Print

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيْم

اَلْحَمْدُ لِلّهِ رَبِّ الْعَالَمِيْن،وَالصَّلاۃ وَالسَّلامُ عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن۔

احادیث معتبر ذرائع سے ہی امت کو پہونچیں، جن کے بغیر قرآن فہمی ممکن نہیں

بعض لا مذہب (جن کاکوئی مذہب نہیں) کی جانب سے یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ احادیث مبارکہ دوسری ہجری میں تحریر کی گئیں، لہٰذا اُن کی صحت پر کیسے اعتماد کیا جاسکتا ہے؟ ہمارے بعض مسلم بھائی بھی کسی حد تک اِن کی تحریروں یا بیانات سے متاثر ہوکر کم علمی کی وجہ سے اس نوعیت کے سوالات کرنا شروع کردیتے ہیں۔ اس موضوع پر بہت کچھ لکھا گیا ہے۔ میرا ایک تفصیلی مضمون بھی مکمل حوالوں کے ساتھ تین زبانوں میں شائع ہوچکا ہے۔ احباب کی سہولت کے لئے ایک مختصر مضمون پیش خدمت ہے۔حوالوں کے لئے میرے تفصیلی مضمون کا مطالعہ کریں جو میری ویب سائٹ اور ایپ میں موجود ہے۔

۱) تاریخ شاہد ہے کہ بعض صحابۂ کرام نے آپ ﷺ کی اجازت سے آپ ﷺ کی حیات مبارکہ میں بھی احادیث مبارکہ تحریر فرمائی تھیں۔ آپ ﷺ کی وفات کے بعد بھی بعض صحابۂ کرام نے احادیث مبارکہ لکھنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ اور تابعین کی ایک جماعت نے احادیث لکھنے کا خاص اہتمام کیا۔ ۲) قرآن کریم کی آیات کے نازل ہونے کے بعد آپﷺ کاتبین وحی کے ذریعہ نازل شدہ آیات تحریر کروادیا کرتے تھے، کاتبین وحی کی تعداد زیادہ سے زیادہ پچاس تھی۔ غرضیکہ آپﷺ کی زندگی میں قرآن کریم کی اصل حفاظت یاد کرکے ہی کی گئی کیونکہ اُس زمانہ میں بہت کم لوگ ہی لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں قرآن کریم، جو مختلف جگہوں پر تحریر تھا، کو ایک جگہ جمع تو کردیا گیا تھا، لیکن قرآن کریم کی اصل حفاظت یاد کرکے ہی کی جاتی رہی کیونکہ اُس وقت یہی اہم ذریعہ تھا۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں جب اسلام عرب سے عجم تک پھیل گیا تو قرآن کریم کے نسخے تیار کرکے گورنروں کو ارسال کردئے گئے تاکہ اسی کے مطابق قرآن کریم کے نسخے تیار کئے جائیں۔ غرضیکہ قرآن کریم کی پہلی حفاظت یاد کرکے ہی ہوئی ہے۔ نبی اکرم ﷺ پر وحی نازل ہونے کے بعد آپ ﷺ کو یاد ہوجاتی تھی جیساکہ قرآن کریم میں اس کا ذکر ہے۔ آج بھی پوری دنیا میں لاکھوں حفاظ کرام قرآن کریم کو حفظ کرکے اس کی حفاظت میں اہم رول ادا کررہے ہیں۔ ۳) پہلی صدی ہجری میں دنیا کا کوئی بھی علم تحریری شکل میں نہیں تھا، حتی کہ کسی بھی زبان کی شاعری پہلی ہجری میں باقاعدہ طور پر تحریری شکل میں نہیں تھی۔ تاریخ کی کوئی بھی مستند کتاب کسی بھی زبان میں دنیا میں کسی بھی جگہ پر پہلی ہجری میں تحریر نہیں کی گئی۔ سائنس، جیولوجی اور بایلوجی وغیرہ جیسے علوم بھی دنیا میں پہلی ہجری میں تحریری شکل میں موجود نہیں تھے۔ غرضیکہ یہ ایسا ہی ہے کہ کوئی شخص کہے کہ آج سے پچاس سال قبل کتابیں کمپیوٹر کے ذریعہ تحریر نہیں کی جاتی تھیں، جب دنیا میں یہ ذریعہ موجود ہی نہیں تھا تو کہاں سے کتابیں کمپیوٹر سے تحریر ہوتیں۔ غرضیکہ پہلی صدی ہجری میں تعلیم وتعلم کا اصل ذریعہ لکھنا نہیں بلکہ سننا، سنانا اور یاد کرنا ہی تھا۔ اسی وجہ سے سیرت نبویﷺپر کوئی باقاعدہ کتاب پہلی ہجری میں منظر عام پر نہیں آئی، حالانکہ بعض صحابہ یا تابعین نے سیرت النبی کے بعض واقعات تحریر کئے تھے۔ پہلی ہجری میں قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کے نبی ﷺ کی سیرت ایک دوسرے کو زبانی ہی بیان کی جاتی تھی کیونکہ اُس وقت یہی اہم ذریعہ تھا۔ ۴) حضرت عمر بن عبدالعزیز ؒ نے اپنے دور خلافت (۹۹ھ۔۱۰۱ھ) میں پہلی ہجری کے اختتام پر محدثین وعلماء کی سرپرستی میں سرکاری طور پر احادیث کی بہت بڑی تعداد کو ایک جگہ جمع کرادیا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب صحابۂ کرام سے براہ راست تعلیم وتربیت حاصل کرنے والے بے شمار حضرات موجود تھے۔ جب دوسری ہجری میں لکھنا پڑھنا عام ہوا تو حضرت عمر بن عبدالعزیز ؒ کے دور خلافت میں جمع شدہ احادیث کو بنیاد بناکر احادیث کی کتابیں تحریر ہوئیں، اور اللہ کے خوف کے ساتھ پوری دیانت داری سے محدثین نے ہزاروں میل کے سفر طے کرکے احادیث کی مکمل تحقیق کرکے ہی احادیث تحریر کیں۔ ۵) قرآن کریم کی سینکڑوں آیات میں اللہ تعالیٰ نے رسول کی اطاعت کا حکم دیا ہے، رسول کی اطاعت احادیث میں ہی تو موجود ہے۔ اگر احادیث کے ذخیرہ پر اعتراض کیا جائے گاتو قرآن کی اُن سینکڑوں آیات کا انکار لازم آئے گا جن میں رسول کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے۔ ۶) احادیث کے ذخیرہ میں بعض موضوعات شامل ہوگئی تھیں لیکن وہ پورے ذخیرہ کے مقابلہ میں ایک فیصد سے بھی کم ہیں، نیز اسی وقت محدثین کرام نے اپنی زندگیاں لگاکر ان موضوع احادیث کو احادیث سے الگ کردیا تھا۔ چند موضوع احادیث کو بنیاد بناکر حدیث کے قابل اعتماد اتنے بڑے ذخیرہ کو شک وشبہ سے دیکھنا نہ صرف غیر منصفانہ بلکہ ظالمانہ فیصلہ ہوگا۔ ۷) قرآن کریم میں صرف اصول بیان کئے گئے ہیں، احکام کی تفصیل مذکور نہیں ہے۔ اگر احادیث کے ذخیرہ پر اعتماد نہیں کیا جائے گا تو کس طرح قرآن کریم پر عمل ہوگا۔ قرآن کریم میں نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج جیسے دین اسلام کے بنیادی ارکان کی ادائیگی کا حکم تو موجود ہے لیکن ادائیگی کا طریقہ اور احکام ومسائل احادیث میں ہی موجود ہیں۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے خود بیان کیا کہ ہم نے قرآن آخری نبی پر اتارا ہے تاکہ آپ ﷺ احکام ومسائل کھول کھول کر لوگوں کے سامنے بیان کردیں۔ اگر احادیث کے ذخیرہ پر شک وشبہ کیا جائے گا تو پھر کون سا ذریعہ ہوگا جس سے معلوم ہو کہ قرآن کریم میں اللہ کی مراد کیا ہے۔ صحیح بات یہی ہے کہ قرآن کریم کو حدیث کے بغیر نہیں سمجھا جاسکتا، مثلاً قرآن کریم میں ہے کہ چوری کرنے والے کے ہاتھ کاٹ دئے جائیں، اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ کتنے مال کے چرانے پر ہاتھ کاٹے جائیں، پھر ہاتھ کونسا کاٹا جائے اور کہاں سے۔ قرآن کریم میں اس کی کوئی وضاحت نہیں ہے، ظاہر ہے کہ اس کی وضاحت احادیث مبارکہ میں ہی ہے۔ اسی طرح قرآن کریم (سورۃ الجمعہ) میں ارشاد ہے کہ جب جمعہ کی نماز کے لئے پکارا جائے تو اللہ تعالیٰ کے ذکر کی طرف دوڑو اور خرید وفروخت چھوڑدو۔ سوال یہ ہے کہ جمعہ کا دن کونسا ہے؟ یہ اذان کب دی جائے؟ اس کے الفاظ کیا ہوں؟ جمعہ کی نماز کب ادا کی جائے؟ اس کو کیسے پڑھیں؟ خرید وفروخت کی کیا کیا شرائط ہیں ؟ ان مسائل کی مکمل وضاحت احادیث میں ہی مذکور ہے۔۸) جن ذرائع سے قرآن کریم ہمارے پاس پہنچا ہے، ان ہی ذرائع سے احادیث ہمارے پاس پہنچی ہیں،ہاں قرآن کریم کا ایک ایک لفظ ابتدا سے ہی تواتر کے ساتھ منتقل ہوا ہے، (اگرچہ شروع میں اصل حفاظت یاد کرنے سے ہی ہوئی ہے) لیکن احادیث کا تمام ذخیرہ تواتر کے ساتھ منتقل نہیں ہوا ہے، اسی لئے اس کا مقام قرآن کریم کے بعد ہے۔ ۹) دنیا میں موجود دیگر مذاہب کی مذہبی کتابوں کی حفاظت کے لئے جو کمزور وسائل اختیار کئے گئے ہیں، اُن کا قرآن وحدیث کی حفاظت کے لئے اختیار کئے گئے بہت مضبوط وسائل سے کوئی مقابلہ ہی نہیں ہے کیونکہ روایت کا سلسلہ صرف مذہب اسلام میں ہی ملتا ہے، یعنی اگر کوئی شخص قرآن وحدیث کی کوئی بات بیان کرتا ہے تو وہ ساتھ میں یہ بھی ذکر کرتا ہے کہ کن کن واسطوں سے یہ بات اس کو پہنچی ہے۔ احادیث کی مشہور ومعروف کتابوں کی تصنیف کے بعد اب صرف ان کتابوں کا حوالہ تحریر کردیا جاتا ہے کیونکہ حدیث کی کتابوں میں حدیث کی عبارت کے ساتھ سند بھی مذکور ہے یعنی کن کن واسطوں سے یہ حدیث مصنف تک پہنچی ہے۔ ۱۰) جن احادیث کی سند میں کوئی شک وشبہ نظر آیا تو علماء امت نے احتیاط کے طور پر اُن احادیث کو فضائل کے لئے تو قبول کیا مگر اُن سے احکام ومسائل ثابت نہیں کئے۔ ۱۱) قرآن کریم ۲۳ سال میں نازل ہوا ہے۔ آیت کا شان نزول یعنی آیت کب اور کس موقع پر نازل ہوئی ، حدیث میں ہی مذکور ہے۔ نیز بعض مسائل میں حکم بتدریج نازل ہوا، مثلاً شراب کی حرمت ایک ساتھ نازل نہیں ہوئی، چنانچہ فرمان الہٰی ہے: اے ایمان والو! جب تم نشے کی حالت میں ہو تواُس وقت نماز کے قریب بھی نہ جاناجب تک تم جو کچھ کہہ رہے ہواُسے سمجھنے نہ لگو۔ (سورۃ النساء ۴۳) غرضیکہ پہلے نماز کی حالت میں شراب کو منع کیا گیا، پھر مکمل طور پر شراب کی حرمت نازل ہوئی۔ اس طرح کے بتدریج نازل ہونے والے احکام کی تفصیل احادیث مبارکہ میں ہی موجود ہے۔

غرضیکہ جس طرح اللہ اور اس کے رسول کو الگ الگ نہیں کیا جاسکتا، اسی طرح قرآن وحدیث کو الگ الگ نہیں کیا جاسکتا ، یعنی حدیث کے بغیر ہم قرآن کریم کو سمجھ ہی نہیں سکتے اور کیسے سمجھ سکتے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنا کلام حضرت محمد مصطفی ﷺ پر نازل فرمایا تاکہ آپ ﷺاپنے قول وعمل سے اللہ کی مراد بیان کریں۔اللہ تعالیٰ نے سورۃ النساء آیت ۸۰ میں رسول اللہ کی اطاعت کو اطاعت الہی قرار دیتے ہوئے فرمایا: جس شخص نے رسول اللہ کی اطاعت کی اس نے دراصل اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی۔نیز اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں متعدد جگہوں پر یہ بات واضح طور پر بیان کردی کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے ساتھ رسول کی اطاعت بھی ضروری ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی اطاعت رسول اکرم ﷺکی اطاعت کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں رسول کی اطاعت کا حکم دیا اور رسول کی اطاعت جن واسطوں سے ہم تک پہونچی ہے یعنی احادیث کا ذخیرہ ، ان پر اگر ہم شک وشبہ کرنے لگیں تو گویا ہم قرآن کریم کی اُن مذکورہ تمام آیات کے منکر ہیں یا زبان حال سے یہ کہہ رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ایسی چیز کا حکم دیا ہے یعنی اطاعت رسول ،جو ہمارے اختیار میں نہیں ہے۔

ڈاکٹر محمد نجیب قاسمی سنبھلی (www.najeebqasmi.com)