بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيْم

اَلْحَمْدُ لِلّهِ رَبِّ الْعَالَمِيْن،وَالصَّلاۃ وَالسَّلامُ عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن۔

کیا ایک صور پوری کائنات کو ختم کردے گا؟

سورۃ القارعہ کا آسان ترجمہ: یاد کرو وہ واقعہ جو دِل دہلاکر رکھ دے گا۔ کیا ہے وہ دل دہلانے والا واقعہ؟ اور تمہیں کیا معلوم وہ دل دہلانے والا واقعہ کیا ہے۔ جس دن سارے لوگ پھیلے ہوئے پروانوں کی طرح ہوجائیں گے۔ اور پہاڑ دھنکے ہوئے رنگین اُون کی طرح ہوجائیں گے۔ جس شخص کے پلڑے وزنی ہوں گے (یعنی جس نے دنیا میں اچھے اعمال کیے ہوں گے) تو وہ من پسند زندگی میں ہوگا (یعنی جنت میں ہوگا)۔ اور جس کے پلڑے ہلکے ہوں گے (یعنی جس نے دنیا میں اپنی خواہش کی اتباع کی ہوگی) تو اس کا ٹھکانا ایک گہرا گڑھا ہوگا۔ اور تمہیں کیا معلوم کہ وہ گہرا گڑھا کیا چیز ہے؟ وہ ایک دہکتی ہوئی آگ ہے (جس میں اللہ کے نافرمانوں اور گناہگاروں کو ڈالا جائے گا)۔

قرآن وحدیث کی روشنی میں پوری امت مسلمہ کا اتفاق ہے کہ ایک روز حضرت اسرافیل علیہ السلام کی صور سے پوری کائنات میں ایسا زلزلہ آئے گا کہ دودھ پلانے والی مائیں اپنے دودھ پیتے بچوں کو بھول جائیں گی اور حاملہ عورتوں کے حمل ساقط ہوجائیں گے۔ چیخ وپکار اور زلزلہ کی شدت بڑھتی جائے گی، جس سے تمام انسان اور جانور مرنا شروع ہوجائیں گے یہاں تک کہ کائنات میں کوئی بھی زندہ باقی نہ بچے گا، جیساکہ سورۃ الرحمن (۲۶۔۲۷) میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: اس زمین میں جو کوئی ہے وہ فنا ہونے والا ہے۔ اور صرف تمہارے پروردگار کی جلال والی ، فضل وکرم والی ذات باقی رہ جائے گی۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اس دن کا بار بار ذکر فرمایا ہے، صرف یوم القیامہ کا لفظ ۷۰ جگہوں پر وارد ہوا ہے۔ دیگر مذہبی کتابوں میں بھی اس دن کا تذکرہ ملتا ہے، حتی کہ عیسائی اور یہودی بھی اِس دن کو برحق مانتے ہیں۔ عقل کا تقاضا بھی یہی ہے کہ دنیا کے اِس عظیم نظام کا آخر کوئی اہم مقصد ضرور ہونا چاہئے اور اِس عجیب وغریب نظام کو چلانے والی ایک بہت بڑی ذات ہونی چاہئے جس کی طاقت کا ہم اندازہ نہیں لگاسکتے، اور اس دنیا میں کیے گئے اچھے اور برے اعمال کی جزا یا سزا بھی ملنی چاہئے۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں مختلف انداز سے اس دن کی ہولناکی کو ذکر کیا ہے۔ چند آیات کا ترجمہ پیش ہے: ’’جب سورج لپیٹ دیا جائے گا۔ اور جب ستارے ٹوٹ ٹوٹ کر گریں گے۔ اور جب پہاڑوں کو چلایا جائے گا۔ ۔۔ اور جب سمندروں میں طغیانی آجائے گی۔۔۔ اور جب آسمان کا چھلکا اتاردیا جائے گا۔ اور جب دوزخ بھڑکائی جائے گی۔ اور جب جنت قریب کردی جائے گی، تو اُس وقت ہر شخص کو اپنا سارا کیا دھرا معلوم ہوجائے گا۔‘‘ (سورۃ التکویر) ’’جب آسمان چِر جائے گا۔ اور جب ستارے جھڑ پڑیں گے۔ اور جب سمندروں کو اُبال دیا جائے گا۔ اور جب قبریں ا کھاڑ دی جائیں گی، اُس وقت ہر شخص کو پتہ چل جائے گا کہ اُس نے کیا آگے بھیجا اور کیا پیچھے چھوڑا یعنی کیا اعمال کیے۔‘‘ (سورۃ الانفطار) ’’جب آسمان پھٹ جائے گا۔ جب زمین کو کھینچ دیا جائے گا (یعنی زمین کو ربر کی طرح کھینچ کر موجودہ سائز سے بہت بڑا کردیا جائے گا تاکہ اس میں دنیا کے وجود سے لے کر قیامت تک کے سارے لوگ سماسکیں۔) اور اُس کے اندر جو کچھ ہے، وہ اُسے باہر پھینک دے گی اور خالی ہوجائے گی۔ اے انسان! تواپنے پروردگار کے پاس پہنچنے تک مسلسل کسی محنت (اللہ کی اطاعت) میں لگا رہے گا، یہاں تک کہ اُس سے جا ملے گا۔‘‘ (سورۃ الانشقاق) ’’اللہ وہ ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہ تمہیں ضرور بالضرور قیامت کے دن جمع کرے گا جس کے آنے میں کوئی شک نہیں ہے۔ اور کون ہے جو اللہ سے زیادہ بات کا سچا ہو؟‘‘ (سورۃ النساء) ’’یقین جانو فیصلہ کا دن ایک متعین وقت ہے۔ جس دن جب صور پھونکا جائے گا تو تم سب فوج در فوج چلے آؤ گے۔ اور جب آسمان کھول دیا جائے گاتو اُس کے دروازے ہی دروازے بن جائیں گے۔ اور جب پہاڑوں کو چلایا جائے گا تو وہ ریت کے سراب کی شکل اختیار کرلیں گے۔ یقین جانو جہنم گھات لگائے بیٹھی ہے۔ وہ سرکشوں کا ٹھکانا ہے۔ جس میں وہ مدتوں اس طرح تکلیفوں میں رہیں گے کہ وہ اُس میں نہ ٹھنڈک کا مزہ چکھیں گے اور نہ پینے کے قابل کوئی چیز اُن کو دی جائے گی، سوائے گرم پانی اور پیپ ولہو کے۔ یہ اُن کا پورا پورا بدلہ ہوگا۔ وہ اپنے اعمال کے حساب کا عقیدہ نہیں رکھتے تھے۔ اور انہوں نے ہماری آیتوں کو بڑھ چڑھ کر جھٹلایا تھا۔ اور ہم نے ہر چیز کو لکھ کر محفوظ کررکھا ہے۔ اب مزہ چکھو! اس لیے کہ ہم تمہارے لیے سزا کے سوا کسی چیز میں اضافہ نہیں کریں گے۔‘‘ (سورۃ النبا )’ ’ہم اُنہیں قیامت کے دن منہ کے بل اس طرح اکٹھا کریں گے کہ وہ اندھے، گونگے اور بہرے ہوں گے۔ ان کا ٹھکانا جہنم ہوگا۔ جب کبھی اُس کی آگ دھیمی ہونے لگے گی ، ہم اسے اور زیادہ بھڑکا دیں گے۔ یہ اُن کی سزا ہے کیونکہ انہوں نے ہماری آیتوں کا انکار کیا تھا، اور یہ کہا تھا کہ کیا جب ہم مر کر ہڈیاں ہی ہڈیاں رہ جائیں گے، اور چورا چورا ہوجائیں گے تو کیا پھر بھی ہمیں نئے سرے سے زندہ کرکے اٹھایا جائے گا؟ بھلا کیا اُنہیں اتنی سی بات نہ سوجھی کہ وہ اللہ جس نے سارے انسانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے، وہ اس پر قادر ہے کہ ان جیسے آدمی پھر سے پیدا کردے؟ اور اُس نے اُن کے لیے ایک ایسی میعاد مقرر کررکھی ہے جس کے آنے میں ذرا بھی شک نہیں ہے۔‘‘ سورۃ الاسراء

قیامت کا دن پچاس ہزار سال کے برابر ہوگا جیساکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام میں ذکر فرمایا ہے۔ لیکن قیامت کب آئی آئے گی؟ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو اِس کا علم نہیں ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں متعدد مرتبہ ذکر فرمایا۔ اِس وقت صرف ایک آیت پیش ہے۔ ’’یہ لوگ آپ سے قیامت کے متعلق پوچھتے ہیں کہ وہ کب واقع ہوگی؟ آپ فرمادیجئے کہ اس کا علم صرف میرے رب کے پاس ہے۔ وہی اُسے اپنے وقت پر کھول کر دکھائے گا، کوئی اور نہیں۔ وہ آسمانوں اور زمین میں بڑی بھاری چیز ہے۔ جب آئے گی تو تمہارے پاس اچانک آجائے گی۔‘‘ (سورۃ الاعراف) قیامت کے وقوع ہونے کی تاریخ ایسا راز ہے جو خالق کائنات نے کسی فرشتے یا نبی کو بھی نہیں بتایا۔ حضرت جبرئیل علیہ السلام نے نبی اکرمﷺ سے پوچھا تو اُن کو بھی یہی جواب ملاکہ جس سے پوچھا جارہا ہے وہ سائل سے زیادہ نہیں جانتا۔ (مسلم) حضور اکرم ﷺ نے ایک مرتبہ شہادت اور درمیان والی انگلی کو ملاکر ارشاد فرمایا کہ جس طرح یہ دونوں انگلیاں ایک دوسرے سے ملی ہوئی ہیں ، بس سمجھیں کہ میں بھی قیامت کے ساتھ اس طرح بھیجا گیا ہوں۔ (مسلم) یعنی حضور اکرم ﷺ وقیامت کے درمیان کا وقت دنیا کے وجود سے لے کر حضور اکرم ﷺ کی بعثت تک گزرے ہوئے زمانہ کے مقابلہ میں بہت کم ہے۔

حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ حضرت اسرافیل علیہ السلام اپنی پیدائش کے وقت سے لے کر اب تک صور اپنے منہ پر رکھے ہوئے اللہ تعالیٰ کے حکم کے انتظار میں ہیں جیسے ہی حکم ہوگا ویسے ہی وہ صور پھونک دیں گے۔ (مسند احمد) نیز نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرما یا کہ جمعہ سارے دنوں کا سردار ہے اور جمعہ کے روز ہی قیامت قائم ہوگی۔ (ابن ماجہ) صور دو مرتبہ پھونکا جائے گا، پہلے صور کے بعد اُس وقت میں موجود ساری مخلوق مرجائے گی، اور دوسرے صور کے بعد زندہ ہوجائے گی۔ (سورۃ الزمر ۶۸ ومسلم) دونوں صور پھونکنے کی درمیانی مدت اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ (مسلم) صور کی شکل کسی جانور کے سینگ کی طرح ہوگی جس میں پھونک ماری جائے گی۔ (ترمذی) صور کی آواز اس قدر شدید ہوگی کہ جیسے جیسے لوگ اس کی آواز سنتے جائیں گے مرتے جائیں گے۔ (مسلم) دوسرے صور کے بعد لوگ قبروں سے اٹھ کر گروہ در گروہ اللہ تعالیٰ کی عدالت میں حاضر ہونا شروع ہوجائیں گے۔ (سورۃ النبا) لوگ اپنی قبروں سے اس تیزی سے اٹھیں گے جس تیزی سے ٹڈیاں فضا میں بکھرتی ہیں۔ (سورۃ القمر) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: لوگ قیامت کے دن ننگے پاؤں، ننگے بدن اور ختنہ کے بغیر اکٹھا کیے جائیں گے۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول! کیا سب مرد وعورتیں ایک دوسرے کی طرف نہیں دیکھیں گے۔ حضوراکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اے عائشہ! وہ دن اتنا سخت ہوگا کہ کسی کو ایک دوسرے کی طرف دیکھنے کا ہوش بھی نہ ہوگا۔ مسلم

دنیا کے وجود سے لے کر قیامت تک سارے انسان میدان حشر میں جمع ہوجائیں گے۔ (سورۃ الکہف ۴۷) لوگوں کے جمع ہونے کی جگہ یعنی میدان حشر سرزمین شام میں ہوگا۔ (مسند احمد) حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن سورج مخلوق سے صرف میل بھر فاصلہ پر آجائے گا اور لوگ اپنے اعمال کے مطابق پسینہ میں ڈوبے ہوئے ہوں گے، کوئی ٹخنوں تک، تو کوئی گھٹنوں تک پسینہ میں ڈوبا ہوا ہوگا۔ لیکن نیک لوگوں کے لیے حشر کا پچاس ہزار سال کا طویل عرصہ ایک گھڑی کے برابر محسوس ہوگا۔ (طبرانی، صحیح بن حبان) حشر کی گرمی، پسینہ اور طویل مدت سے تنگ آکر اللہ کے نافرمان لوگ دعا کریں گے کہ یا اللہ! ہمیں حشر سے نجات دے خواہ انہیں جہنم میں ہی ڈال دیا جائے۔ حوض کوثر قیامت کے میدان میں ہوگا۔ حوض کوثر پر نبی اکرمﷺ کی امت جنت میں داخل ہونے سے قبل پانی پئے گی۔ نبی اکرم ﷺ اس حوض کے وسط میں تشریف فرما ہوں گے۔ حوض کوثر کا پانی دودھ سے زیادہ سفید، برف سے زیادہ ٹھنڈا، شہد سے زیادہ میٹھا ہوگا۔ اس کی تہ کی مٹی مشک سے زیادہ خوشبودار ہوگی۔ جو اس کا پانی پی لے گا اسے پھر کبھی پیاس نہ لگے گی۔

قیامت کے دن گرمی اپنے شباب پر ہوگی اور ہر آدمی کو بمشکل دو قدم رکھنے کے لیے جگہ ملے گی۔ مگر اس سخت پریشانی کے وقت بھی سات قسم کے آدمی ہیں جن کو اللہ تعالیٰ اپنے (رحمت کے) سایہ میں جگہ عطا فرمائے گا، اور اس دن اس کے سایہ کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا۔ ایک انصاف پسند بادشاہ۔ دوسرا وہ نوجوان جس نے اپنی جوانی اللہ کی عبادت میں لگائی۔ تیسرا اللہ کا وہ نیک بندہ جس کا دل مسجد سے اٹکا ہوا ہو یعنی وقت پر نماز ادا کرتا ہو۔ چوتھا وہ شخص جو اللہ کے لیے محبت کرتا ہو اور اللہ کے لیے ہی دشمنی کرتا ہو۔ پانچواں شخص وہ ہے جسے خوبصورت اور اچھے خاندان کی لڑکی بدکاری کی دعوت دے تو دہ کہے کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں۔ چھٹا شخص وہ ہے جو چپکے سے لوگوں کی مالی مدد کرے، اور ساتواں خوش نصیب شخص وہ ہے جس نے تنہائی میں اللہ کو یاد کیا ہو اور اللہ کے خوف سے اس کے آنسو بہہ گئے ہوں۔ (بخاری)
احادیث میں مذکور ہے کہ میدان حشر میں طویل مدت تک بھوکے پیاسے، شدید گرمی اور بدبودار پسینے میں شرابور لوگ تنگ آکر ابنیاء کرام کی خدمت میں حاضر ہوں گے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے حساب کتاب شروع کرنے کی سفارش کریں۔ تمام انبیاء کرام سفارش کرنے سے انکار فرمادیں گے۔ آخر میں سید الانبیاء وافضل البشر حضرت محمد مصطفی ﷺ کے پاس حاضر ہوں گے، چنانچہ آپ ﷺ حساب کتاب شروع کرنے کی اللہ تعالیٰ سے سفارش فرمائیں گے۔ اسی کو شفاعت کبری کہا جاتاہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی عدالت قائم ہوگی۔ انسان کے ہاتھ، پاؤں اور دیگر اعضاء خود انسان کے اعمال کو بیان کریں گے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے متعدد مرتبہ قرآن میں ذکر فرمایا ہے۔ کمپیوٹر کے زمانہ میں اس کو سمجھنا بہت آسان ہے۔ آج انسان کی زندگی کے ایک ایک لمحہ کو محفوظ کیا جاسکتا ہے، تو خالق کائنات سارے انسانوں کی زندگی کے احوال کو کیوں محفوظ نہیں کرسکتا؟ چنانچہ پوری زندگی کے حساب وکتاب کے ساتھ ہر شخص سے پانچ خصوصی سوال کیے جائیں گے۔ زندگی کہاں گزاری؟ جوانی کہاں لگائی؟ مال کہاں سے کمایا؟ یعنی حصولِ مال کے اسباب حلال تھے یا حرام۔ مال کہاں خرچ کیا؟ یعنی مال سے متعلق اللہ اور بندوں کے حقوق ادا کئے یا نہیں۔ علم پر کتنا عمل کیا؟ (ترمذی) اللہ تعالیٰ اپنے کرم سے بعض بندوں کو بغیر حساب کتاب کے بھی جنت میں داخل فرمائیں گے۔

جس شخص کا نامۂ اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا، سو وہ نہایت حسرت سے کہے گا، کاش! مجھ کو میرا نامۂ اعمال ملتا ہی نہیں، اور مجھ کو یہ خبر ہی نہ ہوتی کہ میرا حساب کیا ہے۔ کاش! میری پہلی موت جو دنیا میں آئی تھی فیصلہ کن ہوتی اور دوبارہ زندہ نہ ہوتا جس پر یہ حساب وکتاب مرتب ہوا۔ افسوس ! میرا مال میرے کچھ کام نہیں آیا۔ میرا سارا اقتدار (جاہ ومرتبہ) ختم ہوگیا۔ ایسے شخص کے لئے فرشتوں کو حکم ہوگا کہ اس شخص کو پکڑو ، اور اس کے گلے میں طوق پہنادو، پھر دوزخ میں اس کو داخل کردو، پھر ایک ایسی زنجیر میں جس کی پیمائش ستر گز ہے اس کو جکڑ دو۔ یہ شخص اللہ تعالیٰ پر جس طرح ایمان لانا ضروری تھا، ایمان نہیں رکھتا تھا۔ اور خود تو کسی کو کیا دیتا ، دوسروں کو بھی غریب آدمی کو کھلانے کی ترغیب نہیں دیتا تھا۔ سو آج اس شخص کا نہ کوئی دوست ہے اور نہ اس کو کھانے پینے کی کوئی چیز نصیب ہے، بجز اس گندے پانی کے جس میں اہل جہنم کی پیپ اور پس پڑی ہوگی، جس کو گناہگاروں کے سوا کوئی نہیں کھاتاپیتا ہوگا۔ (سورۃ الحاقہ ) ہر شخص کو جہنم کے اوپر پل صراط سے گزرنا ہوگا جو بال سے زیادہ باریک اور تلوار سے زیادہ تیز ہے۔ بعض مؤمن پلک جھپکنے کے بقدر اس سے گزر جائیں گے۔ بعض بجلی کی طرح گزر جائیں گے۔ بعض پرندے کی تیزی سے، بعض تیز رفتار گھوڑوں کی طرح اور بعض اونٹوں کی رفتار سے گزریں گے۔ بعض خیر وعافیت کے ساتھ پل پار کریں گے، بعض زخمی کیے جائیں گے لیکن پل صراط پار کرلیں گے۔ جبکہ بہت سے لوگ ٹھوکریں کھاکر جہنم میں گرجائیں گے۔ بعد میں نبی اکرم ﷺ کی سفارش پر ایمان والے لوگوں کو آہستہ آہستہ جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کردیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو بغیر حساب کتاب کے جنت الفردوس میں بلند مقام عطا فرمائے۔ آمین۔

ڈاکٹر محمد نجیب قاسمی سنبھلی (www.najeebqasmi.com)