Print

 

بسم الله الرحمن الرحيم

اَلْحَمْدُ لِله رَبِّ الْعَالَمِيْن،وَالصَّلاۃ وَالسَّلام عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن۔

تحيۃ المسجد کی دو رکعات

قرآن وحدیث کی روشنی میں امت مسلمہ کا ا تفاق ہے کہ پانچ فرض نمازوں کے علاوہ ہمیں وتر وسنن ونوافل کا بھی اہتمام کرنا چاہئے کیونکہ تمام نبیوں کے سردار حضرت محمد مصطفی ﷺ کا ارشاد ہے کہ قیامت کے دن آدمی کے اعمال میں سے سب سے پہلے فرض نماز کا حساب لیا جائے گا۔ اگر نماز درست ہوئی تو وہ کامیاب وکامران ہوگا، اگر نماز درست نہ ہوئی تو وہ ناکام اور خسارہ میں ہوگا اور اگر نماز میں کچھ کمی پائی گئی تو ارشادِ خداوندی ہوگا کہ دیکھو اس بندے کے پاس کچھ نفلیں بھی ہیں جن سے فرضوں کو پورا کردیا جائے، اگر نکل آئیں تو ان سے فرضوں کی تکمیل کردی جائے گی۔ ترمذی، ابن ماجہ، نسائی، ابو داود، مسند احمد۔

اُن سنن ونوافل میں تحيۃ المسجد کی دو رکعات بھی ہیں۔ مسجد میں داخل ہو نے کے بعد ہمیں چاہئے کہ دو رکعات تحيۃ المسجد ادا کریں کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب کوئی شخص مسجد میں داخل ہو تو بیٹھنے سے پہلے دو رکعات نماز ادا کرے۔ بخاری ومسلم۔

ہاں اگر کوئی شخص طلوع آفتاب ، زوال آفتاب اور غروب آفتاب کے وقت مسجد میں داخل ہو تو اسے چاہئے کہ وہ تحيۃ المسجد نہ پڑھے کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے ان تین اوقات میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔ (بخاری ومسلم) اسی لیے علماء کرام فرماتے ہیں کہ اِن تین اوقات میں فرض نماز بھی نہیں پڑھنی چاہئے۔ بعض علماء نے کہا ہے کہ اِن تین اوقات میں بھی مسجد میں داخل ہونے کی صورت میں تحيۃ المسجد ادا کی جاسکتی ہے۔ لیکن اگر مسجد میں داخل ہونے کے وقت جماعت قائم ہوچکی ہے تو سب کا اتفاق ہے کہ جماعت شروع ہونے کے بعد تحيۃ المسجد کی ادائیگی نہیں کرنی چاہئے۔

اگر مسجد میں داخل ہونے کے بعد اتنا وقت نہیں ہے کہ تحيۃ المسجد کی ادائیگی کے بعد سنن مؤکدہ ادا کی جائیں تو پھر سنن مؤکدہ ادا کرلی جائیں، تحيۃ المسجد بھی اسی میں ادا ہوجائے گی ان شاء اللہ۔سعودی عرب کے مشہور عالم دین شیخ بن باز ؒ کی بھی یہی رائے ہے جو اُن کی آفیشل ویب سائٹ پر موجود ہے۔

اکثر علماء فرماتے ہیں کہ تحيۃ المسجد فرض یا واجب نہیں۔ حضرت عبد اللہ بن بسررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں جمعہ کے دن منبر کے قریب بیٹھا ہوا تھا، ایک شخص لوگوں کی گردنوں کو پھلانگتا ہوا آیا جبکہ رسول اللہ ﷺ خطبہ دے رہے تھے۔ آپ ﷺنے ارشاد فرمایا: بیٹھ جا، تونے تکلیف دی اور تاخیر کی۔ (صحیح ابن حبان، ابوداود) نبی اکرم ﷺ نے اس شخص کو بیٹھنے کا حکم دیا، تحيۃ المسجد پڑھنے کا حکم نہیں دیا۔ معلوم ہوا کہ تحيۃ المسجد واجب نہیں ہے، ورنہ آپ ﷺ اس شخص کو بیٹھنے کے بجائے تحيۃ المسجد پڑھنے کا حکم دیتے۔ جب امام خطبہ دے رہا ہو تو لوگوں کی گردنوں کو پھلانگ کر آگے جانا منع ہے، بلکہ پیچھے جہاں جگہ ملے وہیں بیٹھ جائیں۔

بعض حضرات سنن مؤکدہ وسنن غیر مؤکدہ پڑھنے میں کوتاہی کرتے ہیں، جبکہ دیگر تحيۃ المسجد پڑھنے میں سستی کرتے ہیں، حالانکہ ہمیں زیادہ سے زیادہ نماز پڑھنی چاہئے کیونکہ سب سے افضل بشر حضور اکرم ﷺ تقریباً ۸ گھنٹے روزانہ نماز جیسی عظیم الشان عبادت میں گزارتے تھے۔ نماز کے متعلق آپ ﷺ حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے فرماتے تھے کہ اے بلال! نماز قائم کرکے ہمارے لئے راحت وسکون کا سامان مہیا کرو۔ یعنی نماز پڑھنے سے حضور اکرمﷺکو سکون ملتا تھا، لیکن بڑے افسوس وفکر کی بات ہے کہ آج ہم نبی رحمت کا نام لینے والے حضور اکرم ﷺ کی آنکھوں کی ٹھنڈک یعنی نماز پڑھنے کے لئے بھی تیار نہیں ہیں جس میں آپ ﷺ نے اپنی قیمتی زندگی کا وافر حصہ لگایا۔

محمد نجیب قاسمی سنبھلی (www.najeebqasmi.com)