بسم الله الرحمن الرحيم

اَلْحَمْدُ لِله رَبِّ الْعَالَمِيْن،وَالصَّلاۃ وَالسَّلام عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن۔

موزوں اور جُرَّابوں پر مسح کرنے کا حکم

اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن کریم (سورۃ المائدہ ۶) میں ارشاد فرمایا: ۔ اے ایمان والو! جب تم نماز کے لئے اٹھو تو اپنے چہرے کو اور کہنیوں تک اپنے ہاتھوں کو دھولو، اپنے سر کا مسح کرلو، اور اپنے پاؤں (بھی) ٹخنوں تک دھولو۔
اس آیت میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ نماز پڑھنے سے قبل وضو کرلیا کرو جس میں چار چیزیں ضروری ہیں، جن کے بغیر وضو ہوہی نہیں سکتا۔ ۱) پورے چہرہ کا دھونا۔ ۲) دونوں ہاتھوں کوکہنیوں سمیت دھونا۔ ۳) سر کا مسح کرنا۔ ۴) دونوں پیر ٹخنوں سمیت دھونا۔
اہل وسنت والجماعت کے تمام مفسرین ومحدثین وفقہاء وعلماء کرام نے اس آیت ودیگر متواتر احادیث کی روشنی میں تحریر فرمایا ہے کہ وضو میں پیروں کا دھونا ہی شرط ہے، سر کے مسح کی طرح پیروں کا مسح کرنا کافی نہیں ہے۔ لیکن متواتر احادیث سے ثابت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم   نے بعض مرتبہ پیر دھونے کے بجائے چمڑے کے موزوں پر مسح بھی کیا ہے۔ حضرت امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ قرآن کریم میں وضاحت کے ساتھ پیروں کے دھونے کا ذکر آیا ہے، میں اُس وقت تک موزوں (چمڑے کے) پر مسح کا قائل نہیں ہوا جب تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم   کا عمل متواتر احادیث سے میرے پاس نہیں پہنچ گیا۔
غرضیکہ قرآن کریم میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ وضو کے صحیح ہونے کے لئے دونوں پیروں کا دھونا شرط ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص وضو کرنے کے بعد (چمڑے کے )موزے پہن لے تو مقیم ایک دن وایک رات تک اور مسافر تین دن و تین رات تک وضو میں پیروں کو دھونے کے بجائے (چمڑے کے )موزوں کے اوپری حصہ پر مسح کرسکتا ہے، جیسا کہ متواتر احادیث سے ثابت ہے۔ اگر کوئی شخص چمڑے کے بجائے سوت یا اون یا نایلون کے موزے پہنے ہوئے ہے تو جمہور فقہاء وعلماء کی رائے ہے کہ ان پر مسح کرنا جائز نہیں ہے بلکہ پیروں کا دھونا ہی ضروری ہے۔ اس مسئلہ کو سمجھنے سے قبل موزوں کے اقسام کوسمجھیں:
اگر موزے صرف چمڑے کے ہوں تو اُنہیں خُفَّین کہا جاتا ہے۔اگر کپڑے کے موزے کے دونوں طرف یعنی اوپر ونیچے چمڑا بھی لگا ہوا ہے تو اسے مُجَلّدین کہتے ہیں۔اگر موزے کے صرف نچلے حصہ میں چمڑا لگا ہوا ہے تو اسے مُنَعَّلین کہتے ہیں۔جَوْرَب: سوت یا اون یا نایلون کے موزوں کو کہا جاتا ہے، اِن کو جُرَّاب بھی کہتے ہیں۔
موزے کی ابتدائی تینوں قسموں پر مسح کرنا جائز ہے، لیکن جمہور فقہاء وعلماء نے احادیث نبویہ کی روشنی میں تحریر کیا ہے کہ جراب یعنی سوت یا اون یا نایلون کے موزوں پر مسح کرنا اسی وقت جائز ہوگا جب ان میں ثخین (یعنی موٹا ہونے) کی شرائط پائی جاتی ہوں، یعنی وہ ایسے سخت اورموٹے کپڑوں کے بنے ہوں کہ اگر ان پر پانی ڈالا جائے تو پاؤں تک نہ پہنچے۔معلوم ہوا کہ سوت یا اون یا نایلون کے موزوں (جیساکہ موجودہ زمانے میں عموماً پائے جاتے ہیں) پر مسح کرنا جائز نہیں ہے۔
ہندوپاک کے علماء حتی کہ اہل حدیث علماء نے بھی یہی تحریر فرمایا ہے کہ عام نایلون کے موزوں پر جیساکہ عموماً موجودہ زمانے میں موزے استعمال کئے جاتے ہیں مسح کرنا جائز نہیں ہے۔ مگر کچھ لوگوں کو دیکھ کر ہم نے بھی عام موزوں پر مسح کرنا شروع کردیا ہے خواہ موزوں پرمسح کرنے کے مسائل سے واقف ہیں یا نہیں۔
ہندو پاک کے علماء نے (جو مختلف فیہ مسائل میں ۸۰ ہجری میں پیدا ہوئے مشہور تابعی وفقیہ حضرت امام ابوحنیفہ ؒ کی رائے کو اختیار کرتے ہیں) وضاحت کے ساتھ تحریر فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے صراحت کے ساتھ قرآن کریم میں فرمادیا کہ وضو میں پیروں کا دھونا ضروری ہے۔ جہاں تک موزوں پر مسح کرنے کا تعلق ہے تو صرف انہیں موزوں پر مسح کرنے کی گنجائش ہوگی جن پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم   نے مسح کیا ہو یا مسح کرنے کی تعلیم دی ہو اور وہ احادیث صحیحہ سے ثابت ہوں۔ کسی شک وشبہ والے قول یا خبر آحاد کو قرآن کریم کے واضح حکم کے مقابلہ میں قبول نہیں کیا جائے گا۔ جراب (سوت یا اون یا نایلون کے موزوں ) پر مسح کرنے کی کوئی دلیل کتب حدیث میں موجود نہیں ہے۔
مشہور اہل حدیث عالم مولانا محمد عبد الرحمن مبارکپوری ؒ نے ترمذی کی مشہور شرح (تحفۃ الاحوذی شرح جامع الترمذی) میں باب ما جاء فی المسح علی الجوربین والنعلین کے تحت اس موضوع پر جو تفصیلی بحث فرمائی ہے اس کا خلاصۂ کلام یہ ہے: جرابوں (جیساکہ آجکل موزے استعمال ہوتے ہیں) پر مسح کی کوئی دلیل نہیں ہے ، نہ تو قرآن کریم سے نہ سنت سے نہ اجماع سے اور نہ قیاس صحیح سے۔ (چمڑے کے) موزوں پر مسح کی بابت بہت سی احادیث منقول ہیں جن کے صحیح ہونے پر علماء کا اجماع ہے۔ متواتر احادیث کی وجہ سے ظاہر قرآن کو چھوڑکر ان پر بھی عمل کیاگیا۔ جب کہ جرابوں (جیساکہ آجکل موزے استعمال ہوتے ہیں) پر مسح کی بابت جو روایات منقول ہیں ان پر بہت زیادہ تنقیدیں ہوئی ہیں، پس اس قسم کی ضعیف روایات کی وجہ سے ظاہر قرآن کو کیونکر چھوڑا جاسکتا ہے۔ صحابۂ کرام کے موزوں کی طرح کی جرابوں پر آج کل کی باریک جرابوں کو قیاس کرنا قطعاً درست نہیں۔ ہاں اگر آج بھی موزوں کی طرح کی جرابوں کو کوئی استعمال کرتا ہے تو ان پر مسح کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔۔۔ تحفۃ الاحوذی
مشہور اہل حدیث عالم شیخ نذیر حسین دہلوی ؒ سے پوچھا گیا کہ اونی اور سوتی جرابوں پر مسح جائز ہے یا نہیں ہے؟ وہ جواب میں تحریر کرتے ہیں کہ مذکورہ جرابوں پر مسح جائز نہیں ہے کیونکہ اس کی کوئی صحیح دلیل قرآن وسنت میں نہیں ملتی اور مجوزین نے جن چیزوں سے استدلال کیا ہے اس میں خدشات ہیں، پھر خدشات کا ذکر فرماکر تحریر کیا کہ جرابوں پر مسح جائز ہونے کی کوئی دلیل نہیں ہے۔۔۔فتاوی نذیریہ
نمازایمان کے بعد اسلام کا سب سے اہم وبنیادی رکن ہے، قرآن کریم کی سینکڑوں آیات میں نماز پڑھنے کی تاکید وارد ہوئی ہے اور پوری امت مسلمہ کا اجماع ہے کہ وضو کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔ قرآن کریم میں صراحت کے ساتھ وضو میں پیروں کے دھونے کا ذکر آیا ہے لہذا صرف اُن ہی شرائط کے ساتھ اور اُن ہی موزوں پر مسح کرنا جائز ہوگا جن کا ثبوت احادیث صحیحہ سے ملتا ہے۔ جراب یعنی آجکل کے عام موزوں پر مسح کرنے کا کوئی ثبوت احادیث صحیحہ میں نہیں ملتا ۔ لہذا آجکل کے عام موزوں پر مسح نہ کریں، ہاں اگر مسح کرنے کا ارادہ ہے تو چمڑے کے موزوں کا استعمال کریں، ورنہ پیروں کو دھوئیں تاکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم   کی آنکھوں کی ٹھنڈک یعنی نمازیں صحیح طریقہ پر ادا ہوں۔
محمد نجیب سنبھلی قاسمی (www.najeebqasmi.com)