Print

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيْم

اَلْحَمْدُ لِلّهِ رَبِّ الْعَالَمِيْن،وَالصَّلاۃ وَالسَّلامُ عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن۔

سورۃ الکافرون کی مختصر تفسیر

ترجمہ سورۃ الکافرون: تم کہہ دو کہ: ’’اے حق کا انکار کرنے والو! میں اُن چیزوں کی عبادت نہیں کرتاجن کی تم عبادت کرتے ہو۔ اور تم اُس کی عبادت نہیں کرتے جس کی میں عبادت کرتا ہوں۔اور نہ میں (آئندہ) اُس کی عبادت کرنے والا ہوں جس کی عبادت تم کرتے ہو۔ اور نہ تم اُس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی میں عبادت کرتا ہوں۔ تمہارے لئے تمہارا دین اور میرے لئے میرا دین۔

شانِ نزول: یہ سورت اُس وقت نازل ہوئی تھی جب مکہ مکرمہ کے کچھ سرداروں نے، جن میں ولید بن مغیرہ اور عاص بن وائل وغیرہ شامل تھے، حضور اکرمﷺ کے سامنے صلح کی یہ تجویز پیش کی کہ ایک سال آپ ہمارے معبودوں کی عبادت کرلیاکریں تو دوسرے سال ہم آپ کے معبود کی عبادت کرلیں گے۔ کچھ اور لوگوں نے اسی قسم کی کچھ اور تجویزیں بھی پیش کیں، جن کا خلاصہ یہی تھا کہ حضور اکرم ﷺ کسی نہ کسی طرح ان کافروں کے طریقے پر عبادت کے لئے آمادہ ہوجائیں تو آپس میں صلح ہوسکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں دو ٹوک الفاظ میں واضح فرمادیا کہ کفر اور ایمان کے درمیان اس قسم کی کوئی مصالحت قابل قبول نہیں ہے جس سے حق اور باطل کا امتیاز ختم ہوجائے، اور دین برحق میں کفر یا شرک کی ملاوٹ کردی جائے۔ ہاں اگر تم حق کو قبول نہیں کرتے تو تم اپنے دین پر عمل کرو جس کے نتائج خود بھگتوگے، اور میں اپنے دین پر عمل کروں گا۔ اس سے معلوم ہوا کہ غیرمسلموں سے کوئی ایسی مصالحت جائز نہیں ہے جس میں اُن کے دین کے شعائر کو اختیار کرنا پڑے۔ البتہ اپنے دین پر قائم رہتے ہوئے امن کا معاہدہ ہوسکتا ہے۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ فجر کی سنتوں میں پڑھنے کے لئے دو سورتیں بہتر ہیں: سورۃ الکافرون اور سورۃ الاخلاص۔ صحابۂ کرام سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ مغرب کی سنتوں میں یہ دو سورتیں (سورۃا لکافرون اور سورۃ الاخلاص)عموماً پڑھا کرتے تھے۔ احادیث میں مذکور ہے کہ طواف کے بعد دو رکعات میں یہ دو سورتیں (سورۃا لکافرون اور سورۃ الاخلاص)پڑھنا بہتر ہے۔ آپ ﷺ صحابۂ کرام کو سورۃ الکافرون بھی سونے سے قبل پڑھنے کی تعلیم دیا کرتے تھے۔غرضیکہ دیگر اذکار کے ساتھ سونے سے قبل ہمیں چاروں قل پڑھنے کا اہتمام کرنا چاہئے۔

اس سورۃ میں چند کلمات مکرر آئے ہیں، دو کلمہ ایک مرتبہ زمانہ حال کے لئے اور دوسری مرتبہ زمانہ مستقبل کے متعلق آئے ہیں۔ یعنی نہ تو بالفعل ایسا ہورہا ہے کہ میں تمہارے معبودوں کی عبادت کروں اور تم میرے معبودوں کی عبادت کرو۔ اور نہ آئندہ ایسا ہوسکتا ہے کہ میں اپنی توحید پر اور تم اپنے شرک پر قائم رہتے ہوئے ایک دوسرے کے معبود کی عبادت کریں۔

اسلام سے زیادہ کوئی مذہب رواداری اور حسن سلوک کا داعی نہیں ہے۔ اسلام نے ہمیشہ غیر مسلموں کے حقوق کا خیال رکھا ہے۔ شریعت اسلامیہ نے کسی بھی غیر مسلم کو مذہب اسلام قبول کرنے پر کوئی زبردستی نہیں کی، بلکہ صرف اور صرف ترغیب اور تعلیم پر انحصار کیا۔ فرمان الٰہی ہے: دین میں کسی پر جبر نہیں۔ (سورۃ البقرۃ: ۲۵۶) اسی طرح فرمان الٰہی ہے: آپ کہہ دیجیے کہ یہ تمہارے پروردگار کی طرف سے حق ہے اب جس کا جی چاہے مان لے اور جس کا جی چاہے انکار کردے۔ سورۃ الکہف : ۲۹

مدینہ منورہ ہجرت کے بعد یہودیوں کے ساتھ آپ کا معاہدۂ صلح مشہور ومعروف ہے۔ اسلام نے رواداری کی اعلیٰ مثال پیش کرکے کفار مکہ کے ساتھ صلح حدیبہ بھی کی۔ مگر اللہ کا انکار کرنے والوں کے ساتھ صلح میں اسلام کے بنیادی ارکان پر کوئی مصالحت نہیں ہوسکتی، یعنی اگر کوئی شخص یہ کہے کہ ہم بتوں کی عبادت شروع کردیں یا اللہ کے ساتھ کسی کو عبادت میں شریک ٹھہرالیں یا محمد ﷺ کو اپنا آخری نبی تسلیم نہ کریں یا مساجد میں نماز کی ادائیگی نہ کریں یا اذان دینا بند کردیں ، تو ان امور میں کوئی مصالحت نہیں کی جاسکتی ہے۔

اس سورۃ میں ہمارے لئے سبق:

اللہ ہی صرف عبادت کے لائق ہے۔ اللہ کے ساتھ کسی دوسری ذات کو عبادت میں شریک کرنا جرم عظیم ہے، جس کی کل قیامت کے دن معافی نہیں ہے۔

دیگر مذاہب کے ماننے والوں کے ساتھ قرآن وحدیث کے فیصلہ کے خلاف کوئی مصالحت نہیں ہو سکتی ہے۔

صرف اس نوعیت کی صلح ہوسکتی ہے کہ غیر اسلامی ممالک میں دیگر قومیں اپنے مذہب کے اعتبار سے زندگی گزاریں اور ہم قرآن وحدیث کی روشنی میں زندگی گزاریں۔البتہ حکمت ومصلحت کے ساتھ اپنے قول وعمل سے ان کو دین اسلام کی دعوت دیتے رہیں۔

محمد نجیب قاسمی سنبھلی (www.najeebqasmi.com)