Print

بسم الله الرحمن الرحيم

اَلْحَمْدُ لِله رَبِّ الْعَالَمِيْن،وَالصَّلاۃ وَالسَّلام عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن۔

فرض نماز جماعت کے ساتھ

مرد حضرات  حتی الامکان فرض نماز جماعت ہی کے ساتھ ادا کریں کیونکہ فرض نماز کی مشروعیت جماعت کے ساتھ وابستہ ہے جیسا کہ قرآن کریم کی آیات ،احادیث شریفہ اور صحابہ کرام کے اقوال میں مذکور ہے ۔۔۔ فرض نماز جماعت کے بغیر ادا کرنے پر فرض تو ذمہ سے ساقط ہوجائیگا، مگر معمولی معمولی عذر کی بناء پر جماعت کا ترک کرنایقیناًگناہ ہے ۔
آیا تِ قرآنیہ کا ترجمہ :
جس دن پنڈلی کھول دی جائیگی اور سجدہ کے لئے بلائے جائیں گے تو سجدہ نہ کرسکیں گے۔ نگاہیں نیچی ہوں گی اور ان پر ذلت وخواری طاری ہوگی حالانکہ یہ سجدہ کے لئے (اس وقت بھی) بلائے جاتے تھے جبکہ صحیح سالم یعنی صحت مند تھے (سورۂ القلم، آیت ۴۲)
حدیث میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ میدانِ قیامت میں اپنی ساق (پنڈلی) ظاہر فرمائے گا جس کو دیکھ کر مؤمنین سجدہ میں گر پڑیں گے مگر کچھ لوگ سجدہ کرنا چاہیں گے لیکن ان کی کمر نہ مڑیگی بلکہ تختہ (کی طرح سخت) ہوکر رہ جائیگی۔ یہ کون لوگ ہیں؟ توحضرت کعب الاحبارؓ (صحابی رسول) قسم کھاکر فرماتے ہیں کہ یہ آیت صرف ان لوگوں کے لئے نازل ہوئی ہے جو جماعت کے ساتھ نماز ادا نہیں کرتے ہیں۔ حضرت سعید بن مسیبؒ (ایک بہت بڑے تابعی) فرماتے ہیں: حی علی الصلاۃ ، حی علی الفلاح کو سنتے تھے مگر صحیح سالم، تندرست ہونے کے باوجود مسجد میں جاکر نماز ادا نہیں کرتے تھے۔
غور فرمائیں کہ نمازیں نہ پڑھنے والوں یا جماعت سے ادا نہ کرنے والوں کو قیامت کے دن کتنی سخت رسوائی اور ذلت کا سامنا کرنا پڑے گا کہ ساری انسانیت اللہ جلّ شانہ کے سامنے سجدہ میں ہوگی مگر بے نمازیوں کی کمریں تختے کے مانند کردیجائیں گی اور وہ سجدہ نہیں کرسکیں گے۔۔۔۔۔ اللہ تعالیٰ! ہم سب کی اس انجام بد سے حفاظت فرمائے۔ آمین۔
اور نمازوں کو قائم کرو ، زکوۃ ادا کرو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع ادا کرو۔ (سورۂ البقرہ، آیت ) قرآن کریم میں جگہ جگہ نماز کو قائم کرنے کا حکم دیا ہے۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ نماز کو قائم کرنے سے مراد فرض نمازیں جماعت کے ساتھ ادا کرنا ہے۔
جب تو ان میں ہو اور ان کے لئے نماز کھڑی کرو، تو چاہئے کہ ان میں سے ایک جماعت تمہارے ساتھ کھڑی ہو (جماعت سے نماز پڑھنے کے لئے)۔ (سورۂ النساء ۱۰۲)
جب مسلمان اور کافروں کی فوجیں ایک دوسرے کے مقابل جنگ کے لئے تیار کھڑی ہوں اور ایک لمحہ کی بھی غفلت مسلمانوں کے لئے سخت خطرناک ثابت ہو سکتی ہو تو ایسی صورت میں بھی جماعت کے ساتھ نماز ادا کی جائیگی جیسا کہ اس آیت میں اور احادیثِ شریفہ میں وضاحت سے بیان کیا گیا ہے۔۔۔۔ جب خوف کی حالت میں نماز جماعت سے ادا کرنے کا حکم ہے تو امن کی حالت میں تو بدرجہ اَولیٰ فرض نماز جماعت کے ساتھ ہی ادا کی جائیگی،،، اِلّا یہ کہ کوئی شرعی عذر ہو۔
احادیث نبویہ کا ترجمہ :
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں نے کئی مرتبہ ارادہ کیا کہ لکڑیاں اکھٹی کرنے کا حکم دوں اور ساتھ ہی نماز کے لئے اذان کہنے کا حکم دوں پھر کسی آدمی کو نماز کے لئے لوگوں کا امام مقرر کردوں اور خود ان لوگوں کے گھروں کو جاکر آگ لگادوں جو جماعت میں شریک نہیں ہوتے۔ (یعنی گھر یا دوکان میں اکیلے ہی نماز پڑھ لیتے ہیں)۔ (بخاری)
جو حضرات شرعی عذر کے بغیر فرض نماز مسجد میں جاکر جماعت کے ساتھ ادا کرنے میں کوتاہی کرتے ہیں، اُن کے گھروں کے سلسلہ میں اُس ذات کی جس کی اتباع کے ہم دعویدار ہیں، اور جس کو ہماری ہر تکلیف نہایت گراں گزرتی ہو، جو ہمیشہ ہمارے فائدے کی خواہش رکھتا ہو اور ہم پر نہایت شفیق اور مہربان ہو، یہ خواہش ہے کہ ان کو آگ لگا دی جائے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: جو شخص اذان کی آواز سنے اور بلا کسی عذر کے مسجد کو نہ جائے (بلکہ وہیں پڑھ لے) تو وہ نماز قبول نہیں ہوتی۔ صحابہ نے عرض کیا کہ عذر سے کیا مراد ہے؟ آپ ا نے ارشاد فرمایا: مرض یا خوف۔ (ابوداؤد، ابن ماجہ)
حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں کہ ایک نابینا صحابی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کی خدمت میں حاضر ہوئے، کہنے لگے : یا رسول اللہ! میرے پاس کوئی آدمی نہیں جو مجھے مسجد میں لائے۔ یہ کہکر انھوں نے نماز گھر پر پڑھنے کی رخصت چاہی۔ رسول اکرم ا نے انہیں رخصت دیدی لیکن جب وہ واپس ہونے لگے تو انہیں پھر بلایا اور پوچھا: کیا تم اذان سنتے ہو؟ ا نہوں نے عرض کیا: ہاں یا رسول اللہ! ۔۔۔ آپ ا نے ارشاد فرمایا: پھر تو مسجد میں ہی آکر نماز پڑھا کرو۔ (مسلم)
غور فرمائیں کہ جب اس شخص کو جو نابینا ہے، مسجد تک پہنچانے والا بھی کوئی نہیں ہے اور گھر بھی مسجد سے دور ہے، نیز گھر سے مسجد تک کا راستہ بھی ہموار نہیں ہے (جیسا کہ دوسری احادیث میں مذکور ہے)، نبی اکرم ا نے گھر میں فرض نماز پڑھنے کی اجازت نہیں دی تو بینا اور تندرست کو بغیر شرعی عذر کے کیونکر گھر میں نماز پڑھنے کی اجازت دی جاسکتی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: جس گاؤں یا جنگل میں تین آدمی ہوں اور وہاں باجماعت نماز نہ ہوتی ہو تو ان پر شیطان مسلّط ہوجاتا ہے۔ اس لئے جماعت کو ضروری سمجھو۔ بھیڑیا اکیلی بکری کو کھا جاتا ہے، اور آدمیوں کا بھیڑیا شیطان ہے۔ (ابوداؤد، نسائی، مسند احمد، حاکم)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: جماعت کی نماز اکیلے کی نماز سے اجر و ثواب میں ۲۷ درجہ زیادہ ہے۔ (مسلم)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: جو شخص عشاء کی نمازجماعت کے ساتھ پڑھے، گویا اس نے آدھی رات عبادت کی اور جو فجر کی نماز بھی جماعت کے ساتھ پڑھ لے گویا اس نے پوری رات عبادت کی۔ (مسلم)
صحابہ کے ارشادات کا ترجمہ :
حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ ارشاد فرماتے ہیں کہ جو شخص یہ چاہے کہ کل قیامت کے دن اللہ جلّ شانہ کی بارگاہ میں مسلمان بن کر حاضر ہو وہ نمازوں کو ایسی جگہ ادا کرنے کا اہتمام کرے جہاں اذان ہوتی ہے(یعنی مسجد میں) اِس لئے کہ حق تعالیٰ شانہ نے تمہارے نبی ا کے لئے ایسی سنتیں جاری فرمائی ہیں جو سراسر ہدایت ہیں، اُن ہی میں سے یہ جماعت کی نمازیں بھی ہیں۔ اگر تم لوگ اپنے گھروں میں نماز پڑھنے لگوگے جیسا کہ فلاں شخص پڑھتا ہے تو تم نبی ا کی سنت کو چھوڑ نے والے ہوگے اور یہ سمجھ لو کہ اگر تم نبی ا کی سنت کو چھوڑ دو گے تو گمراہ ہوجاؤگے۔۔۔۔ ہم تو اپنا حال یہ دیکھتے تھے کہ جو شخص کھلّم کھلّا منافق ہوتا وہ تو جماعت سے رہ جاتا (ورنہ حضور کے زمانے میں عام منافقوں کو بھی جماعت چھوڑنے کی ہمت نہ ہوتی تھی) یا کوئی سخت بیمار‘ ورنہ جو شخص دو آدمیوں کے سہارے سے گھسٹتا ہوا جا سکتا تھا وہ بھی صف میں کھڑا کردیا جاتا تھا۔ (مسلم)
حضرت علی ؓ فرماتے ہیں مسجد کے پڑوسی کی نماز مسجد کے علاوہ نہیں ہوتی۔ پوچھا گیا کہ مسجد کا پڑوسی کون ہے؟ تو حضرت علی ؓ نے فرمایا: جو شخص اذان کی آواز سنے وہ مسجد کا پڑوسی ہے۔ (مسند احمد)
حضرت ابو ہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ جو شخص اذان کی آواز سنے اور جماعت میں حاضر نہ ہو اس کے کان پگھلے ہوئے سیسہ سے بھر دئے جائیں یہ بہتر ہے۔ (مسند احمد)
حضرت عبد اللہ بن عباسؓ سے کسی نے پوچھا کہ ایک شخص دن بھر روزہ رکھتا ہے اور رات بھر نفلیں پڑھتا ہے مگر جمعہ اور جماعت میں شریک نہیں ہوتا، (اس کے متعلق کیا حکم ہے؟) حضرت عبد اللہ بن عباسؓ نے فرمایاکہ یہ شخص جہنمی ہے۔ (گو مسلمان ہونے کی وجہ سے سزا بھگت کر جہنم سے نکل جائے)۔ (ترمذی)
اللہ تعالیٰ ہم سب کو پانچوں فرض نمازیں جماعت کے ساتھ ادا کرنے والا بنائے۔ آمین۔ ثم آمین۔ محمد نجیب قاسمی، ریاض