بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيْم

اَلْحَمْدُ لِلّهِ رَبِّ الْعَالَمِيْن،وَالصَّلاۃ وَالسَّلامُ عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن۔

کیا مرنے کے بعد کوئی دوسری زندگی ہے؟

۸آیات پر مشتمل سورۃ التکاثر کے اہم مقاصد یہ ہیں کہ ہر شخص کو چاہئے کہ وہ دنیاوی زندگی اور اس کے وقتی آرام کو اپنا منزل مقصود نہ سمجھے کیونکہ اس دنیاوی فانی زندگی کے بعد ایک ایسی زندگی شروع ہونے والی ہے جہاں کبھی موت واقع نہیں ہوگی، جہاں کی راحت اور سکون کے بعد کبھی کوئی تکلیف نہیں ہوگی۔ قرآن وحدیث کی روشنی میں ہر مسلمان کا یہ ایمان وعقیدہ ہے کہ ایک دن ایسا ضرور آئے گا جب دنیا کا سارا نظام ہی درہم برہم ہوجائے گا، آسمان پھٹ جائے گا، سورج لپیٹ دیا جائے گا، ستارے ٹوٹ ٹوٹ کر گر پڑیں گے اور حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر دنیا میں آنے والے تمام انس وجن کو اللہ کے دربار میں ایسی حالت میں حاضر کیا جائے گا کہ ہر نفس کو صرف اور صرف اپنی ذات کی فکر ہوگی کہ اس کا نامۂ اعمال کس ہاتھ میں دیا جائے گا۔ اس کے بعد انہیں دنیاوی زندگی کے اعمال کی جزا یا سزا دی جائے گی۔ اس دن کو یوم القیامۃ کہا جاتا ہے۔ قرآن وحدیث میں اس دن کی سختی اور ہولناکی کو بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ قیامت کا دن پچاس ہزار سال کے برابر ہوگا۔ قرآن کریم میں تقریباً ۷۰ جگہوں پر یوم القیامہ کا لفظ وارد ہوا ہے اور الیوم الآخر، ودار الآخرۃ جیسے الفاظ کا ذکر قرآن کریم میں بیسیوں مرتبہ ہوا ہے۔ نہ صرف مسلمانوں بلکہ عیسائیوں اور یہودیوں کا بھی یہ عقیدہ ہے کہ ایک دن دنیا اور دنیا کی ساری نقل وحرکت ختم ہوجائے گی اور انسان کے دنیاوی اعمال کے مطابق اللہ کے حکم پر جنت یا جہنم کا فیصلہ سنایا جائے گا۔ دیگر قومیں بھی کسی نہ شکل میں قیامت کے دن کو تسلیم کرتی ہیں۔ عقل کا تقاضا بھی یہی ہے کہ اس پوری کائنات کے وجود کا کوئی اہم مقصد ضرور ہونا چاہئے اور اشرف المخلوقات کو اپنے کیے ہوئے اعمال کی جزا یا سزا ضرور ملنی چاہئے۔

قیامت کب واقع ہوگی؟ صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے، البتہ قیامت تک آنے والے تمام انس وجن کے نبی حضرت محمد مصطفی ﷺ نے ایک مرتبہ شہادت اور درمیان والی انگلی کو ملاکر ارشاد فرمایا کہ جس طرح یہ دونوں انگلیاں ایک دوسرے سے ملی ہوئی ہیں ، بس سمجھیں کہ میں بھی قیامت کے ساتھ اس طرح بھیجا گیا ہوں۔ (صحیح مسلم ۔ کتاب الفتن ۔ باب قرب الساعۃ) یعنی حضور اکرم ﷺ وقیامت کے درمیان کا وقت دنیا کے وجود سے لے کر حضور اکرم ﷺ کی بعثت تک گزرے ہوئے زمانہ کے مقابلہ میں بہت کم ہے اور حضرت محمد مصطفی ﷺ کے بعد قیامت تک کوئی نبی نہیں آئے گا۔ نیز اس امت کے افراد کے عمریں بہت کم ہے، لہٰذا ہمیں ہر وقت اس عظیم دن کی تیاری کرنی چاہئے۔ قیامت کے واقع ہونے کی تاریخ کا علم تو اللہ کے پاس ہے، ہاں جس شخص کی موت واقع ہوگئی اس کے لیے ایک طرح سے قیامت واقع ہوجاتی ہے کیونکہ قرآن وحدیث کی روشنی میں ہمارا یہ ایمان وعقیدہ ہے کہ انسان کی جزا یا سزا قیامت تک مؤخر نہیں کی جاتی ہے بلکہ موت کے بعد سے ہی دنیا میں کیے گئے اعمال کی جزا یا سزا شروع ہوجاتی ہے۔ چنانچہ قرآن وحدیث کی روشنی میں پوری امت مسلمہ کا اتفاق ہے کہ قبر جنت کے باغیچوں میں سے ایک باغیچہ بنتی ہے یا جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا۔

کیا قبر میں عذاب ہوتا ہے؟ قرآن کریم میں متعدد جگہوں پر عذاب قبر کا ذکر آیا ہے، یہاں صرف دو آیات پیش ہیں: فرعون کے لوگوں کو بدترین عذاب نے آگھیرا۔ آگ ہے جس کے سامنے انہیں صبح وشام پیش کیا جاتا ہے، اور جس دن قیامت آجائے گی، (اُس دن حکم ہوگا کہ) فرعون کے لوگوں کو سخت ترین عذاب میں داخل کردو۔ (سورۃ الغافر ۴۵۔۴۶) انسان کے مرنے کے بعد اور قیامت سے پہلے انسان کی روح جس عالم میں رہتی ہے اُسے عالم برزخ کہا جاتا ہے۔ اِس آیت میں بتایا گیا کہ فرعون اور اس کے ساتھیوں کو عالم برزخ میں جہنم کے سامنے پیش کیا جاتاہے تاکہ انہیں پتہ چلے کہ اُن کا ٹھکانا یہ ہے۔ اسی طرح فرمان الٰہی ہے: اِن کو ہم دو مرتبہ سزا دیں گے، پھر اُن کو زبردست عذاب کی طرف دھکیل دیا جائے گا۔ (سورۃ التوبۃ ۱۰۱) اس آیت میں وضاحت کے ساتھ موجود ہے کہ زبردست عذاب یعنی جہنم سے قبل بھی انہیں سزا دی جائے گی ۔

قبرکے عذاب کے متعلق حضور اکرم ﷺ کے سینکڑوں فرمان احادیث کی کتابوں میں موجود ہیں۔ اختصار کے پیش نظر صرف تین احادیث پیش ہیں: حضور اکرمﷺ کا جب دو قبروں پر سے گزر ہوا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ان دونوں قبر والوں کو عذاب ہورہا ہے، اور کسی بڑے گناہ کی وجہ سے عذاب نہیں ہورہا ہے۔ ایک تو اُن میں سے چغل خوری کرتا تھا اور دوسرا پیشاب سے بچنے میں احتیاط نہیں کرتا تھا۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے ایک ہری ٹہنی منگائی اور اسے چیر کر دو کیا۔ ہر ایک کی قبر پر ایک ایک گاڑ دی اور فرمایا جب تک یہ ٹہنی خشک نہ ہو، امیدہے کہ ان کا عذاب ہلکا ہوجائے۔ (صحیح مسلم۔ کتاب الطہارۃ ۔ باب فی نجاسۃ الدم وکیفےۃ غسلہا) صحیح مسلم کی ایک طویل حدیث میں مذکور ہے کہ حضور اکرمﷺ نے فرمایا : اگر یہ خیال نہ ہوتا کہ تم دفن کرنا چھوڑ دو گے تو میں خدا سے دعا کرتا کہ وہ تمہیں قبر کا وہ عذاب سنادے جو میں سن رہا ہوں۔ اس کے بعد حضور اکرمﷺ نے صحابۂ کرام کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا: قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگو۔ (صحیح مسلم ۔ کتاب الجنۃ وصفۃ نعمہا واہلہا) نیز فرمان رسول ﷺ ہے: جب آدمی مرجاتا ہے تو صبح وشام اُسے اس کا ٹھکانا دکھایا جاتا ہے۔ اگر اہل جنت سے ہوتا ہے توجنت، اور اگر اہل جہنم سے ہوتا ہے تو بھڑکتی ہوئی آگ اُسے دکھائی جاتی ہے، اور کہا جاتا ہے کہ یہ وہ تیرا ٹھکانا ہے جہاں قیامت کے دن تجھے اٹھاکر پہنچادیا جائے گا۔ صحیح مسلم ۔ کتاب الجنۃ وصفۃ نعمہا واہلہا

نبی اکرم ﷺ کے ارشاد کی روشنی میں امت مسلمہ کا اتفاق ہے کہ قبر میں ہر شخص سے تین سوال کئے جاتے ہیں: ۱) تمہارا رب کون ہے؟ ۲) تمہارا مذہب کیا ہے؟ ۳)ٰ یہ شخص کون ہیں جو تمہارے درمیان رسول بناکر بھیجے گئے؟ تینوں سوال کے صحیح جواب دینے پر کامیابی کا فیصلہ ہوجاتا ہے اور قیامت تک کے لیے جنت کی کھڑکی کھول دی جاتی ہے۔ سوالات کے جواب نہ دینے پر اسے عذاب دیا جاتا ہے اور جہنم کی کھڑکی کھول دی جاتی ہے۔

قبرکا عذاب اصل میں روح کو ہوتا ہے۔ سوالات بھی حقیقت میں روح ہی سے ہوتے ہیں، اس لیے اگر کسی شخص کو دفن نہ کیا جائے تب بھی تینوں سوالات ہوتے ہیں، البتہ بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ روح کے ساتھ بدن کو بھی عذاب ہوتا ہے۔ بے شمار دنیاوی چیزیں نہ سمجھنے کے باوجود ہم اُن کو تسلیم کرتے ہیں، اسی طرح عالم برزخ میں عذاب اور آرام پر ہمیں مکمل ایمان لانا چاہئے خواہ اس کی کیفیت ہمیں معلوم نہ ہو۔

قبرستان کی زیارت: افضل البشر وسید الانبیاء حضرت محمد مصطفی ﷺ نے متعدر مرتبہ قبرستان جاکر قبروں کی زیارت کرنے کی ترغیب دی ہے ، چند احادیث پیش ہیں: حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: قبرستان جاکر قبروں کی زیارت کیا کرو کیونکہ اس کے ذریعہ آخرت یاد آتی ہے۔ (ابن ماجہ ۔ باب ما جاء فی زیارۃ القبور) حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: میں نے تم کو قبروں کی زیارت کرنے سے منع کیا تھا۔ (اب چونکہ تم ایمان وعقیدہ میں مضبوط ہوگئے ہو، لہٰذا) قبرستان جایا کرو کیونکہ اس کے ذریعہ دنیا سے دوری اور آخرت کی یاد پیدا ہوتی ہے۔ (ترمذی ۔ ابواب الجنائز) حضور اکرم ﷺ اپنے گھر والوں کے ساتھ اپنی ماں (حضرت آمنہ) کی قبر پر گئے۔ خود بھی روئے اور دوسروں کو بھی رلایا، اور ارشاد فرمایا کہ میں نے اپنے رب سے اپنی ماں کی قبر کی زیارت کرنے کی اجازت طلب کی تو مجھے اجازت دے دی گئی، تم بھی قبروں کی زیارت کیا کرو کیونکہ اس کے ذریعہ تمہیں موت یاد آئے گی۔  مسلم ۔ باب استئذان النبی ربہ فی زیارت قبر امہ

خواتین قبرستان کیوں نہیں جاسکتیں؟ مسند احمد، ترمذی اور ابوداود میں حدیث ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اُن عورتوں پر لعنت فرمائی ہے جو قبروں کی زیارت کے لیے جائیں۔ حدیث کی مشہور کتاب (ترمذی) کے مصنف حضرت امام ترمذیؒ نے تو باب (Chapter) کا نام ہی رکھا ہے کہ عورتوں کو قبر کی زیارت کرنا مکروہ ہے۔ اسی لیے عورتوں کو میت کی تدفین کے لیے جنازہ کے ساتھ چلنے سے حضور اکرمﷺ نے منع فرمایا۔ (صحیح بخاری ۔ کتاب الجنائز ۔ باب اتباع النساء الجنائز) چنانچہ ۱۴۰۰ سال سے امت مسلمہ کا یہی عمل ہے کہ میت کو قبرستان لے جاکر اس کی تدفین مرد حضرات ہی کرتے ہیں خواہ میت مرد ہو یا عورت۔ خواتین بہت جلدی کسی بھی چیز سے متاثر ہوجاتی ہیں، اس لیے خواتین کو قبروں کی زیارت سے منع کیا گیا تاکہ وہ اپنی کمزوری کی وجہ سے شرک وبدعات جیسے بڑے گناہوں میں مبتلا نہ ہوجائیں حالانکہ یہ بات مسلم ہے کہ قبروں کی زیارت کرنے سے آخرت یاد آتی ہے۔

کیا مُردے سنتے بھی ہیں؟ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب کوئی شخص رشتہ داروں کی قبر پر جاکر نبی اکرم ﷺ کی تعلیمات کے مطابق انہیں سلام کرتا ہے تو کیا وہ سنتے بھی ہیںیا نہیں؟ اس کے متعلق عرصۂ دراز سے اختلاف ہے۔ بعض حضرات کا موقف ہے کہ مُردے بالکل سنتے ہی نہیں ہیں، وہ سورۃ النمل کی آیت ۸۰ کو دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں، جس میں کہا گیا: تم مُردوں کو اپنی بات نہیں سنا سکتے، اور نہ تم بہروں کو اپنی پکار سنا سکتے ہو، جب وہ پیٹھ پھیر کر چل کھڑے ہوں۔ حالانکہ اس آیت کے سیاق وسباق سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں کفار مکہ سے خطاب ہے اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور رسول اللہ ﷺ کی رسالت تسلیم نہ کرنے پر زندہ ہونے کے باوجود انہیں مردہ کہا گیا۔ دیگر حضرات کی رائے ہے کہ کسی حد تک مُردے سنتے بھی ہیں، لیکن جواب نہیں دے سکتے۔ دلیل کے طور پر کتب احادیث میں وارد بعض واقعات پیش کیے جاتے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ مُردے سنتے بھی ہیں۔ مثلاً صحیح بخاری وصحیح مسلم میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب بندہ اپنی قبر میں دفن کردیا جاتا ہے تو وہ واپس پلٹنے والے اپنے ساتھیوں کی جوتیوں کی آواز سنتے ہیں۔ اسی طرح صحیح مسلم میں ہے کہ جنگ بدر کے بعد نبی اکرم ﷺ نے بدر میں مرنے والوں کو مخاطب کرکے ارشاد فرمایا: تمہارے ساتھ تمہارے رب نے جو وعدہ کیا تھا، کیا تم نے اسے سچ پالیا؟ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے کہا: یارسول اللہ! کیا یہ سنتے ہیں؟ کیا یہ جواب دیتے ہیں؟ حالانکہ یہ تو مرچکے ہیں۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اُس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں جو کچھ کہہ رہا ہوں، تم اُن سے زیادہ نہیں سنتے۔ ہاں یہ تمہاری طرح جواب نہیں دے سکتے۔

اسی طرح ایک حدیث ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے کسی بھائی کی قبر کے پاس سے گزرتا ہے جس کو وہ جانتا تھا اور سلام کرتا ہے تو اس کی روح لوٹادی جاتی ہے یہاں تک وہ سلام کا جواب دیتا ہے۔ اس حدیث کی سند میں یقیناًضعف ہے لیکن بڑے بڑے جید علماء حتی کہ علامہ ابن القیم ؒ نے اپنی مشہور ومعروف کتاب الروح میں یہ حدیث ذکر کی ہے۔ صحیح مسلم ودیگر کتب حدیث میں وارد ہے کہ نبی اکرم ﷺ جنت البقیع جاکر قبرستان میں مدفون حضرات کو سلام کیا کرتے تھے اور پوری امت مسلمہ اپنے آخری نبی حضرت محمد مصطفی ﷺ کے اقوال وافعال کی روشنی میں متفق ہے کہ ہم جب بھی قبرستان جائیں تو انہیں سلام کریں۔ سعودی عالم دین شیخ محمد المختار الشنقیطی نے اپنی کتاب ’’اضواء البیان ۴۲۱/۶‘‘ میں تحریر کیا ہے کہ حضور اکرم ﷺ کا ’’السلام علیکم‘‘ اور ’’وانا ان شاء اللہ بکم ۔۔‘‘ جیسے(مخاطب) کے الفاظ سے خطاب کرنا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ قبرستان میں مدفون حضرات آپ ﷺ کے سلام کو سن رہے ہیں، کیونکہ اگر وہ آپ ﷺ کے سلام کونہیں سن رہے ہوتے تو آپ ﷺ کے اُن کو سلام کرنے کا کیا فائدہ ۔ ہاں اِس مسئلہ میں بعض حضرات نے کسی دلیل کے بغیر حد سے تجاوز کیا ہے مثلاً وہ سمجھتے ہیں کہ قبر میں مدفون شخص ہمارے مسائل کو حل کردے گا، جو یقیناًغلط ہے۔ اس نوعیت کا عقیدہ رکھنا شرک ہے۔ غرضیکہ اگر ہم اپنے کسی رشتہ دار کی قبر پر جاکر سلام کرتے ہیں تو وہ ہمارے سلام کو ضرور سنتے ہیں خواہ جواب دیتے ہیں یا نہیں۔ علامہ ابن تیمیہ ؒ نے تحریر کیا ہے کہ اِن دلائل سے معلوم ہوا کہ میت کسی حد تک زندہ شخص کی بات کو سنتے ہیں۔ لیکن یہ ضروری نہیں کہ وہ ہمیشہ ہر بات کو سنتے رہیں، لیکن بعض باتوں کو وہ ضرور سنتے ہیں۔ (مجموع الفتاوی ۳۶۶/۵)۔

جس طرح عالم برزخ کی زندگی اور اس میں عذاب یا انتہائی آرام وسکون پر ہمارا ایمان ہے اسی طرح ہمارا یہ ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نیک بندوں کے لیے اپنا مہمان خانہ جنت تیار کر رکھا ہے جہاں آرام وآرائش کا ایسا سامان اللہ تعالیٰ نے مہیا کر رکھا ہے کہ کوئی بشر اس کو سوچ بھی نہیں سکتا۔ دوسری طرف کافروں اور گناہ گاروں کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ کی شکل میں جہنم ہے جہاں پیپ اور بہتا ہوا خون غذا کے طور پر پیش کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ جہنم سے نجات اور بغیر حساب وکتاب کے جنت الفردوس کا فیصلہ فرمائے۔ آمین۔

ڈاکٹر محمد نجیب قاسمی سنبھلی (www.najeebqasmi.com)