بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيْم

اَلْحَمْدُ لِلّهِ رَبِّ الْعَالَمِيْن،وَالصَّلاۃ وَالسَّلامُ عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن۔

دنیا کے خسارے سے بچنے اور نفع عظیم حاصل کرنے کا قرآنی نسخہ

وَالْعَصْرِ۔ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ۔ اِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْر

سورۃ العصر کا آسان ترجمہ: قسم ہے زمانے کی کہ ہر انسان بڑے خسارے میں ہے، مگر وہ لوگ جو ایمان لائے، اور انہوں نے اچھے کام کئے، اور آپس میں تاکید کرتے رہے سچے دین کی، اور آپس میں تاکید کرتے رہے صبر وتحمل کی۔

سورۃ العصر کی خاص فضیلت: یہ قرآن کریم کی بہت مختصر سی سورت ہے، جس میں چودہ کلمات پر مشتمل صرف تین آیات ہیں، لیکن ایسی جامع ہے کہ بقول حضرت امام شافعی ؒ (۱۵۰ھ ۔ ۲۰۴ھ) کہ اگر لوگ اس سورت کو غورو فکر اور تدبر کے ساتھ پڑھ لیں تو دین ودنیا کی درستی کے لئے کافی ہوجائے۔ (ابن کثیر) حضرت عبد اللہ ابن حصین ؓ فرماتے ہیں کہ صحابۂ کرام میں سے دو شخص آپس میں ملتے تو اس وقت تک جدا نہ ہوتے جب تک ان میں سے ایک دوسرے کے سامنے سورۃ العصر نہ پڑھ لے۔ طبرانی

’’والعصر‘‘: اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے العصر کی قسم کھائی ہے، جس سے مراد زمانہ ہے کیونکہ انسان کے تمام حالات، اس کی نشو ونما، اس کی حرکات وسکنات، اعمال اور اخلاق سب زمانے کے لیل ونہار میں ہی ہونگے۔ جہاں تک قسم کا تعلق ہے، اللہ تعالیٰ کے کلام میں قسم کے بغیر بھی شک وشبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ بندوں پر رحم فرماکر، کسی حکم کی خصوصی تاکید اور اس کی اہمیت کی وجہ سے قسم کھاکر کوئی حکم بندوں کو کرتا ہے تاکہ بندے اس حکم کی اہمیت کو سمجھ کر اس پر عمل پیرا ہوں اور حکم بجا لانے میں کوئی کوتاہی نہ کریں۔ البتہ یاد رکھیں کہ انسانوں کے لئے اللہ تعالیٰ کے نام کے علاوہ کسی چیز کی قسم کھانا جائز نہیں ہے جیسا کہ نبی اکرم ﷺکی واضح تعلیمات احادیث کی کتابوں میں موجودہیں، مثلاً لوگوں کا کہنا تیرے سر کی قسم یا تیری قسم وغیرہ، اس طرح کے الفاظ کے ساتھ قسم کھانا جائز نہیں ہے۔ ویسے تو قسم کھانے سے ہی بچنا چاہئے کیونکہ قسم کھاکر کوئی بات کہنا ترغیبی عمل نہیں ہے، لیکن اگر کسی موقع پر قسم کھانی ہی پڑے تو صرف اللہ کے نام کی قسم کھانی چاہئے۔

’’الانسان‘‘ میں الف لام جنس کے لئے ہے، جو استغراق کے معنی میں ہے، یعنی قیامت تک آنے والا ہر ہر انسان اس حکم میں داخل ہے خواہ مرد ہو یا عورت ، غریب ہو یا مالدار، طاقت ور ہو یا کمزور، بوڑھا ہو یا نوجوان، بادشاہ ہو یا غلام۔ ’’خسر‘‘ قرآن کریم میں انسان کے نفس یا مال یا اہل وعیال یا دنیا وآخرت کے خسارہ کو متعدد جگہ ذکر کیا گیاہے۔ اس آیت میں اشرف المخلوقات (انسان) کے خسارہ سے اللہ کی مراد کیا ہے؟ یہ سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ’’اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ‘‘ جملہ اسمیہ ہونے کی وجہ سے اس میں تاکید موجود ہے۔ عربی زبان میں لفظ اِنَّ کا استعمال تاکید کے لئے ہوتاہے۔ اللہ تعالیٰ کا قسم کھاکر اس بات کو بیان کرنا شک وشبہ کی کسی گنجائش کو بالکل بھی ختم کردیتا ہے۔ نفع میں کمی یا بالکل نفع نہ ہونا نقصان کہلاتا ہے لیکن اگر راس المال (Capital)ہی ختم ہوجائے تو اسے خسارہ کہتے ہیں۔ اس آیت میں صرف جان یا مال کا خسارہ مراد نہیں بلکہ انسانی خسارہ مراد ہے، جس کا کوئی بدل ممکن نہیں ہے۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے قسم کھاکر بہت زیادہ تاکید کے ساتھ یہ بات بیان فرمائی ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے سورۃ التین میں چار چیزوں (انجیر، زیتون، طور سینا کا پہاڑ اور مکہ مکرمہ) کی قسم کھاکر ارشاد فرمایا: ہم نے انسان کو بہترین سانچے میں ڈھال کر پیدا کیا ہے، پھر ہم اسے پستی والوں میں سب سے زیادہ نچلی حالت میں کردیتے ہیں، یعنی جہنم میں پھینک دیتے ہیں، سوائے اُن کے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کئے، تو اُن کو ایسا اجر ملے گا جو کبھی ختم نہیں ہوگا۔ غرضیکہ اگر ہم نے شیطان اور نفس کی خواہش کے خلاف اور اللہ کے احکام کے مطابق زندگی گزارنے کی کوشش نہیں کی تو ناکامی ہے۔ ہمیشہ ہمیشہ کی کامیابی کے حصول کے لئے سونے سے بھی زیادہ قیمتی چیز یعنی وقت کا صحیح استعمال کرنا پڑتا ہے۔ ہر سیکنڈ ہماری عمر کم ہورہی ہے اور ہم برابر اپنی موت کے قریب ہوتے جارہے ہیں، کسی بھی وقت موت کا فرشتہ ہماری روح قبض کرنے آسکتا ہے۔ ہمارا جو لمحہ بھی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی میں گزر رہا ہے وہ ہمیں خسارہ کی طرف لے جارہا ہے۔

اس مختصر سورت میں انسان اور پوری کائنات کو پیدا کرنے والے نے زمانہ کی قسم کھاکر ارشاد فرمایا کہ ہر انسان بڑے خسارے اور نقصان میں ہے، اور اس خسارے سے صرف وہی لوگ بچ سکتے ہیں جن کے اندر چار صفات موجود ہوں۔

۱۔ اللہ اور رسول پر ایمان لانا، اسی طرح نبی اکرم ﷺ کی تمام تعلیمات پر ایمان لانا: اللہ پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ اس بات کادل سے یقین کرنا اور زبان سے اقرار کرنا کہ اللہ ہی اس پوری کائنات کو پیدا کرنے والا ہے۔ اسی نے انس وجن ، آسمان، زمین، پہاڑ، سورج، چاند، ستارے، آگ، پانی، ہوا، جانور، پرند، درند، درخت اپنی قدرت سے پیدا کئے۔ وہی سارے جہاں کا پالن ہار ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں، نہ وہ کسی کی اولاد ہے اور نہ کوئی اس کی اولاد۔ وہ ہمیشہ سے ہے، ہمیشہ رہے گا۔ خشکی اور سمندر میں جو کچھ ہے وہ اس سے واقف ہے۔ کسی درخت کا کوئی پتہ نہیں گرتاجس کا اسے علم نہ ہو، اور زمین کی اندھیریوں میں کوئی دانہ یا کوئی خشک یاتر چیز ایسی نہیں ہے جو اس کے پاس ایک کھلی کتاب میں درج نہ ہو۔ ممکن ہے کہ ہماری عقلیں اس بات کو سمجھنے سے قاصرہوں مگر سینکڑوں دنیاوی امور سمجھنے نہ آنے کے باوجود ہم اُن کے آگے سرجھکا دیتے ہیں مثلاً ہماری عقلیں یہ بھی سمجھنے سے قاصر ہیں کہ انسان دنیا میں کیوں آتا ہے؟ اور نہ جانے کی خواہش کے باوجود صرف ۶۰ ۔ ۷۰ سال کی عمر میں کیوں چلا جاتا ہے؟ ہاں ہماری عقلیں یہ ضرور تسلیم کرتی ہیں کہ ساری کائنات خود بخود پیدا نہیں ہوگئیں، یقیناًان ساری چیزوں کو پیدا کرنے والی ایک ذات ہے، وہی اللہ ہے، جس کو ہم اپنی عقلوں سے نہیں سمجھ سکتے، البتہ اللہ کی مخلوقات میں غوروفکر کرکے اللہ کی طاقت اور قدرت کو تسلیم کئے بغیر نہیں رہ سکتے، چنانچہ آج بھی دنیا کی آبادی کا بہت بڑا حصہ اللہ کی ذات کو ضرور مانتا ہے۔

انس وجن کی تخلیق کا مقصد اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا ہے۔ ہماری دنیاوی زندگی کیسے عبادت بنے، اس کے لئے اللہ تعالیٰ اپنے بعض بندوں کو منتخب فرماکر نبی ورسول بناتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرشتوں کے ذریعہ نبی ورسول کے پاس اپنے احکام نازل فرماتا ہے کہ کیا کام کرنا ہے اور کیا کام نہیں کرنا، کیا کھانا ہے اور کیا نہیں کھانا۔ نبی ورسول اپنے قول وعمل سے لوگوں کو رہنمائی کرتا ہے۔ نبیوں کا یہ سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوکر حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام جیسے جلیل القدر انبیاء کرام سے ہوتا ہوا حضرت محمد مصطفی ﷺ پر ختم ہوگیا کیونکہ آپ ﷺ کی نبوت کسی قبیلہ یا علاقہ یا وقت کے ساتھ خاص نہیں بلکہ آپ ﷺ کو عالمی رسالت سے نوازا گیا۔ اللہ کے رسول پر ایمان لانے کا مطلب یہی ہے۔ اسی طرح قرآن وحدیث کی روشنی میں ہمارا یہ ایمان ہے کہ اس دنیاوی زندگی کے ختم ہونے کے بعد اخروی زندگی شروع ہوتی ہے، جہاں کی کامیابی کا دارومدار دنیاوی زندگی میں نیک اعمال کرنے پر ہے جیسا کہ اسی سورت میں آگے بیان ہے۔ کامیاب لوگ جنت میں جائیں گے جہاں اللہ تعالیٰ نے راحت وسکون کے ایسے انتظامات کررکھے ہیں کہ ہم سوچ بھی نہیں سکتے۔ اور ناکام لوگ جہنم کی دہکائی ہوئی آگ میں ڈالے جائیں گے، جہاں کی آگ کی گرمی دنیاوی آگ سے ۶۹ گنا زیادہ ہے۔

۲۔ نیک اعمال کرنا: انسان کی کامیابی کے لئے دوسری بنیادی شرط نیک عمل ہے۔نیک عمل کے لئے دو بنیادی شرطیں ہیں۔ ۱) عمل خالص اللہ کی رضامندی کے لئے کیا جائے۔ ۲) تمام نبیوں کے سردار حضور اکرمﷺ کی تعلیمات کے مطابق کیا جائے، خواہ عمل کا تعلق عبادات سے ہو یا معاملات سے یا معاشرت سے یا اخلاق سے۔

۳۔ حق کی نصیحت کرنا: یعنی ایمان لانے اور نیک عمل کرنے والے لوگ ایک دوسرے کو دین اسلام کی نصیحت کرتے رہیں۔اللہ تعالیٰ نیک بندوں کے اوصاف بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے: مؤمن مرد اور مؤمن عورتیں آپس میں ایک دوسرے کے مدرگار ہیں۔ اچھی باتوں کا حکم کرتے ہیں اور برائیوں سے روکتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔ (سورۃ التوبہ ۷۱) اِس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مؤمنین کی صفات میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی ذمہ داری کو نماز وروزہ بلکہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت سے بھی قبل ذکر کیا جس سے یقیناًاس کام کی اہمیت وتاکید معلوم ہوتی ہے۔ دین اسلام کی دعوت دینا خود ایک نیک عمل ہے مگر امت محمدیہ امت مبعوثہ ہے، جس کا مقصد دعوت الی الخیر ہے ، آیات قرآنیہ واحادیث نبویہ اس حقیقت پر شاہد ہیں، چنانچہ فرمان الہٰی ہے: (مسلمانو!) تم وہ بہترین امت ہو جو لوگوں کے فائدہ کے لئے وجود میں لائی گئی ہے۔ تم اچھائیوں کا حکم کرتے ہو، برائیوں سے روکتے ہو اور اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہو۔(سورۃ آل عمران ۱۱۰) مفسرین کا اتفاق ہے کہ اس امت کا بہترین اور خیر امت ہونا اس کے داعی ہونے اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی ذمہ داری انجام دینے کی وجہ سے ہے، اسی لئے اس ذمہ داری کو اللہ تعالیٰ نے مستقل طور پر ذکر فرمایا۔

۴۔ صبر کی تلقین کرنا: یعنی ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کرتے رہیں۔اللہ تعالیٰ نے اپنے پاک کلام ’’قرآن کریم‘‘ میں جگہ جگہ صبر کرنے کی تعلیم دی ہے۔ مثلاً: اے ایمان والو! صبر اور نماز سے مدد حاصل کرو۔ بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ اور جو لوگ اللہ کے راستہ میں قتل ہوں اُن کومردہ نہ کہو۔ دراصل وہ زندہ ہیں۔ مگر تم کو (اُن کی زندگی کا) احساس نہیں ہوتا۔ اور دیکھو ہم تمہیں آزمائیں گے ضرور ، (کبھی) خوف سے، اور (کبھی) بھوک سے، اور (کبھی) مال وجان اور پھلوں میں کمی کرکے۔ اور جولوگ (ایسے حالات میں) صبر سے کام لیں اُن کو خوشخبری سنا دو۔ (سورۃ البقرہ ۱۵۳ ۔ ۱۵۵) اسی طرح فرمان الہٰی ہے: اے ایمان والو! صبر کرو اور دشمن کے مقابلہ میں ڈٹے رہو۔ (سورۃ آل عمران ۲۰۰) قیامت تک آنے والے انس وجن کے آخری نبی حضرت محمد ﷺ نے بھی اپنے قول وعمل سے صبر کرنے کی ترغیب دی۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: بلا شبہ صبر وہی ہے جو تکلیف کے آغاز میں کیا جائے۔ صحیح بخاری وصحیح مسلم

غرض دین ودنیا کے خسارے سے بچنے اور نفع عظیم حاصل کرنے کا یہ قرآنی نسخہ چار اجزاء سے مرکب ہے جن میں پہلے دو جزء (ایمان واعمال صالحہ) اپنی ذات کی اصلاح کے متعلق ہیں۔ اور دوسرے دو جزء دوسروں کی ہدایت واصلاح سے متعلق ہیں۔ یعنی ہم اپنی ذات سے بھی اللہ تعالیٰ کے احکام نبی اکرم ﷺکی تعلیمات کے مطابق بجا لائیں، اور ساتھ میں یہ کوشش وفکر کریں کہ ہماری اولاد، ہمارے رشتے دار، ہمارے پڑوسی، ہماری کمپنی میں کام کرنے والے حضرات، ہمارے شہرمیں رہنے والے لوگ اور ساری انسانیت اللہ کی مرضی کے مطابق اس دنیاوی فانی زندگی کو گزارنے والی بنے تاکہ ہم سب بڑے خسارے سے بچ کر ہمیشہ ہمیشہ کی کامیابی حاصل کرنے والے بن جائیں۔ ہر شخص اپنی زندگی کا جائزہ لے کہ اس کے اندر یہ چار اوصاف موجود ہیں یا نہیں۔ قرآن کریم کے اس واضح اعلان سے معلوم ہوا کہ اگر یہ چار اوصاف یا ان میں سے کوئی ایک وصف بھی ہمارے اندر موجود نہیں ہے تو ہم دنیاوآخرت میں ناکامی اوربڑے خسارے کی طرف جارہے ہیں۔ لہذاابھی وقت ہے، موت کب آجائے، کسی کو نہیں معلوم، ہم سب یہ عزم مصمم کریں کہ دنیا وآخرت کی کامیابی حاصل کرنے اور بڑے خسارے سے بچنے کے لئے یہ چار اوصاف اپنی زندگی میں آج ، بلکہ ابھی سے لانے کی مخلصانہ کوشش کریں گے۔ اللہ ہم سب کو زندگی کے باقی ایام ان چار اوصاف سے متصف ہوکر گزارنے والا بنائے۔ آمین، ثم آمین۔

ڈاکٹر محمد نجیب قاسمی سنبھلی (www.najeebqasmi.com)