بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيْم

اَلْحَمْدُ لِلّهِ رَبِّ الْعَالَمِيْن،وَالصَّلاۃ وَالسَّلامُ عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن۔

سعودی عرب میں رمضان کے آخری عشرہ میں ہر مسجد میں نماز تہجد آدھی رات کے بعد جماعت کے ساتھ ادا کی جاتی ہے، جس کی شکل اس طرح ہوتی ہے کہ مسجد حرام (مکہ مکرمہ) اور مسجد نبوی (مدینہ منورہ) میں نماز عشاء کے فوراً بعد بیس رکعات تراویح جماعت کے ساتھ ادا کی جاتی ہیں، پھر آدھی رات کو نماز تہجد کی آٹھ رکعات اور اس کے بعد تین رکعات وتر ادا کئے جاتے ہیں۔ دیگر مساجد میں نماز عشاء کی ادائیگی کے فوراً بعد نماز تراویح کی آٹھ رکعات جماعت کے ساتھ ادا کی جاتی ہیں، پھر آدھی رات کو نماز تہجد کی آٹھ رکعات اور اس کے بعد تین رکعات وتر جماعت کے ساتھ ادا کئے جاتے ہیں۔ بعض مساجد میں اس سے کم یا اس سے زیادہ بھی رکعات ادا کی جاتی ہیں۔یہ بات ذہن میں رکھیں کہ سعودی عرب کی تمام مساجد میں عموماً دوسلام کے ساتھ وتر کی تین رکعات ادا کی جاتی ہیں۔ حضور اکرم ﷺکی سنت کے مطابق عموماً پہلی رکعت میں سورۃ الاعلی (سبح اسم ربک الاعلی ۔۔۔)، دوسری رکعت میں سورۃ الکافرون (قل یا ایہا الکافرون) اور تیسری رکعت میں سورۃ الاخلاص (قل ہو اللہ احد) پڑھی جاتی ہے۔

میں معتدد دلائل شرعیہ کی روشنی میں سابقہ مضامین میں ذکر کرچکا ہوں کہ نماز تراویح اور نماز تہجد دو الگ الگ نمازیں ہیں، اختصار کے پیش نظر یہاں صرف تین دلیلیں پیش خدمت ہیں۔ نماز تہجد کی ابتداء مکہ مکرمہ کے ابتدائی دور سے ہی شروع ہوگئی تھی، جبکہ نماز تراویح کی ابتداء مدینہ منورہ میں ۲ ہجری میں روزے کی فرضیت کے بعد سے شروع ہوئی۔ نماز تہجد اللہ کے حکم سے شروع ہوئی ہے، جبکہ نماز تراویح حضور اکرم ﷺ کے عمل سے شروع ہوئی جیسا کہ احادیث میں وضاحت موجود ہے۔ علماء نے تحریر کیا ہے کہ ابتداء اسلام میں پانچ نمازوں کی فرضیت سے قبل نماز تہجد عام مسلمانوں پر فرض تھی اور حضور اکرم ﷺ پر پوری زندگی فرض رہی۔ سورۃ المزمل (مکی سورت) میں اللہ تعالیٰ نے بیان کیا ہے کہ نبی دو تہائی رات یا کبھی آدھی رات یا کبھی ایک تہائی رات روزانہ نماز تہجد پڑھا کرتے ہیں۔ حدیث کی سب سے مشہور کتاب لکھنے والے حضرت امام بخاری ؒ نے اپنی کتاب (صحیح بخاری) میں دو الگ الگ Chapter بنائے ہیں، ایک نماز تہجد کے نام سے اور دوسرا نماز تراویح کے نام سے، اگر دونوں ایک ہی نماز ہوتیں تو دونوں کا الگ الگ Chapter بنانے کی ضرورت نہیں تھی۔ حضرت عائشہؓ والی حدیث کو امام بخاری ؒ نے نماز تہجد میں ذکر کرکے اپنا موقف واضح کردیا کہ حضرت عائشہؓ والی حدیث کا تعلق نماز تہجد سے ہے۔ مسجد حرام، مسجد نبوی اور سعودی عرب کی دیگر مساجد میں آخری عشرہ میں نماز تراویح کے بعد نماز تہجد کی ادائیگی خود اس بات کی دلیل ہے کہ عملی طور پر یہاں کے علماء بھی دونوں نمازوں کو الگ الگ نماز ہی تسلیم کرتے ہیں، ورنہ دو مرتبہ پڑھنے کی کیا ضرورت ہے۔

قرآن وحدیث کی روشنی میں روز روشن کی طرح یہ بات واضح ہے کہ پورے سال پڑھی جانے والی نماز تہجد نفل نماز ہے، اگرچہ قرآن کریم میں فرض نماز کے بعد اسی نماز کا ذکر تاکید کے ساتھ وارد ہوا ہے۔ اور اس نماز کو جماعت کے بجائے انفرادی ہی پڑھنا چاہئے کیونکہ زندگی میں ایک مرتبہ بھی حضور اکرم ﷺ یا صحابہ نے اس نماز کو باقاعدہ جماعت کے ساتھ پڑھنے کا اہتمام نہیں کیا۔ ہاں البتہ حضور اکرم ﷺ کی ۲۳ سالہ زندگی میں ایسے دو چار واقعات پیش آئے ہیں کہ مسجد نبوی میں حضور اکرمﷺ انفرادی نمازتہجد پڑھ رہے تھے تو کبھی کبھی کسی صحابی نے آپ ﷺکے ساتھ نماز تہجد پڑھنے کی نیت باندھیں ، مگر آپ ﷺ کی نماز تہجد کی دو رکعات تقریباً دو دوگھنٹے پر مشتمل ہونے کی وجہ سے صحابی اس کا تحمل نہ کرسکے۔ ہاں آپﷺ نے اس پر کوئی نکیر بھی نہیں کی، جس سے نماز تہجد کا جماعت کے ساتھ پڑھانا تو حضوراکرم ﷺ سے ثابت ہوگیا، لیکن وقت کی تعیین کے ساتھ ہر مسجد میں جماعت کے ساتھ نماز تہجد کا اہتمام کرنے سے یقیناًاختلاف کیا جاسکتا ہے۔ غرضیکہ حضور اکرم ﷺ کے قول وعمل اور صحابۂ کرام کے عمل سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ پورے سال پڑھی جانے والی نماز تہجد اصل میں انفرادی نماز ہے، لیکن نفل ہونے کی وجہ سے نماز تہجد کو جماعت کے ساتھ ادا کرنے کی گنجائش تو ہے، لیکن وقت کی تعیین کے ساتھ ہر مسجد میں جماعت کے ساتھ نماز تہجد کا اہتمام کرنے سے اختلاف کیا جاسکتا ہے۔ برصغیر میں اس نوعیت کے اجتماعی عمل کو فوراً بدعت اور اس سرزمین پر ہونے والے اس نوعیت کے اجتماعی عمل کو سنت قرار ددینا یقیناً قابل اعتراض ہے۔ چونکہ عوام اس ماحول کی وجہ سے نماز تہجد کا اہتمام کرلیتی ہے، لہذا میرا موقف یہ ہے کہ جو پڑھنا چاہئے اس کے لئے گنجائش ضرور ہے، اگرچہ حضور اکرم ﷺ اور صحابہ کرام کے نقش قدم پر چل کر نمازتہجد کا گھر میں انفرادی طور پر ہی پڑھنا زیادہ بہتر وافضل ہے۔

محمد نجیب قاسمی سنبھلی