بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيْم

اَلْحَمْدُ لِلّهِ رَبِّ الْعَالَمِيْن،وَالصَّلاۃ وَالسَّلامُ عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن۔

خانہ کعبہ کے متعلق غلط نیت رکھنے والے کا انجام وہی ہوگا جو ابرہہ کے ساتھ ہو ا تھا

سورۃ الفیل کا آسان ترجمہ: کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہارے پروردگار نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیسا معاملہ کیا؟ کیا اُس نے اُن لوگوں کی ساری چالیں بیکار نہیں کردی تھیں؟ اور اُن پر غول کے غول پرندے چھوڑ دئے تھے۔ جو اُن پر پکی مٹی کے پتھر پھینک رہے تھے۔ چنانچہ اُنہیں ایسا کرڈالا جیسے کھایا ہوا بھوسا۔

شانِ نزول: اس سورت میں اصحاب فیل (ہاتھی والوں) کا واقعہ مختصراً ذکر کیا گیا ہے کہ انہوں نے مکہ مکرمہ میں واقع اللہ کے گھر کو ڈھانے کی غرض سے یمن سے مکہ مکرمہ پر حملہ کرنے کی کوشش کی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ سے تقریباً ۱۰ کیلومیٹر پہلے میدانِ عرفات کے قریب اُن کی فوج پر عذاب نازل کرکے ان کے ارادوں کو خاک میں ملا دیا۔ قرآن کریم میں اس واقعہ کا تذکرہ فرماکر حضور اکرم ﷺ کو تسلی دی گئی کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت بہت بڑی ہے، اس لئے جو لوگ دشمنی پر کمر باندھے ہوئے ہیں، آخر میں وہ بھی ہاتھی والوں کی طرح منہ کی کھائیں گے۔

اصحاب فیل کا واقعہ:یمن پر ملوک حِمْےَر کا قبضہ تھا۔ یہ لوگ مشرک تھے، اِن کا آخری بادشاہ ذو نواس تھا، جس نے اُس زمانہ کے عیسائیوں پر بہت ظلم کئے تھے۔ اس نے ایک لمبی خندق کھدواکر ایک اللہ کی عبادت کرنے والے تقریباً بیس ہزار عیسائیوں کو آگ میں جلا دیا تھا، جس کا ذکر سورۃ البروج (اصحاب الاخدود) میں ہے۔ کسی طرح یہاں سے بچ کر دو عیسائیوں نے قیصر ملک شام کے دربار میں جاکر فریاد کی۔ قیصر ملک شام نے حبشہ (جو یمن سے قریب تھا) کے عیسائی بادشاہ سے یمن پر حملہ کرنے کو کہا۔ اس طرح ارباط اور ابرہہ دو کمانڈر کی قیادت میں یمن پر حملہ کرکے پورے یمن کو قوم حِمْےَر سے آزاد کردیا۔ پھر ارباط اور ابرہہ دونوں کمانڈر وں میں اقتدار کو حاصل کرنے کے لئے باہمی جنگ ہوئی، ارباط جنگ میں مارا گیا، اور اس طرح ابرہہ یمن کا حاکم مقرر کردیا گیا۔ ابرہہ نے یمن پر قبضہ کرنے کے بعد ایک شاندار کنیسہ اس مقصد سے بنایا کہ یمن کے لوگ مکہ مکرمہ جانے کے بجائے اسی کنیسہ میں عبادت کریں۔ عرب قبائل میں غم وغصہ کی لہر دوڑ گئی، یہاں تک کہ کسی نے رات کے وقت کنیسہ میں گندگی پھیلادی اور اس کے ایک حصہ میں آگ لگادی۔ ابرہہ کو جب اس کا علم ہوا تو اس نے ملک حبشہ کے بادشاہ کی اجازت سے کعبہ کو ڈھانے کی تیاری شروع کردی۔ چنانچہ ہاتھیوں کے ساتھ ایک لشکر لے کر وہ مکہ مکرمہ کی طرف روانہ ہوگیا۔عرب لوگ باوجویکہ وہ مشرک تھے، حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہم السلام کے بنائے ہوئے بیت اللہ سے بہت عقیدت رکھتے تھے، چنانچہ انہوں نے ابرہہ کے خلاف جنگ لڑی مگر عرب لوگ مقابلہ میں کامیاب نہ ہوسکے اور ابرہہ آگے بڑھتا گیا۔ طائف کے مشہور قبیلہ ثقیف نے اس کے آگے ہتھیار ڈال دئے۔ اس طرح وہ مکہ مکرمہ سے چند کیلو میٹر کے فاصلہ پر میدان عرفات کے قریب مغمس مقام پر پہنچ گیا، جہاں قریش مکہ کے اونٹ چر رہے تھے۔ ابرہہ کے لشکر نے اُن اونٹوں پر قبضہ کرلیا، جن میں دو سو اونٹ حضور اکرم ﷺ کے دادا حضرت عبدالمطلب کے تھے۔ ابرہہ نے ایک نمائندہ مکہ مکرمہ بھیجا تاکہ وہ قریش کے سرداروں کے پاس جاکر اطلاع دے کہ ہم تم سے جنگ کرنے نہیں آئے ہیں، ہمارا مقصد بیت اللہ کو ڈھانا ہے۔ اگر تم نے اس میں رکاوٹ نہیں ڈالی تو تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ حضرت عبدالمطلب ابرہہ سے ملنے کے لئے پہنچے اور اس سے اپنے دو سو اونٹوں کا مطالبہ کیا۔ ابرہہ کو بڑا تعجب ہوا کہ قبیلہ کا سردار صرف اپنے اونٹوں کی بات کرتا ہے، بیت اللہ کے متعلق کوئی بات نہیں کرتا۔ حضرت عبدالمطلب نے جواب دیا کہ اونٹوں کا مالک تو میں ہوں، مجھے اِن کی فکر ہے، اور بیت اللہ کا میں مالک نہیں ہوں بلکہ اس کا مالک ایک عظیم ہستی ہے، جو اپنے گھر کی حفاظت کرنا جانتا ہے۔ ابرہہ نے کہا کہ تمہارا اللہ اُس کو میرے ہاتھ سے نہ بچا سکے گا۔ حضرت عبدالمطلب نے کہا کہ پھر تمہیں اختیار ہے جو چاہو کرو۔ حضرت عبدالمطلب اونٹ لے کر واپس آئے تو انہوں نے قریش کی ایک جماعت کے ساتھ بیت اللہ کا دروازہ پکڑ کر اللہ تعالیٰ سے خوب دعائیں مانگی اور پھر مکہ والوں کو ساتھ لے کر اس یقین کے ساتھ پہاڑوں میں چلے گئے کہ یقیناًابرہہ کے لشکر پر اللہ کا عذاب نازل ہوگا۔ صبح ہوئی تو ابرہہ کے لشکر نے بیت اللہ پر حملہ آور ہونے کا ارادہ کیا تو اُس کا محمود نام کا ہاتھی بیٹھ گیا اور وہ مکہ مکرمہ کی طرف چلنے کے لئے تیار نہیں ہوا، جبکہ دوسری طرف وہ چلنے لگتا تھا۔ اسی دوران پرندوں کا ایک غول نظر آیا، جن میں سے ہر ایک کے پاس چنے کے برابر تین کنکریاں تھیں، ایک چونچ میں اور دو پنچوں میں، جو انہوں نے لشکر کے لوگوں کے اوپر برسانی شروع کردیں۔ ان کنکریوں نے وہ کام کیا جو بارودی گولی بھی نہیں کرسکتی تھی۔ جس پر یہ کنکری لگتی، اُس کے پورے جسم کو چھیدتی ہوئی زمین میں گھس جاتی تھی۔ یہ عذاب دیکھ کر سارے ہاتھی بھاگ کھڑے ہوئے ۔ لشکر کے سپاہیوں میں سے کچھ وہیں ہلاک ہوگئے اور کچھ لوگ جو بھاگ نکلے، وہ راستہ میں مرے، اور ابرہہ کے جسم میں ایسا زہر سرایت کرگیا کہ اُس کا ایک ایک حصہ سڑگل کر گرنے لگا، اسی حالت میں اسے یمن لایا گیا اور وہاں اُس کا سارا بدن بہہ بہہ کر ختم ہوگیا۔ اُس کی موت سب کے لئے عبرت ناک ہوئی۔ اُس کے دو ہاتھی بان مکہ مکرمہ میں رہ گئے تھے جو اپاہج اور اندھے ہوگئے تھے۔ صحابۂ کرام نے اُن کو دیکھا بھی تھا۔

ہاتھیوں کو ساتھ لانے کا مقصد: اُن کا یہ خیال تھا کہ بیت اللہ کے ستونوں میں لوہے کی مضبوط اور لمبی زنجیریں باندھ کر اُن زنجیروں کو ہاتھیوں کے گلے میں باندھیں اور ان کو ہنکادیں تو سارا بیت اللہ (معاذ اللہ) گر جائے گا۔ یہ اللہ کا نظام ہے کہ ہاتھیوں کا ساتھ لانا ہی ان کی ذلت آمیز شکست کا سبب بنا۔

اصحاب فیل کا واقعہ کب پیش آیا: اس واقعہ کی تاریخ اور سن میں مؤرخین کا اختلاف ہے، معتمد قول یہ ہے کہ یہ واقعہ حضور اکرم ﷺ کی ولادت کے سال پیش آیا تھا۔

الفاظ کی تحقیق: اَلَمْ تَرَ: اللہ تعالیٰ اپنے نبی سے فرماتاہے کہ کیا آپ نے نہیں دیکھا؟ حالانکہ یہ واقعہ آپ ﷺ کی ولادت سے کچھ دن پہلے کا ہے۔ اس طرح کہنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ واقعہ جو عنقریب ہی واقع ہوا ہے، جس کی صداقت پر کوئی شک وشبہ نہیں ہے، جس کے اثرات ابھی تک نظر آتے ہیں۔ طَيْرًا أَبَابِيلَ: سے ایسے پرندے مراد ہیں جو عجیب طرح کے تھے، جو اس سے پہلے کبھی نہ دیکھے گئے اور کبوتر سے کچھ چھوٹے تھے، جیساکہ احادیث میں وارد ہے۔ ایک چھوٹا سا کالے رنگ کا پرندہ جو اندھیری جگہوں پر رہتا ہے جس کو اردو زبان میں ابابیل کہتے ہیں، وہ یہاں مراد نہیں ہے۔ بِحِجَارَةٍ مِنْ سِجِّيلٍ: اِ ن کنکریوں میں کوئی طاقت نہیں تھی، معمولی گارے اور آگ سے بنی ہوئی تھیں ، لیکن اللہ تعالیٰ نے عصر حاضر میں موجود بارودی گولیوں سے زیادہ کام لیا۔ فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مَأْكُولٍ: ابرہہ کا لشکر ، جس پر کنکریوں کی مار پڑی تھی، وہ ایسے ہوگئے جیسے جانوروں کا کھایا ہوا بھوسا۔ خود بھوسا ہی منتشر تنکے ہوتے ہیں، پھر جبکہ اسے کسی جانور نے چبا بھی لیا ہو تو وہ تنکے بھی اپنے حال پر نہیں رہتے اور دنیا میں اس کی کوئی قیمت بھی نہیں ہوتی۔ غرضیکہ اللہ تعالیٰ نے اپنا اصول وضابطہ کل قیامت تک کے انس وجن کے لئے بیان کردیا کہ جو بھی ہمارے گھر کے متعلق غلط نیت رکھے گا اس کا حشر وہی ہوگا جو ابرہہ کے لشکر کے ساتھ ہو ا تھا۔

اصحاب فیل (ہاتھی والوں) کے اس واقعہ کی وجہ سے عربوں میں اللہ کے گھر اور اس کی نگرانی کرنے والے قبیلہ قریش کی اہمیت وعظمت بڑھ گئی۔ چنانچہ وہ ان سے کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں کرتے تھے، اور اس طرح ان کے سفرات کسی بھی خطرہ سے خالی تھے۔ غرضیکہ قبیلہ قریش کے لوگ سال میں دو سفر کیا کرتے تھے، ان ہی سفروں کا ذکر اللہ تعالیٰ اگلی سورت میں کررہے ہیں۔

بیت اللہ: بیت اللہ شریف اللہ تعالیٰ کا گھر ہے جس کا حج اور طواف کیا جاتا ہے۔ اس کو کعبہ بھی کہتے ہیں۔ یہ پہلا گھر ہے جو اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کے لئے زمین پر بنایا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتاہے: اللہ تعالیٰ کا پہلا گھر جو لوگوں کے لئے مقرر کیا گیا وہی ہے جو مکہ مکرمہ میں ہے جو تمام دنیا کے لئے برکت وہدایت والا ہے۔ (سورۃ آل عمران) بیت اللہ مسجد حرام کے قلب میں واقع ہے اور قیامت تک یہی مسلمانوں کا قبلہ ہے۔ چوبیس گھنٹوں میں صرف فرض نمازوں کے وقت خانہ کعبہ کا طواف رکتا ہے باقی دن رات میں ایک گھڑی کے لئے بھی بیت اللہ کا طواف بند نہیں ہوتا۔ بیت اللہ کی اونچائی ۱۴ میٹر ہے جبکہ چوڑائی ہر طرف سے کم وبیش ۱۲ میٹر ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ کی ایک سو بیس (۱۲۰) رحمتیں روزانہ اس گھر (خانہ کعبہ) پر نازل ہوتی ہیں جن میں سے ساٹھ طواف کرنے والوں پر، چالیس وہاں نماز پڑھنے والوں پر اور بیس خانہ کعبہ کو دیکھنے والوں پر ۔ حدیث میں ہے کہ بیت اللہ پر پہلی نظر پڑنے پر جو دعا مانگی جاتی ہے وہ اللہ تعالیٰ قبول فرماتا ہے۔ حضور اکرم ﷺ کی سنت کے مطابق بیت اللہ شریف کو ہر سال غسل بھی دیا جاتا ہے۔

کعبہ شریف کی تعمیریں: ۱) حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش سے قبل سب سے پہلے اس کی تعمیر فرشتوں نے کی ۔ ۲) حضرت آدم علیہ السلام کی تعمیر ۔ ۳) حضرت شیث علیہ السلام کی تعمیر ۔ ۴) حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے صاحبزادے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ساتھ مل کر کعبہ کی از سرِ نو تعمیر کی جیسا کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ کو ذکر کیا ہے۔ ۵) عمالقہ کی تعمیر ۶) جرہم کی تعمیر (یہ عرب کے دو مشہور قبیلے ہیں)۔ ۷) قصی کی تعمیر جو حضور اکرم ﷺ کی پانچویں پشت میں دادا ہیں۔ ۸) قریش کی تعمیر (اس وقت نبی اکرمﷺکی عمر ۳۵ سال تھی، اور آپ ﷺ نے اپنے ہی دست مبارک سے حجر اسود کو بیت اللہ کی دیوار میں لگایا تھا)۔ ۹) ۶۴ھ میں حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ نے حطیم کے حصہ کو کعبہ میں شامل کرکے کعبہ کی دوبارہ تعمیر کی، اور دروازہ کو زمین کے قریب کردیا، نیز دوسرا دروازہ اس کے مقابل دیوار میں قائم کردیا تاکہ ہر شخص سہولت سے ایک دروازہ سے داخل ہو اور دوسرے دروازے سے نکل جائے۔ (حضور اکرم ﷺ کی خواہش بھی یہی تھی)۔ ۱۰) ۷۳ھ میں حجاج بن یوسف نے کعبہ کو دوبارہ قدیم طرز کے موافق کردیا(یعنی حطیم کی جانب سے دیوار پیچھے کو ہٹادی اور دروازہ اونچا کردیا،دوسرا دروازہ بند کردیا)۔ ۱۱) ۱۰۲۱ھ میں سلطان احمد ترکی نے چھت بدلوائی اور دیواروں کی مرمت کی۔ ۱۲) ۱۰۳۹ھ میں سلطان مراد کے زمانے میں سیلاب کے پانی سے بیت اللہ کی بعض دیواریں گر گئیں تھیں تو سلطان مراد نے ان کی تعمیر کرائی۔ ۱۳) ۱۴۱۷ھ میں شاہ فہد بن عبدالعزیزنے بیت اللہ کی کچھ ترمیم کی۔

ڈاکٹر محمد نجیب قاسمی سنبھلی (www.najeebqasmi.com)