بسم الله الرحمن الرحيم

اَلْحَمْدُ لِله رَبِّ الْعَالَمِيْن،وَالصَّلاۃ وَالسَّلام عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن۔

تشہد میں انگلی کا اشارہ

شریعت اسلامیہ میں واضح حکم موجود ہونے کی وجہ سے روز مرہ کے تقریباً ۸۰ فیصد پریکٹیکل مسائل میں امت مسلمہ متفق ہے۔ البتہ چند اسباب کی وجہ سے روز مرہ کے تقریباً ۲۰ فیصد پریکٹیکل مسائل میں زمانۂ قدیم سے ہی اختلاف چلا آرہا ہے ۔انہی ۲۰ فیصد مختلف فیہ مسائل میں تشہد میں انگلی سے اشارہ کرنے کی کیفیت کا مسئلہ بھی ہے۔ اگرچہ امت مسلمہ کا اتفاق ہے کہ تشہد میں انگلی سے اشارہ کرنا فرض یا واجب نہیں بلکہ سنت ہے، یعنی اگر کوئی شخص تشہد میں اشارہ ہی نہ کرسکے تب بھی اس کی نماز مکمل ادا ہوگی۔ مگر عصر حاضر میں باوجویکہ دشمنان اسلام مسلمانوں اور اسلام پر ہرطرف سے یلغار کررہے ہیں اور امت مسلمہ کو روز نئے نئے مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، بعض احباب (جن کا مکتب فکر پورے برصغیر میں مسلمانوں کی آبادی کا ایک فیصد بھی نہیں ہے) مسلمانوں کی موجودہ عالمی صورت حال سے واقفیت کے باوجود امت مسلمہ کو ایسے چھوٹے چھوٹے مسائل میں الجھانا چاہتے ہیں جن کا حل نہ آج تک ہوا ہے اور نہ بظاہر کوئی حل کی توقع ہے ا ور نہ ہی یہ ایسا مسئلہ ہے جو قرآن وحدیث کے حکم کے خلاف ہو۔ سعودی عرب کے ۱۶ سال کے قیام کے دوران متعدد احباب نے مسئلہ مذکور میں مجھ سے رجوع کیا، جس کا اختصار کے ساتھ جواب دے دیا، بعض احباب نے اس موضوع پر مضمون تحریر کرنے کو بھی کہا، لیکن دیگر اہم موضوعات پر خاص توجہ دینے کی غرض سے نظر انداز کیا۔ حال ہی میں اس موضوع پر مختلف حضرات کے بیانات پر مشتمل ایک ویڈیو پر نظر پڑی تو ضرورت محسوس کی کہ جمہور علماء کے قول کو مدلل کرکے ایک مختصر مضمون تحریر کردیا جائے تاکہ سوشل میڈیا سے صرف ایک ہی بات سامنے آنے پر کہیں جمہور علماء کی رائے کو غلط ہی نہ سمجھ لیا جائے۔
تشہد میں شہادت کی انگلی سے اشارہ کرنا باتفاق فقہاء وعلماء سنت ہے اور صحیح احادیث سے ثابت ہے۔ اشارہ کی مختلف صورتیں احادیث میں مذکور ہیں اور سب جائز ہیں، علماء احناف کے نزدیک بہتر صورت یہ ہے کہ جب کلمہ شہادت پر پہنچیں تو دائیں ہاتھ کی چھوٹی اور ساتھ والی انگلی بند کرلیں، بیچ والی انگلی اور انگوٹھے کا حلقہ بنالیں، شہادت کی انگلی کو کھلا رکھیں، لا الہ پر شہادت کی انگلی اٹھائیں اور الا اللہ پر گرادیں۔ علماء احناف کی طرح بے شمار محدثین وفقہاء وعلماء مثلاً امام شافعیؒ ، امام احمد بن حنبلؒ ، امام نوویؒ اور امام بیہقی ؒ کا بھی یہ موقف ہے کہ تشہد میں صرف انگلی سے اشارہ کرنا ہے، اس کو حرکت دینا نہیں ہے۔
*
حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب قعدہ میں تشہد پڑھتے تو اپنے داہنے ہاتھ کو داہنے ران پر اور بائیں ہاتھ کو بائیں ران پر رکھتے اور شہادت کی انگلی سے اشارہ فرماتے اور انگوٹھے کو بیچ کی انگلی پر رکھتے۔ (صحیح مسلم ۔ باب صفۃ الجلوس فی الصلاۃ)
*
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اللہ کو (توحید کے ساتھ) پکارتے تو انگلی مبارک سے اشارہ کرتے اور انگلی کو حرکت نہیں دیتے تھے۔ اَنَّ النَّبِیَّ صلی الله عليه وسلم کَانَ يشير بِاصْبِعه اِذَا دَعَا وَلَا يحَرِّکُ (ابوداود ۔ باب الاشارۃ فی التشهد، نسائی۔ باب بسط الیسری علی الرکبة)
اس حدیث میں وضاحت موجود ہے کہ تشہد میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انگلی سے اشارہ تو کرتے تھے مگر اس کوبار بار حرکت نہیں دیتے تھے۔ صحیح مسلم کی سب سے زیادہ مشہور شرح لکھنے والے ریاض الصالحین کے مصنف اور مشہور ومعروف محدث حضرت امام نوویؒ (دمشق) (۶۳۱ھ۔۶۷۶ھ) نے تحریر کیا ہے کہ اس حدیث کو ابوداود نے روایت کیا ہے اور اس کی سند صحیح ہے۔ (المجموع: ۳/۴۱۷) اور امام ابن ملقنؒ (۷۲۳ھ۔۸۰۴ھ) (قاہرہ) نے تحریر کیا ہے کہ ابوداود نے صحیح سند کے ساتھ یہ حدیث روایت کی ہے۔ (خلاصۃ البدر المنیر ۔ باب کیفيۃ الصلاۃ)
جو حضرات انگلی سے اشارہ کرنے کے بجائے انگلی کو حرکت دیتے رہتے ہیں، وہ حضرات وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کی اس حدیث کو دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں، جس میں ہے کہ پھر آپ نے تین انگلیوں کو ملاکر حلقہ بنایا، ایک کو اٹھایا، میں نے دیکھا آپصلی اللہ علیہ وسلم اس کو ہلاتے دعا کرتے۔ (مسند احمد، بیہقی) ان حضرات نے اس حدیث کی بنیاد پر نماز کے آخر تک انگلی کو حرکت دینے کے قول کو اختیار کیا حالانکہ اس حدیث میں اور نہ کسی دوسری حدیث میں یہ مذکور ہے کہ حرکت کی کیا شکل ہو، آہستہ یا تیز اور کب تک یہ حرکت ہو۔ نیز اس حدیث کا یہ مفہوم لینے کی صورت میں حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ والی اس حدیث سے تعارض بھی ہورہا ہے جس میں وضاحت کے ساتھ موجود ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انگلی سے اشارہ تو کرتے تھے مگر حرکت نہیں کرتے تھے۔
چونکہ حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ والی حدیث ان حضرات کے موقف کے واضح طور پر خلاف ہے، لہٰذا ان کے سامنے ایک ہی راستہ ہے کہ اس حدیث کو ضعیف قرار دیا جائے باوجودیکہ مشہور ومعروف محدث امام نووی ؒ جیسے محدث نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے اور امام نووی ؒ کی خدمات کوساری دنیا تسلیم کرتی ہے۔ چنانچہ عصر حاضر میں شیخ ناصر الدین البانی ؒ (۱۹۱۴ء۔۱۹۹۹ء) نے اپنے مکتب فکر کی تایید کے لئے حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی روایت کے راوی (محمد بن عجلانؒ ) کو ضعیف قرار دینے کی کوشش کی ہے، حالانکہ ۷۷۳ ھ میں پیدا ہوئے صحیح بخاری شریف کی سب سے مشہور شرح لکھنے والے امام المحدثین علامہ ابن حجر ؒ نے ان کو (احد العلماء العاملین)کہہ کر ثقہ قرار دیا ہے۔
جس حدیث کی بنیاد پر یہ حضرات مسلسل حرکت کے قائل ہیں وہ حضرت عاصم ؒ سے ۱۱ راویوں نے روایت کی ہے ، حضرت زائدہ بن قدامہ ؒ کے علاوہ تمام ۱۰ راویوں نے یہ حدیث (ےُحَرِّکُہَا) کے لفظ کے بغیر روایت کی ہے، جو اس لفظ (ےُحَرِّکُہَا) کے شاذ ہونے کی واضح دلیل ہے اور حدیث کے متفق علیہ اصول کی بنیاد پر حدیث میں یہ لفظ شاذ کہلائے گا، لہٰذا اس حدیث کو دلیل کو طور پر پیش کرنا صحیح نہیں ہے، جیسا کہ حدیث کے مشہور ومعروف امام ابن خزیمہؒ (۲۳۳ھ۔۳۳۱ھ) نے اپنی کتاب (صحیح ابن خزیمہ۔باب صفۃ الیدین علی الرکبتین فی التشہد) میں اس روایت کو ذکر کرنے کے بعد اس کے شاذ ہونے کی طرف یوں اشارہ کیا ہے: (احادیث میں سوائے اس حدیث کے کسی بھی حدیث میں "ےُحَرِّکُہَا" کا لفظ نہیں ہے) ۔صحیح مسلم میں اس موضوع سے متعلق متعدد احادیث وارد ہوئی ہیں مگر ایک حدیث میں بھی حرکت کا لفظ وارد نہیں ہوا ہے ، صحیح مسلم کی تمام ہی احادیث میں صرف اشارہ کا لفظ وارد ہونا اس بات کی واضح علامت ہے کہ اصل مطلوب صرف اشارہ ہے۔
مشہور ومعروف محدث امام بیہقی ؒ (۳۸۴ھ۔۴۵۸ھ) نے اپنی حدیث کی مشہور کتاب (سنن کبری للبیہقی۔باب من روی انہ اشار بہا ولم یحرکہا) میں دونوں احادیث میں تطبیق اس طرح پیش کی ہے کہ حضرت وائل رضی اللہ عنہ کی حدیث میں وارد حرکت سے مراد اشارہ ہے نہ کہ اس کو بار بار حرکت دینا کیونکہ اشارہ بغیر حرکت کے ہوتا ہی نہیں، اس طرح حضرت وائل رضی اللہ عنہ والی حدیث بھی حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی حدیث کے موافق ہوجائی گی۔ غرضیکہ اس موقف کو اختیار کرنے میں دونوں حدیثوں پر عمل ہوجائے گا اور کسی حدیث کو ضعیف قرار دینے کے لئے بحث ومباحثہ میں بھی پڑنا نہیں پڑے گا۔ مشہور ومعروف حنفی عرب عالم ملا علی قاری ؒ (متوفی ۱۰۱۴ھ)نے اپنی مشہور ومعروف حدیث کی کتاب مرقاۃ میں بھی یہی تحریر کیا ہے کہ یہاں حرکت دینے سے مراد محض انگلی کا اٹھانا ہے اور اٹھانا بغیر حرکت کے ہوتا ہی نہیں۔ (اعلاء السنن)
غرضیکہ جمہور علماء خاص کر علماء احناف، امام شافعیؒ ، امام احمد بن حنبلؒ ، امام نوویؒ اور امام بیہقی ؒ جیسے جلیل القدر علماء نے یہی قول اختیار کیا ہے کہ تشہد میں انگلی سے ایک مرتبہ اشارہ کرنا کافی ہے، نماز کے اختتام تک برابر حرکت کرتے رہنے کا کوئی ثبوت نہیں ملتا ہے۔ برصغیر کے جمہور علماء نے یہی قول اختیار کیا ہے، جو مختلف فیہ مسائل میں ۸۰ ہجری میں پیدا ہوئے مشہور ومعروف محدث وفقیہ امام ابوحنیفہ ؒ (شیخ نعمان بن ثابت) کی قرآن وحدیث کی روشنی میں رائے کو ترجیح دیتے ہیں۔
اعتراض کا جواب: ان حضرات کی طرف سے یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ لا الہ پر شہادت کی انگلی کے اٹھانے اور الا اللہ پر گرانے کا واضح ثبوت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں ملتا ہے، پہلی بات تو یہ ہے کہ احادیث میں وارد اشارہ کا لفظ خود اس بات کی دلیل ہے کہ یہاں صرف اشارہ کرنا مراد ہے نہ کہ حرکت اور اشارہ الا اللہ پر خود ہی ختم ہوجائے گا۔ صحیح مسلم میں متعدد جگہوں پر اس مسئلہ کے متعلق متعدد احادیث ذکر کی گئی ہیں مگر تمام ہی جگہوں پر صرف اشارہ کا لفظ وارد ہوا ہے، ایک جگہ پر بھی حرکت یا مسلسل حرکت کا لفظ وارد نہیں ہوا ہے، دوسری بات یہ ہے کہ انگلی اٹھانے کا سلسلہ نماز کے اختتام تک جاری رکھنے یا نماز کے اختتام تک حرکت جاری رکھنے کا کوئی ثبوت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات میں موجود نہیں ہے۔
اشارہ کی حقیقت:آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ اشارہ دراصل توحید کا اشارہ تھا اور توحید تشہد کا نام ہے کیونکہ اس میں اللہ کی وحدانیت کا اقرار اور اس کی گواہی دینا ہے اور توحید میں ایک تو غیر اللہ سے الوہیت کی نفی ہے اور دوسرے اللہ کی الوہیت کا اقرار اور اثبات ہے تو اشارہ بھی نفی اور اثبات ہونا چاہئے، اس لئے علماء احناف نے فرمایا کہ اثبات کے لئے انگلی اٹھانا اور نفی کے لئے انگلی کا رکھنا ہے۔ حدیث سے بھی اس کی تایید ہوتی ہے۔ حضرت خفاف بن ایماء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے اخیر میں یعنی قعدہ میں بیٹھتے تو اپنی انگلی مبارک سے اشارہ فرماتے تھے۔ مشرکین کہتے تھے کہ (نعوذ باللہ) آپصلی اللہ علیہ وسلم اس اشارہ سے جادو کرتے ہیں، حالانکہ مشرکین جھوٹ بولتے تھے، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس اشارہ سے توحید کا اشارہ کرتے تھے، یعنی یہ اللہ تعالیٰ کے ایک ہونے کا اشارہ ہے۔ (مجمع الزوائد ۔ باب التشہد والجلوس والاشارۃ بالاصبع فیہ) محدث علامہ ہیثمی ؒ تحریر کرتے ہیں کہ اس حدیث کو امام احمد اور طبرانی نے روایت کیا ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔
شہادت کی انگلی اٹھانے کی فضیلت:حضرت نافع ؒ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب نماز (کے قعدہ) میں بیٹھتے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھتے اور شہادت کی انگلی سے اشارہ فرماتے اور نگاہ انگلی پر رکھتے، پھر (نماز کے بعد) فرماتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: لَہِیَ اَشَدُّ عَلَی الشَّےْطَانِ مِنَ الْحَدِےْدِ ےَعْنِیْ السَّبَّابَۃ یہ شہادت کی انگلی شیطان پر لوہے سے زیادہ سخت ہے، یعنی تشہد کی حالت میں شہادت کی انگلی سے اللہ کی وحدانیت کا اشارہ کرنا شیطان پر کسی کو نیزے وغیرہ مارنے سے بھی زیادہ سخت ہے۔ (مسند احمد )
انگلی سے اشارہ قبلہ کی طرف:حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اشارہ کرتے ہوئے رخ قبلہ کی طرف ہوتا۔ (سنن کبری للبیہقی ۔ باب کیفیہ الاشارۃ بالمجۃ) یعنی اشارہ کے وقت انگلی کا رخ آسمان کی طرف نہیں بلکہ قبلہ کی طرف ہونا چاہئے۔
خلاصۂ کلام: تشہد میں شہادت کی انگلی سے اشارہ کے سنت ہونے پر حضوراکرمصلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال وافعال کی روشنی میں علماء کرام کا اتفاق ہے، اگرچہ اشارہ کرنے کی کیفیت میں اختلاف زمانہ قدیم سے چلا آر ہا ہے جس کا حل نہ آج تک ہوا ہے اور نہ بظاہر اس کے حل کی کوئی توقع ہے۔ لہٰذا ہمیں اس طرح کے مسائل کے متعلق بحث ومباحثہ میں پڑنے کے بجائے امت مسلمہ کے اہم وضروری مسائل پر اپنی صلاحتیں لگانی چاہئیں، مثلاً امت مسلمہ کا اچھا خاصہ طبقہ نماز ہی پڑھنے کے لئے تیار نہیں ہے تو ان فروعی مسائل پر توجہ دینے کے بجائے اس پر صلاحتیں لگائی جائیں کہ ہر مسلمان کس طرح نماز پڑھنے والا بن جائے، نیز ہم اپنی صلاحیت اس بات پر لگائیں کہ کس طرح عام مسلمان حرام روزی سے بچ کر حلال روزی پر اکتفاء کرنے والا بن جائے۔
میں نے یہ چند سطریں صرف اس لئے تحریر کی ہیں کہ بعض حضرات نے جو پوری دنیامیں مسلم آبادی کا ایک فیصد بھی نہیں ہیں، چھوٹے چھوٹے مسائل پر امت مسلمہ کے درمیان ایک فتنہ برپا کررکھا ہے حالانکہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے فتنہ کو قتل سے بھی بڑا گناہ قرار دیا ہے۔ ہمیں چاہئے کہ ہم دوسری رائے کا احترام کرتے ہوئے اپنی رائے کو خوش اسلوبی کے ساتھ پیش کریں۔
غرضیکہ تشہد میں اشارہ کی مختلف صورتیں احادیث میں مذکور ہیں اور سب جائز ہیں، علماء احناف کے ہاں بہتر صورت یہ ہے کہ جب کلمہ شہادت پر پہنچیں تو دائیں ہاتھ کی چھوٹی اور ساتھ والی انگلی بند کرلیں، بیچ والی انگلی اور انگوٹھے کا حلقہ بنالیں، شہادت کی انگلی کو کھلا رکھیں، لا الہ پر شہادت کی انگلی اٹھائیں اور الا اللہ پر گرادیں۔
محمد نجیب قاسمی سنبھلی (www.najeebqasmi.com)