بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيْم

اَلْحَمْدُ لِلّهِ رَبِّ الْعَالَمِيْن،وَالصَّلاۃ وَالسَّلامُ عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن۔

اللہ کی عبادت کرنے والوں کے لئے کشادہ روزی اور امن وسکون کی زندگی کا وعدہ

سورۃ قریش کی مختصر تفسیر

سورۃ قریش کا آسان ترجمہ: چونکہ قریش کے لوگ عادی ہیں ، یعنی وہ سردی اور گرمی کے موسموں میں (یمن اور شام کے) سفر کرنے کے عادی ہیں، اس لئے انہیں چاہئے کہ وہ اس گھر کے مالک کی عبادت کریں، جس نے بھوک کی حالت میں انہیں کھانے کو دیا، اور بدامنی سے انہیں محفوظ رکھا۔

معنی اور مضمون کے اعتبار سے یہ سورت پہلی سورۃ الفیل سے متعلق ہے، اسی لئے بعض نسخوں میں دونوں سورتوں کے درمیان بسم اللہ تحریر نہیں ہے، لیکن خیر القرون سے آج تک جمہور علماء کی رائے میں یہ دونوں مستقل الگ الگ سورتیں ہیں۔ اس سے قبل سورۃ الفیل میں اُن ہاتھی والوں کا ذکر کیا گیا جنہوں نے بیت اللہ کو ڈھانے کے لئے یمن سے آکر مکہ مکرمہ پر حملہ آور ہونے کی کوشش کی تھی، لیکن اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ سے صرف ۱۰ کیلومیٹر قبل ہاتھی والوں کے لشکر پر عذاب نازل کرکے ان کی تباہی اور بربادی کو قیامت تک آنے والے انس وجن کے لئے عبرت بنادیا۔ اور اس سورۃ قریش میں اُس قبیلہ کا ذکر کیا جارہا ہے جو بیت اللہ کی خدمت کیا کرتا تھا۔ قبیلہ قریش پر اللہ کی دو عظیم نعمتوں کا ذکر کرکے، ان کو بیت اللہ کے گھر کے پروردگار کی عبادت کی دعوت دی جارہی ہے۔

حضور اکرم ﷺکی تشریف آوری سے قبل زمانہ جاہلیت میں عربوں میں قتل وغارت گری کا بازار گرم تھا۔ کوئی شخص آسانی سے سفر نہیں کرسکتا تھا کیونکہ بعض لوگوں کا کام ہی یہی تھا کہ وہ راہ گیروں کو لوٹ لیا کرتے تھے۔ لیکن بیت اللہ کی نگرانی کرنے والے قبیلہ قریش کو سارے لوگ عزت کی نگاہ سے دیکھتے تھے، جس کی وجہ سے وہ لٹیروں سے محفوظ تھے ۔ مکہ مکرمہ میں بنجر زمین کی وجہ سے کھیتی وغیرہ نہیں تھی، اس لئے وہ اپنی ضروریات پوری کرنے کے لئے سال بھر میں دو سفر کیا کرتے تھے۔ سردیوں میں ملک یمن اور گرمیوں میں ملک شام کی طرف۔

اللہ تعالیٰ اس سورۃ میں قبیلہ قریش کے لوگوں کو یاد دلارہے ہیں کہ اُن کوعربوں میں جو عزت حاصل ہوئی ہے، جس کی وجہ سے وہ گرمی اور سردی میں کسی خوف کے بغیر دو اہم سفر کرتے ہیں، جن سفروں پر اُن کے معاش کا انحصار ہے، یہ سب کچھ اُس اللہ کے گھر کی برکت ہے جو بنی نوع انسان کے لئے زمین پر بسایا ہوا پہلا گھر ہے ۔ لہٰذا انہیں چاہئے کہ اِس گھر کے مالک یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ عبادت میں کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں کیونکہ اسی اللہ کے گھر کی وجہ سے انہیں کھانے کو مل رہا ہے اور اسی کی وجہ سے انہیں امن وامان ملا ہوا ہے۔ غرضیکہ اس سورت میں امت مسلمہ کو یہ سبق دیا گیا کہ اللہ کی عبادت کرنے والے دو عظیم نعمتوں سے سرفراز ہوتے ہیں، ایک کشادہ روزی اور دوسرے امن وسکون کی زندگی۔

قریش مکہ مکرمہ کا ایک اہم ترین قبیلہ تھا۔ انس وجن کے نبی حضرت محمد مصطفی ﷺ کا اسی قبیلہ کی شاخ بنو ہاشم سے تعلق ہے۔ حضور اکرم ﷺ کی تیرہویں پشت میں دادانضر بن کنانہ بن خزیمہ کی اولاد کو قریش کہا جاتا ہے۔ تاریخ طبری کے مطابق حضور اکرم ﷺ کی چھٹی پشت میں دادا قصی بن کلاب وہ پہلے شخص ہیں جنہیں قریش کہا گیا۔ بنو کنانہ حرم کی خدمت کی غرض سے ایک جگہ جمع رہتے تھے اس لئے نضر بن کنانہ کی اولاو کو قریش کہا جاتا تھا۔ نضر بن کنانہ قریش اکبر اور قصی بن کلاب کو قریش اصغر کہا جاتا ہے۔ اس سورت میں اشارہ ہے کے عرب کے تمام قبائل میں قریش کو فوقیت حاصل ہے۔ چنانچہ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں کنانہ کو اور کنانہ کی اولاد میں سے قریش کو اور قریش میں سے بنو ہاشم کو اور بنو ہاشم میں مجھے منتخب کیا ہے۔

ڈاکٹر محمد نجیب قاسمی سنبھلی (www.najeebqasmi.com)