بسم الله الرحمن الرحيم

اَلْحَمْدُ لِله رَبِّ الْعَالَمِيْن،وَالصَّلاۃ وَالسَّلام عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن۔

قرض لینے اور دینے کے مسائل

اگر کوئی شخص کسی خاص ضرورت کی وجہ سے قرض مانگتا ہے تو قرض دے کر اس کی مدد کرنا باعث اجروثواب ہے، جیساکہ قرآن وحدیث کی روشنی میں علماء کرام نے تحریر فرمایا ہے کہ ضرورت کے وقت قرض مانگنا جائز ہے اور اگر کوئی شخص قرض کا طالب ہو تو اس کو قرض دینا مستحب ہے، کیونکہ شریعت اسلامیہ نے قرض دے کر کسی کی مدد کرنے میں دنیا وآخرت کے بہترین بدلہ کی ترغیب دی ہے ، لیکن قرض دینے والے کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے دنیاوی فائدہ کے لئے کوئی شرط نہ لگائے۔
قرض لیتے اور دیتے وقت ان احکام کی پابندی کرنی چاہئے جو اللہ تعالیٰ نے سورۂ البقرہ کی آیت ۲۸۲ میں بیان کئے ہیں، یہ آیت قرآن کریم کی سب سے لمبی آیت ہے۔ اس آیت میں قرض کے احکام ذکر کئے گئے ہیں، ان احکام کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ بعد میں کسی طرح کا کوئی اختلاف پیدا نہ ہو۔ ان احکام میں سے تین اہم حکم حسب ذیل ہیں:
اگر کسی شخص کو قرض دیا جائے تو اس کو تحریری شکل میں لایاجائے، خواہ قرض کی مقدار کم ہی کیوں نہ ہو۔
قرض کی ادائیگی کی تاریخ بھی متعین کرلی جائے۔
دو گواہ بھی طے کرلئے جائیں۔
قرض لینے والے کے لئے ضروری ہے کہ وہ ہر ممکن کوشش کرکے وقت پر قرض کی ادائیگی کرے۔ اگر متعین وقت پر قرض کی ادائیگی ممکن نہیں ہے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ اللہ جلّ شانہ کا خوف رکھتے ہوئے قرض دینے والے سے قرض کی ادائیگی کی تاریخ سے مناسب وقت قبل مزید مہلت مانگے۔ مہلت دینے پر قرض دینے والے کو اللہ تعالیٰ اجرعظیم عطا فرمائے گا۔ لیکن جو حضرات قرض کی ادائیگی پر قدرت رکھنے کے باوجود قرض کی ادائیگی میں کوتاہی کرتے ہیں، ان کے لئے نبی اکرم ا کے ارشادات میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں، حتی کہ آپ اایسے شخص کی نمازِ جنازہ پڑھانے سے منع فرمادیتے تھے جس پر قرض ہو یہاں تک کہ اس کے قرض کو ادا کردیا جائے۔ ان احادیث میں سے بعض احادیث مندرجہ ذیل ہیں:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: مسلمان کی جان اپنے قرض کی وجہ سے معلق رہتی ہے (یعنی جنت کے دخول سے روک دی جاتی ہے) یہاں تک کہ اس کے قرض کی ادائیگی کردی جائے۔ (ترمذی، مسند احمد، ابن ماجہ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ایک روز فجر کی نماز پڑھانے کے بعد ارشاد فرمایا: تمہارا ایک ساتھی قرض کی ادائیگی نہ کرنے کی وجہ سے جنت کے دروازہ پر روک دیا گیاہے۔ اگر تم چاہو تو اس کو اللہ تعالیٰ کے عذاب کی طرف جانے دو ، اور چاہو تو اسے (اس کے قرض کی ادائیگی کرکے) عذاب سے بچالو (رواہ الحاکم ، صحیح علی شرط الشیخین۔۔ الترغیب والترھیب)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ شہید کے تمام گناہوں کو معاف کردیتا ہے ، مگر کسی کا قرضہ معاف نہیں کرتا۔ (مسلم)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: جو شخص کسی سے اس نیت سے قرض لے کہ وہ اس کو ادا کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے قرض کی ادائیگی کے لئے آسانی پیدا کرتا ہے، اور اگر قرض لیتے وقت اس کا ارادہ ہڑپ کرنے کا ہے تو اللہ تعالیٰ اسی طرح کے اسباب پیدا کرتا ہے جس سے وہ مال ہی برباد ہوجاتا ہے۔ (بخاری)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: جس شخص کا انتقال ہوا ایسے وقت میں کہ وہ مقروض ہے تو اسکی نیکیوں سے قرض کی ادائیگی کی جائے گی (لیکن اگر کوئی شخص اس کے انتقال کے بعد اس کے قرض کی ادائیگی کردے تو پھر کوئی مواخذہ نہیں ہوگا)۔ (ابن ماجہ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: اگر کوئی شخص اس نیت سے قرض لیتا ہے کہ وہ اس کو بعد میں ادا نہیں کرے گا تو وہ چور کی حیثیت سے اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ (ابن ماجہ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: قرض کی ادائیگی پر قدرت کے باوجود وقت پر قرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔ (بخاری ، مسلم) قرض کی ادائیگی پر قدرت کے باوجود قرض کی ادائیگی نہ کرنے والا ظالم وفاسق ہے۔ ( النووی ،فتح الباری)
حضرت جابر ؓ کی روایت ہے کہ ایک شخص کاانتقال ہوا، ہم نے غسل وکفن سے فراغت کے بعد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  سے نماز پڑھانے کو کہا۔ آپ انے پوچھا کہ کیا اس پر کوئی قرض ہے؟ ہم نے کہا کہ اس پر ۲ دینار کا قرض ہے۔ آپ انے ارشاد فرمایا : پھر تم ہی اس کی نمازِ جنازہ پڑھو۔ حضرت ابوقتادہؓ نے فرمایا کہ اے اللہ کے رسول ا! اس کا قرض میں نے اپنے اوپر لیا۔ نبی اکرم نے ارشاد فرمایا : وہ قرضہ تمہارے اوپر ہوگیا اور میت بری ہوگیا۔ اس کے بعد آپ انے اس شخص کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (رواہ احمد باسناد حسن والحاکم وقال صحیح الاسناد۔۔۔ الترغیب والترھیب ۲/۱۶۸)
قرض کی ادائیگی پر قدرت حاصل کرنے کے لئے حضور ا کی تعلیمات:
ایک روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم  مسجد میں تشریف لائے تو حضرت ابوامامہؓ مسجد میں تشریف فرما تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے حضرت ابوامامہؓ سے پوچھا کہ نماز کے وقت کے علاوہ مسجد میں موجود ہونے کی کیا وجہ ہے ؟ حضرت ابوامامہؓ نے کہاکہ غم اور قرضوں نے گھیر رکھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا : کیا میں نے تمہیں ایک دعا نہیں سکھائی کہ جس کی برکت سے اللہ تعالیٰ تیرے غموں کو دور کرے گا اور تمہارے قرضوں کی ادائیگی کے انتظام فرمائے گا؟ حضرت ابوامامہؓ نے کہا : کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: اے ابوامامہؓ ! اس دعا کو صبح وشام پڑھا کرو۔ وہ دعا یہ ہے:
اَللّٰهمَّ اِنِّی اَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْهمِّ وَالْحُزْنِ، وَاَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْکَسْلِ، وَاَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْجُبْنِ وَالْبُخْلِ، وَاَعُوْذُ بِکَ مِنْ غَلَبَة الدَّينِ وَقَهرِ الرِّجَالِ
حضرت ابوامامہؓ فرماتے ہیں کہ میں نے اس دعا کا اہتمام کیا تواللہ تعالیٰ نے میرے سارے غم دور کردئے اور تمام قرض ادا ہوگئے۔ (ابوداؤد۔ مسلم شریف کی مشہور شرح لکھنے والے امام نووی ؒ نے اپنی کتاب الاذکار میں بھی اس حدیث کو ذکر کیا ہے)
قرآن وحدیث میں محتاج لوگوں کی ضرورت پوری کرنے کی ترغیب :
بھلائی کے کام کرو تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ۔  (سورہ الحج ۷۷)
اچھے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو۔ (سورہ المائدہ ۲)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: جس شخص نے کسی مسلمان کی کوئی بھی دنیاوی پریشانی دور کی ، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی پریشانیوں کو دور فرمائے گا۔ جس نے کسی پریشان حال آدمی کے لئے آسانی کا سامان فراہم کیا، اللہ تعالیٰ اس کے لئے دنیاو آخرت میں سہولت کا فیصلہ فرمائے گا۔ اللہ تعالیٰ اس وقت تک بندہ کی مدد کرتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد کرتا رہے۔ (مسلم)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: اگر کوئی مسلمان کسی مسلمان کو دو مرتبہ قرضہ دیتا ہے تو ایک بار صدقہ ہوتا ہے۔ (نسائی ، ابن ماجہ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: شب معراج میں میں نے جنت کے دروازہ پر صدقہ کا بدلہ ۱۰ گنا اور قرضہ دینے کا بدلہ ۱۸ گنا لکھا ہوا دیکھا۔ میں نے کہا اے جبرئیل! قرض صدقہ سے بڑھ کر کیوں؟ جبرئیل علیہ السلام نے فرمایا کہ سائل مانگتا ہے جبکہ اس کے پاس کچھ مال موجود ہو، اور قرضدار ضرورت کے وقت ہی سوال کرتا ہے۔ ( ابن ماجہ)
حضرت ابودرداء ؓ فرماتے ہیں کہ میں کسی مسلمان کو ۲ دینار قرض دوں، یہ میرے نزدیک صدقہ کرنے سے زیادہ بہتر ہے۔ ۔۔ (کیونکہ قرض کی رقم واپس آنے کے بعد اسے دوبارہ صدقہ کیا جاسکتا ہے یا اسے بطور قرض کسی کو دیا جاسکتا ہے،نیز اس میں واقعی محتاج کی ضرورت پوری ہوتی ہے)۔ (السنن الکبری للبیہقی)
قرض لینے والا اپنی خوشی سے قرض کی واپسی کے وقت اصل رقم سے کچھ زائد رقم دینا چاہے تو یہ جائز ہی نہیں بلکہ ایسا کرنا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کے عمل سے ثابت ہے، لیکن پہلے سے زائد رقم کی واپسی کا کوئی معاملہ طے نہ ہوا ہو۔
نوٹ: ہمیں بینک سے قرض لینے سے بچنا چاہئے، کیونکہ اسکی ادائیگی سود کے ساتھ ہی ہوتی ہے۔ اور سود لینا یا دینا حرام ہے۔
محمد نجیب قاسمی، ریاض (www.najeebqasmi.com)