بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيْم

اَلْحَمْدُ لِلّهِ رَبِّ الْعَالَمِيْن،وَالصَّلاۃ وَالسَّلامُ عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن۔

قادیانی دائرہ اسلام سے کیوں خارج ہیں؟

حال ہی میں بھارت کے پردھان منتری نے اسرائیل کا دورہ کیا ، جو اِن دنوں سوشل میڈیا اور الیکٹرونک میڈیا میں موضوع بحث ہے کہ انہوں نے عرصۂ دراز سے چلی آرہی بھارت کی پالیسی کے خلاف اسرائیل کا دورہ کیا، اور اس سفر کے دوران فلسطین کے دورہ کو نظر انداز کیا، حالانکہ آج تک بھارت کے کسی بھی پردھان منتری نے اسرائیل کا دورہ نہیں کیا تھا اور اگر کوئی دوسرا عہدہ دار اسرائیل گیا بھی تو اس نے ساتھ میں فلسطین کا دورہ ضرور کیا تھا ۔ اس دورہ کی دوسری اہم بات یہ رہی کہ انسانیت کے قاتل اور دوسروں کی زمین پر ناجائز قبضہ کرنے والے اسرائیل نے اسلام مخالف تنظیموں کے سربراہوں کو بھی مدعو کررکھا تھا، جس میں ’’محمد شریف قادیانی ‘‘ بھی سر فہرست تھے، جیساکہ وائرل ہوئی ویڈیو میں دنیا نے دیکھا۔ ورنہ اسرائیل اور قادیانیوں کے درمیان کیا رشتہ؟ حالانکہ تمام مسلم مخالف طاقتوں کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ:

اسلام کی فطرت میں قدرت نے لچک دی ہے             اتنا ہی یہ ابھرے گا جتنا کہ دباؤ گے

اس موقع پر مناسب سمجھا کہ ختم نبوت کے متعلق چند سطریں تحریر کردوں تاکہ نوجوان نسل کو معلوم ہوسکے کہ قادیانی، جو اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں، دائرہ اسلام سے خارج ہیں کیونکہ وہ تمام نبیوں کے سردار حضرت محمد مصطفی ﷺ کو آخری نبی ورسول ماننے سے انکار کرتے ہیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے حضور اکرم ﷺ کو خاتم الانبیاء وسید المرسلین بناکر مبعوث فرمایا ہے۔آپ ﷺ کے بعد نبوت ورسالت کا دروازہ ہمیشہ کے لئے بند کردیا گیا ہے۔ آپﷺ کو دین کامل عطا کیا گیا ہے، چنانچہ قیامت تک صرف اور صرف شریعت محمدیہ (یعنی قرآن وحدیث اور ان سے ماخوذ علوم) ہی انسانوں کے لئے مشعل راہ ہے۔ حضور اکرم ﷺ پر سلسلہ نبوت ورسالت کے اختتام کی ایک واضح دلیل یہ بھی ہے کہ آپﷺ قیامت تک پوری انسانیت کے لئے پیغمبر بناکر بھیجے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کی عالمی رسالت کو اپنے پاک کلام میں متعدد مرتبہ بیان فرمایا ہے، صرف تین آیات پیش خدمت ہیں: (اے رسول! ان سے) کہو کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف اُس اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں جس کے قبضے میں تمام آسمانوں اور زمین کی سلطنت ہے۔ (سورۃ الاعراف ۱۵۸) اور (اے پیغمبر!) ہم نے تمہیں سارے ہی انسانوں کے لئے ایسا رسول بناکر بھیجا ہے جو خوشخبری بھی سنائے اور خبردار بھی کرے۔ (سورۃ سبا ۲۸) اور (اے پیغمبر!) ہم نے تمہیں سارے جہانوں کے لئے رحمت ہی رحمت بناکر بھیجا ہے۔ سورۃ الانبیاء ۱۰۷

ابتداء اسلام سے لے کر آج تک پوری امت مسلمہ قرآن وحدیث کی روشنی میں متفق ہے کہ نبوت کا سلسلہ آپ ﷺ پرختم ہوگیا ہے۔ تقریباً چودہ سو برس سے کروڑہا مسلمان اس عقیدہ پر قائم ہیں۔لاکھوں محدثین، مفسرین، فقہاء وعلماء کرام نے قرآن وحدیث کی تفسیر وتشریح کرتے ہوئے واضح فرمادیا ہے کہ نبوت ورسالت کا سلسلہ ختم ہوگیا ہے اور اب قیامت تک صرف اور صرف شریعت محمدیہ ہی نافذ رہے گی۔ غرضیکہ مسلمانوں کے تمام مکاتب فکر، عام وخاص، عالم وجاہل، شہری ودیہاتی، مسلمان ہی نہیں بلکہ بعض غیر مسلم حضرات بھی جانتے ہیں کہ مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے کہ حضور اکرم ﷺ آخری نبی ورسول ہیں اور اب کوئی نبی یا رسول پیدا نہیں ہوگا۔ وقتاً فوقتاً نبوت کا دعویٰ کرنے والے پیدا ہوتے رہے ہیں لیکن پوری امت مسلمہ نے ایک ساتھ مدعی نبوت سے بھرپور مقابلہ کرکے اپنے نبی کا دفاع کیا اور اسلام کے پرچم کو بلند کیا۔ قرآن کریم کی متعدد آیات میں آپ ﷺ کے آخری نبی ہونے کا ذکر موجود ہے حتی کہ حضرت مولانا مفتی محمد شفیع رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب (ختم نبوت) میں تقریباً ایک سو آیات قرآنیہ، ۲۱۰ احادیث نبویہ، اجماع امت اور سینکڑوں اقوال صحابہ اور تابعین وائمہ دین سے مسئلہ ختم نبوت کو مدلل کیا ہے۔ بعض علماء نے تو قرآن کریم کی ہر سورت سے ختم نبوت کو ثابت کیا ہے۔ میں اختصار کی وجہ سے صرف ایک آیت پیش کررہا ہوں: مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَٰكِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ (مسلمانو!) محمد تم مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، لیکن وہ اللہ کے رسول ہیں، اور تمام نبیوں میں سب سے آخری نبی ہیں۔ (سورۃ الاحزاب ۴۰) زمانہ جاہلیت میں متبنیٰ (منہ بولے بیٹے) کو حقیقی بیٹا سمجھا جاتا تھا۔ اس آیت کے شروع میں اسی کی تردید کی کہ متبنیٰ حقیقی بیٹے کے حکم میں نہیں ہے، لہٰذا آپﷺ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے باپ نہیں ہیں۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ آپ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں۔ اس آیت سے صاف صاف معلوم ہوگیا کہ دین اسلام اور نعمت نبوت ورسالت حضوراکرم ﷺ پر تمام ہوچکی ہے۔ آپﷺ کے بعد کسی نبی کی گنجائش اور ضرورت نہیں ہے۔ جیساکہ اللہ تعالیٰ نے دوسری جگہ ارشار فرمایا: ہم نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کردیا اور اپنی نعمت تم پر تمام کردی۔ (سورۃ المائدہ ۳) اللہ تعالیٰ رب العالمین ہے یعنی قیامت تک آنے والے تمام انس وجن اور پوری کائنات کا پالنے والا ہے، اسی طرح حضوراکرمﷺ صرف عربوں کے لئے یا اپنے زمانے کے لوگوں کے لئے یا صرف مسلمانوں کے لئے نبی ورسول بناکر نہیں بھیجے گئے بلکہ آپﷺ قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کے لئے نبی ورسول ہیں اور قیامت تک اب کوئی نبی یا رسول پیدا نہیں ہوگا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی نزول کے بعد شریعت محمدیہ ہی پر عمل کریں گے اور اسی کی لوگوں کو دعوت دیں گے۔

اللہ تعالیٰ کے کلام کے ساتھ حضور اکرم ﷺ کے ارشادات بھی دین اسلام کا ایک اہم جز ہیں، بلکہ ہم حضوراکرم ﷺ کے اقوال وافعال کے بغیر اللہ تعالیٰ کے کلام کو سمجھ ہی نہیں سکتے۔ اللہ تعالیٰ نے سینکڑوں آیات میں اپنی اطاعت کے ساتھ رسول کی اطاعت کا حکم دیا ہے۔ غرضیکہ قرآن کریم کے ساتھ حدیث نبوی شریعت اسلامیہ کا اہم ماخذ ہے۔ احادیث کے ذخیرہ میں حضور اکرم ﷺ کے سینکڑوں ارشادات موجود ہیں جن میں وضاحت موجود ہے کہ آپﷺ کے بعد کوئی نبی یا رسول نہیں آئے گا۔ اور یہ ارشادات متواتر طور پر امت کے پاس پہنچے ہیں ۔ چنانچہ آیات قرآنیہ اور احادیث نبویہ کی روشنی میں پوری امت مسلمہ کا اتفاق ہے کہ جس طرح آپﷺ پر ایمان لائے بغیر کوئی انسان مسلمان نہیں ہوسکتا،اسی طرح آپ کو آخری نبی تسلیم کئے بغیر بھی انسان مؤمن نہیں بن سکتا ہے۔ کتب حدیث میں حضوراکرمﷺ کے سینکڑوں اقوال ختم نبوت پر واضح طور پر دلالت کرتے ہیں، یہاں صرف دو احادیث پیش خدمت ہیں: حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: میری مثال مجھ سے پہلے انبیاء کے ساتھ ایسی ہے جیسے کسی شخص نے گھر بنایا اور اس کو بہت عمدہ اور آراستہ وپیراستہ بنایا ، مگر اس کے ایک گوشہ میں ایک اینٹ کی جگہ تعمیر سے چھوڑ دی، پس لوگ اس کے دیکھنے کو جوق در جوق آتے ہیں اور خوش ہوتے ہیں اور کہتے جاتے ہیں کہ یہ ایک اینٹ بھی کیوں نہ رکھ دی گئی(تاکہ مکان کی تعمیر مکمل ہوجاتی) چنانچہ میں نے اس جگہ کو پُر کیا اور مجھ سے ہی قصر نبوت مکمل ہوا، اور میں ہی خاتم النبیین ہوں، اور مجھ پر تمام رسل ختم کردئے گئے۔ (صحیح مسلم ، ترمذی، نسائی، مسند احمد) حضور اکرمﷺ نے ایک مثال دے کر ختم نبوت کے مسئلہ کو روز روشن کی طرح واضح فرمادیا۔ یعنی مثال دے کر آپ ﷺ نے اس مسئلہ کو قیامت تک کے لیے حل کردیا اور وہ یہ ہے کہ نبوت کا دروازہ بند کردیا گیا ہے۔ شریعت اسلامیہ کے علاوہ کوئی دوسری شریعت یا مذہب انسان کو کامیابی نہیں دلاسکتا ہے۔ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: بنی اسرائیل کی سیاست خود ان کے انبیاء علیہم السلام کیا کرتے تھے، جب کسی نبی کی وفات ہوتی تھی تو اللہ تعالیٰ کسی دوسرے نبی کو ان کا خلیفہ بنا دیتا تھا، لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں، البتہ خلفاء ہوں گے اور بہت ہوں گے۔ بخاری ومسلم

قرآن وحدیث کی روشنی میں خیر القرون سے آج تک پوری امت مسلمہ کا اتفاق ہے کہ نبوت ورسالت کا سلسلہ آپ ﷺ پر ختم ہوگیا ہے، اب کوئی نبی پیدا نہیں ہوگا۔ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور قیامت تک پوری انسانیت کے لئے پیغمبر ہیں۔ صرف اور صرف شریعت محمدیہ (یعنی قرآن وحدیث اور ان سے ماخوذ علوم) ہی انسانوں کے لئے مشعل راہ ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کی طرح اِن دنوں ہندوستان میں ایک دوسرے شخص ’’شکیل بن حنیف‘‘ نے بھی نبوت کا جھوٹا دعوی کردیا ہے۔ اسرائیل اور اسلام مخالف تحریکوں کی جانب سے اِن لوگوں کو ہر طرح کا تعاون ملتا ہے۔ ہمارے اوپر یہ ذمہ داری عائد ہے کہ ہم اپنی اولاد کو، جو عصری علوم کے حصول کے لیے مختلف ممالک کا سفر کرتے ہیں، اس بات کی وقتاً فوقتاً تلقین کرتے رہیں کہ حضرت محمد مصطفی ﷺ آخری نبی ورسول ہیں۔ اگر کوئی شخص نبوت کا دعوی کرے تو وہ دنیا کا سب سے بڑا جھوٹا انسان ہے۔ قادیانیت کا فتنہ، جس کو وہ خود ’’فرقہ احمدی‘‘ کہتے ہیں، آستین کے سانپ کے مانند زیادہ نقصان دہ ہے کہ وہ لوگ غلط عقائد رکھنے کے باوجود اپنے آپ کو مسلمان کہنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اپنی عبادت گاہ کو مسجد (مسجد احمدی) کہتے ہیں۔مگر قرآن کی آیات اور احادیث میں ایسی تاویل کرتے ہیں جو کسی بھی حال میں تسلیم نہیں کی جاسکتی، مثلاً قرآن کریم میں آپﷺ کو واضح الفاظ میں کہا گیا کہ وہ خاتم النبیین ہیں یعنی اُن پر نبوت ورسالت ختم ہوگئی مگر قادیانی لوگ خاتم کو افضل کے معنی میں لے کر کہتے ہیں کہ آپ ﷺ افضل النبیین تو ہیں مگر نعوذ باللہ نبوت ورسالت کی سلسلہ ختم نہیں ہوا ہے اور مرزا غلام احمد قادیانی بھی ایک نبی اور رسول ہے۔ کبھی وہ کہتے ہیں کہ وہ حضرت عیسیٰ ہے اور کبھی کہتے ہیں کہ وہ حضرت مہدی ہے۔ یقیناًاسلام اس لیے نہیں آیا کہ لوگوں کو دائرہ اسلام سے خارج کیا جائے بلکہ قرآن وحدیث کی تعلیم کا خلاصہ یہی ہے کہ ایسی کوشش کی جائے کہ پوری دنیا میں امن وسکون قائم ہو اور پوری انسانیت اللہ اور اس کے رسول کو مان کر جنت میں داخل ہونے والی بن جائے، مگر قرآن وحدیث کے واضح حکم کے خلاف کوئی عقیدہ رکھنا نہ صرف غلط ہے بلکہ بسا اوقات انسان کو دائرہ اسلام سے ہی خارج کردیتا ہے، خاتم النبیین کا عقیدہ بھی ایسا ہی ہے کہ 1400 سال سے امت مسلمہ قرآن وحدیث کے واضح احکام کی روشنی میں متفق ہے کہ نبوت ورسالت کا سلسلہ بند ہوگیا ہے، حضرت عیسیٰ علیہ السلام، جنہیں آسمانوں میں اٹھالیا گیا ہے، قیامت سے قبل دوبارہ تشریف لاکر اپنی شریعت پر عمل نہیں کریں گے بلکہ وہ خود بھی قرآن وحدیث کے احکام کو نافذ فرمائیں گے۔ اسی وجہ سے مسیلمہ کذاب نے جب نبوت ورسالت کا دعوی کیا تھا تو صحابۂ کرام نے نہ صرف اُس کے ساتھ جنگ کی تھی، بلکہ اس فتنہ کا خاتمہ کرکے ہی دم لیا تھا۔

ڈاکٹر محمد نجیب قاسمی سنبھلی (www.najeebqasmi.com)