صحابۂ کرام کے زمانہ میں صرف یاد کرکے ہی احادیث نبویہ کو محفوظ نہیں کیا گیا بلکہ لکھ کر بھی احادیث نبویہ کو محفوظ کیا گیا اور ظاہر ہے کہ حضور اکرم ﷺ کی حیات میں صحابۂ کرام اور صحابۂ کرام کی حیات میں تابعین عظام جب ا حادیث لکھنے کا اہتمام کررہے تھے تو وہ حضور اکرم ﷺکے اقوال کے الفاظ ہی لکھ رہے تھے نہ کہ حضور اکرم ﷺکے اقوال کے مفہوم کو۔ صبح اٹھنے سے لے کر رات کے سونے تک کی بے شمار چھوٹی بڑی دعاؤں کے الفاظ، حضور اکرم ﷺ کے خطبوں کے الفاظ، حضوراکرم ﷺ کے دیگر حکمرانوں کو ارسال کئے گئے خطوط، معاہدے اورصلح نامے صحابہ اور تابعین کے لکھنے اور یاد کرنے سے ہی تو آج تک محفوظ ہیں۔
حضرت عمر بن عبد العزیز ؒ (۶۱ھ۔۱۰۱ھ) کے عہد خلافت (۹۹ھ۔۱۰۱ھ) میں محدثین وعلماء کی ایک جماعت کی سرپرستی میں تدوین حدیث کا ایک اہم مرحلہ مکمل ہوگیا تھا۔ آخری صحابی رسول حضرت ابوالطفیل عامر بن واثلہ الکنانی ؒ کا انتقال ۱۱۰ھ میں ہوا ہے، غرضیکہ تدوین حدیث کا ایک اہم مرحلہ بعض صحابۂ کرام کے بقید حیات رہتے ہوئے انجام پایا۔ آخری صحابی رسول کی وفات کے وقت ۸۰ ہجری میں پیدا ہوئے حضرت امام ابوحنیفہ ؒ کی عمر ۳۰ سال تھی۔
غرضیکہ مستند دلائل کے ساتھ یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ روایت الحدیث باللفظ ہی اصل ہے یعنی احادیث قولیہ میں الفاظ صرف اور صرف حضوراکرم ﷺ کے ہیں جن کو صحابۂ کرام نے یاد کرکے یا ان کو لکھ کر کل قیامت تک آنے والے انسانوں کے لئے محفوظ کردیا ہے۔ روایت الحدیث بالمعنی کے متعلق علماء ومحدثین کی آراء مختلف ہیں۔
۱) روایت الحدیث بالمعنی جائز ہی نہیں ہے یعنی راوی کے لئے ضروری ہے کہ وہ لفظ بلفظ حدیث نقل کرے۔
۲) روایت الحدیث بالمعنی چند شرائط کے ساتھ جائز ہے :
ا) راوی اسلامی تعلیمات کا پابند ہو، جھوٹ کبھی نہیں بولتا ہو اور بات کو اچھی طرح سمجھتا ہو۔
ب) راوی عربی زبان کے قواعد سے اچھی طرح واقف ہونے کے ساتھ، عربی زبان کے گفتگو کے انداز بیان سے واقف ہو۔
ج) الفاظ کے معانی کو مکمل طور پر سمجھتا ہو کہ کس جگہ پر لفظ کے کیا معنی ہوں گے۔
د) دعا اور نماز وغیرہ میں جو پڑھا جاتا ہے وہ اس میں بیان نہ کیا گیاہو، کیونکہ دعا اور نماز وغیرہ میں جو کچھ پڑھا جاتا ہے اس میں روایت الحدیث بالمعنی باتفاق محدثین جائز ہی نہیں ہے۔
خلاصۂ کلام: روایت الحدیث باللفظ ہی اصل ہے۔ ان احادیث قولیہ میں روایت الحدیث بالمعنی جمہور محدثین وعلماء کے نزدیک جائز ہی نہیں ہے جن میں حضور اکرم ﷺکے مختصر وجامع اقوال کو بیان کیا گیا ہے۔ ان احادیث قولیہ کے متعلق جس میں حضور اکرم ﷺ کے طویل اقوال کو بیان کیا گیا ہے، صحابۂ کرام اور تابعین نے اس بات کا اہتمام رکھا ہے کہ حضور اکرم ﷺ کے الفاظ کسی تبدیلی کے بغیر نقل کئے جائیں، ہاں اللہ تعالیٰ کے خوف اور عربی زبان سے معرفت کے ساتھ چند الفاظ کے مترادفات کے استعمال سے روایت الحدیث باللفظ ہی کہی جائے گی۔ رہی بات احادیث فعلیہ کی جن میں صحابۂ کرام اور تابعین نے حضور اکرم ﷺ کے عمل کو ذکر فرمایا ہے یا وہ احادیث جن میں حضور اکرم ﷺ کے اوصاف بیان کئے گئے ہیں، تو ظاہر ہے ان میں روایت الحدیث بالمعنی کی مذکورہ بالا شرائط کے ساتھ گنجائش ہے کیونکہ ان میں صحابی اپنے الفاظ کے ذریعہ حضور اکرم ﷺکے عمل یا اوصاف بیان کرتا ہے۔
لاکھوں صفحات پر مشتمل ذخیرۂ حدیث میں ہزاروں احادیث قولیہ ہیں جو مختلف صحابۂ کرام اور تابعین سے مروی ہیں لیکن ان کے الفاظ بالکل یکساں ہیں یعنی ایک لفظ بھی مختلف نہیں ہے۔ مختلف ملکوں اور شہروں میں رہنے والے علماء کرام اور محدثین عظام نے حضور اکرم ﷺ کے ہزاروں اقوال کو ایک لفظ کی تبدیلی کے بغیر امت مسلمہ تک پہنچایا، ظاہر ہے یہ اس بات کی واضح علامت ہے کہ روایت الحدیث باللفظ ہی اصل ہے۔ اختصار کے مدنظر صرف تین احادیث کی مختصر عبارت ذکر کررہا ہوں جو متعدد واسطوں سے امت مسلمہ کے پاس پہنچی ہیں اور الفاظ میں کوئی تبدیلی نہیں ہے۔ معلوم ہوا کہ صحابۂ کرام اور تابعین نے حضورا کرم ﷺ کے الفاظ کو بعینہ نقل کرنے کا اہتمام کیا، اگر روایت الحدیث بالمعنی اصل ہوتی تو تمام راوی ایک ہی الفاظ نقل نہ کرتے، بلکہ ہر راوی اپنی صلاحیت کے اعتبار سے الفاظ کا استعمال کرتا۔
اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ، مَنْ عَمِلَ عَمَلاً لَےْسَ عَلَےْہ اَمْرُنَا فَہُوَ رَدٌّ، اَلْمُسْلِمْ مَنْ سَلِمَ مِنْ لِسَانِہِ وَےَدِہ
اللہ تبارک وتعالیٰ تمام مسلمانوں کو قرآن وحدیث پر عمل کرنے والا بنائے، آمین۔
محمد نجیب سنبھلی قاسمی، ریاض (www.najeebqasmi.com)