Print

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيْم

اَلْحَمْدُ لِلّهِ رَبِّ الْعَالَمِيْن،وَالصَّلاۃ وَالسَّلامُ عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن۔

’’اذان‘‘ سمع خراشی نہیں، دنیا کے لئے باعث رحمت ہے

۱۳نومبر ۲۰۱۶ء کو اسرائیلی پارلیمنٹ میں مسجد اقصیٰ (مسلمانوں کا قبلۂ اوّل) کے ساتھ ساتھ دیگر فلسطینی مساجد میں لاؤڈسپیکر کے ذریعہ اذان دینے پر پابندی کا ایک بل پیش کیا گیا، جس میں کہا گیا کہ چونکہ بیت المقدس اور دیگر علاقوں میں یہودی بھی رہتے ہیں، انہیں اذان کی آواز سے پریشانی ہوتی ہے اور ان کی طرف سے اذان پر پابندی کا مطالبہ بھی کیا جارہا ہے۔ اس لئے اذان پر پابندی عائد کی جائے۔ اسرائیلی وزیر اعظم ’’بنیامین نیتن یاہو‘‘ نے اس قرار داد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ بلا تفریق لوگوں کو پریشانی سے بچانا اسرائیلی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ دوسری طرف مسلمانوں اور فلسطین میں آباد عیسائیوں نے اس قرار داد کو آزادئ مذہب کے خلاف قرار دے کر اس کی شدید مذمت کی۔ نیز عیسائی پادریوں نے کہا کہ اگر آج اذان پر پابندی عائد کی گئی تو کل چرچ میں گھنٹہ بجانے پر بھی پابندی لگائی جائے گی۔ اپنے مذہب کو درپیش خطرے کے باعث یہودیوں کی مذہبی جماعتیں بھی اذان کی حمایت پر مجبور ہوگئیں اور اس طرح یہ قرار داد پارلیمنٹ سے منظور نہ ہوسکی، لیکن اس متنازع قانون کی منظوری سے قبل ہی اس پر عمل در آمد شروع کردیا گیا ہے، چنانچہ حال ہی میں ۱۹۴۸ کے مقبوضہ فلسطینی شہر ’’اللد‘‘ کی ایک مسجد کے مؤذن ’’ شیخ محمود الفار‘‘ پر فجر کی اذان لاؤڈسپیکر پر دینے کی وجہ سے ۱۹۷ ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا۔

اس قرار داد کے پیش ہونے کے فوراً بعد اسرائیلی صدر ’’ریولن‘‘ ہندوستان کے سفر پر آئے تھے۔ ہندوستان ہمیشہ مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ کھڑا رہا ہے مگر نریندر مودی کے وزیر اعظم بننے کے بعد سے ہندوستان اور اسرائیل کے رشتوں کی ڈور مضبوط ہوتی جارہی ہے حتی کہ ۲۹ ستمبر ۲۰۱۶ء کو سرجیکل اسٹرائک کے متعلق ہندوستان کے وزیر اعظم نے اسرائیل کی ظالم حکومت کو مثال کے طور پر پیش کرتے ہوئے کہا : ہم نے وہ کیا جو اسرائیل کرتا ہے۔ اسرائیلی حکومت، جس نے نہتے فلسطینیوں پر ظلم کرنے کی انتہاء کردی ہے، کے ساتھ موجودہ ہندوستانی حکومت کے بڑھتے ہوئے تعلق پر گاندھی جی، جواہر لعل نہرو اور مولانا ابوالکلام آزاد کے ملک میں رہنے والے عام لوگوں کو تکلیف پہنچی۔ ہندوستان میں بھی بھگوا دہشت گرد وقتاً فوقتاً ہندوستانی قوانین کے برخلاف اذان پر پابندی عائد کرنے کی مذموم کوشش کرتے رہتے ہیں۔ لہٰذا ضرورت محسوس کی کہ اذان سے متعلق ایک مختصر مضمون تحریر کیا جائے تاکہ عام مسلمانوں کو واقفیت ہو کہ قرآن وحدیث کی روشنی میں اسلامی شعار ’’اذان‘‘ کا کیا مقام ہے۔ اور اذان کے کلمات کے معنی کیا ہیں تاکہ غیر مسلموں کو بھی سمجھایا جاسکے کہ اذان میں صرف خالق کائنات کی بڑائی کے ساتھ اس کے ایک ہونے اور محمد ﷺ کے رسول ہونے کی گواہی دے کر مسلمانوں کو نماز قائم کرنے کی دعوت دی جاتی ہے۔

اذان کی ابتدا کب ہوئی؟: بعض تاریخی روایات میں ہے کہ معراج کے سفر میں آپ ﷺ نے فرشتوں کو اذان دیتے ہوئے سنا تھا۔ یعنی لیلۃ الاسراء میں آپ کو اذان صرف سنائی گئی تھی، اس کا حکم نہیں دیا گیا تھا۔ اس وجہ سے مکہ مکرمہ میں اذان نہیں تھی، بلکہ مدینہ منورہ ہجرت کرنے کے بعد جب ضرورت محسوس ہوئی کہ مسلمانوں کو نماز کے قیام کی خبر کس طرح دی جائے، تو متعدد مشورے سامنے آئے لیکن ابھی تک فیصلہ نہیں ہوا تھا کہ حضرت عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے جب اپنے خواب میں سنے اذان کے کلمات حضور اکرمﷺ کو سنائے، تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے بھی اذان کے لئے ان کلمات سے متعلق اپنے خواب دیکھنے کا تذکرہ کیا۔ بعد میں حضور اکرمﷺ کے حکم پر حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے پہلی اذان پہلی ہجری میں دی۔ اس کے بعد سے آج تک ہر مسجد میں ہر نماز کے لئے اذان دی جاتی ہے تاکہ مسلمان اپنی دیگر مصروفیات چھوڑکر مسجد پہنچ جائیں۔ اسلام کا صرف یہی ایک حکم ہے جس کے لئے ہر روز پانچ مرتبہ اذان دی جاتی ہے۔

پوری دنیا میں اذان: نمازِ فجر کی اذان سب سے پہلے دنیا کے مشرقی ممالک (مثلاً انڈونیشیا) میں شروع ہوتی ہے۔ اس کے بعد ملائیشیا، چین، بنگلادیش، ہندوستان، پاکستان، افغانستان، ایران، ترکمانستان، تاجکستان، ازبکستان، عمان، قطر،بحرین، سعودی عرب، یمن، کویت، عرب امارات، عراق، سوریا، فلسطین، اردن، ترکی، مصر، لیبیا، الجزائر اور یورپ وامریکہ میں مسلسل فجر کی اذان ہوتی رہتی ہے۔ ابھی اذانِ فجر کا یہ سلسلہ ختم بھی نہیں ہوپاتا ہے کہ انڈونیشیا میں ظہر کی اذان مسجدوں کے مناروں سے بلند ہونے لگتی ہے، بالکل اسی طرح پانچوں نمازوں کے وقت اللہ کے منادیوں کی آوازیں ہر وقت فضاء میں گونجتی رہتی ہیں۔ غرضیکہ ۲۴ گھنٹے میں ایک لمحہ بھی ایسا نہیں گزرتا کہ جس وقت ہزاروں مؤذن اللہ کی وحدانیت اور رسول کی رسالت کی گواہی نہ دے رہے ہوں۔یہ اسلام کے حق ہونے کی ایک دلیل ہے۔

مسجدیں مسلمانوں کی تربیت گاہیں: زمین کے تمام حصوں میں اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب مساجد ہیں، یہ آسمان والوں کے لئے ایسے ہی چمکتی ہیں جیسا کہ زمین والوں کے لئے آسمان کے ستارے چمکتے ہیں۔ ان مساجد کو نماز، ذکر وتلاوت، تعلیم وتربیت، دعوت وتبلیغ اور دیگر عبادتوں سے آباد رکھنے کا مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے۔ آج مسلمانوں میں جو دن بدن بگاڑ آتا جارہا ہے، اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارا تعلق مساجد سے کمزور ہوگیا ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہئے کہ ہم اللہ کے گھر یعنی مساجد سے اپنا تعلق مضبوط کریں کیونکہ مساجد مسلمانوں کی نہ صرف تربیت گاہیں ہیں بلکہ مساجد مسلم معاشرہ کی عکاسی بھی کرتی ہیں۔ دنیا میں سب سے پہلا گھر بیت اللہ ہے جو مسجد حرام کے وسط میں واقع ہے جس کی طرف رخ کرکے ہم ایمان کے بعد سب سے اہم رکن یعنی نماز کی ادائیگی کرتے ہیں۔ حضور اکرمﷺنے مدینہ منورہ پہنچنے سے تھوڑا قبل قبا بستی میں ’’مسجد قبا‘‘ اور مدینہ منورہ پہنچنے کے بعد سب سے پہلے جس مسجد کی بنیا رکھی وہی بعد میں مسجد نبوی کے نام سے موسوم ہوئی، جو اسلام کے دنیا کے کونے کونے تک پہنچنے کا ذریعہ بنی۔مساجد سے جہاں مسلمانوں کی روحانی تربیت ہوتی ہے، یعنی ہم کس طرح منکرات سے بچ کر اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق نبی اکرم ﷺ کے طریقہ پر زندگی گزاریں، وہیں سماجی زندگی میں بھی رہنمائی ملتی ہے کیونکہ جب مسلمان آپس میں دن میں پانچ وقت ملتا ہے تو ایک دوسرے کے مسائل سے واقفیت ہوتی ہے۔ ایک دوسرے کو سلام کرتا ہے، جمعہ وعیدین کے موقع پر بڑی تعداد میں لوگوں سے ملاقات ہوتی ہے، اس کی وجہ سے بیمار کی عیادت کرتا ہے، جنازہ میں شرکت کرتا ہے، ایک دوسرے کے کام آتا ہے، محتاج لوگوں کی مدد کرتا ہے اور بندوں کے حقوق کو ادا کرنے کا احساس پیدا ہوتا ہے، یہ سارے امور مسجدوں کا اصلاح معاشرہ میں اہم کردار کی حیثیت رکھتے ہیں۔

قرآن کریم میں اذان کا ذکر: پوری امت مسلمہ کا اتفاق ہے کہ قرآن کریم میں احکام کے اصول بیان کئے گئے ہیں۔ اسلام کے بنیادی ارکان (نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج) تک کے تفصیلی مسائل قرآن کریم میں مذکور نہیں ہیں۔ ہاں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی سینکڑوں آیات میں اپنی اطاعت کے ساتھ قیامت تک آنے والے انس وجن کے نبی کی فرمانبرداری کا حکم دیا ہے اور بتایا کہ محمد ﷺ اپنے اقوال وافعال سے احکام الہٰی کی وضاحت فرمائیں گے۔ نیز اللہ تعالیٰ نے رسول کی اطاعت کو (جو حدیث کی شکل میں ہمارے پاس موجود ہے) اطاعت الہٰی قرار دیا۔ (سورۃ النساء ۸۰) غرضیکہ حضور اکرم ﷺ کی اتباع کے بغیر اللہ تعالیٰ کی اطاعت ممکن ہی نہیں ہے۔ قرآن کریم میں دو جگہوں پر وضاحت کے ساتھ اذان کا ذکر آیا ہے: (۱) اے ایمان والو! جب جمعہ کے دن نماز کے لئے پکارا جائے، یعنی نماز کی اذان ہوجائے تو اللہ کی یاد کے لئے جلدی کرو، اور خرید وفروخت چھوڑدو۔ یہ تمہارے حق میں بہت ہی بہتر ہے اگر تم جانتے ہو۔ (سورۃ الجمعہ آیت ۹) اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ارشاد فرمایا: جب جمعہ کے دن نماز کے لئے اذان دی جائے۔ یہ اذان کس طرح دیجائے؟ اس کے الفاظ کیاہوں؟ یہ قرآن کریم میں کہیں نہیں ہے، البتہ حدیث میں ہے۔ اسی طرح پانچوں نمازوں کے اوقات، ان کے نام، تعدادِ رکعات اور نماز پڑھنے کا طریقہ بھی ہمارے نبی ﷺ نے ہی بتایا ہے، معلوم ہوا کہ حدیث کے بغیر قرآن کریم سمجھنا ممکن ہی نہیں ہے۔ (۲) اسی طرح فرمان الہی ہے: جب تم نماز کے لئے (لوگوں کو) پکارتے ہو تو وہ اس طرح (اذان) کو مذاق اور کھیل کا نشانہ بناتے ہیں، یہ سب حرکتیں اس وجہ سے ہیں کہ ان لوگوں کو عقل نہیں ہے۔ سورۃالمائدہ ۵۸

اذان کی فضیلت ہمارے نبی ﷺکی زبانی: ’’قیامت کے دن اذان دینے والے سب سے زیادہ لمبی گردن والے ہوں گے یعنی سب سے ممتاز نظر آئیں گے۔‘‘ (مسلم ۔ باب فضل الاذان) ’’مؤذن کی آواز جہاں جہاں تک پہنچتی ہے وہاں تک اس کی مغفرت کردی جاتی ہے۔ ہر جاندار اور بے جان جو اُس کی آواز کو سنتے ہیں، اُس کے لئے مغفرت کی دعا کرتے ہیں۔‘‘ (مسند احمد) ’’مؤذن کی آواز کو جو درخت، مٹی کے ڈھیلے، پتھر، جن اور انس سنتے ہیں وہ سب قیامت کے دن مؤذن کے لئے گواہی دیں گے۔‘‘ (ابن خزیمہ) ’’جس نے بارہ سال اذان دی اس کے لئے جنت واجب ہوگئی (ان شاء اللہ)۔ ‘‘(حاکم) ’’اذان دینے والوں کو قیامت کی سخت گھبراہٹ کا خوف نہیں ہوگا اور نہ ہی ان کو حساب دینا ہوگا، بلکہ وہ مشک کے ٹیلے پر تفریح کریں گے۔‘‘ (ترمذی ، طبرانی، مجمع الزوائد ۔ باب فضل الاذان) ’’جو شخص اذان سننے کے بعد اذان کے بعد کی دعا پڑھے تو اس کے لئے قیامت کے دن نبی اکرم ﷺ کی شفاعت واجب ہوگئی۔‘‘ بخاری ۔ باب الدعاء عند النداء

اذان کے الفاظ اور اس کے معانی: اذان میں سب سے پہلے چار مرتبہ ’’اللہ اکبر‘‘ کہہ کر اللہ تعالیٰ (God) کے سب سے بڑے ہونے کا اقرار کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کے معبود حقیقی اور محمد ﷺ کے رسول ہونے کی دو دو مرتبہ شہادت دی جاتی ہے۔ پھر دو دو مرتبہ ’’حی علی الصلاۃ‘‘ کے ذریعہ مسلمانوں کو نماز پڑھنے کی دعوت دی جاتی ہے، اور پھر دو دو مرتبہ ’’حی علی الفلاح‘ کہہ کر بتایا جاتا ہے کہ اصل کامیابی نماز میں ہے۔ اذان کے اختتام سے قبل دو مرتبہ ’’اللہ اکبر‘‘ کہہ کر ایک مرتبہ’’ لا الہ الا اللہ‘‘ کہا جاتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ اذانِ فجر میں ’’الصلاۃ خیر من النوم‘‘ (نماز نیند سے بہتر ہے) کہہ کر مسلمانوں کو صبح سویرے اللہ کی عبادت کرنے کی دعوت دی جاتی ہے۔ غرضیکہ اذان میں نہ کسی مذہب یا کسی شخص پر کوئی تنقید ہے، نہ یہ کوئی سیاسی ہتھکنڈا ہے بلکہ صرف اور صرف خالق کائنات ، جس کو عربی میں اللہ، انگریزی میں God، فارسی میں خدا اور ہندی میں بھگوان کہتے ہیں، کی تعریف کی جاتی ہے، اس کے معبود حقیقی اور محمد ﷺ کے رسول ہونے کی شہادت دے کر مسلمانوں کو نماز کی طرف بلایا جاتا ہے۔

خلاصۂ کلام: ہر مسلمان بالغ مرد وعورت پر روزانہ پانچ وقت کی نماز ادا کرنا فرض ہے، مرد حضرات کو حکم دیا گیا کہ وہ ان نمازوں کو مسجدوں میں ادا کریں، جبکہ خواتین کو تعلیم وترغیب دی گئی کہ وہ ان نمازوں کو پردے میں رہ کر اپنے گھروں میں ہی ادا کریں۔ پہلی ہجری میں مدینہ منورہ میں مسلم معاشرہ کے قیام سے ہی فرض نمازوں کے لئے اذان کو اسلامی شعار قرار دیا گیا۔ اِس وقت دنیا میں کئی کروڑ مساجد ہیں جس میں پانچ وقت نماز کے قیام سے قبل اذان دی جاتی ہے۔ اذان کا مقصد مسلمانوں کو نماز کے قیام کے وقت قریب آنے کی اطلاع دینا ہوتا ہے۔ پہلے دنیا میں گاڑیوں اور مشینوں کے شوروغل نہ ہونے کی وجہ سے اونچی جگہ پر دی گئی اذان دور دور تک سنائی دے جاتی تھی۔ لیکن چونکہ اب لوگ موجودہ طرز کے بند رہائشی مکانوں اور دفتروں میں قید رہتے ہیں، جس کی وجہ سے لاؤڈ سپیکر کے بغیر اذان دینے سے اذان کا مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے۔ اس وجہ سے لاؤڈ سپیکر کے ذریعہ اذان دی جاتی ہے۔ یہ صرف اذان کا معاملہ نہیں، بلکہ دیگر مذاہب کی عبادت گاہوں کے اعلانات وغیرہ بھی لاؤڈ سپیکر کے ذریعہ ہی کئے جاتے ہیں۔ لاؤڈ سپیکر کے ذریعہ دیگر مذاہب کی عبادت گاہوں سے اعلانات کی اجازت اور اذان دینے پر پابندی لگانا آزادئ مذہب کے سراسر خلاف ہے۔

ڈاکٹر محمد نجیب قاسمی سنبھلی (www.najeebqasmi.com)