بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيْم

اَلْحَمْدُ لِلّهِ رَبِّ الْعَالَمِيْن،وَالصَّلاۃ وَالسَّلامُ عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن۔

کیا مزدلفہ کے خیموں میں (حج کی کے دوران) رات گزاری جاسکتی ہے؟

امت مسلمہ کا اتفاق ہے کہ ۸ ذی الحجہ کو منی میں قیام کرکے ظہر، عصر، مغرب اور عشا کی نماز کی ادائیگی اور رات منی میں گزارکر ۹ ذی الحجہ کو نماز فجر کی ادائیگی کرنا حجا ج کرام کے لئے سنت ہے، فرض یا واجب نہیں ہے، لہٰذا اس میں اگر کوئی کوتاہی ہوجائے، مثلاً ۸ ذی الحجہ کو منی پہنچ ہی نہیں سکے یا تاخیر سے پہنچے تو کوئی دم وغیرہ واجب نہیں ہوگا۔ حضور اکرم ﷺکی سنت یہ ہے کہ ۸ ذی الحجہ کی صبح کو طلوع آفتاب کے بعد منی جایا جائے، لیکن لاکھوں حجاج کرام کے مجمع کو سامنے رکھ کر معلمین حضرات ۷ ذی الحجہ کے بعد آنے والی رات میں ہی منی لے جاتے ہیں۔ حجاج کرام کو معلمین کے ساتھ ہی منی چلے جانا چاہئے۔ اگر خیمہ منی کے بجائے مزدلفہ (درجہ ھ) میں ملا ہے، تو وہیں قیام کریں ،کوئی دم وغیرہ واجب نہیں ہوگا۔ حجاج کرام کو چاہئے کہ منی پہنچ کر تمام نمازیں اپنے وقت پر ادا کرکے زیادہ سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں، قرآن کی تلاوت کریں، ذکر کریں، دعائیں کریں اور وقتاً فوقتاً حج کا ترانہ یعنی تلبیہ پڑھتے رہیں۔ دنیاوی گفتگو میں اپنے وقت کو ضائع نہ کریں۔ ان ایام میں زیادہ مصالحہ دار کھانا نہ کھائیں، پانی اور پھلوں کا استعمال زیادہ کریں۔

مزدلفہ سے واپسی کے بعد ۱۰ اور ۱۱ ذی الحجہ کے بعد آنے والی رات منی میں گزارنا واجب ہے یا سنت، اس سلسلہ میں فقہاء وعلماء کا اختلاف ہے۔ حضرت امام ابوحنیفہؒ اوردیگر فقہاء وعلماء کی رائے ہے کہ ایام تشریق میں بھی منی میں رات گزارنا واجب نہیں بلکہ سنت ہے۔ اب جگہ کی تنگی کی وجہ سے مزدلفہ میں بھی خیمے لگے ہوئے ہیں، حجاج کرام کی اچھی خاصی تعداد منی کے بجائے یہاں قیام کرتی ہے۔ لہذا اگر خیمہ منی کے بجائے مزدلفہ میں ملا ہے، تو وہیں قیام فرمائیں، ان شاء اللہ کوئی دم واجب نہیں ہوگا، کیونکہ حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے حجاج کرام کو پانی پلانے کے لئے نبی اکرم ﷺ سے رات مکہ مکرمہ میں گزارنے کی ا جازت طلب کی تھی تو آپ نے اجازت دے دی تھی۔ (صحیح بخاری وصحیح مسلم) حضرت عباسؓ اور بعض دیگر اصحاب کو رات مکہ مکرمہ میں گزارنے کی اجازت مرحمت فرمانا اس بات کی دلیل ہے کہ ایام تشریق میں رات منی میں گزارنا سنت ہے واجب نہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں کہ جمرہ پر کنکریاں مارنے کے بعد جہاں چاہو قیام کرو۔ (مصنف ابن ابی شیبہ) نیز واجب قرار دینے کے لئے کوئی واضح دلیل موجود نہیں ہے۔ حضرت امام شافعیؒ اور حضرت امام احمد بن حنبل ؒ کی دوسری روایت بھی یہی ہے کہ ایام تشریق کے دوران رات منی میں گزارنا سنت ہے واجب نہیں۔

دیگر فقہاء وعلماء (مثلاً امام شافعیؒ ، امام مالکؒ اور امام احمد بن حنبلؒ ) فرماتے ہیں کہ ایام تشریق کے دوران منی میں رات گزارنا واجب ہے اور اس کے ترک پر دم واجب ہوگا۔ احادیث کے ذخیرہ میں نبی اکرمﷺ کا کوئی واضح فرمان ایسا موجود نہیں ہے جس میں کہا گیا ہو کہ ایام تشریق کے دوران منی میں رات گزارنا واجب ہے اور اس کے ترک پر دم واجب ہوگا۔ البتہ بعض احادیث کو دلیل کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ مثلاً حضور اکرم ﷺکا فرمان: ’’خُذُوْ عَنِّیْ مَنَاسِکَکُمْ‘‘ مجھ سے حج کی ادائیگی کا طریقہ سیکھو۔نبی اکرمﷺ اور صحابۂ کرام نے ایام تشریق میں منی ہی میں قیام فرمایا تھا۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ اور بعض صحابہ کرام کو مکہ مکرمہ میں رات گزارنے کی اجازت ایک ضرورت کے تحت دی گئی تھی۔ حضور اکرم ﷺ اور صحابۂ کرام کی جانب سے رات منی میں گزارنے کے وجوب کے متعلق واضح تعلیمات نہ ہونے کی وجہ سے ان فقہاء وعلماء کے درمیان اختلاف ہے کہ رات کا کتنا حصہ منی میں گزارنا واجب ہے۔ بعض فقہاء وعلماء نے مزدلفہ کی رات پر قیاس کرکے فرمایا کہ اگر کسی شخص نے فجر کی نماز منی میں پہنچ کر ادا کرلی تو منی میں رات گزارنے کا وجوب ادا ہوجائے گا۔ جبکہ بعض فقہاء وعلماء نے کہا کہ جس طرح شریعت اسلامیہ نے مزدلفہ میں آدھی رات (یعنی رات کا اکثر حصہ) گزارنے کے بعد بوڑھے اور خواتین کو مزدلفہ سے منی جانے کی اجازت دی ہے، اسی طرح رات کا اکثر حصہ منی میں گزارنا ضروری ہے ورنہ دم لازم ہوگا۔

مگر تحقیقی بات یہی ہے کہ حضور اکرم ﷺ کی جانب سے واضح تعلیمات نہ ہونے کی وجہ سے ایام تشریق میں منی میں رات گزارنے کو واجب قرار دینا محل نظر ہے۔ حجاج کرام کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر ۸۰ ہجری میں پیدا ہوئے مشہور محدث وفقیہ حضرت امام ابوحنیفہ ؒ اور دیگر فقہاء وعلماء کے موقف کو سامنے رکھ کر اب سعودی حکومت کی جانب سے مزدلفہ میں بھی بہت سے خیمے لگا دئے گئے ہیں، جہاں حجاج کرام منی میں قیام کے دوران قیام فرماتے ہیں۔ حضرت امام ابوحنیفہ ؒ نے دلائل شرعیہ کی روشنی میں آج سے تقریباً ۱۳۰۰ قبل یہ بات کہی تھی کہ ایام تشریق کی راتیں منی میں گزارنا واجب نہیں بلکہ سنت ہے۔ ان دنوں کچھ حضرات نے مزدلفہ کی اس جگہ کو جہاں خیمہ لگے ہوئے ہیں Extended Mina کہنا شروع کردیا ہے، حالانکہ حدود منی اللہ کے حکم سے نبی اکرم ﷺ نے متعین کردی ہیں، اس کو بڑھانا کسی انسان کے اختیار میں نہیں ہے۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ اگر منی میں قیام ہمارے اختیار میں ہے، مثلاً لوکل حجاج کرام کو آن لائن رجسٹریشن کے وقت یہ اختیار ہوتا ہے کہ وہ اپنا خیمہ مزدلفہ کی جگہ پر منی میں حاصل کریں، جس کے لئے انہیں کچھ رقم زیادی ادا کرنی پڑتی ہے، اور وہ زیادہ رقم ادا کرنے کی استطاعت بھی رکھتے ہیں تو انہیں چاہئے کہ منی ہی میں خیمہ حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ لیکن دیگر ممالک سے آنے والے حضرات کے لئے عموماً اس طرح کا اختیار نہیں ہوتا ہے، یا کوئی لوکل حاجی زیادہ رقم ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا ہے تو وہ مزدلفہ میں اپنے خیمہ میں ہی قیام کرسکتا ہے، یا کسی حاجی کا خیمہ تو منی ہی میں ہے لیکن طواف زیارت اور حج کی سعی کرنے کی وجہ سے رات منی میں نہیں گزارسکا تو ان شاء اللہ اس پر کوئی دم واجب نہیں ہوگا۔ جن حجاج کرام کو مزدلفہ میں خیمہ ملتا ہے تو وہ عرفات سے واپسی پر اپنے خیمہ میں رات گزار نا چاہیں تو شرعاً اس کی گنجائش تو ہے لیکن اگر حضور اکرم ﷺ کی اتباع میں کھلے میدان میں رات گزاریں تو بہتر ہے۔

محمد نجیب قاسمی سنبھلی (www.najeebqasmi.com)