بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيْم

اَلْحَمْدُ لِلّهِ رَبِّ الْعَالَمِيْن،وَالصَّلاۃ وَالسَّلامُ عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن۔

خطبہ جمعہ شروع ہونے کے بعد مسجد پہنچے والے نماز جمعہ کی فضیلت سے محروم

حضور اکرم ﷺنے نماز جمعہ کے لئے حتی الامکان سویرے مسجد جانے کی ترغیب دی ہے۔ لہذ اگر ہم زیادہ جلدی نہ جاسکیں تو کم از کم خطبہ شروع ہونے سے کچھ وقت قبل ہمیں ضرور مسجد پہونچ جانا چاہئے کیونکہ خطبۂجمعہ شروع ہونے کے بعد مسجد پہونچنے والوں کی نماز جمعہ تو ادا ہوجاتی ہے، مگر نماز جمعہ کی کوئی فضیلت ان کو حاصل نہیں ہوتی ہے اور نہ ان کا نام فرشتوں کے رجسٹر میں درج کیا جاتا ہے، جیسا کہ احادیث میں مذکور ہے۔ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا: جو شخص جمعہ کے دن جنابت کے غسل کی طرح غسل کرتا ہے (یعنی اہتمام کے ساتھ)، پھر پہلی فرصت (گھڑی) میں مسجد جاتا ہے تو گویا اس نے اللہ کی خوشنودی کے لئے اونٹنی قربان کی۔ جو دوسری فرصت میں مسجد جاتا ہے گویا اس نے گائے قربان کی۔ جو تیسری فرصت میں مسجد جاتا ہے گویا اس نے مینڈھا قربان کیا ۔ جو چوتھی فرصت میں جاتا ہے گویا اس نے مرغی قربان کی۔جو پانچویں فرصت میں جاتا ہے گویا اس نے انڈے سے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کی۔ پھر جب امام خطبہ کے لئے نکل آتا ہے تو فرشتے خطبہ میں شریک ہوکر خطبہ سننے لگتے ہیں۔ (بخاری ومسلم) (وضاحت) یہ گھڑی (فرصت) کس وقت سے شروع ہوتی ہے، علماء کی آراء مختلف ہیں، مگر سب کا خلاصۂ کلام یہ ہے کہ ہمیں حتی الامکان نماز جمعہ کے لئے سویرے مسجد پہونچنا چاہئے۔۔۔ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: جب جمعہ کا دن ہوتا ہے تو فرشتے مسجد کے ہر دروازے پر کھڑے ہوجاتے ہیں۔ پہلے آنے والے کا نام پہلے، اس کے بعد آنے والے کا نام اس کے بعد لکھتے ہیں ۔ (اسی طرح آنے والوں کے نام ان کے آنے کی ترتیب سے لکھتے رہتے ہیں) جب امام خطبہ دینے کے لئے آتا ہے تو فرشتے اپنے رجسٹر جن میں آنے والوں کے نام لکھے گئے ہیں، لپیٹ دیتے ہیں اور خطبہ سننے میں مشغول ہوجاتے ہیں۔ (مسلم) (وضاحت) حضور اکرم ﷺ کے فرمان سے معلوم ہوا کہ خطبہ شروع ہونے کے بعد مسجد پہونچنے والوں کے نام فرشتوں کے رجسٹر میں نہیں لکھے جاتے ہیں۔

دورانِ خطبہ کسی طرح کی بات کرنا حتی کہ نصیحت کرنا بھی منع ہے: رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا: جس نے جمعہ کے روز خطبہ کے دوران اپنے ساتھی سے کہا (خاموش رہو) اس نے بھی لغو کام کیا۔ (مسلم) رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا: جس شخص نے کنکریوں کو ہاتھ لگایا یعنی دوران خطبہ ان سے کھیلتا رہا (یا ہاتھ ، چٹائی، کپڑے وغیرہ سے کھیلتا رہا) تو اس نے فضول کام کیا (اور اس کی وجہ سے جمعہ کا خاص ثواب کم کردیا)۔ (مسلم) حضرت عبد اللہ بن بسررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں جمعہ کے دن منبر کے قریب بیٹھا ہوا تھا، ایک شخص لوگوں کی گردن کو پھلانگتا ہوا آیا اور رسول اللہ ﷺخطبہ دے رہے تھے۔ آپ ﷺنے ارشاد فرمایا: بیٹھ جا، تونے تکلیف دی اور تاخیر کی۔ (صحیح ابن حبان) (وضاحت) جب امام خطبہ دے رہا ہو تو لوگوں کی گردنوں کو پھلانگ کر آگے جانا منع ہے بلکہ پیچھے جہاں جگہ مل جائے وہیں بیٹھ جانا چاہئے۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو شخص جمعہ کے دن غسل کرتا ہے، اگر خوشبو ہو تو اسے بھی استعمال کرتا ہے، اچھے کپڑے پہنتا ہے، اس کے بعدمسجد جاتا ہے ، پھر مسجد آکر اگر موقع ہو تو نفل نماز پڑھ لیتا ہے اور کسی کو تکلیف نہیں پہونچاتا۔ پھر جب امام خطبہ دینے کے لئے آتا ہے اس وقت سے نماز ہونے تک خاموش رہتا ہے یعنی کوئی بات چیت نہیں کرتا تو یہ اعمال اس جمعہ سے گزشتہ جمعہ تک کے گناہوں کی معافی کا ذریعہ ہو جاتے ہیں۔ مسند احمد

نماز جمعہ سے قبل کی سنتیں: حضرت امام ابوحنیفہؒ اور علماء احناف نے حضو ر اکرم ﷺ کے اقوال وافعال اور صحابۂ کرام کے آثار کی روشنی میں فرمایا ہے کہ جمعہ کی نماز سے قبل بابرکت گھڑیوں میں جتنی زیادہ سے زیادہ نماز پڑھ سکتے ہیں، پڑھیں۔ کم از کم خطبہ شروع ہونے سے پہلے چار رکعات تو پڑھ ہی لیں جیسا کہ حدیث کی کتاب (مصنف ابن ابی شیبہ ج ۲ صفحہ ۱۳۱) میں مذکور ہے: مشہور تابعی حضرت ابراہیم ؒ فرماتے ہیں کہ حضرات صحابہ کرام نماز جمعہ سے پہلے چار رکعات پڑھا کرتے تھے۔ نیز حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ہر دو اذانوں (اذان اور اقامت) کے درمیان ایک نماز کا فصل ہے۔ ہر دو اذانوں (اذان اور اقامت) کے درمیان ایک نماز کا فصل ہے۔ پھر تیسری مرتبہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر کوئی پڑھنا چاہے۔ (بخاری ۔ کتاب الاذان ۔ باب بین کل اذانین صلاۃ لمن شاء) جمعہ بھی ایک نماز ہے، جو جمعہ کے دن نماز ظہر کی جگہ ادا کی جاتی ہے۔ لہٰذا نماز جمعہ کی اذان (اوّل) اور اقامت کے درمیان حضور اکرمﷺ کے فرمان کی روشنی میں نوافل اور سنن پڑھ کر فصل کرنا چاہئے۔

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ جمعہ سے قبل چار رکعات پڑھا کرتے تھے اور ان کے درمیان کوئی فصل نہیں کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجہ ۔ باب ماجاء فی الصلاۃ قبل الجمعۃ) اس حدیث کی سند میں اگرچہ ضعف ہے، لیکن صحابۂ کرام کے آثار اس کی تائید کرتے ہیں، چنانچہ مشہور محدث امام ترمذی ؒ نے ترمذی (باب فی الصلاۃ قبل الجمعۃ وبعدہا) میں صحابی رسول حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں نقل کیا ہے کہ وہ جمعہ سے قبل چار رکعات اور جمعہ کے بعد چار رکعات ادا کرتے تھے۔ حافظ زیلعیؒ نے معجم طبرانی اوسط کے حوالہ سے یہ حدیث حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً نقل کی ہے کہ حضور اکرم ﷺ جمعہ سے قبل چار رکعات اور جمعہ کے بعد چار رکعات پڑھا کرتے تھے۔ نیز معجم اوسط ہی کے حوالہ سے یہ فعلی روایت حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بھی مرفوعاً نقل کی ہے۔ عقیدہ کی سب سے مشہور کتاب لکھنے والے مصری حنفی عالم امام طحاوی ؒ نے مشکل الآثار میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے یہ روایت نقل کی ہے: جو نماز پڑھتا ہے اسے چاہئے کہ وہ جمعہ سے قبل اور جمعہ کے بعد چار چار رکعات پڑھے۔ معارف السنن ج ۴ ص ۴۱۳

ان مذکورہ احادیث کے علاوہ صحیح بخاری وصحیح مسلم ودیگر کتب حدیث میں حضور اکرم ﷺکا فرمان کثرت سے مذکور ہے کہ نماز جمعہ سے قبل بابرکت گھڑیوں میں زیادہ سے زیادہ نماز ادا کرنی چاہئے، اختصار کے پیش نظر بخاری ومسلم کی ایک ایک حدیث پیش خدمت ہے: حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص جمعہ کے دن غسل کرتا ہے، جتنا ہوسکے پاکی کا اہتمام کرتا ہے اور تیل لگاتا ہے یا اپنے گھر سے خوشبو استعمال کرتا ہے، پھر مسجد جاتا ہے۔ مسجد پہنچ کر جو دو آدمی پہلے سے بیٹھے ہوں ان کے درمیان میں نہیں بیٹھتا اور جتنی توفیق ہو خطبہ جمعہ سے پہلے نماز پڑھتا ہے۔ پھر جب امام خطبہ دیتا ہے اس کو توجہ اور خاموشی سے سنتا ہے تو اس جمعہ سے گزشتہ جمعہ تک کے (چھوٹے چھوٹے) گناہوں کو معاف کردیا جاتا ہے۔ (صحیح البخاری ۔ باب الدھن للجمعۃ) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے جمعہ کے دن غسل کیا، پھر مسجد میں آیا اور جتنی نماز اس کے مقدر میں تھی ادا کی، پھرخطبہ ہونے تک خاموش رہا اور امام کے ساتھ فرض نماز ادا کی، اس کے جمعہ سے جمعہ تک اور مزید تین دن کے (چھوٹے) گناہ بخش دئے جاتے ہیں۔ (صحیح مسلم ۔ باب فضل من استمع وانصت فی الخطبۃ) ان احادیث وآثار کے مجموعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جمعہ سے قبل بھی سنتیں ہیں، علاوہ ازیں ظہر پر قیاس کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ جمعہ سے پہلے چار رکعات مسنون ہوں۔

نماز جمعہ کے بعد کی سنتیں: نماز جمعہ کے بعد دو رکعات یا چار رکعات یا چھ رکعات پڑھیں، یہ تینوں عمل نبی اکرم ﷺ اور صحابۂ کرام سے ثابت ہیں۔ بہتر یہ ہے کہ چھ رکعات پڑھ لیں تاکہ تمام احادیث پر عمل ہوجائے اور چھ رکعات کا ثواب بھی مل جائے۔ اسی لئے علامہ ابن تیمیہ ؒ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سے ثابت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا ہے جمعہ کے بعد چار رکعات پڑھنی چاہئیں، اور حضرات صحابۂ کرام سے چھ رکعات بھی منقول ہیں۔ (مختصر فتاوی ابن تیمیہ، صفحہ ۷۹) (نماز پیمبر صفحہ ۲۸۱) رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کوئی جمعہ کی نماز پڑھ لے تو اس کے بعد چار رکعات پڑھے۔ (مسلم) حضرت سالم ؒ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جمعہ کے بعد دو رکعات پڑھتے تھے ۔ (مسلم) حضرت عطاء ؒ فرماتے ہیں کہ انھوں نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو جمعہ کے بعد نماز پڑھتے دیکھا کہ جس مصلّی پر آپ نے جمعہ پڑھا اس سے تھوڑا سا ہٹ جاتے تھے، پھر دو رکعات پڑھتے، پھر چار رکعات پڑھتے تھے۔ میں نے حضرت عطاء ؒ سے پوچھا کہ آپ نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو کتنی مرتبہ ایسا کرتے دیکھا؟ انھوں نے فرمایا کہ بہت مرتبہ۔ (ابو داود)حضرت نافع ؒ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جمعہ کے بعد اپنے گھر جاکر دو رکعات نماز پڑھا کرتے تھے۔ آپ نے فرمایا کہ حضور اکرم ﷺ بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجہ ۔ باب ماجاء فی الصلاۃ بعد الجمعہ)حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جب جمعہ سے فارغ ہوجاؤ تو چار رکعات پڑھ لیا کرو۔ (سنن ابن ماجہ ۔ باب ماجاء فی الصلاۃ بعد الجمعہ) معجم طبرانی کبیر میں حضرت ابوعبدالرحمن ؒ سے مروی ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہمیں بتاتے تھے کہ جمعہ کے بعد چار رکعات پڑھیں، لیکن ہم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے چھ رکعات کے متعلق سنا تو ہم چھ رکعات ہی پڑھا کرتے تھے۔ (مجمع الزوائد ج۲ ص ۱۹۵) دوسری روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا عمل بھی بعد میں چھ رکعات پڑھنے کا ہوگیا تھا۔ (رواہ الطبرانی فی الکبیر، الزوائد للہیثمی ج ۲ ص ۱۹۵) غرضیکہ جمعہ کے بعد بعض احادیث سے دو اور بعض سے چار رکعات، جبکہ صحابۂ کرام سے چھ رکعات پڑھنے کا ثبوت ملتا ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے جمعہ کے بعد دو رکعات اور پھر چار رکعات پڑھنے کو کہا۔ ترمذی باب فی الصلاۃ قبل الجمعہ وبعدھا۔

ہر مسلمان کو چاہئے کہ فرض نمازوں کے ساتھ سنن ونوافل کا بھی خاص اہتمام کرے تاکہ اللہ تعالیٰ کا قرب بھی حاصل ہوجائے جیسا کہ حدیث قدسی میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بندہ نوافل کے ذریعہ میرے قرب میں ترقی کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اس کو اپنا محبوب بنا لیتا ہوں اور جب میں محبوب بنا لیتا ہوں تو میں اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنے، اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھے، اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑے، اس کا پا ؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلے۔ جو وہ مجھ سے مانگتا ہے میں اس کو دیتا ہوں۔ (صحیح البخاری ۔ باب التواضع) ہاتھ پاؤں بن جانے کامطلب یہ ہے کہ اس کا ہر کام اللہ کی رضا اور محبت کے ماتحت ہوتا ہے، اس کا کوئی بھی عمل اللہ کی مرضی کے خلاف نہیں ہوتا۔۔۔نیز اگر خدانخواستہ قیامت کے دن فرض نمازوں میں کچھ کمی نکلے تو سنن ونوافل سے اس کی تکمیل کردی جائے جیساکہ نبی اکرم ﷺ نے ارشادفرمایا: قیامت کے دن آدمی کے اعمال میں سے سب سے پہلے فرض نماز کا حساب لیا جائے گا، اگر نماز درست ہوئی تو وہ کامیاب وکامران ہوگا، اگر نماز درست نہ ہوئی تو وہ ناکام اور خسارہ میں ہوگا اور اگر نماز میں کچھ کمی پائی گئی تو ارشاد خداوندی ہوگا کہ دیکھو اس بندے کے پاس کچھ نفلیں بھی ہیں جن سے فرضوں کو پورا کردیا جائے، اگر نکل آئیں تو ان سے فرضوں کی تکمیل کردی جائے گی۔ ترمذی، ابن ماجہ، نسائی، ابو داود، مسند احمد۔

غرضیکہ ہمیں نماز جمعہ کے لئے سویرے مسجد پہنچنا چاہئے، اگر ہم زیادہ جلدی نہ جاسکیں تو کم از کم خطبہ شروع ہونے سے کچھ وقت قبل ہمیں ضرور مسجد پہونچ جانا چاہئے اور پانچ فرض نمازوں کی سنتوں اور دیگر نوافل کے اہتمام کے ساتھ نماز جمعہ سے قبل چار رکعات اور نماز جمعہ سے فراغت کے بعد دو یا چار یا چھ رکعات سنتوں کا اہتمام کرنا چاہئے۔

محمد نجیب قاسمی سنبھلی (www.najeebqasmi.com)