Print

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيْم

اَلْحَمْدُ لِلّهِ رَبِّ الْعَالَمِيْن،وَالصَّلاۃ وَالسَّلامُ عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن۔

تین افراد کا غار میں بند ہونے پر نیک عمل کا وسیلہ بناکر اللہ سے دعا کرنا

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے حضور اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ تم سے پہلی امت کے تین آدمی سفر کررہے تھے۔ رات گزارنے کے لئے ایک غار میں داخل ہوئے۔ پہاڑ سے ایک پتھر نے لڑھک کر غار کے منہ کو بند کردیا۔ انہوں نے آپس میں ایک دوسرے سے کہا کہ اس پتھر سے ایک ہی صورت میں نجات مل سکتی ہے کہ تم اپنے نیک اعمال کے وسیلہ سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کرو۔ چنانچہ ان میں سے ایک نے کہا: اے اللہ! میرے والدین بہت بوڑھے تھے، میں ان سے پہلے کسی کو دودھ نہ پلاتا تھا۔ ایک دن لکڑی کی تلاش میں میں بہت دور نکل گیا، جب شام کو واپس لوٹا تو وہ دونوں سوچکے تھے۔ میں نے ان کے لئے دودھ نکالا اور ان کی خدمت میں لے آیا۔ میں نے ان کو سویا ہوا پایا۔ میں نے ان کو جگانا ناپسند سمجھا اور ان سے پہلے اہل وعیال وخدام کو دودھ دینابھی پسند نہ کیا۔ میں پیالا ہاتھ میں لئے ان کے جاگنے کے انتظار میں طلوع فجر تک ٹھہرا رہا۔ حالانکہ بچے میرے قدموں میں بھوک سے بلبلاتے تھے۔ اسی حالت میں فجر طلوع ہوگئی۔ وہ دونوں بیدار ہوئے اور اپنے شام کے حصہ والا دودھ نوش کیا۔ اے اللہ! اگر یہ کام میں نے تیری رضامندی کی خاطر کیا تو تو اس چٹان والی مصیبت سے نجات عنایت فرما۔ چنانچہ چٹان تھوڑی سی اپنی جگہ سے سرک گئی۔ مگر ابھی غار سے نکلنا ممکن نہ تھا۔ دوسرے نے کہا: اے اللہ! میری ایک چچازاد بہن تھی۔ وہ مجھے سب سے زیادہ محبوب تھی۔میں نے اس سے اپنی نفسانی خواہش پورا کرنے کا اظہار کیا مگر وہ اس پر آمادہ نہ ہوئی۔ یہاں تک کہ قحط سالی کا ایک سال پیش آیا جس میں وہ میرے پاس آئی۔ میں نے اس کو ایک سو بیس دینار اس شرط پر دئے کہ وہ اپنے نفس پر مجھے قابو دے گی۔ اس نے آمادگی ظاہر کی اور قابو دیا۔جب میں اس کی دونوں ٹانگوں کے درمیان بیٹھ گیا تو اس نے کہا تو اللہ سے ڈر!اور اس مہر کو ناحق وناجائز طور پر مت توڑ۔ چنانچہ میں اس فعل سے باز آگیا حالانکہ مجھے اس سے بہت محبت بھی تھی۔ اور میں نے وہ ایک سو بیس دینار اس کو ہبہ کردئے۔ یا اللہ اگر میں نے یہ کام خالص تیری رضاجوئی کے لئے کیا تھا تو ہمیں اس مصیبت سے نجات عنایت فرما جس میں ہم مبتلا ہیں۔ چنانچہ چٹان کچھ اور سرک گئی۔ مگر ابھی تک اس سے نکلنا ممکن نہ تھا۔ تیسرے نے کہا! یا اللہ میں نے کچھ مزدور اجرت پر لگائے اور ان تمام کو مزدوری دے دی۔ مگر ایک آدمی ان میں سے اپنی مزدوری چھوڑ کر چلا گیا۔ میں نے اس کی مزدوری کاروبار میں لگا دی۔ یہاں تک کہ بہت زیادہ مال اس سے جمع ہوگیا۔ ایک عرصہ کے بعد وہ میرے پاس آیا اور کہنے لگا۔ اے اللہ کے بندے میری مزدوری مجھے عنایت کردو۔ میں نے کہا تم اپنے سامنے جتنے اونٹ، گائیں، بکریاں اور غلام دیکھ رہے ہو، یہ تمام تیری مزدوری ہے۔ اس نے کہا اے اللہ کے بندے میرا مذاق مت اڑا۔ میں نے کہا میں تیرے ساتھ مذاق نہیں کرتا۔ چنانچہ وہ سارا مال لے گیا اور اس میں سے ذرہ برابر بھی نہیں چھوڑا۔ اے اللہ اگر میں نے یہ تیری رضامندی کے لئے کیا تو تو اس مصیبت سے جس میں ہم مبتلا ہیں، ہمیں نجات عطا فرما۔ پھر کیا تھا چٹان ہٹ گئی اور تینوں باہر نکل گئے۔ مسلم ۔ کتاب الرقاق ۔ باب قصہ اصحاب الغار الثلاثہ والتوسل بصالح الاعمال

وسیلہ:مذکورہ حدیث میں نیک اعمال کے وسیلہ سے دعامانگی گئی۔ وسیلہ کا مطلب ہے کہ کسی مقبول عمل یا مقرب بندے مثلاً حضور اکرم ﷺ کا واسطہ پیش کرکے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگنا۔ یعنی اس بات کا پورا یقین اور ایمان کہ دینے والی، بخشنے والی صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے اور کوئی نیک بندہ حتی کی نبی یا رسول بھی خدائی میں شریک نہیں ہوسکتا ہے۔ لیکن اپنی عاجزی وانکساری کا اظہار کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا اور نبی اکرم ﷺپر درود بھیجنے کے بعد اپنے کسی مقبول عمل یا حضور اکرم ﷺ کا واسطہ پیش کرکے اللہ تعالیٰ سے کوئی دعا کرنا وسیلہ کہلاتا ہے۔

وسیلہ کی تین قسمیں ہیں: ۱) اللہ تعالیٰ کے نام اور صفات کے ذریعہ اللہ تعالیٰ سے اپنی ضرورت مانگنا، جیساکہ فرمان الٰہی ہے: وَلِلّٰہِ الْاَسْمَاءُ الْحُسْنٰی فَادْعُوْ بِہَا (سورۃ الاعراف ۱۸۰)اور اسماء حسنی (اچھے اچھے نام) اللہ ہی کے ہیں، ان ناموں کے ذریعہ (اللہ کی تسبیح وتحمید وتکبیر یعنی ذکر الٰہی کے ذریعہ) اس سے دعائیں مانگو۔ ۲) اپنے کسی مقبول عمل مثلاً نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج، ذکر اور تلاوت قرآن کو وسیلہ بناکر اللہ تعالیٰ سے دعا مانگنا، جیسا کہ بخاری ومسلم میں مذکور موضوع بحث حدیث میں تفصیل سے ذکر کیا گیا۔ ۳) کسی مقرب بندے مثلاً قیامت تک آنے والے انس وجن کے نبی ورسول ﷺکے وسیلہ سے اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگنا۔

پہلی دو شکلوں کے جواز پر پوری امت مسلمہ کا اتفاق ہے، لیکن تیسری شکل کے متعلق علماء کرام کا اختلاف ہے۔ علماء کی ایک جماعت نے اس کو شرک قرار دے کر اس کے عدم جواز کا فتویٰ جاری کیا، جبکہ علماء کی دوسری جماعت نے مسئلہ مذکورہ کو قرآن وحدیث سے مدلل کرکے اس کے جواز کا فتویٰ دیا ہے۔ تحقیقی بات یہی ہے کہ توسل بالنبی ﷺ کو شرک قرار دینا صحیح نہیں ہے کیونکہ نبی اکرم ﷺ کے وسیلہ کے ذریعہ دعا مانگنے میں اللہ تعالیٰ ہی سے دعا مانگی جاتی ہے۔ حضور اکرم ﷺ کے وسیلہ سے دعا مانگنے والا صرف یہ یقین رکھتا ہے کہِ اس کے ذریعہ اُس کی دعا کا بارگاہ الٰہی میں شرف قبولیت پانے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ ہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعاؤں کی قبولیت کے لئے وسیلہ شرط نہیں ہے، مگر مفید اور کارگر ضرور ہے۔ علماء کرام کی دوسری جماعت نے نبی کے وسیلہ سے دعا کرنے کے جواز کے لئے قرآن وحدیث کے متعدد دلائل پیش کئے ہیں، جن میں دو احادیث پیش خدمت ہیں:

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب کبھی قحط پڑتا تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کے وسیلہ سے دعاء استغفار کرتے۔ آپ (حضرت عمرؓ) فرماتے کہ اے اللہ! ہم اپنے نبی کو وسیلہ بناتے تھے اور (حضور اکرم ﷺ کی برکت سے) آپ (اللہ تعالیٰ) بارش برساتے تھے۔ اب ہم اپنے نبی کے چچا کو وسیلہ بناتے ہیں، آپ بارش برسائیے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ خوب بارش برستی۔ (صحیح بخاری ۔ کتاب الاستسقاء ۔ باب سؤال الناس الامام الاستسقاء اذا قحط) اسی طرح صحیح بخاری وصحیح مسلم میں وارد ہے کہ حضور اکرم ﷺ کے زمانہ میں ایک بار قحط پڑا۔ حضور اکرم ﷺ خطبہ دے رہے تھے کہ ایک اعرابی نے کہا یا رسول اللہ! مال تباہ ہوگیا اور اہل وعیال دانوں کو ترس گئے۔ آپ ہمارے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیں۔ آپ ﷺ نے ہاتھ اٹھائے۔ اس وقت بادل کا ٹکڑا بھی آسمان پر نظر نہیں آرہا تھا۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے ابھی آپ نے ہاتھوں کو نیچے بھی نہیں کیا تھا کہ پہاڑوں کی طرح گھٹا امڈ آئی اور ابھی آپ ﷺ منبر سے اترے بھی نہیں تھے کہ میں نے دیکھا کہ بارش کا پانی آپﷺ کی داڑھی مبارک سے ٹپک رہا تھا۔اس دن، اس کے بعد اور پھر متواتر آئندہ جمعہ تک بارش ہوتی رہی۔ دوسرے جمعہ کو یہی اعرابی پھر کھڑا ہوااور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! عمارتیں منہدم ہوگئیں اور مال واسباب ڈوب گئے۔ آپ ہمارے لئے دعا کیجئے۔ آپ ﷺ نے ہاتھ اٹھائے اور دعا کی کہ اے اللہ! اب دوسری طرف بارش برسائیے اور ہم سے روک دیجئے۔ آپ ﷺ ہاتھ سے بادل کے جس طرف بھی اشارہ کرتے ادھر مطلع صاف ہوجاتا ۔ (صحیح بخاری ۔ کتاب الجمعہ ۔ باب الاستسقاء ) معلوم ہوا کہ صحابۂ کرام مصیبت کے وقت حضور اکرم ﷺ کا وسیلہ اختیار کرتے تھے۔

علماء کی پہلی جماعت نے ان دونوں احادیث کا یہ کہہ کر جواب دیا ہے کہ اس میں زندہ شخص کے ذریعہ وسیلہ کا ذکر ہے۔ اس پر دوسری جماعت نے جواب دیا کہ قرآن وحدیث میں کسی بھی جگہ یہ مذکور نہیں ہے کہ زندوں کے وسیلہ سے دعا مانگی جاسکتی ہے، مردوں کے وسیلہ کے ذریعہ نہیں۔ اور اس نوعیت کی تخصیص وتعیین کے لئے قرآن وحدیث کی دلیل مطلوب ہے اور وہ موجود نہیں ہے۔غرضیکہ حضور اکرم ﷺ کے وسیلہ کے ذریعہ دعا مانگنے کے جواز اور عدم جواز کے متعلق علماء کی آراء مختلف ہیں۔ اس اختلاف کو جھگڑا نہ بنایا جائے۔ جواز کے قائلین حضور اکرم ﷺ کے وسیلہ سے دعامانگتے رہیں۔ اور عدم جواز کے قائلین آپ ﷺ کے وسیلہ سے دعا نہ مانگے۔ اسی طرح امت مسلمہ میں اتفاق واتحاد ہوسکتا ہے، جس کی اس زمانہ میں سخت ضرورت ہے۔

موضوع بحث حدیث میں تین نیک اعمال کے وسیلہ سے دعا مانگی گئی۔ ۱) والدین کی خدمت ۲) اللہ کے خوف کی وجہ سے زنا سے بچنا۔ ۳) حقوق العباد کی کما حقہ ادائیگی اور معاملات میں صفائی۔

والدین کی خدمت: قرآن وحدیث میں والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی خصوصی تاکید کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے متعدد مقامات پر اپنی توحید وعبادت کا حکم دینے کے ساتھ والدین کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے کا حکم دیا ہے، جس سے والدین کی اطاعت ان کی خدمت اور ان کے ادب واحترام کی اہمیت واضح ہوجا تی ہے۔ احادیث میں بھی والدین کی فرمانبرداری کی خاص اہمیت وتاکید اور اس کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو والدین کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے والا بنائے۔ ان کی فرمانبرداری کرنے والا بنائے۔ ان کے حقوق کی ادائیگی کما حقہ ادا کرنے والا بنائے۔

شرمگاہ کی حفاظت: اللہ تعالیٰ نے جنسی خواہش کی تکمیل کا ایک جائز طریقہ یعنی نکاح مشروع کیا ہے۔ سورۃ مؤمنون کی ابتدائی آیات میں انسان کی کامیابی کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک شرط یہ بھی رکھی ہے کہ ہم جائز طریقہ کے علاوہ اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔ ان آیات کے اختتام پر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: میاں بیوی کا ایک دوسرے سے شہوت نفس کو تسکین دینا قابل ملامت نہیں بلکہ انسان کی ضرورت ہے۔ لیکن جائز طریقہ کے علاوہ کوئی بھی صورت شہوت پوری کرنے کی جائز نہیں ہے جیساکہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: جائز طریقہ کے علاوہ کوئی اور طریقہ اختیار کرنا چاہیں تو ایسے لوگ حد سے گزرے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے زنا کے قریب بھی جانے کو منع فرمایا ہے۔ (سورۃ الاسراء ۳۲) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: آنکھ بھی زنا کرتی ہے اور اس کا زنا نظر ہے۔ آج روزہ مرہ کی زندگی میں مرد وعورت کا کثرت سے اختلاط، مخلوط تعلیم، بے پردگی، TVاور انٹرنیٹ پر فحاشی اور عریانی کی وجہ سے ہماری ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ ہم خود بھی زنا اور زنا کے لوازمات سے بچیں اور اپنے بچوں، بچیوں اور گھر والوں کی ہر وقت نگرانی رکھیں کیونکہ اسلام نے انسان کو زنا کے اسباب سے بھی دور رہنے کی تعلیم دی ہے۔ زنا کے وقوع ہونے کے بعد اس پر ہنگامہ، جلسہ وجلوس ومظاہروں کے بجائے ضرورت اس بات کی ہے کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق حتی الامکان غیر محرم مردوعورت کے اختلاط سے ہی بچا جائے۔

حقوق العباد کی ادائیگی اور معاملات میں صفائی: ہمیں حقوق العباد کی ادائیگی میں کوئی کوتاہی نہیں کرنی چاہئے ۔نبی اکرم ﷺنے ارشاد فرمایاہے: کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہے؟ صحابہ نے عرض کیا : ہمارے نزدیک مفلس وہ شخص ہے جس کے پاس کوئی پیسہ اور دنیا کا سامان نہ ہو۔ آپﷺنے ارشاد فرمایا: میری امت کا مفلس وہ شخص ہے جو قیامت کے دن بہت سی نماز، روزہ، زکاۃ (اور دوسری مقبول عبادتیں) لے کر آئے گا مگر حال یہ ہوگا کہ اس نے کسی کو گالی دی ہوگی، کسی پر تہمت لگائی ہوگی، کسی کا مال کھایا ہوگا، کسی کا خون بہایا ہوگا یا کسی کو مارا پیٹا ہوگا تو اس کی نیکیوں میں سے‘ ایک حق والے کو (اس کے حق کے بقدر) نیکیاں دی جائیں گی، ایسے ہی دوسرے حق والے کو اس کی نیکیوں میں سے (اس کے حق کے بقدر) نیکیاں دی جائیں گی۔ پھر اگر دوسروں کے حقوق چکائے جانے سے پہلے اس کی ساری نیکیاں ختم ہوجائیں گی تو (ان حقوق کے بقدر) حقداروں اور مظلوموں کے گناہ (جو انہوں نے دنیا میں کئے ہوں گے) ان سے لے کر اس شخص پر ڈال دئے جائیں گے ، اور پھر اس شخص کو دوزخ میں پھینک دیا جائے گا۔ مسلم

مذکورہ بالا حدیث میں تینوں شخص کے واقعات میں اللہ تعالیٰ کا خوف، اس سے امید اور اس کی رضامندی کا حصول ہی کارفرما ہے۔ یعنی پوری رات دودھ کا پیالا لے کر والدین کے پاس کھڑے رہنا اور اپنی واولاد کی بھوک کے باوجود والدین سے پہلے خود دودھ پینے سے رکے رہنا، اپنی محبوبہ سے مکمل قدرت کے باوجود زنا سے بچنا اور تمام اونٹ، گائیں ، بکریاں اور خدام اپنی حاجت کے باوجود بغیر کسی معاوضہ کے پیش کردینا صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کا خوف، اس سے امید اور اس کی رضا مندی کے حصول کے لئے کیا گیا۔ ہمیں بھی ہمیشہ یہی خیال رکھنا چاہئے کہ ہمیں اپنی زندگی کے ہر ایک لمحہ کا حساب خالق کائنات کو دینا ہے جو ہمارے ایک ایک پل سے واقف ہے۔ ہمیں صرف اسی کی رضامندی مطلوب ہونی چاہئے۔

محمد نجیب قاسمی سنبھلی (www.najeebqasmi.com)