Print

بسم الله الرحمن الرحيم

اَلْحَمْدُ لِله رَبِّ الْعَالَمِيْن،وَالصَّلاۃ وَالسَّلام عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن۔

صحیح مسلم وعلماء دیوبند کی خدمات

سب سے قبل صحیح مسلم کے مصنف (امام مسلم بن الحجاج) کا تعارف پیش ہے۔

نام ونسب:
ابو الحسین کنیت، عساکر الدین لقب اور مسلم ان کا اسم گرامی تھا۔ قُشیر عرب کے مشہور قبیلہ کی طرف منسوب تھے۔ آپ کے والد حجاج بن مسلمعلمی حلقوں میں بہت پابندی سے شریک ہوا کرتے تھے۔
ولادت ووفات:
آپ ۲۰۲ یا ۲۰۴ یا ۲۰۶ ہجری میں خراسان کے مشہور شہر نیشاپور میں پیدا ہوئے۔ یہ خوبصورت شہر ایران کے مشرق شمال میں ترکمانستان کے قریب واقع ہے۔ نیشاپور میں پیدائش کی مناسبت سے آپ کو نیشاپوری کہا جاتا ہے۔ آپ کی وفات ۲۵ رجب ۲۶۱ھ کو نیشاپور میں ہوئی اور وہیں آپ کی تدفین عمل میں آئی۔ غرض امام مسلم  کی عمر صرف ۵۵ یا ۵۷ یا ۵۹سال رہی۔۔۔ امام مسلم کی وفات کا سبب بھی عجیب وغریب واقعہ ہے کہ ایک روز مجلس میں آپ سے کوئی حدیث دریافت کی گئی۔ بروقت آپ اس حدیث کو نہیں پہچان سکے، چنانچہ آپ اُس حدیث کو اپنی کتابوں میں تلاش کرنے میں مصروف ہوگئے۔ کھجوروں کا ایک ٹوکرا اُن کے قریب رکھا تھا اور آپ حدیث کی فکروجستجو میں کچھ ایسے مستغرق رہے کہ حدیث کے ملنے تک تمام کھجوروں کو تناول فرماگئے اور کچھ احساس نہیں ہوا، بس یہی زائد کھجوریں کھانا آپ کی موت کا سبب بنا۔
تعلیم وتربیت:
آپ نے والدین کی نگرانی میں بہترین تربیت حاصل کی جس کا اثر یہ ہوا کہ ابتداء عمر سے اخیر سانس تک آپ نے پرہیزگاری اور دینداری کی زندگی بسر کی۔ آپ کی ابتدائی تعلیم نیشاپور میں ہوئی۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے آپ کو غیر معمولی ذکاوت ، ذہانت اور قوت حافظہ عطا کی تھی۔
علم حدیث کی تحصیل:
آپ نے حدیث کی تلاش میں عراق، حجاز، مصر، شام وغیرہ کے متعدد سفر کئے اور وہاں کے محدثین سے بھی احادیث حاصل کیں۔
امام مسلم کی شخصیت:
امام مسلم کوہر زمانہ میں علم حدیث کا امام مانا گیا ہے اور ان کا درجہ محدثین میں اس قدر بلند ہے کہ اس درجہ پر امام بخاری کے علاوہ اور کوئی محدث نہیں پہنچ سکا۔
اساتذۂ امام مسلم  :
آپ کے اساتذہ میں امام محمد بن یحیےٰ ذہلی ، امام یحیےٰ بن یحیےٰ نیشاپوری ، امام اسحاق بن راہویہ ، امام عبد اللہ القعنبی، امام سعید بن منصور ، امام احمد بن حنبل اور امام بخاری کے نام قابل ذکر ہیں۔ انہوں نے صرف ۱۲سال کی عمر میں امام یحیےٰ تمیمی سے حدیث کی سماعت شروع کردی تھی۔
تلامذۂ امام مسلم  :
آپ کے تلامذہ میں سے امام ابوعیسیٰ ترمذی ، امام ابوبکر بن خزیمہ اور امام ابو حاتم رازی کے نام قابل ذکر ہیں۔
تالیفات امام مسلم : امام مسلم  کی بعض اہم کتابوں کے نام حسب ذیل ہیں:
کتاب المسند الکبیر علی الرجال، جامع کبیر، کتاب الاسماء والکنیٰ، کتاب العلل، کتاب الوُحْدان، کتاب حدیث عمروبن شعیب، کتاب مشایخ مالک، کتاب مشایخ الثوری، کتاب مشایخ شعبۃ، کتاب ذکر اوہام المحدثین، کتاب التمییز، کتاب الافراد، کتاب الاقران، کتاب المخضرمین، کتاب اولاد الصحابۃ، کتاب الانتفاع بجلود السباع، کتاب الطبقات، کتاب افراد الشامیین، کتاب رواۃ الاعتبار اور صحیح مسلم۔
امام مسلم  کی اہم تالیف صحیح مسلم:
مختلف ممالک کے اسفار کے بعد امام مسلم نے چار لاکھ احادیث جمع کیں اور ان میں سے ایک لاکھ مکرر احادیث کو ترک کرکے تین لاکھ احادیث کو پرکھنا شروع فرمایا۔ جو احادیث ہر اعتبار سے مستند ثابت ہوئیں ان کا انتخاب کرکے صحیح مسلم میں جمع کیا۔ پندرہ سال کی جدوجہد اور کاوشوں کے بعد یہ اہم کتاب مکمل ہوئی، اس میں تقریباً سات ہزار احادیث ہیں، جن میں سے معتدد احادیث ایک سے زیادہ مرتبہ ذکر کی گئی ہیں۔ غیر مکرراحادیث کی تعداد تقریباً چار ہزار ہے۔
صحیح مسلم کا مکمل نام:
امام مسلم کی اِس اہم کتاب کا نام بہت زیادہ مشہور نہ ہوسکا، پھربھی محدثین وعلماء نے اس مقبول کتاب کے نام اس طرح تحریر فرمائے ہیں : الصحیح، المسند الصحیح، الجامع۔ البتہ یہ کتاب صحیح مسلم کے نام سے عرب وعجم میں زیادہ پہچانی جاتی ہے۔
رباعیات صحیح مسلم:
اعلیٰ سے اعلیٰ صحیح مسلم میں وہ سند ہے جس میں رسول اللہ ﷺ تک چار واسطے ہیں، صحیح مسلم میں اس قسم کی احادیث ۸۰ سے کچھ زیادہ ہیں۔ ثلاثیات جس میں رسول اللہ ﷺتک تین واسطے ہیں صحیح مسلم میں کوئی حدیث نہیں ہے، البتہ صحیح بخاری میں تقریباً (۲۲) احادیث ثلاثیات ہیں جس میں سے امام بخاریؒ نے (۲۰) احادیث ثلاثیات امام ابوحنیفہ کے شاگردوں سے روایت کی ہیں۔
حدیث متفق علیہ: جو حدیث صحیح بخاری وصحیح مسلم دونوں کتابوں میں مذکور ہو تو اس حدیث کو متفق علیہ کہا جاتا ہے۔
صحیح مسلم کی شروح:
صحیح مسلم کی بکثرت شروح تحریر کی گئی ہیں، جن میں شیخ ابوزکریا یحیےٰ بن شرف الشافعی الدمشقی (۶۳۱ھ ۶۷۶ھ)یعنی امام نووی کی شرح (المنہاج فی شرح صحیح مسلم بن الحجاج) علماء امت میں سب سے زیادہ مقبول ہے۔ اس شرح کی ۱۰ جلدیں ہیں۔
صحیح مسلم وعلماء دیوبند کی خدمات:
بر صغیر میں مدارس اسلامیہ کے ذریعہ احادیث کی ایسی عظیم خدمات پیش کی گئی ہیں کہ دنیا کے چپہ چپہ میں ان خدمات کا اعتراف کیا گیا۔ اور صرف ۱۵۰ سال کی تاریخ میں ان مدارس اسلامیہ سے لاکھوں فضلاء احادیث کی مشہور ومعروف کتابیں پڑھ کر عرب وعجم میں پھیل گئے۔
دارالعلوم دیوبند اور اس طرز پر برصغیر میں قائم ہزارہا مدارس اسلامیہ سے لاکھوں علماء کرام قرآنی تعلیمات سے واقف ہوکر ہر سال صحیح مسلم اور حدیث کی دیگر کتابیں پڑھ کر علوم نبوت کو امت مسلمہ تک پہنچانے میں مصروف ہوجاتے ہیں۔
علماء دیوبند کی تحریر کردہ صحیح مسلم کی بعض شروح :
برصغیر کے علماء خاص طور پر علماء دیوبند نے صحیح مسلم کی متعدد شروح تحریر فرمائی ہیں، جن میں سے شیخ شبیر احمد عثمانی اور مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم کی شرح مسلم کو عرب وعجم میں بڑی شہرت حاصل ہوئی ہے۔
موسوعۃ فتح الملہم بشرح صحیح امام مسلم: یہ صحیح مسلم کی اہم ومقبول شرح ہے جو عربی زبان میں شیخ شبیر احمد عثمانی نے تحریر کی ہے، لیکن شرح مکمل ہونے سے قبل ہی آپ کا انتقال ہوگیا۔ اسکی ۶ جلدیں ہیں جو کتاب النکاح تک ہے۔
تکملۃ فتح الملہم : والد محترم مفتی محمد شفیع  کے فرمان پر مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہ نے کتاب الرضاعہ سے آخیر تک ۶ جلدوں میں اس شرح کو عربی زبان میں مکمل کیا۔ شیخ محمد تقی عثمانی دامت برکاتہ نے ابتدائی ۶ جلدوں پر تعلیقات بھی تحریر فرمائیں، اس طرح مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کی کاوشوں سے یہ شرح منظر عام پر آئی۔ امت مسلمہ خاصکر عرب علماء میں اس شرح کو خاص مقبولیت حاصل ہوئی ہے۔ لبنان کے متعدد ناشرین اس شرح کے بے شمار نسخے شائع کرچکے ہیں۔ عصر حاضر کے مشہور ومعروف عرب عالم دین ڈاکٹر یوسف قرضاوی صاحب اور شیخ عبد الفتاح ابو غدہ الحلبی نے اس شرح کی تقریظ تحریر کی ہے۔ اس شرح کی تمام ۱۲ جلدیں انٹرنیٹ کے ان لنک سے download کی جاسکتی ہیں:
http://www.waqfeya.com/book.php?bid=3939
http://www.almeshkat.net/books/open.php?cat=22&book=5268
الحل المفہم لصحیح مسلم: یہ شیخ رشید احمد گنگوہی کا درس مسلم ہے جو شیخ محمد یحیےٰ کاندھلوی نے قلمبند کیا تھا اور شیخ محمد زکریا کاندھلوی نے اپنی تعلیقات کے ساتھ اس کو شائع کرایا۔ اس کی دو جلدیں ہیں۔
نعمۃ المنعم فی شرح المجلد الثانی لمسلم: شیخ نعمت اللہ اعظمی دامت برکاتہم کی تالیف ہے جو کتاب البیوع سے لے کر باب استحباب المواساۃ بفضول الماء تک ہے جسکی ۳۸۳ صفحات پر مشتمل ایک جلد شائع ہوچکی ہے۔
صحیح مسلم شریف مترجم عربی اردو: شیخ عابد الرحمن کاندھلوی نے اردو زبان میں صحیح مسلم کا سلیس ترجمہ کیاہے۔ شیح محمد عبداللہ فاضل تخصص فی الافتاء دارالعلوم کراچی نے مختصر مفید حواشی تحریر کئے ہیں، جسکی تین جلدیں ہیں۔ امام مسلم کی مختصر سوانح حیات لکھنے میں راقم الحروف نے اس کتاب سے خاص استفادہ کیا ہے۔
مقدمۃ صحیح مسلم:
صحیح مسلم کا مقدمہ بعض وجوہ سے بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ اس مقدمہ میں وجہ تالیف کے علاوہ فن روایت کے بہت سے فوائد جمع کئے گئے ہیں۔ امام مسلم نے یہ مقدمہ تحریر کرکے فن اصول حدیث کی بنیاد قائم کردی ہے۔ اس مقدمہ کی خصوصی اہمیت کی وجہ سے اس کی مستقل شروح بھی تحریر کی گئی ہیں، علماء دیوبند کی مندرجہ ذیل صحیح مسلم کے مقدمہ کی شروح طلبہ میں کافی مقبول ہیں:
عمدۃ المفہم فی حل مقدمۃ مسلم: شیخ عبد القادر محمد طاہر رحیمی ۔
فیض المنعم شرح مقدمۃ مسلم: شیخ سعید احمد پالنپوری دامت برکاتہم۔
نعمۃ المنعم شرح مقدمۃ مسلم: شیخ نعمت اللہ اعظمی دامت برکاتہم۔
ایضاح المسلم شرح مقدمۃ مسلم: شیخ محمد غانم دیوبندی دامت برکاتہم۔
فیض الملہم شرح مقدمۃ مسلم: شیخ اسلام الحق کوپاگنجی ۔
نصرۃ المنعم شرح مقدمۃ مسلم: شیخ عثمان غنی ۔
صحیح بخاری وصحیح مسلم کا موازنہ:
حدیث کی متعدد کتابیں تحریر کی گئیں مگر علماء کرام نے چھ کتابوں کو زیادہ مستند ومعتبر قرار دے کر صحاح ستہ (چھ صحیح کتابوں) کا خطاب دیا ہے، یعنی صحیح بخاری، صحیح مسلم، سنن نسائی، سنن ابودؤد سنن ترمذی، اور سنن ابن ماجہ ۔ ان کتابوں میں سے صحیح بخاری وصحیح مسلم کو سب سے زیادہ مستند قرار دیا ہے۔ صحیح بخاری وصحیح مسلم میں کون سی کتاب زیادہ معتبر اور کس کتاب کا مقام بلند ہے۔ اکثر علماء ومحدثین نے صحیح بخاری کو صحیح مسلم پر فوقیت وفضیلت دی ہے، البتہ بعض محدثین وعلماء نے صحیح مسلم کو صحیح بخاری پر فوقیت دی ہے۔
حافظ عبد الرحمن بن علی الربیع یمنی شافعی نے تحریر کیا ہے کہ ایک جماعت نے میرے سامنے بخاری ومسلم میں ترجیح وفضیلت کے بارے میں گفتگو کی، جواباً کہہ دیا کہ صحت میں بخاری اور حسن ترتیب میں مسلم قابل ترجیح ہے۔
شیخ ابو عمر بن احمد بن حمدان  بیان کرتے ہیں کہ میں شیخ ابوالعباس بن عقدہ سے دریافت کیا کہ بخاری ومسلم میں سے کسے فوقیت حاصل ہے؟ فرمایا دونوں محدث ہیں۔ میں نے پھر دوبارہ دریافت کیا تو فرمایا امام بخاریؒ اکثر اسماء وکنیٰ کے مغالطہ میں آجاتے ہیں مگر امام مسلم اس مغالطہ سے بری ہیں۔ غرضیکہ مسلم کا متون کا حسن سیاق تلخیص طرق اور ضبط انتشار صحیح بخاری پر بھی فائق ہے۔ متون احادیث کو موتیوں کی طرح اس طرح روایت کیا ہے کہ احادیث کے معانی چمکتے چلے جاتے ہیں۔
شاہ عبد العزیزؒ تحریر فرماتے ہیں کہ صحیح مسلم میں خصوصیت کے ساتھ فن حدیث کے عجائبات بیان کئے گئے ہیں اور ان میں اخص الخصوص متون کا حسن سیاق ہے اور روایت میں تو آپ کا درع تام اور احتیاط اس قدر ہے کہ جس میں کلام کرنے کی گنجائش نہیں۔ اختصار کے ساتھ طرق اسانید کی تلخیص اور ضبط انتشار میں یہ کتاب (صحیح مسلم) بے نظیر واقع ہوئی ہے۔
امام مسلمؒ نے اپنی صحیح میں یہ شرط لگائی ہے کہ وہ اپنی کتاب (صحیح مسلم) میں صرف وہ احادیث بیان کریں گے جسے کم از کم دو ثقہ تابعین نے دو ثقہ راویوں سے نقل کیا ہو اور یہی شرط تمام طبقات تابعین اور تبع تابعین میں ملحوظ رکھی ہے یہاں تک کہ سلسلہ روایت امام مسلم پر آکر ختم ہوجائے۔
امام مسلم راویوں کے اوصاف میں صرف عدالت کو ملحوظ نہیں رکھتے بلکہ شرائط شہادت کو بھی پیش نظر رکھتے ہیں۔ امام بخاری کے نزدیک اس قدر پابندی نہیں ہے۔
امام مسلم نے ہر حدیث کو جواس کے لئے مناسب مقام تھا وہیں ذکر کیا ہے اور اس کے تمام طریقوں کو اسی مقام پر بیان کردیا ہے اور اس کے مختلف الفاظ کو ایک ہی مقام پر بیان کردیا ہے تاکہ طالب علم کو آسانی ہو، البتہ یہ بات صحیح بخاری میں نہیں ہے۔
صحیح مسلم کی ایک امتیازی صفت یہ ہے کہ امام مسلم نے اپنی کتاب میں تعلیقات بہت کم ذکر کی ہیں برخلاف امام بخاری کے کہ ان کی کتاب میں تعلیقات بکثرت ہیں۔
محمد نجیب سنبھلی قاسمی، ریاض
(This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.)