بسم الله الرحمن الرحيم

اَلْحَمْدُ لِله رَبِّ الْعَالَمِيْن،وَالصَّلاۃ وَالسَّلام عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن۔

نماز کی ادائیگی کے دوران موبائل کی گھنٹی بجنے پر کیا کریں؟

نماز میں اللہ تعالیٰ سے مناجات ہوتی ہے، جیساکہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم میں سے جب کوئی نماز کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ سے مناجات (سرگوشی) کرتا ہے۔ (بخاری) اسی طرح فرمان رسول ﷺ ہے: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں نے سورۃ الفاتحہ کو اپنے اور بندے کے درمیان آدھا آدھا تقسیم کردیا ہے، اور بندے کو وہ ملے گا جو وہ مانگے گا۔ جب بندہ کہتا ہے (اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِین) تو اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے(میرے بندے نے میری خوبی بیان کی)۔ جب بندہ کہتا ہے (اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیم) تو اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے(میرے بندے نے میری تعریف کی) ۔ جب بندہ کہتا ہے (مَالِکِ یَوْمِ الدِّین) تو اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے(میرے بندے نے میری بڑائی بیان کی)۔ جب بندہ کہتا ہے (إیَّاکَ نَعْبُدُ وَإیَّاکَ نَسْتَعِین) تو اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے(یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے) یعنی عبادت کرنا میرے لئے ہے اور مدد مانگنا بندے کی ضرورت ہے۔ اور میرا بندہ جو مانگے گا وہ اسے دیا جائے گا ۔ مسلم

ہم نمازیں اس یقین کے ساتھ پڑھیں کہ ساری کائنات کو پیدا کرنے والا ہمارے سامنے ہے اور وہ ہمیں دیکھ رہا ہے۔ نماز کی ادائیگی کے دوران نماز کے علاوہ دیگر حرکات سے بچنا انتہائی ضروری ہے تاکہ ہماری نمازیں خشوع وخضوع کے ساتھ ادا ہوں جو نماز کی اصل روح ہے، کیونکہ آخری نبی حضرت محمد ﷺ نے اس بات کا حکم فرمایا کہ نماز میں کپڑوں اور بالوں کو نہ سمیٹیں۔ (بخاری) نیز حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سب سے پہلے جس چیز کا علم لوگوں سے اٹھا لیا جائے گا وہ خشوع کا علم ہے۔ عنقریب مسجد میں بہت سے لوگ آئیں گے، تم ان میں ایک شخص کو بھی خشوع والا نہ پاؤگے۔ ترمذی

اِن دِنوں موبائل کا استعمال عام ہوگیاہے، حتی کہ تقریباً ہر نماز میں مسجد کے کسی جانب سے موبائل کی گھنٹی کی آواز سنائی دے جاتی ہے۔ لہٰذا ہمیں اس بات کا خاص اہتمام کرنا چاہئے کہ نماز سے قبل موبائل بند کردیں یا کم از کم Silent کردیں تاکہ ہماری نمازوں میں خلل واقع نہ ہو۔ اگر کبھی موبائل کو Silent کرنا بھول جائیں اور نماز کے دوران گھنٹی بجنے لگے تو ایک ہاتھ کے استعمال سے موبائل کو فوراً Silent کردیں ، آجکل تمام ہی موبائل میں ایک ہاتھ کے استعمال سے موبائل کو Silent کرنے کی سہولت موجود ہے۔ اگر کسی وجہ سے دونوں ہاتھ کا استعمال ہوجائے تو بعض علماء کی رائے ہے کہ نماز باطل نہیں ہوگی اور نماز کا لوٹانا ضروری نہیں، جبکہ دیگر علماء کرام عمل کثیر کی وجہ سے نماز کے اعادہ کا حکم دیتے ہیں۔

قرآن کریم اور احادیث نبویہ میں نماز کو خشوع وخضوع اور اطمینان وسکون کے ساتھ ادا کرنے کی بار بار تعلیم دی گئی ہے کیونکہ اصل نماز وہی ہے جو خشوع وخضوع اور اللہ کے دھیان کے ساتھ ادا کی جائے اور ایسی ہی نماز پر اللہ تعالیٰ انسان کو دنیا اور آخرت کی کامیابی عطا فرماتے ہیں، لہٰذا نماز شروع کرنے سے قبل، بلکہ مسجد میں داخل ہونے سے قبل ہی موبائل کو کم از کم Silent ضرور کردیاکریں۔

محمد نجیب قاسمی سنبھلی (www.najeebqasmi.com)