Print

بسم الله الرحمن الرحيم

اَلْحَمْدُ لِله رَبِّ الْعَالَمِيْن،وَالصَّلاۃ وَالسَّلام عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن۔

امام کے پیچھے مقتدی کا سورۂ فاتحہ پڑھنے کا حکم

قرآن وحدیث کی روشنی میں بعض مسائل میں علماء وفقہاء کے درمیان ابتداء اسلام سے ہی اختلاف چلا آرہا ہے۔ ان فروعی مسائل میں اختلاف کی حکمت ومصلحت کیا ہے؟ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔ ممکن ہے کہ قرآن وحدیث کے علوم میں تحقیق کا دروازہ کھولنا مقصود ہو تاکہ امت مسلمہ ان مسائل کے لئے قرآن وحدیث سے رجوع کرتی رہے۔ مثلاً شبِ قدر کو اللہ تعالیٰ نے امت کے لئے مخفی رکھا تاکہ امت مسلمہ قرآن وحدیث کی روشنی میں مختلف راتوں میں حتی کہ پورے سال اس کی تلاش کرتی رہے۔ نیز قرآن وحدیث میں کسی بھی جگہ اختلاف کرنے سے منع نہیں فرمایا ہے بلکہ بعض احادیث میں علماء کے درمیان اختلاف کو رحمت تک قرار دیا گیا ہے، البتہ نزاع اور جھگڑا کرنے سے منع کیا گیا ہے۔
نماز میں تکبیر تحریمہ سے لیکر سلام پھیرنے تک علماء وفقہاء کے درمیان عموماً اختلافات راجح ومرجوح سے متعلق ہیں، کہ کیا کرنا بہتر ہے، البتہ امام کے پیچھے سورۂ فاتحہ پڑھنے کا مسئلہ تھوڑی اہمیت کا حامل ہے۔ اس مسئلہ میں علماء وفقہاء کی تین رائے ہیں، ہر مکتب فکر نے اپنے فیصلے کو قرآن وحدیث سے مدلل کیا ہے۔ البتہ تمام دلائل کو سامنے رکھ کر یہ بات یقین کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ نقد وجرح سے بالا تر کسی بھی حدیث سے واضح طور پر نہ تو یہ ثابت ہے کہ امام کے پیچھے سورۂ فاتحہ پڑھنا حرام ہے اور نہ یہ ثابت ہے کہ امام کے پیچھے سورۂ فاتحہ نہ پڑھنے کی صورت میں نماز ادا ہی نہیں ہوگی ۔ نیز مقتدی کے سورۂ فاتحہ پڑھنے کا وقت نبی اکرم ا کے واضح ارشادات میں دور دور تک حتی کہ احادیث ضعیفہ میں بھی موجود نہیں ہے۔ غرض زیر بحث مسئلہ میں علماء وفقہاء کی مندرجہ ذیل تین رائے ہیں :
۱۔ جہری نماز ہو یا سری، مقتدی خواہ امام کی قرأت سن رہا ہو یا نہیں، مقتدی کے لئے سورۂ فاتحہ پڑھنا جائز نہیں ہے۔
۲۔ جہری نماز(مغرب ، عشاء اور فجر) میں مقتدی امام کے پیچھے سورۂ فاتحہ نہیں پڑھے گا، البتہ سری نماز (ظہر اور عصر) میں پڑھے گا۔
۳۔ جہری وسری ہر نماز میں امام کے پیچھے سورۂ فاتحہ پڑھنا ضروری ہے۔
قرآن وحدیث کی روشنی میں  ہمارے اساتذۂ کرام نے پہلی رائے کو اختیار کیا ہے کہ جہری نماز ہو یا سری، مقتدی خواہ امام کی قرأت سن رہا ہو یا نہیں، مقتدی کے لئے سورۂ فاتحہ پڑھنا جائز نہیں ہے۔ یہی رائے حضرت امام ابوحنیفہ ؒ کی ہے، جس کے بے شمار دلائل قرآن وحدیث میں موجود ہیں، یہاں اختصار کی وجہ سے چند دلائل تحریر کررہا ہوں :
*
اللہ تعالی کا ارشاد: وَاِذَا قُرِیَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَه وَاَنْصِتُوا لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ جب قرآن پڑھا جائے تو اس کو غور سے سنو اور چپ رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے (سورہ الاعراف ۲۰۴) حضرات صحابہ،تابعین، مفسرین اور محدثین میں سے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ، حضرت عبداللہ بن عباسؓ، حضرت ابوہریرہؓ، حضرت امام زہریؒ ، حضرت عبید بن عمیرؒ ، حضرت عطا بن رباحؒ ، حضرت مجاہدؒ ، حضرت سعید بن المسیبؒ ، حضرت سعید بن جبیرؒ ، حضرت ضحاکؒ ، حضرت ابراہیم نخعیؒ ، حضرت قتادہؒ ، حضرت عامر شعبیؒ ۔۔وغیرہ ۔۔نے فرما یا ہے کہ اس آیت میں اس نمازی کا حکم ہے جو امام کی اقتدا ء میں نماز ادا کررہا ہو۔ (تفسیر طبری)
حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ہمیں خطبہ دیا جس میں ہمارے لئے زندگی گزارنے کے طریقہ کو بیان فرمایااور ہمیں نماز سکھائی اور فرمایا : جب نماز ادا کرنے کا ارادہ کرو تو اپنی صفیں درست کرو، پھر تم میں سے ایک امام بنے اور امام جب تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو اور جب امام قرأت کرے تو تم خاموش رہو اور جب وہ غَيرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيهم وَلَا الضَّالين کہے تو تم آمین کہو۔ (مسلم ج۱، ص: ۱۷۴) یہ صحیح حدیث واضح الفاظ میں بتارہی ہے کہ امام کی ذمہ داری قرأت کرنا اور مقتدیوں کا وظیفہ بوقت قرأت خاموش رہنا ہے۔ اگر امام کے پیچھے سورۂ فاتحہ کا پڑھنا ضروری ہوتا تو نبی اکرم ا اس کاتذکرہ یہاں ضرور فرماتے۔ اس حدیث میں جہری وسری نماز کی کوئی قید نہیں ہے اس لئے یہ حکم سب نمازوں کو شامل ہوگا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا : جب امام قرأت کرے تو تم خاموش رہو اور جب قعدہ میں ہو تو تم میں سے ہر ایک کا اولین ذکر تشہد ہونا چاہئے۔ ۔۔۔۔ (ترمذی)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا : جب تم نماز کے ارادے سے کھڑے ہو تو تم میں سے ایک تمہارا امام بنے اور جب امام قرأت کرے تو تم خاموش رہو۔۔۔ ۔ (مسند احمد)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا : امام اسی لئے بنایا جاتا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے۔ لہذا جب امام تکبیر کہے تم بھی تکبیر کہو اور جب قرأت کرے تو تم خاموش رہو اور جب وہ سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہ کہے تو تم رَبَّنَا لَکَ الْحَمْد کہو۔ (نسائی)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا : جس نے امام کی اقتداء کی تو امام کی قرأت مقتدی کی قرأت کے حکم میں ہے۔ (مسند احمد)
یہ حدیث مختلف سندوں کے ساتھ حدیث کی متعدد کتابوں میں موجود ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا : ہر وہ نماز جس میں سورۂ فاتحہ نہ پڑھی جائے وہ ناقص ہے سوائے اس نماز کے جو امام کی اقتداء میں پڑھیجائے ۔ (ترمذی)
یہ حدیث سند کے اعتبار سے نہایت اعلیٰ درجہ کی ہے ، امام ترمذی ؒ نے اس کو حسن صحیح کہا ہے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کے پیچھے نماز میں کسی صحابی نے قرأت کی۔ آپ انے ایسا کرنے سے منع فرمایا۔ (مسند احمد، بیہقی)
حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ نے نماز پڑھائی تو کچھ لوگوں کو امام کے ساتھ قرأت کرتے سنا، جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: کیا ابھی وقت نہیں آیا کہ تم لوگ عقل وفہم سے کام لو۔ جب قرآن کی قرأت کی جائے تو اس کی طرف دھیان دو اور چپ رہو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم دیا ہے۔ (تفسیر طبری، تفسیر ابن کثیر، الدر المنثور للسیوطی)
نوٹ: حدیث : لاَ صَلاة لِمَن لَّمْ يَقْرَأ بِفَاتِحة الْکِتَاب میں موضوع بحث مسئلہ مراد نہیں ہے بلکہ یہاں دوسرا مسئلہ ہے کہ نماز میں سورۂ فاتحہ پڑھنے کا کیا حکم ہے، سنت ہے یا ضروری۔ حدیث مطلق اور عام ہے اس لئے اس سے صرف یہ معلوم ہوا کہ سورۂ فاتحہ کا نماز میں پڑھنا ضروری ہے۔ البتہ امام کے پیچھے مقتدی سورۂ فاتحہ نہیں پڑھے گا جیسا کہ ترمذی کی صحیح حدیث میں گزر چکا ہے۔ ۔۔ نیز اگر کوئی شخص امام کو رکوع میں پالے تو دیگر احادیث کی روشنی میں سارے علماء نے فرمایا ہے کہ اس کی یہ رکعت سورۂ فاتحہ کے بغیر ادا ہوگئی، معلوم ہوا کہ یہ حدیث اپنے عموم پر دلالت نہیں کرتی ہے۔
طالب دعا: محمد نجیب قاسمی سنبھلی، ریاض