بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيْم

اَلْحَمْدُ لِلّهِ رَبِّ الْعَالَمِيْن،وَالصَّلاۃ وَالسَّلامُ عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن۔

فوت شدہ (چھوٹی ہوئی) رکعات کی ادائیگی کیسے کریں؟

مرد حضرات حتی الامکان فرض نماز جماعت کے ساتھ ہی ادا کریں کیونکہ فرض نماز کی مشروعیت جماعت کے ساتھ وابستہ ہے جیسا کہ قرآن کریم کی آیات، احادیث شریفہ اور صحابہ کرام کے اقوال میں مذکور ہے ۔فرض نماز جماعت کے بغیر ادا کرنے پر فرض تو ذمہ سے ساقط ہوجائے گا، مگر معمولی معمولی عذر کی بناء پر جماعت کا ترک کرنا گناہ ہے ۔ہمیں فرض نماز تکبیر اُولی کے ساتھ ہی پڑھنی چاہئے کیونکہ احادیث میں تکبیر اُولی (پہلی تکبیر) کو نماز کی ناک اور نماز کا نچوڑ قرار دیا گیا ہے۔ نیز رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص چالیس دن اخلاص سے تکبیر اُولی کے ساتھ باجماعت نماز پڑھتا ہے تو اس کو دو پروانے ملتے ہیں: ایک جہنم سے بری ہونے کا اور دوسرا نفاق سے بری ہونے کا۔ ترمذی
تکبیر اولیٰ کے اہتمام کے باوجود بسا اوقات ہم جب مسجد پہنچتے ہیں تو نماز شروع ہوگئی ہوتی ہے، ایسے وقت میں ہمیں چاہئے کہ ہم جماعت میں شریک ہوجائیں خواہ امام کسی بھی رکن میں ہو۔ اگر ہم نے امام کے ساتھ قیام یا رکوع حاصل کرلیا تو شرعاً وہ رکعت حاصل شدہ تسلیم کی جائے گی۔ لیکن اگر ہم ایسے وقت میں جماعت میں شریک ہوئے کہ امام کے ساتھ رکوع ملنے میں شک وشبہ ہے تو احتیاطاً اس رکعت کو حاصل کیا ہوا تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
امام کے ساتھ نماز میں شریک ہوکر تمام اعمال امام کی طرح کرتے رہیں۔ امام کے سلام پھیرنے کے بعد اب ہمیں فوت شدہ رکعات کی ادائیگی کرنی ہوگی۔ عام طریقہ کے مطابق ہی فوت شدہ رکعات کی ادائیگی کی جائے گی، صرف دو جگہوں پرخصوصی توجہ درکار ہے۔ ۱) سورہ فاتحہ کے بعد سورت پڑھنے یا نہ پڑھنے کے اعتبار سے وہ فوت شدہ رکعات تسلیم کی جائے گی یعنی ہمیں پہلی اور دوسری رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد سورت بھی پڑھنی ہوگی۔ تیسری اور چوتھی فوت شدہ رکعات میں صرف سورہ فاتحہ پڑھنی ہوگی۔ ۲) سجدہ کے بعد قاعدہ میں بیٹھنے یا کھڑے ہونے کے اعتبار سے دیکھا جائے گا کہ مجموعی طور پر کل کتنی رکعات ہو گئیں۔
چند مثالیں:
1) اگر آپ کو نماز ظہر کی صرف دو رکعات امام کے ساتھ ملیں تو امام کے سلام پھیرنے کے بعد آپ کو فوت شدہ دو رکعات میں سورہ فاتحہ کے بعد سورت بھی پڑھنی ہوگی کیونکہ یہ آپ کی پہلی اور دوسری فوت شدہ رکعات ہیں اور پہلی اور دوسری رکعات میں سورہ فاتحہ کے بعد سورت بھی پڑھی جاتی ہے۔ لیکن آپ پہلی فوت شدہ رکعت کے دونوں سجدوں سے فراغت کے بعد کھڑے ہوجائیں گے کیونکہ یہ مجموعی طور پر آپ کی تیسری رکعت ہوگئی۔ فوت شدہ دوسری رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد سورت پڑھنی ہوگی اور پھر آخر میں دونوں سجدوں سے فراغت کے بعد قاعدہ میں بیٹھ جائیں گے کیونکہ یہ مجموعی طور پر آپ کی چوتھی رکعت ہوگئی۔
2) اگر آپ کو نماز عشاء کی صرف ایک ہی رکعت امام کے ساتھ ملی تو امام کے سلام پھیرنے کے بعد آپ کو تین رکعات ادا کرنی ہوں گی۔ پہلی اور دوسری فوت شدہ رکعات میں فاتحہ کے بعد سورت بھی پڑھنی ہوگی کیونکہ پہلی اور دوسری رکعات میں سورہ فاتحہ کے بعد سورت بھی پڑھی جاتی ہے، لیکن تیسری فوت شدہ رکعت میں صرف فاتحہ پڑھنی ہوگی کیونکہ تیسری رکعت میں فاتحہ کے بعد سورت نہیں پڑھی جاتی ہے۔ پہلی فوت شدہ رکعت کے دونوں سجدوں سے فراغت کے بعد آپ بیٹھ جائیں گے کیونکہ یہ مجموعی طور پر آپ کی دوسری رکعت ہے اور دوسری رکعت میں دونوں سجدوں سے فراغت کے بعد بیٹھا جاتا ہے۔ دوسری فوت شدہ رکعت میں دونوں سجدوں سے فراغت کے بعد آپ کھڑے ہوجائیں گے کیونکہ یہ مجموعی طور پر آپ کی تیسری رکعت ہے اور تیسری رکعت میں دونوں سجدوں سے فراغت کے بعد کھڑے ہوتے ہیں۔ ، تیسری فوت شدہ رکعت میں دونوں سجدوں سے فراغت کے بعد آپ بیٹھ جائیں گے کیونکہ یہ مجموعی طور پر آپ کی آخری رکعت ہے۔
3) اگر آپ مغرب کی نماز کی ادائیگی کے لئے مسجد پہنچے اور امام دوسری رکعت کے قاعدہ میں تھا تو آپ کو امام کی اتباع میں قاعدہ میں شریک ہوجانا چاہئے ، لیکن یہ قاعدہ صرف اور صرف امام کی اتباع کی وجہ سے ہے۔ ظاہر ہے کہ اس کے بعد آپ امام کے ساتھ ایک رکعت اداکریں گے جس میں وہ قاعدہ بھی کرے گا۔ آپ تشہد پڑھنے کے بعد امام کے سلام پھیرنے کا انتظار کرتے رہیں۔ امام کے سلام پھیرنے کے بعد آپ اپنی فوت شدہ دو رکعات ادا کریں گے۔چونکہ آپ پہلی اور دوسری رکعات ادا کررہے ہیں، لہٰذا دونوں رکعات میں فاتحہ کے بعد سورت ملائیں۔ فوت شدہ پہلی رکعت کے دونوں سجدوں کے بعد آپ بیٹھ جائیں کیونکہ یہ مجموعی طور پر آپ کی دوسری رکعت ہے اور دوسری رکعت میں قاعدہ اولیٰ واجب ہے۔ فوت شدہ دوسری رکعت کے دونوں سجدوں سے فراغت کے بعد آپ بیٹھ جائیں کیونکہ یہ آپ کی مجموعی طور پر تیسری رکعت ہے اور اس میں قاعدہ اخیرہ کیا جاتا ہے۔
خلاصہ کلام: چھوٹی ہوئی رکعات سورہ فاتحہ کے بعد سورت پڑھنے یا نہ پڑھنے کے اعتبار سے فوت شدہ رکعات تسلیم کی جائے گی یعنی ہمیں پہلی اور دوسری رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد سورت بھی پڑھنی ہوگی۔ اور سجدہ کے بعد قاعدہ میں بیٹھنے یا کھڑے ہونے کے اعتبار سے دیکھا جائے گا کہ مجموعی طور پر کل کتنی رکعات ہو گئیں۔ باقی نماز کی ترتیب وہی ہے۔
نوٹ: مسئلہ مذکورہ میں جمہور علماء کا تقریباً اتفاق ہے، لہٰذا مضمون کی طوالت سے بچنے کی غرض سے دلائل پر بحث نہیں کی گئی، مسئلہ کا صرف خلاصہ ذکر کردیا گیا ہے۔
محمد نجیب قاسمی سنبھلی (www.najeebqasmi.com)