Print

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيْم

اَلْحَمْدُ لِلّهِ رَبِّ الْعَالَمِيْن،وَالصَّلاۃ وَالسَّلامُ عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن۔

پانچ اوقات میں نماز نہیں پڑھنی چاہئے

نماز کے مکروہ اوقات پانچ ہیں: ان میں سے تین ایسے ہیں جن میں فرض اور نفل دونوں نمازیں مکروہ تحریمی ہیں۔ وہ تین اوقات یہ ہیں

۱) سورج کے طلوع ہونے کے وقت۔ ۲) زوالِ آفتاب کے وقت۔ ۳) سورج کے غروب ہونے کے وقت۔ نوٹ: اگر نماز عصر نہیں پڑھی یہاں تک کہ سورج کے غروب ہونے کا وقت قریب آگیا تو کراہت کے ساتھ اس دن کی عصر کی نماز سورج کے ڈوبنے کے وقت بھی ادا کی جاسکتی ہے۔ ان تین اوقات کے علاوہ دو اوقات ایسے ہیں کہ جن میں صرف نفل نماز پڑھنا مکروہ ہے،البتہ فوت شدہ فرض نماز کی قضا کی جاسکتی ہے۔۴) نماز فجر کے بعدسے طلوع آفتاب تک ۔ ۵) عصر کی نماز کے بعد سے سورج کے غروب ہونے تک ۔

حضرت عمروسلمی فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺسے عرض کیا: اے اللہ کے نبی ﷺ مجھے ایسی چیز بتلائیے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو بتائی ہو اور مجھے معلوم نہ ہو، خاص طور پر نماز کے متعلق بتلائیے۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: صبح کی نماز پڑھ کر کوئی اور نماز پڑھنے سے رُکے رہو تاآنکہ آفتاب طلوع ہوکر بلند ہوجائے، کیونکہ آفتاب شیطان کے دوسینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے اور اس وقت سورج پرست کفار اسے سجدہ کرتے ہیں۔ جب سورج کچھ بلند ہوجائے تو پھر نماز پڑھوکیونکہ ہر نماز بارگاہِ الہی میں پیش کی جاتی ہے، البتہ جب نیزہ بے سایہ ہوجائے (زوال کے وقت) تو نماز نہ پڑھو، کیونکہ یہ جہنم کو دہکانے کا وقت ہے اور جب سایہ بڑھنا شروع ہوجائے تو پھر نماز پڑھو، کیونکہ نماز اللہ کے حضور پیش کی جاتی ہے۔ جب عصر کی نماز پڑھ چکو تو پھر دوسری نماز سے رک جاؤ تا آنکہ سورج غروب ہوجائے، کیونکہ سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان غروب ہوتا ہے اور اس وقت سورج پرست کفار سورج کو سجدہ کرتے ہیں ۔ مسلم، الاوقات التی نہی عن الصلاۃ فیھا

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: صبح کی نماز کے بعد آفتاب کے بلند ہونے تک اور کوئی نماز نہیں ہے اور عصر کی نماز کے بعد غروب آفتاب تک اور کوئی نماز پڑھنا صحیح نہیں ہے۔ بخاری ، لایتحری الصلاۃ قبل الغروب

پانچ اوقات میں نماز نہ پڑھنے کے متعلق مندرجہ بالا عبارت جو ارسال کی گئی تھی۔ اس پر چند سوالات کے جوابات پیش ہیں:
۱) نماز فجر کے آخری وقت تک فجر کی نماز ادا کی جاسکتی ہے۔ وقت ختم ہونے کے بعد سے تقریباً ۱۵ منٹ تک کوئی بھی نماز نہیں پڑھنی چاہئے کیونکہ سورج کے طلوع ہونے کے وقت نبی اکرم ﷺ نے نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔ بخاری ومسلم

۲) ٹھیک دوپہر کے وقت کو زوال آفتاب کہتے ہیں یعنی اس وقت کے بعد سورج کا زوال شروع ہوجاتا ہے یعنی سورج ڈھلنے لگتا ہے۔ زوال آفتاب چند منٹوں کے لیے رہتا ہے، لہٰذا نبی اکرم ﷺ کی تعلیمات کے مطابق نماز ظہر کا وقت شروع ہونے سے تقریباً ۱۰ منٹ پہلے سے کوئی نماز نہیں پڑھنی چاہئے۔ یعنی اگر نماز ظہر کا وقت ۱۲ بجے شروع ہورہا ہے تو ۱۱ بج کر ۵۰ منٹ سے لے کر ۱۲ بجے تک کوئی نماز نہیں پڑھنی چاہئے۔ بعض علماء نے احتیاطاً ۱۵ منٹ زوال آفتاب کا وقت تسلیم کیا ہے۔ زوال آفتاب کے وقت مسجد میں داخل ہونے پر تحےۃ المسجد کی دو رکعات نماز پڑھنے کے متعلق علماء کی آراء مختلف ہیں۔ علماء احناف نے نبی اکرم ﷺ کے قول کے عموم کی وجہ سے زوال آفتاب کے وقت کوئی بھی نماز حتی کہ تحیہ المسجد کی دو رکعات نماز پڑھنے سے منع کیاہے۔

۳)طلوع آفتاب اور زوال آفتاب کی طرح نبی اکرم ﷺ کی تعلیمات کے مطابق غروب آفتاب کے وقت بھی کوئی نماز نہیں پڑھنی چاہئے۔ اگر کسی شخص نے نماز عصر نہیں پڑھی یہاں تک کہ غروب آفتاب کا وقت قریب آجائے تو اسے اُس دن کی نماز عصر پڑھ لینی چاہئے لیکن اتنی تاخیر سے نماز عصر کی ادائیگی کرنا غلط ہے۔

۴(ان تینوں اوقات میں سجدہ تلاوت اور نماز جنازہ کی ادائیگی بھی نہیں کرنی چاہئے، البتہ تدفین کا عمل کیا جاسکتا ہے۔

۵(نبی اکرم ﷺ کی تعلیمات کے مطابق صبح صادق سے طلوع آفتاب تک فجر کی سنت اور فرض کے علاوہ کوئی دوسری نماز نہیں پڑھنی چاہئے، البتہ کسی معین فرض نماز کی قضا کی جاسکتی ہے۔ اگر کسی شخص کی فجر کی سنتیں چھوڑ جائیں تو نبی اکرم ﷺ کی تعلیمات کے مطابق انہیں طلوع آفتاب کے بعد پڑھنی چاہئیں۔اسی طرح اگر کسی شخص کی وتر کی نماز چھوڑ جائے تو وہ نبی اکرم ﷺ کی تعلیمات کے مطابق طلوع آفتاب کے بعد قضا پڑھے۔

۶(نماز عصر کی ادائیگی کے بعد سے غروب آفتاب تک کوئی نفل نماز نہیں پڑھنی چاہئے، البتہ کسی معین فرض نماز کی قضا کی جاسکتی ہے۔

۷(مسجد حرام میں نماز عصر کی ادائیگی اوّل وقت میں کی جاتی ہے، لہٰذا طواف کی دو رکعات نماز عصر کے بعد پڑھ سکتے ہیں، لیکن اگر غروب آفتاب کا وقت قریب آجائے تو پھر نہ پڑھیں۔ طواف کی دو رکعات اگر کسی وجہ سے طواف کے فوراً بعد نہ پڑھ سکے تو بعد میں بھی پڑھ سکتے ہیں۔

ڈاکٹر محمد نجیب قاسمی سنبھلی (www.najeebqasmi.com)