بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيْم

اَلْحَمْدُ لِلّهِ رَبِّ الْعَالَمِيْن،وَالصَّلاۃ وَالسَّلامُ عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن۔

حج یا عمرہ کے احرام کے بغیر حرم مکی میں داخلہ

حضور اکرم ﷺ کی تعلیمات کے مطابق پوری امت مسلمہ کا اتفاق ہے کہ میقات سے باہر رہنے والے (یعنی آفاقی، مثلاً ریاض اور دمام کے رہنے والے، اسی طرح ہندوستان وپاکستان کے رہنے والے) جب بھی حج یا عمرہ کی نیت سے مکہ مکرمہ جائیں تو انہیں پانچ میقاتوں میں سے کسی ایک میقات پر یا اس کے مقابل یا اس سے پہلے پہلے احرام باندھنا ضروری ہے۔ اگر آفاقی حدود میقات کے اندر مثلاً مکہ مکرمہ یا تنعیم (جہاں مسجد عائشہ بنی ہوئی ہے) یا جدہ سے احرام باندھ کر حج یا عمرہ کی ادائیگی کرے گا تو ایک دم (یعنی ایک قربانی) واجب ہوگا، ہاں اگر وہ حج یا عمرہ کی ادائیگی سے قبل میقات آکر نیت کرلے تو دم ساقط ہوجائے گا۔

اگر کوئی آفاقی (میقاتوں سے باہر رہنے والا ) حج یا عمرہ کی نیت کے بغیر مکہ مکرمہ جانا چاہتا ہے تو کیا وہ احرام کے بغیر جاسکتا ہے یا نہیں؟ اس بارے میں علماء کا اختلاف ہے، لیکن تمام علماء اس بات پر متفق ہیں کہ احتیاط اسی میں ہے کہ جب بھی آفاقی مکہ مکرمہ جائے تو وہ احرام باندھ کر ہی جائے۔ امام ابوحنیفہؒ ، امام مالکؒ اور امام احمد بن حنبل ؒ کی رائے ہے کہ حرم کے تقدس کو باقی رکھنے کے لئے اسے احرام باندھ کر ہی مکہ مکرمہ جانا ضروری ہے۔ لیکن امام شافعی ؒ کی رائے ہے کہ ضروری نہیں ہے بلکہ مستحب ہے، جیساکہ امام نووی ؒ نے ذکر کیا ہے۔ جمہور علماء حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث کو دلیل کے طور پر پیش فرماتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: احرام کے بغیر میقات سے آگے نہ بڑھو۔ (طبرانی) اسی طرح مشہور تابعی حضرت سعید بن جبیرؒ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: کوئی شخص بغیر احرام کے میقات سے آگے نہ بڑھے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ۴/۵۲) فتح مکہ کے موقع پر آپﷺ کابغیر احرام کے مکہ مکرمہ میں داخل ہونا ایک عذر شرعی کی بنیاد پر تھا، جیسا کہ فتح مکہ کے موقع پر بعض افراد کا حدود حرم حتی کہ مسجد حرام میں قتل کیا جانا شرعی عذر کی وجہ سے تھا کیونکہ احادیث میں وارد ہے کہ صرف چند ساعات کے لئے قتال کو حلال قرار دیا گیا تھا۔ اور فتح مکہ کے بعد کوئی بھی صحابی بغیر احرام کے مکہ مکرمہ نہیں جاتا تھا۔ حضرت امام شافعی ؒ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: یہ میقاتیں یہاں کے باشندوں اور ان حضرات کے لئے ہیں جو میقات سے گزر کرجائیں اور وہ حج یا عمرہ کا ارادہ رکھتے ہوں۔ یعنی جو آفاقی حج یا عمرہ کے ارادہ سے مکہ مکرمہ جائے گا اسے پانچ میقاتوں میں سے کسی ایک میقات پر احرام باندھنا ضروری ہے،لیکن اگر وہ کسی دوسرے کام مثلاً تجارت یا ملازمت کی غرض سے جارہا ہے تو احرام باندھنا ضروری نہیں ہے۔

عصر حاضر کے مشہور عالم دین قاضی مجاہد الاسلام ؒ کی سرپرستی میں ہندوستان میں علماء احناف کا اس مسئلہ پر ۱۹۹۹ میں ایک سیمینار منعقد کیا گیا تھا،جس میں علماء کرام نے اپنے اپنے قیمتی مقالے پیش فرمائے جن میں سے بعض علماء نے وہی موقف اختیار کیا جو علماء احناف کی اکثریت نے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما والی حدیث کی بناء پر اختیار کیا ہے کہ آفاقی کے لئے مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کے لئے احرام ضرور ی ہے، لیکن علماء کرام کی دوسری جماعت نے کہا کہ عصر حاضر میں تاجر اور ڈرائیور وغیرہ بار بار مکہ مکرمہ جاتے ہیں اور ان کے لئے ہر مرتبہ احرام کو لازم قرار دینے میں دشواری لازم آئے گی۔ لہٰذا وہ حضرات جن کو کاروبار یا ملازمت وغیرہ کی وجہ سے بار بار مکہ مکرمہ جانا پڑتا ہے ، بغیر احرام کے مکہ مکرمہ جاسکتے ہیں۔

وہ حضرات جو بار بار تو مکہ مکرمہ نہیں جاتے ہیں لیکن سعودی عرب میں مقیم ہونے کی وجہ سے متعدد حج وعمرہ کی ادائیگی کرچکے ہیں اور کسی سفر میں کسی وجہ سے عمرہ کی ادائیگی نہیں کرنا چاہتے ہیں تو بغیر احرام کے مکہ مکرمہ میں داخل ہونے پر ان شاء اللہ دم تو واجب نہیں ہوگا، حالانکہ انہیں عمرہ کا احرام باندھ کر ہی مکہ مکرمہ جانا چاہئے۔ بغیر احرام کے مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کے بعد مکہ مکرمہ یا مسجد عائشہ سے احرام باندھ کر عمرہ کی ادائیگی نہ کریں کیونکہ نیت پہلے سے شامل ہونے پر دم واجب ہوجائے گا۔ غرضیکہ پوری امت مسلمہ کا اتفاق ہے کہ آفاقی کو یہی کوشش کرنی چاہئے کہ جب بھی مکہ مکرمہ جائے تو وہ احرام باندھ کر ہی جائے۔ عمرہ کی ادائیگی سے قبل یا فراغت کے بعد سفر کے دوسرے مقاصد (مثلاً میٹنگ میں شرکت ، کاروبار، ہندوستان یا پاکستان سے آئے رشتے داروں سے ملاقات) پورے کرلے۔ لیکن اگر کوئی شخص ریاض یا مدینہ منورہ یا دمام میں رہتا ہے اور متعدد حج وعمرہ کی ادائیگی کرچکا ہے لیکن کسی عذر کی وجہ سے کسی سفر میں بغیر احرام کے مکہ مکرمہ میں داخل ہوجائے تو ان شاء اللہ دم واجب نہیں ہوگا۔

بعض آفاقی صرف ختم قرآن یا ۲۷ ویں شب کی عبادت میں شرکت کے لئے بغیر احرام کے مکہ مکرمہ جاتے ہیں، یہ ان کی خواہش تو ہوسکتی ہے، لیکن شریعت اسلامیہ یہی چاہتی ہے کہ ان مذکورہ اعمال میں شرکت کے لئے بھی بغیر احرام کے مکہ مکرمہ نہ جایا جائے۔ یعنی عمرہ کا احرام باندھ کرجائیں اور عمرہ کی ادائیگی کے ساتھ ان اعمال میں شرکت بھی کرلیں۔ آفاقی ایک عمرہ کی ادائیگی کے بعد اسی سفر میں دوسرا یا تیسرا عمرہ کرنا چاہتا ہے تو پھر میقات پر جانے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ حدود حرم سے باہر کسی بھی جگہ مثلاً تنعیم (جہاں مسجد عائشہ بنی ہوئی ہے) جاکر دوسرے عمرہ کا احرام باندھ لے۔ دوسرے عمرہ کی ادائیگی کے لئے مرد کا احرام کی چادروں یا خواتین کا لباس بدلنے کی ضرورت نہیں ہے۔
محمد نجیب قاسمی سنبھلی (www.najeebqasmi.com)