Print

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيْم

اَلْحَمْدُ لِلّهِ رَبِّ الْعَالَمِيْن،وَالصَّلاۃ وَالسَّلامُ عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن۔

محسن انسانیت ﷺ کو تکالیف دینے والے ابولہب اور اس کی بیوی کا انجام بد

اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ایک مکمل سورۃ (سورۃ اللہب) نازل فرماکر قیامت تک آنے والے انس وجن کو یہ بتلادیا کہ سارے نبیوں کے سردار حضور اکرم ﷺ کو تکالیف پہنچانے والوں کے لئے دنیا میں بربادی کے ساتھ آخرت میں بھی ان کے لئے دردناک عذاب تیار کیا گیا ہے۔

سب سے پہلے اس مختصر سورۃ کا آسان ترجمہ پیش ہے: ابولہب کے ہاتھ برباد ہوں،ا ور وہ خود برباد ہوچکا ہے۔اس کی دولت اور اس نے جو کمائی کی تھی، وہ اس کے کچھ کام نہیں آئی۔ وہ بھڑکتے شعلوں والی آگ میں داخل ہوگا۔ اور اس کی بیوی بھی، لکڑیاں ڈھوتی ہوئی۔ اپنی گردن میں مونجھ کی رسی لئے ہوئے۔

جب قرآن کریم کی آیت وَاَنْذِرْ عَشِيرَتَکَ الْاَقْرَبِينَ نازل ہوئی تو حضور اکرم ﷺ نے صفا پہاڑی پر چڑھ کر اپنے قبیلہ کے لوگوں کو آواز دی۔ جب قبیلہ قریش کے لوگ جمع ہوگئے تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ اگر میں تمہیں یہ خبر دوں کہ دشمن تمہارے اوپر حملہ آور ہونے والا ہے۔ کیا آپ لوگ میری تصدیق کرو گے؟ سب نے کہاکہ ہاں ضرور تصدیق کریں گے۔ پھر آپ ﷺ نے اپنی قوم کے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتے ہوئے فرمایا کہ میں تمہیں دردناک عذاب سے ڈراتاہوں، لہٰذا کفر وشرک والی زندگی چھوڑ کر صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو۔ یہ سن کر حضور اکرم ﷺ کا چچا ابولہب ، جو آپ کی دعوت اسلام کے بعد آپ کا سب سے بڑا دشمن بن گیا تھا اور طرح طرح سے آپ کو تکلیف پہنچاتا تھا، نے کہا: ہلاکت ہو تیرے لئے، کیا تو نے ہمیں اس کے لئے جمع کیا تھا۔ اور آپ کو مارنے کے لئے ایک پتھر اٹھالیا۔اس پر یہ سورت نازل ہوئی۔

ید کے اصل معنی ہاتھ کے ہیں، لیکن یہاں اُس کی ذات مراد ہے، یعنی ابولہب کے لئے بربادی لکھ دی گئی، اب اس کی بربادی میں کوئی شک وشبہ نہیں، چنانچہ بدر کے سات روز کے بعد اس کو طاعون کی گلٹی نکلی۔ مرض دوسروں کو لگ جانے کے خوف سے سب گھر والوں نے اس کو الگ ڈال دیا یہاں تک کہ اسی بے کسی کی حالت میں مرگیا اور تین روز تک ا س کی لاش یونہی پڑی رہی۔ جب اس کی لاش سڑنے لگی تو مزدوروں سے اٹھواکر دبوادیا۔ انہوں نے ایک گڑھا کھود کر ایک لکڑی سے اس کی لاش کو گڑھے میں ڈال دیا اور اوپر سے پتھر بھر دئے۔

مَا اَغْنَی عَنْہُ مَالُہُ وَمَا کَسَبَ:ابولہب کا مال واسباب کچھ بھی اس کے کام نہیں آیا۔ جب حضور اکرم ﷺ نے اپنی قوم کو اللہ کے عذاب سے ڈرایا تھا تو ابولہب نے یہ بھی کہا تھا کہ جو کچھ میرا بھتیجہ کہتا ہے اگر وہ سچ بھی ہو تو میرے پاس مال واولاد بہت ہے، میں اس کو دے کر اپنی جان بچالوں گا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ جب اس کو اللہ تعالیٰ کے عذاب نے پکڑا تو نہ اس کا مال کام آیا، نہ اولاد۔یہ تو اس کا دنیا میں حال ہوا، آخرت میں اس کے ساتھ کیا معاملہ ہوگا تو فرمان الٰہی ہے: وہ بھڑکتے شعلوں والی آگ میں داخل ہوگا۔

وَامْرَاَتُہُ حَمَّالَۃَ الْحَطَب:ابولہب کی طرح اس کی بیوی بھی آپ ﷺ کو بہت تکلیف پہنچاتی تھی۔ یہ حضرت ابوسفیان کی بہن تھی اور ام جمیل کے نام سے پہچانی جاتی تھی۔ بعض روایتوں میں ہے کہ آپ ﷺ کے راستے میں کانٹے دار لکڑیاں بچھا دیا کرتی تھی۔ نیز بعض روایات میں آتا ہے کہ یہ بہت زیادہ چغلخوری کرنے والی تھی۔قرآن کریم میں ابولہب کی بیوی کا نام لئے بغیر اس کے عمل کو ذکر کیا ’’لکڑیاں ڈھوتی ہوئی‘‘تاکہ اس کے عمل کے مطابق جہنم میں اس کے لئے متعین سزا کی طرف بھی اشارہ ہوجائے۔ قرآن کریم میں ابولہب کے اصل نام کا ذکر کئے بغیر اس کی کنیت ابولہب کا ذکر کیا، اس بات کی طرف اشارہ کرنے کے لئے کہ وہ آگ کے انگاروں میں ڈالا جائے گا۔ لہب کے معنی شعلہ کے ہیں۔
فِیْ جِےْدِھَا حَبْلٌ مِّن مَّسَد:ابولہب کی بیوی کی جہنم کی حالت کو بیان کیا جارہا ہے کہ آہنی تاروں سے مضبوط بٹا ہوا طوق ا س کے گلے میں ہوگا۔ یعنی جس طرح وہ نبی اکرم ﷺ کے راستے میں کانٹے بچھانے کے لئے کانٹے اور لکڑیاں اپنے اوپر لاد کر لاتی تھی، اسی طرح جہنم میں آہنی تاروں کا طوق اس کے گلے میں ڈال دیا جائے گا۔

حضور اکرم ﷺ کی دو صاحبزادیاں (حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا ) ابولہب کے دو بیٹوں (عتبہ اور عتیبہ) کے نکاح میں تھیں۔ لیکن دین اسلام کی دعوت دینے اور اس سورۃ کے نزول پر ابولہب نے دونوں بیٹوں سے طلاق دلوادی تھی۔ بعد میں یہ دونوں صاحبزادیاں یکے بعد دیگرے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے نکاح میں آئیں۔ آپ کی چار صاحبزادیوں میں سے تین صاحبزادیاں آپ ﷺ کی حیات میں ہی انتقال فرماگئی تھیں، جبکہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی وفات نبی اکرم ﷺ کے انتقال کے چھ ماہ بعد ہوئی۔ غرضیکہ آپ کی چاروں بیٹیاں ۳۰ سال کی عمر سے قبل ہی انتقال فرماگئیں۔

محمد نجیب قاسمی سنبھلی (www.najeebqasmi.com)