بسم الله الرحمن الرحيم

اَلْحَمْدُ لِله رَبِّ الْعَالَمِيْن،وَالصَّلاۃ وَالسَّلام عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن۔

نماز جنازہ (غائبانہ)

دنیا میں ہر انسان کی زندگی طے شدہ ہے۔ وقت معیّن آنے کے بعد ایک لمحہ کی بھی مہلت نہیں دی جا تی۔ مقررہ وقت آنے پر اس دنیا سے قبر والے گھر کی طرف منتقل ہوناہی ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے پاک کلام میں فرماتا ہے: جب ان کا وقت آپہنچا پھر ایک سیکنڈ اِدھر اُدھر نہیں ہوسکتا ۔ (سورۃ النحل، آیت ۶۱) جب کسی کا مقررہ وقت آجاتا ہے پھر اسے اللہ تعالیٰ ہرگز مہلت نہیں دیتا ہے۔ (سورۃ المنافقون، آیت ۱۱) ہر شخص کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔(سورۃ آل عمران، آیت ۱۸۵)
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم   کے اقوال وافعال کی روشنی میں انتقال کے بعد جتنی جلدی ممکن ہوسکے میت کو غسل وکفن کے بعد اس کی نمازجنازہ کا اہتمام کرنا چاہئے۔ نماز جنازہ میں جس قدر بھی زیادہ آدمی شریک ہوں اسی قدر میت کے حق میں اچھا ہے کیونکہ نہ معلوم کس کی دعا لگ جائے اور میت کی مغفرت ہوجائے۔
*
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: اگر کسی جنازہ میں ۱۰۰ مسلمان شریک ہوکر اس میت کے لئے شفاعت کریں (یعنی نماز جنازہ پڑھیں) تو ان کی شفاعت قبول کی جاتی ہے۔ (مسلم)
*
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: اگر کسی مسلمان کے انتقال پر ایسے چالیس آدمی جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے، اس کی نماز جنازہ پڑھتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کی شفاعت (دعا) کو میت کے حق میں قبول فرماتا ہے۔ (مسلم(
*
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: جو شخص کسی مسلمان کے جنازے میں ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے ساتھ چلا یہاں تک کہ اس کی نماز جنازہ پڑھی اور اس کو دفن کرنے میں بھی شریک رہا تو وہ دو قیراط اجر (ثواب) لے کر لوٹتا ہے اور ہر قیراط اُحد پہاڑ کے برابر ہے۔ اور جو شخص نماز جنازہ میں شریک ہوا مگر تدفین سے پہلے ہی واپس آگیا تو وہ ایک قیراط اجر (ثواب) کے ساتھ لوٹتا ہے۔ (بخاری ومسلم(
*
نماز جنازہ میں اگر لوگ کم ہوں تب بھی تین صفوں میں لوگوں کا کھڑا ہونا زیادہ بہتر ہے، کیونکہ بعض احادیث میں جنازہ کی تین صفوں کی خاص فضیلت وارد ہوئی ہے۔ ( ابو داؤد(
نماز جنازہ کی اتنی فضیلت ہونے کے باوجود انتہائی افسوس اور فکر کی بات ہے کہ باپ کا جنازہ نماز کے لئے رکھا ہوا ہے اور بیٹا نماز جنازہ میں اس لئے شریک نہیں ہورہا ہے کہ اس کو جنازہ کی نماز پڑھنی نہیںآتی حالانکہ جنازہ کی دعا اگر یاد نہیں ہے تب بھی نماز جنازہ میں شریک ہونا چاہئے تاکہ جو رشتہ دار یا دوست یا کوئی بھی مسلمان اس دار فانی سے دار بقا کی طرف کوچ کررہا ہے ، اس کے لئے ایک ایسے کام میں ہماری شرکت ہوجائے جو اُس کی مغفرت کا سبب بن سکتا ہے۔
آغاز نماز جنازہ:
مؤرخین نے تحریر کیا ہے کہ نماز جنازہ کا حکم مکہ مکرمہ میں نہیں تھا، اسی لئے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی نماز جنازہ ادا نہیں کی گئی تھی۔۔۔ نماز جنازہ کا حکم مدینہ منورہ میں ہجرت کے فوراً بعد پہلی ہجری کو ہوا اورحضرت براء بن معرور رضی اللہ عنہ کی سب سے پہلی نماز جنازہ ہجرت کے ایک ماہ بعد ادا کی گئی۔ (طبقات ابن سعد(
حضرت نجاشیؓ کا تعارف:
آپ کا نام اصحمہ بن ابحر ہے۔ نجاشی آپ کا لقب ہے جیسا کہ حبشہ (Ethiopia) کے ہر بادشاہ کو نجاشی کہا جاتا ہے۔ بہت کم عمر میں آپ حبشہ (Ethiopia) کے بادشاہ متعین کردئے گئے تھے۔ حضرت نجاشیؓ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم   پر ایمان لائے مگر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم   سے ملاقات نہ ہوسکی۔ امام ذہبی ؒ نے تحریر کیا ہے کہ آپ ایک لحاظ سے صحابی ہیں اور ایک لحاظ سے تابعی ہیں۔ (سیر اعلام النبلاء) دو مرتبہ صحابۂ کرام نے حبشہ (Ethiopia)ہجرت کی، ایک نبوت کے پانچویں سال اور ایک مرتبہ بعد میں۔جب کفار مکہ نے صحابۂ کرام کو واپس کرنے کے لئے حضرت نجاشی سے رابطہ کیا تو نجاشی بادشاہ نے حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ کو اپنے پاس بلایا۔ حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ نے سورۂ مریم کی ابتدائی آیات پڑھیں تو حضرت نجاشی جو اس وقت تک عیسائی تھے، رونے لگے یہاں تک کہ داڑھی تر ہوگئی اور کہا کہ بے شک یہ کلام اور وہ جو حضرت موسیٰ علیہ السلام لے کر آئے تھے، ایک ہی محراب سے نکلنے والا (نور) ہے۔ اللہ کی قسم! اے قریش مکہ میں ان کو تمہارے سپرد نہیں کروں گا۔ بعد میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے آپ کو دعوت اسلام دی، حضرت نجاشی رضی اللہ عنہ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم   کا خط پکڑکر اسے اپنی آنکھوں پہ رکھا، تواضع کے ساتھ اپنے تخت سے اترکر زمین پر بیٹھ گئے اور اسلام قبول فرمالیا۔ ۹ ہجری میں ان کا حبشہ (Ethiopia) میں انتقال ہوا اور ان کو نماز جنازہ کے بغیر دفن کردیا گیا، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم   نے مدینہ منورہ میں ان کی نماز جنازہ ادا فرمائی۔
حضرت نجاشیؓ کی نماز جنازہ:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم   نے اپنے صحابۂ کرام کو حضرت نجاشی رضی اللہ عنہ کے انتقال کی خبر دی، پھر آگے بڑھے، صحابۂ کرام نے پیچھے صفیں لگائیں، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے چار تکبریں کہیں۔ (صحیح بخاری وصحیح مسلم) امام بخاری ؒ نے یہ حدیث مختلف الفاظ کے ساتھ صحیح بخاری میں متعدد جگہوں پر ذکر فرمائی ہے مگر ایک مرتبہ بھی حدیث کے متن میں یہ نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم   نے ان کی غائبانہ نماز جنازہ پڑھی۔ ہاں ان احادیث سے یہ بات ضرور معلوم ہوئی کہ حضرت نجاشی ؓ کا حبشہ (Ethiopia)میں انتقال ہوااور ان کو نماز جنازہ کے بغیر دفن کردیا گیا تھا، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم   نے پہلے سے باقاعدہ اعلان کے بغیر مسجد نبوی میں نماز نہ پڑھ کر کھلے میدان میں جاکر اس وقت جو صحابۂ کرام موجود تھے ان کی موجودگی میں نماز جنازہ پڑھی، یہ غائبانہ نماز جنازہ نہیں تھی بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے مرئی (جو نظر آرہاہو) اور حاضر پر نماز جنازہ پڑھی ہے، غائب تو وہ ہوتا ہے جو دکھائی نہ دے کیونکہ متعدد احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت نجاشیؓ کے جنازہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم   کے سامنے کردیا گیا تھا۔ جیسا کہ حدیث میں ہے: حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم   نے ہمیں خبر دی تمہارے بھائی حضرت نجاشیؒ انتقال کرگئے ہیں، کھڑے ہوجاؤ، ان کی نماز جنازہ ادا کرو، پس حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم   کھڑے ہوگئے اور صحابۂ کرام نے آپ کے پیچھے صفیں بنالیں، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم   نے چار تکبریں کہیں، صحابۂ کرام یہی سمجھ رہے تھے کہ حضرت نجاشی ؓ کا جسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم   کے آگے ہے۔ (صحیح ابن حبان، مسند احمد، فتح الباری(
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم   کی زندگی میں اس نوعیت کے واقعے اس کے علاوہ بھی پیش آئے ہیں جس میں دنیاوی دوری کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے سامنے سے تمام دنیاوی پردوں کو ہٹادیا گیا ہو چنانچہ مکہ مکرمہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم   کے لئے زمین کو لپیٹ دیا گیا تھا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم   نے مکہ مکرمہ میں بیٹھے مسجد اقصیٰ کو دیکھ کر اس کے احوال لوگوں کے سامنے بیان کئے۔ اسی طرح حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم   نے ایک دن ارشاد فرمایا کہ اللہ کی قسم! میں اس وقت اپنے حوض کی طرف دیکھ رہا ہوں۔۔۔۔ (صحیح بخاری وصحیح مسلم(
نماز جنازہ (غائبانہ )کے لئے حضرت معاویہ بن معاویہ مزنی رضی اللہ عنہ کے واقعہ سے بھی استدلال کیا جاتا ہے کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم   کے پاس (تبوک میں) تشریف لائے اور کہا یا رسول اللہ! حضرت معاویہ مزنی رضی اللہ عنہ فوت ہوگئے ہیں، کیا آپ ان کی نماز جنازہ پڑھنا چاہتے ہیں؟ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم   نے فرمایا: ہاں۔ حضرت جبرئیل علیہ السلام نے زمین پر اپنا پرمارا تو ہر درخت اور ٹیلہ پست ہوگیا اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم   کے لئے حضرت معاویہؓ کی چارپائی بلند کردی گئی یہاں تک کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے انہیں دیکھتے ہوئے ان کی نماز جنازہ پڑھی۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم   نے حضرت جبرئیل علیہ السلام سے فرمایا کہ حضرت معاویہ مزنیؓ کو اللہ تعالیٰ سے یہ مقام کیسے ملا؟ حضرت جبرئیل علیہ السلام نے جواب دیا: ان کے سورۂاخلاص یعنی قل ہو اللہ احد کے ساتھ ان کے تعلق کی وجہ سے کہ آتے جاتے اٹھتے بیٹھتے اس کی تلاوت کیا کرتے تھے۔
لیکن اس حدیث سے نماز جنازہ غائبانہ کے جواز پر استدلال کرنا صحیح نہیں ہے کیونکہ اس حدیث کی سند میں ضعف ہے اور اگر مذکورہ حدیث کو صحیح تسلیم کر بھی لیا جائے تو یہ غائبانہ نماز جنازہ نہیں تھی بلکہ تمام پردوں کو ہٹاکر حضرت معاویہ مزنی ؓ کے جنازہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم   کے سامنے حاضر کردیا گیا تھا جیسا کہ حدیث کی عبارت سے خود واضح ہورہا ہے۔نیز اگر غائبانہ نماز جنازہ پڑھنی جائز ہوتی تو حضرت جبرئیل علیہ السلام زمین پر اپنا پرمارنے کا اہتمام نہ کرتے۔
خلاصۂ کلام: لاکھوں صفحات پر مشتمل ذخیرۂ حدیث میں نماز جنازہ (غائبانہ) پڑھنے کے لئے یہ صرف دو واقعے دلیل کے طور پر پیش کئے جاسکتے ہیں، حالانکہ ان کی توجیہ بھی ہوسکتی ہے اور دونوں کو خصوصیت پر بھی محمول کیا جاسکتا ہے۔ اگر نماز جنازہ غائبانہ پڑھنے کی عام اجازت ہوتی تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم   ان بیسیوں صحابۂ کرام پر نماز جنازہ نہ چھوڑتے جن کی وفات آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی حیات میں مدینہ منورہ سے باہر ہوئی، حالانکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم   اپنے صحابۂ کرام کی نماز جنازہ پڑھنے کا خاص اہتمام فرماتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم   نے صحابۂ کرام کو تعلیمات بھی دے رکھی تھیں کہ اگر کوئی جنازہ حاضر ہو تو مجھے ضرور اطلاع کریں۔ اسی طرح آپ کے بعد صحابۂ کرام کا بھی کوئی معمول غائبانہ نماز جنازہ کا نہیں ملتا۔ خلفاء راشدین میں سے کسی ایک کی نماز جنازہ غائبانہ ادا نہیں کی گئی اور نہ ہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم   کی وفات کے بعد کسی صحابی سے کسی ایک شخص کی نماز جنازہ غائبانہ پڑھنے کا کوئی ثبوت ملتا ہے۔ علم اور مقام کے اعتبار سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم   کے بعد خلفاء راشدین اور صحابۂ کرام سے بڑھ کر کون ہوسکتا ہے؟
علماء امت کے اقوال:
۸۰ہجری میں پیدا ہوئے حضرت امام ابوحنیفہ ؒ اور ۹۳ ہجری میں پیدا ہوئے حضرت امام مالک ؒ کے نزدیک غائبانہ نماز جنازہ جائز ہی نہیں ہے یعنی مشروع ہی نہیں ہے کیونکہ حضرت نجاشیؓ کی نماز جنازہ غائبانہ نہیں تھی، جیسا کہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم   اور حضرت نجاشیؓ کے درمیان جتنے حجابات تھے وہ سب اللہ کے حکم سے دور کردئے گئے تھے یہاں تک کہ حضرت نجاشیؓ کا جنازہ اللہ کے حکم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے سامنے کردیا گیا تھا۔ زمانۂ قدیم سے عصر حاضر تک کے علماء احناف اور مالکی علماء کی کتابیں اس کی گواہ ہیں۔
حضرت امام شافعیؒ سے دو اقوال منقول ہیں، ان میں سے ایک قول یہ ہے کہ دوسرے ملک میں تو نماز جنازہ غائبانہ پڑھنے کی گنجائش ہے مگر اسی ملک میں نماز جنازہ غائبانہ پڑھنے کی اجازت نہیں جہاں تدفین ہوئی ہو۔
حضرت امام احمد بن حنبل ؒ سے بھی دو اقوال منقول ہیں، ان میں سے ایک قول یہ ہے کہ اگر کوئی مسلمان ایسے ملک میں فوت ہوگیا ہو جہاں کفار ہی کفار رہتے ہیں تو پھر اس کی نماز جنازہ غائبانہ پڑھی جاسکتی ہے۔
مفسر قرآن امام قرطبی ؒ نے تحریر کیا ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم   نے جب حضرت نجاشیؓ کے جسم کو دیکھا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے غائب پر نماز نہیں پڑھی بلکہ آپ نے مرئی (جو نظر آرہاہو) اور حاضر پر نماز جنازہ پڑھی ہے غائب تو وہ ہوتا ہے جو دکھائی نہ دے۔ امام قرطبیؒ مزید تحریر کرتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم   کے لئے زمین کو جنوباً وشمالاً لپیٹ دیا گیا تھا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم   نے حضرت نجاشیؓ کو دیکھ لیا جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم   کے لئے زمین کو شمالاً وجنوباً لپیٹ دیا گیا تھا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم   نے مکہ مکرمہ میں بیٹھے مسجد اقصیٰ کو دیکھ کر اس کے احوال بیان کئے۔ (تفسیر قرطبی(
مشہور محدث امام ذہبی ؒ حضرت نجاشیؒ کی نماز جنازہ کے متعلق تحریر کرتے ہیں کہ اس جنازہ کو پڑھنے کی وجہ یہ تھی کہ حضرت نجاشیؓ کا وصال قوم نصاریٰ میں ہوا تھا اور وہاں کوئی ایسا نہیں تھا جو آپ کی نماز جنازہ ادا کرے کیونکہ صحابۂ کرام جو ہجرت کرکے وہاں گئے تھے وہ فتح خیبر کے سال ہجرت کرکے مدینہ منورہ چلے گئے تھے۔ (سیر اعلام النبلاء(
علامہ ابن القیم ؒ اپنی کتاب ( زاد المعاد) میں لکھتے ہیں کہ جس شخص کی نماز جنازہ پڑھی جاچکی ہے اس کی غائبانہ نماز جنازہ نہیں پڑھی جائے گی۔ علامہ ابن تیمیہ ؒ کا بھی یہی موقف ہے۔ علامہ البانی ؒ نے اپنی کتاب (تلخیص احکام الجنائز) میں لکھا ہے کہ جس شخص کی نماز جنازہ ادا کی جاچکی ہے اس کی غائبانہ نماز جنازہ نہیں پڑھی جائے گی کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم   کے بعد خلفاء راشدین میں سے کسی کی غائبانہ نماز جنازہ نہیں پڑھی گئی۔ علامہ ابن تیمیہؒ ، علامہ ابن القیمؒ اور شیخ البانی ؒ کا تذکرہ اس وجہ سے کیا گیا ہے کہ اِن دنوں جو حضرات غائبانہ نماز جنازہ پڑھنے کی بات کرتے ہیں ان میں سے اکثر حضرات احکام ومسائل میں ان حضرات کے اقوال کو حرف آخر سمجھتے ہیں۔
نمازِ جنازہ (غائبانہ(
حضرت نجاشیؓ کے واقعہ سے زیادہ سے زیادہ یہ ثابت ہوسکتا ہے کہ اگر کوئی مسلمان ایسے علاقہ میں انتقال کرجائے جہاں اس کی نماز جنازہ ادا نہیں کی گئی ہو تو ایسے شخص کی غائبانہ نماز جنازہ پڑھنے کی گنجائش ہے، لیکن آج کل بعض حضرات نے غائبانہ نماز جنازہ پر اس طرح عمل شروع کردیا ہے کہ ہر عام وخاص کی نماز جنازہ غائبانہ ادا کرتے ہیں حالانکہ اعلان عام کے بعد میت کی باقاعدہ نماز جنازہ ادا ہوجائے اور اس میں سینکڑوں یا ہزاروں لوگوں نے شرکت بھی کرلی تو غائبانہ نماز جنازہ کی بات بالکل سمجھ میں نہیں آتی۔ ہاں! دنیا کے کونے کونے سے میت کے لئے ہم دعا واستغفار کرسکتے ہیں اور خوب دعا واستغفار کرنا چاہئے تاکہ اللہ تبارک وتعالیٰ میت کی مغفرت فرمائے اور اس کے درجات کو بلند فرمائے۔ رہی بات شاہ حبشہ حضرت نجاشیؓ کی نماز جنازہ کی، تو دلائل کے ساتھ ذکر کیا گیا کہ وہ انتقال کئے تو وہاں کوئی اور مسلمان نہیں تھا، نیز اللہ تعالیٰ نے ان کے جنازہ کے سامنے سے تمام رکاوٹوں کو دور کردیا تھا جیسا کہ احادیث وسیرت کی کتابوں میں وضاحت موجود ہے، لہٰذا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم   نے ان کی نماز جنازہ ادا فرمائی۔ اس واقعہ کے علاوہ کسی کی نماز جنازہ (غائبانہ ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم   نے نہیں پڑھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم   کے بہت سے جان نثار صحابہؓ ، قراء صحابہؓ ، آپ کے چچا زاد بھائی حضرت جعفر طیارؓ ، آپ کے منہ بولے بیٹے حضرت زید بن حارثہؓ ان سب کا انتقال حالت سفر میں ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم   کو مدینہ منورہ میں خبر ملی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم   نے ان کی غائبانہ نماز جنازہ نہیں پڑھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم   کے بعد آپ کے چاروں خلفاء میں سے کسی ایک کی نماز جنازہ غائبانہ نہیں پڑھی گئی، نیز کسی ایک صحابی سے بھی ایک واقعہ بھی نماز جنازہ غائبانہ پڑھنے کا کوئی ثبوت نہیں ملتا حالانکہ وہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم   کے اقوال وافعال کو ہم سے زیادہ اچھی طرح سمجھتے تھے اور ہم سے زیادہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم   کے اقوال وافعال پر عمل کرنے کا جذبہ رکھتے تھے۔
دینی بھائیو! جس عمل کی مشروعیت میں ہی اختلاف ہو کہ حضرت امام ابوحنیفہؒ اور حضرت امام مالک ؒ کے نزدیک نماز جنازہ غائبانہ جائز ہی نہیں ہے۔ حضرت امام شافعیؒ اور حضرت امام احمد بن حنبلؒ نے چند شرائط کے ساتھ محدود اجازت تو دی ہے لیکن کبھی بھی زندگی میں ان دونوں حضرات سے نماز جنازہ غائبانہ پڑھنے کا کوئی ثبوت نہیں ملتا ہے، تو عقل بھی کہتی ہے کہ مشکوک عمل کو کیوں کیا جائے بلکہ میت کے لئے صدقۂ جاریہ کے طور پر کچھ کام کرادیں جس سے مسلمانوں کا تعلیمی یا مالی فائدہ بھی ہو یا کم از کم میت کی مغفرت اور درجات کی بلندی کے لئے دعائیں ہی کریں ، اس میں کسی طرح کا کوئی اختلاف بھی نہیں ہے۔
نماز پڑھئے قبل اس کے کہ آپ کی نماز پڑھی جائے۔ عقلمند شخص وہ ہے جو مرنے سے پہلے اپنے مرنے کی تیاری کرلے۔
محمد نجیب قاسمی سنبھلی ، ریاض (www.najeebqasmi.com)