Print

بسم الله الرحمن الرحيم

اَلْحَمْدُ لِله رَبِّ الْعَالَمِيْن،وَالصَّلاۃ وَالسَّلام عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن۔

جمرات پر کنکریا ں مارنے کے اہم مسائل

رَمِی: جمرات پر کنکریاں مارنے کو رمی کہتے ہیں۔
جَمَرات: یہ منی میں تین مشہور مقام ہیں جہاں اب دیوار کی شکل میں بڑے بڑے ستون بنے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے حکم، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کے طریقہ اور حضرات ابراہیم علیہ السلام کی اتباع میں ان تین جگہوں پر کنکریاں ماری جاتی ہیں۔ ان میں سے جو مسجد خیف کے قریب ہے جمرہ اولیٰ، اسکے بعد بیچ والے جمرہ کو جمرہ وسطی اور اس کے بعد مکہ مکرمہ کی طرف آخری جمرہ کو جمرہ عقبہ یا جمرہ کبری کہا جاتا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو شیطان نے ان تین مقامات پر بہکانے کی کوشش کی تھی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان تین مقامات پر شیطان کو کنکریاں ماری تھیں اور اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اس عمل کو قیامت تک آنے والے حاجیوں کے لئے لازم قرار دے دیا۔ حجاج کرام بظاہر جمرات پر کنکریاں مارتے ہیں لیکن درحقیقت شیطان کو اس عمل کے ذریعہ دھتکارا جاتا ہے جیساکہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے۔ (رواہ ابن خزیمہ فی صحیحہ والحاکم واللفظ لہ وقال صحیح علی شرطہما(
رَمِی کا حکم:رمی یعنی جمرات پر کنکریاں مارنا حج کے واجبات میں سے ہے یعنی اس کے ترک پر دم لازم ہوگا۔ دسویں، گیارہویں اور بارہویں ذی الحجہ کو رمی کرنا (یعنی ۴۹کنکریاں مارنا) ہر حاجی کے لئے ضروری ہے۔ تیرہویں ذی الحجہ کی رمی (یعنی ۲۱ کنکریاں مارنا) اختیاری ہے، اگر ۱۲ ذی الحجہ کے بعد آنے والی رات میں منی میں قیام کیا تو پھر ۱۳ ذی الحجہ کو رمی (یعنی ۲۱ کنکریاں مارنا) ضروری ہو گی، اس طرح ۱۳ ذی الحجہ تک ۷۰ کنکریاں استعمال میں آئیں گی۔
رَمِی کی فضیلت: حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: جس نے جمرات پر کنکریاں ماریں اس کے لئے کل قیامت کے دن ایک نور ہوگا۔(رواہ البزاز ۔صحیح الترغیب ۱۱۵۷)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا کہ جمرہ پر ہر کنکری مارنے سے ایک بڑے گناہ کی معافی ہوتی ہے۔(رواہ الطبرانی فی الکبیر والبزاز وابن حبان فی صحیحہ وکذلک رواہ الطبرانی فی الاوسط)
کنکریاں چننا: مزدلفہ سے منی روانگی کے وقت بڑے چنے کے برابر کنکریاں چن لیں لیکن کنکریوں کا مزدلفہ ہی سے اٹھانا ضروری نہیں بلکہ منی سے بھی اٹھاسکتے ہیں۔
10
ذی الحجہ: ۱۰ ذی الحجہ کو صرف جمرۂ عقبہ پر سات کنکریاں مارنا ضروری ہے۔
رمی کا وقت: ۱۰ ذی الحجہ کو کنکری مارنے کا مسنون وقت‘ طلوعِ آفتاب سے زوال تک ہے ، البتہ غروبِ آفتاب تک بھی بغیر کسی کراہیت کے کنکریاں ماری جاسکتی ہیں ۔ اگر غروب آفتاب تک بھی رمی نہ کرسکے تو صبح تک بھی رمی کی جاسکتی ہیں۔ بعض علماء کرام نے ۱۰ ذی الحجہ کو طلوع آفتاب کے بجائے صبح صادق سے ہی کنکریاں مارنے کی اجازت دی ہے۔ غرضیکہ ۱۰ ذی الحجہ کو تقریباً ۲۴ گھنٹے رمی کی جاسکتی ہے۔
رمی کا طریقہ: منی پہونچ کر سب سے پہلے بڑے اور آخری جمرہ کو سات کنکریاں ماریں، کنکریاں مارنے کا طریقہ یہ ہے کہ بڑے جمرے سے تھوڑے فاصلہ پر کھڑے ہوں اور سات دفعہ میں داہنے ہاتھ سے سات کنکریاں ماریں، ہر مرتبہ بسم اللہ، اللہ اکبر کہیں۔
دوسرے کی طرف سے رمی کرنے کا طریقہ: دسویں تاریخ کو دوسرے کی طرف سے رمی کرنے (کنکریاں مارنے) کاطریقہ یہ ہے کہ پہلے اپنی طرف سے اپنی سات کنکریاں ماریں، پھر دوسرے کی طرف سے سات کنکریاں ماریں۔
11
اور 12 ذی الحجہ: ۱۱ اور ۱۲ ذی الحجہ کو تینوں جمرات پر کنکریاں مارنا واجب ہے۔
رمی کاوقت: دونوں دن تینوں جمرات کو کنکریاں مارنے کا مسنون وقت زوال آفتاب سے غروبِ آفتاب تک ہے۔اگر غروب آفتاب تک رمی نہیں کرسکے تو رات میں بھی صبح سے پہلے تک کنکریاں ماری جاسکتی ہیں۔
رمی کا طریقہ: سب سے پہلے چھوٹے جمرہ (جو مسجد خیف کی طرف ہے) پر سات کنکریاں سات دفعہ میں بسم اللہ، اللہ اکبر کہہ کر ماریں۔ اسکے بعد تھوڑا آگے بڑھ کر دائیں یا بائیں جانب ہوجائیں اور قبلہ رخ ہوکر ہاتھ اٹھاکر خوب دعائیں کریں۔ اس کے بعد بیچ والے جمرہ پرسات کنکریاں ماریں اور بائیں یا دائیں جانب ہوکر خوب دعائیں کریں۔ پھر آخر میں تیسرے اور بڑے جمرہ پر ۷کنکریاں ماریں اور بغیر دعا کے چلے جائیں۔
نوٹ: گیارہویں اور بارہویں ذی الحجہ کو زوال سے پہلے کنکریاں مارنا جائز نہیں ہے۔ زوال سے پہلے مارنے کی صورت میں دوبارہ زوال کے بعد کنکریاں مارنی ہوں گی ورنہ دم لازم ہوگا۔ کسی بھی مکتب فکر نے ۱۱ اور ۱۲ ذی الحجہ کو زوال سے قبل رمی کرنے کی اجازت نہیں دی ہے۔ جب زوال آفتاب سے صبح تک یعنی تقریباً ۱۷ گھنٹے تک رمی کی جاسکتی ہے نیز رات میں جمرات پر کوئی ازدحام بھی نہیں ہوتا ہے تو زوال سے قبل رمی کی گنجائش کی بات کرنا صحیح نہیں ہے۔
دوسرے کی طرف سے کنکریاں مارنا: گیارہویں، بارہویں اور تیرہویں کو دوسرے کی طرف سے کنکریاں مارنے کا طریقہ یہ ہے کہ ہر ایک جمرہ پر اپنی سات کنکریاں مارنے کے بعد دوسرے کی طرف سے کنکریاں ماریں۔
مکہ مکرمہ کو واپسی: ۱۲ ذی الحجہ کو تینوں جمرات پر کنکریاں مارنے کے بعد منی سے جاسکتے ہیں لیکن سورج غروب ہونے سے پہلے روانہ ہوجائیں۔
وضاحت: اگر بارہویں کو منی سے جانے کا ارادہ ہے تو سورج غروب ہونے سے پہلے منی سے روانہ ہوجائیں۔ غروبِ آفتاب کے بعد تیرہویں کی کنکریاں مارے بغیر جانا مکروہ ہے، گو تیرہویں کی کنکریاں مارنا حضرت امام ابو حنیفہؒ کی رائے کے مطابق واجب نہ ہوگی، لیکن اگر تیرہویں کی صبح صادق منی میں ہوگئی تو تیرہویں کی رمی (کنکریاں مارنا) ضروری ہوجائے گی، اب اگر کنکریاں مارے بغیر جائیں گے تو دم لازم ہوگا۔ دیگر علماء کی رائے کے مطابق اگر ۱۲ ذی الحجہ کو غروبِ آفتاب منی میں ہوگیا تو۱۳ ذی الحجہ کی کنکریاں مارنا واجب ہوگیا۔ لیکن اگر کوئی شخص ۱۲ ذی الحجہ کو منی سے روانہ ہونے کے لئے بالکل مستعد ہے مگر ازدحام کی وجہ سے تاخیر ہوگئی اور سورج غروب ہوگیا تو وہ بغیر کسی کراہیت کے منی سے جاسکتا ہے، اسکے لئے۱۳ ذی الحجہ کو کنکریاں مارنا ضروری نہیں ہے۔
13
ذی الحجہ:
اگر آپ ۱۲ ذی الحجہ کو کنکریاں مارنے کے بعد منی سے چلے گئے تو آج کے دن کی رمی ضروری نہیں ہے، لیکن اگر آپ ۱۳ ذی الحجہ کو کنکریاں مارکر ہی واپس ہونا چاہتے ہیں جیسا کہ افضل ہے تو ۱۲ ذی الحجہ کے بعد آنے والی رات کو منی میں قیام کریں اور ۱۳ ذی الحجہ کو تینوں جمرات پر زوال کے بعد ۱۱ اور ۱۲ ذی الحجہ کی طرح سات سات کنکریاں ماریں پھر چلے جائیں۔ بعض علماء کرام کی رائے کے مطابق صرف تیرہویں ذی الحجہ کو زوال سے پہلے بھی کنکریاں ماری جاسکتی ہیں کیونکہ تیرہویں ذی الحجہ کوصرف سورج کے غروب ہونے تک کنکریاں مارسکتے ہیں۔مگر بہتر یہی ہے کہ تیرہویں ذی الحجہ کوبھی زوال کے بعد ہی کنکریاں ماریں۔
چند وضاحتیں:
*
تلبیہ جو احرام باندھنے سے برابر پڑھ رہے تھے، دسویں ذی الحجہ کو بڑے جمرہ پر پہلی کنکری مارنے کے ساتھ ہی بند کردیں۔
*
دسویں ذی الحجہ کو صرف بڑے جمرہ (جو مکہ مکرمہ کی طرف ہے) کوکنکریاں ماری جاتی ہیں۔
*
ایک دفعہ میں ساتوں کنکریاں مارنے پر ایک ہی شمار ہوگی، لہذا چھ کنکریاں اور ماریں ورنہ دم لازم ہوگا-
*
کنکری کا جمرہ پر لگنا ضروری نہیں بلکہ حوض میں گرجائے تب بھی کافی ہے کیونکہ اصل حوض میں ہی گرنا ہے۔
*
کنکریاں چنے کے برابر یا اس سے کچھ بڑی ہونی چاہئیں۔
*
کنکریاں مارتے وقت اگر مکہ مکرمہ آپ کے بائیں جانب اور منی دائیں جانب ہو تو بہتر ہے۔
*
کنکریاں مارنے کے وقت کسی بھی طرح کی کوئی پریشانی آئے تو اس پر صبر کریں، لڑائی جھگڑا ہرگز نہ کریں۔
*
عورتیں اور کمزور لوگ ازدحام کے اوقات میں کنکریاں نہ ماریں بلکہ زوال کے بعد بھیڑ کم ہونے پر یا رات کو کنکریاں ماریں، کیونکہ اپنی جان کو خطرے میں ڈالنا مناسب نہیں، نیز اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ سہولت اور رخصت پر بھی خوش دلی سے عمل کرنا چاہئے۔
*
رمی کے وقت مخصوص ہےئت یا حالت لازم نہیں ہے، لہذا چلتے ہوئے یا کھڑے ہوئے یا کسی چیز پر بیٹھے ہوئے، طہارت یا بغیر طہارت، استقبال قبلہ اور بغیر استقبال قبلہ ہر طرح سے رمی کرنا جائز ہے۔
*
اگر کنکری کے حوض میں گرنے پر شک پیدا ہوگیا یا کنکریوں کی تعداد میں شک ہوگیا تو بہتر ہے کہ شک والی کنکری کو دوبارہ مار دیں۔
*
اگر تمام دنوں کی رمی (کنکریاں مارنا) بالکل ترک کردیں یا ایک دن کی ساری یا اکثر کنکریاں ترک کردیں تو دم واجب ہوگا۔ اور اگر ایک دن کی رمی سے تھوڑی کنکریاں مثلا پہلے دن کی تین اور باقی دن کی دس کنکریاں چھوڑدیں تو ہر کنکری کے بدلہ میں صدقۂ فطر یا اس کی قیمت ادا کرنا واجب ہوگی۔
تنبیہ: آج کل بعض خواتین خود جاکر کنکریاں نہیں مارتیں بلکہ ان کے محرم یا شوہر ان کی طرف سے بھی کنکریاں ماردیتے ہیں۔ یاد رکھیں کہ بغیر عذرِ شرعی کے کسی دوسرے سے رمی کرانا جائز نہیں ہے، اس سے دم واجب ہوگا۔ ہاں وہ لوگ جو جمرات تک پیدل چل کر جانے کی طاقت نہیں رکھتے یا بہت مریض یا کمزور ہیں تو ایسے لوگوں کی جانب سے کنکریاں ماری جاسکتی ہیں۔
محمد نجیب سنبھلی قاسمی، ریاض (www.najeebqasmi.com)