Print

بسم الله الرحمن الرحيم

اَلْحَمْدُ لِله رَبِّ الْعَالَمِيْن،وَالصَّلاۃ وَالسَّلام عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن۔

زکوٰۃ کے مسائل

زکوٰۃ کے معنی:
زکوٰۃ کے معنی پاکیزگی، بڑھوتری اور برکت کے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: اُن کے مال سے زکوٰۃ لو تاکہ اُن کو پاک کرے اور بابرکت کرے اُس کی وجہ سے، اور دعا دے اُن کو۔ (سورۂالتوبہ، آیت نمبر ۱۰۳) شرعی اصطلاح میں مال کے اُس خاص حصہ کو زکوٰۃ کہتے ہیں جس کو اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق فقیروں، محتاجوں وغیرہ کو دے کر انہیں مالک بنا دیا جائے۔
زکوٰۃ کا حکم:
زکوٰۃ دینا فرض ہے۔ قرآن کریم کی آیات اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم  کے ارشادات سے اِس کی فرضیت ثابت ہے۔ قرآن وسنت کی روشنی میں امت مسلمہ کا اجماع ہے کہ جوشخص زکوٰۃ کے فرض ہونے کا انکار کرے وہ کافر ہے، اور زکوٰۃ کی ادائیگی نہ کرنے والا گناہ کبیرہ کا مرتکب ہے، جس پر آخرت میں سخت سزائیں دی جائیں گی اگر اللہ تعالیٰ نے اسے معاف نہیں فرمایا۔
زکوٰۃ کی فرضیت کب ہوئی:
زکوٰۃ کی فرضیت ابتداء اسلام میں ہی مکہ مکرمہ کے اندر نازل ہوچکی تھی، جیساکہ مفسر قرآن ابن کثیرؒ نے سورۂ مزمل کی آیت فَاقِيمُوا الصَّلاۃ وَآتُوا الزَّکَاۃسے استدلال فرمایا ہے۔ کیونکہ یہ سورت مکی ہے اور بالکل ابتداء وحی کے زمانہ کی سورتوں میں سے ہے۔ البتہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتداءِ اسلام میں زکوٰۃ کے لئے کوئی خاص نصاب یا خاص مقدار مقرر نہ تھی، بلکہ جو کچھ ایک مسلمان کی اپنی ضرورت سے بچ جاتا، اُس کا ایک بڑا حصہ اللہ کی راہ میں خرچ کیا جاتا تھا۔ نصاب کا تعین اور مقدارِ زکوٰۃ کا بیان مدینہ منورہ میں ہجرت کے بعد ہوا۔
زکوٰۃ نہ نکالنے پر وعید:
سورۂ التوبہ آیت نمبر ۳۴ ۔ ۳۵ میں اللہ تعالیٰ نے اُن لوگوں کے لئے بڑی سخت وعید بیان فرمائی ہے جو اپنے مال کی کما حقہ زکوٰۃ نہیں نکالتے۔ اُن کے لئے بڑے سخت الفاظ میں خبر دی ہے، چنانچہ فرمایا : جو لوگ سونا وچاندی جمع کرکے رکھتے ہیں اور ان کو اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے (یعنی زکوٰۃ نہیں نکالتے) تو (اے نبی ) آپ ان کو ایک بڑے دردناک عذاب کی خبر سنادیجئے۔ دوسری آیت میں اُس دردناک عذاب کی تفصیل ذکر فرمائی کہ یہ دردناک عذاب اُس دن ہوگا جس دن سونے اور چاندی کو آگ میں تپایا جائے گا اور پھر اُس آدمی کی پیشانی ، اُس کے پہلو اور اُس کی پشت کو داغا جائے گااور اس سے یہ کہا جائے گا کہ یہ ہے وہ خزانہ جو تم نے اپنے لئے جمع کیا تھا، آج تم اس خزانے کا مزہ چکھو، جو تم اپنے لئے جمع کررہے تھے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اِس انجام بد سے محفوظ فرمائے ، آمین۔ آیت میں "کَنَزْتُمْ" سے مراد وہ مال ہے جس کی زکوٰۃ ادا نہ کی گئی ہو۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: جب مال میں زکوٰۃ کی رقم شامل ہوجائے (یعنی زکوٰۃ کی ادائیگی نہیں کی گئی یا پوری زکوٰۃ نہیں نکالی بلکہ کچھ زکوٰۃ نکالی اور کچھ رہ گئی) تو وہ مال انسان کے لئے تباہی اور ہلاکت کا سبب ہے۔ (مجمع الزوائد) لہذا اس بات کا اہتمام کیا جائے کہ ایک ایک روپئے کا صحیح حساب کرکے زکوٰۃ ادا کی جائے۔
زکوٰۃ کے فوائد:
زکوٰۃ ایک عبادت ہے اور اللہ کا حکم ہے۔ زکوٰۃ نکالنے سے ہمیں کوئی فائدہ ملے یا نہ ملے، اللہ کے حکم کی اطاعت بذات خود مقصود ہے۔ زکوٰۃ کی ادائیگی کا اصل مقصد اللہ کی اطاعت ہے ، لیکن اللہ کا کرم ہے کہ جب کوئی بندہ زکوٰۃ نکالتا ہے تو اللہ اُس کو دنیاوی فوائد بھی عطا فرماتا ہے، اُن فوائد میں سے یہ بھی ہے کہ زکوٰۃ کی ادائیگی باقی مال میں برکت ،اضافہ اور پاکیزگی کا سبب بنتی ہے۔ چنانچہ قرآن کریم (سورۂ البقرہ ۔ ۲۷۶) میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا :اللہ سود کو مٹاتا ہے اور زکوٰۃ اور صدقات کو بڑھاتا ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم  نے ارشاد فرمایا کہ جب کوئی بندہ خرچ کرتا ہے (زکوٰۃ نکالتا ہے) تو فرشتے اُس کے حق میں دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ! جو شخص اللہ کے راستے میں خرچ کررہا ہے اس کو اور زیادہ عطا فرما، اور اے اللہ جس شخص نے اپنے مال کو روک کر رکھ رہا ہے (یعنی زکوٰۃ ادا نہیں کررہا ہے) تو اے اللہ اس کے مال پر ہلاکت ڈال دے۔ (صحیح بخاری وصحیح مسلم) اسی طرح حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم  نے ارشاد فرمایا : کوئی صدقہ کسی مال میں کمی نہیں کرتاہے۔ (صحیح مسلم)
زکوٰۃ کس پر فرض ہے:
اُس مسلمان عاقل بالغ پر زکوٰۃ فرض ہے جو صاحبِ نصاب ہو۔ نصاب کا اپنی ضرورتوں سے زیادہ اور قرض سے بچا ہوا ہونا شرط ہے ، نیز مال پر ایک سال کا گزر نا بھی ضروری ہے۔ لہذا معلوم ہوا کہ جس کے پاس نصاب سے کم مال ہے، یا مال تو نصاب کے برابر ہے لیکن وہ قرض دار بھی ہے یا مال سال بھر تک باقی نہیں رہا ، تو ایسے شخص پر زکوٰۃ فرض نہیں ہے۔
زکوٰۃ کا نصاب :
52.5
تولہ چاندی یا 7.5 تولہ سونا یا اُس کی قیمت کا نقد روپیہ یا زیور یا سامانِ تجارت وغیرہ جس شخص کے پاس موجود ہے اور اُس پر ایک سال گزر گیا ہے تو اُس کو صاحبِ نصاب کہا جاتا ہے۔
سونے یا چاندی کے زیورات پر زکوٰۃ:
خیر القرون سے عصر حاضر تک کے جمہور علماء وفقہاء ومحدثین‘ قرآن وسنت کی روشنی میں عورتوں کے سونے یا چاندی کے استعمالی زیور پر وجوب زکوٰۃ کے قائل ہیں، اگر وہ زیور نصاب کے مساوی یا زائد ہو اور اس پر ایک سال بھی گزر گیا ہو، جس کے مختلف دلائل پیش کئے جاتے ہیں:
قرآن وسنت کے وہ عمومی حکم جن میں سونے یا چاندی پر بغیر کسی (استعمالی یا غیر استعمالی ) شرط کے زکوٰۃ واجب ہونے کا ذکر ہے اور ان آیات واحادیث شریفہ میں زکوٰۃ کی ادائیگی میں کوتاہی کرنے پر سخت ترین وعیدیں وارد ہوئی ہیں۔ متعدد آیات واحادیث میں یہ عموم ملتا ہے۔ سورۂ التوبہ آیت ۳۴،۳۵ کا ذکر کرچکا ہوں جس میں سونا یا چاندی پر زکوٰۃ نہ نکالنے والوں کو دردناک عذاب کی خبر دی گئی ہے۔ نیز حضور اکرم انے ارشاد فرمایا: کوئی شخص جو سونے یا چاندی کا مالک ہو اور اس کا حق (یعنی زکوٰۃ) ادا نہ کرے تو کل قیامت کے دن اس سونے وچاندی کے پترے بنائے جائیں گے اور ان کو جہنم کی آگ میں ایسا تپایا جائے گاگویا کہ وہ خود آگ کے پترے ہیں۔ پھر اس سے اس شخص کا پہلو، پیشانی اور کمر داغی جائے گی اور قیامت کے پورے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہوگی، باربار اسی طرح تپاتپاکر داغ دئے جاتے رہیں گے ، یہاں تک کہ ان کے لئے جنت یا جہنم کا فیصلہ ہوجائے۔ (مسلم، کتاب الزکوٰۃ، باب فیمن لا ےؤدی الزکوٰۃ) اس آیت اور حدیث میں عمومی طور پر سونے یا چاندی پر زکوٰۃ کی عدم ادائیگی پر دردناک عذاب کی خبر دی گئی ہے خواہ وہ استعمالی زیور ہوں یا تجارتی سونا و چاندی۔
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت حضور اکرم ا کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ اس کے ساتھ اسکی بیٹی تھی جو دو سونے کے بھاری کنگن پہنے ہوئے تھی۔ حضور اکرم ا نے اس عورت سے کہا کہ کیا تم اس کی زکوٰۃ ادا کرتی ہو؟ اس عورت نے کہا : نہیں۔ تو حضور اکرم ا نے فرمایا : کیا تم چاہتی ہو کہ اللہ تعالیٰ ان کی وجہ سے کل قیامت کے دن آگ کے کنگن تمہیں پہنائے۔ تو اس عورت نے وہ دونوں کنگن اتارکر نبی اکرم ا کی خدمت میں اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کے لئے پیش کردئے۔ (ابو داؤد، کتاب الزکوٰۃ، باب الکنز ما ہو وزکوۃ الحلی۔ مسند احمد۔ ترمذی ۔ دار قطنی) صحیح مسلم کی شرح لکھنے والے امام نووی ؒ نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور اکرم ا میرے پاس تشریف لائے اور میرے ہاتھ میں چھلا دیکھ کر مجھ سے کہا کہ اے عائشہ! یہ کیا ہے؟ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! یہ میں نے آپ کیلئے زینت حاصل کرنے کی غرض سے بنوایا ہے۔ تو نبی اکرم انے کہا : کیا تم اس کی زکوٰۃ ادا کرتی ہو؟ میں نے کہا : نہیں۔ حضور اکرم انے فرمایا : تو پھر یہ تمہیں جہنم میں لے جانے کے لئے کافی ہے۔ (ابوداؤد، دار قطنی) امام خطابی ؒ نے (معالم السنن ۳/۱۷۶) میں ذکر کیا ہے کہ غالب گمان یہ ہے کہ چھلا تنہا نصاب کو نہیں پہونچتا، اس کے معنی یہ ہیں کہ اس چھلے کو دیگر زیورات میں شامل کیا جائے ، نصاب کو پہونچنے پر زکوٰۃ کی ادائیگی کرنی ہوگی۔ امام سفیان ثوری ؒ نے بھی یہی توجیہ ذکر کی ہے۔
حضرت اسماء بنت زید ؓ روایت کرتی ہیں کہ میں اور میری خالہ حضور اکرم ا کی خدمت میں حاضر ہوئیں، ہم نے سونے کے کنگن پہن رکھے تھے۔ تو حضور اکرم انے کہا : کیا تم اس کی زکوٰۃ ادا کرتی ہو؟ ہم نے کہا : نہیں۔ حضور اکرم انے فرمایا :کیا تم ڈرتی نہیں کہ کل قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان کی وجہ سے آگ کے کنگن تمہیں پہنائے؟ لہذا ان کی زکوٰۃ ادا کرو ۔ (مسند احمد) متعدد احادیث صحیحہ میں زیورات پر زکوٰۃ کے واجب ہونے کا ذکر ہے، یہاں طوالت سے بچنے کے لئے صرف تین احادیث ذکر کی گئی ہیں۔
برصغیر کے جمہور علماء کرام نے بھی قرآن وحدیث کی روشنی میں یہی تحریر کیا ہے کہ استعمالی زیور میں نصاب کو پہنچنے پر زکوٰۃ واجب ہے۔ سعودی عرب کے سابق مفتی عام شیخ عبد العزیز بن بازؒ کی بھی قرآن وسنت کی روشنی میں یہی رائے ہے کہ استعمالی زیور پر زکوٰۃ واجب ہے۔
اصولی بات:قرآن کریم میں جہاں کہیں بھی سونے یا چاندی پر زکوٰۃ کی ادائیگی نہ کرنے پر سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں کسی ایک جگہ بھی استعمالی یا تجارتی سونے میں کوئی فرق نہیں کیا گیا ہے۔ نیز استعمالی زیور کو زکوٰۃ سے مستثنیٰ کرنے کے لئے کوئی غیر قابل نقد وجرح حدیث احادیث کے ذخیرہ میں نہیں ملتی ہے، بلکہ بعض احادیث صحیحہ استعمالی زیور پر زکوٰۃ واجب ہونے کی واضح طور پر رہنمائی کررہی ہیں۔ نیز استعمالی زیور پر زکوٰۃ کے واجب قرار دینے کے لئے اگر کوئی حدیث نہ بھی ہو تو قرآن کریم کے عمومی حکم کی روشنی میں ہمیں ہر طرح کے سونے وچاندی پر زکوٰۃ ادا کرنی چاہئے خواہ اس کا تعلق استعمال سے ہو یا نہ ہو،تاکہ کل قیامت کے دن رسوائی،ذلت اور دردناک عذاب سے بچ سکیں۔ نیز استعمالی زیور پر زکوٰۃ کے واجب قرار دینے میں غریبوں،مسکینوں، یتیموں اور بیواؤں کا فائدہ ہے تاکہ دولت چند گھروں میں نہ سمٹے بلکہ ہم اپنے معاشرہ کو اس رقم سے بہتر بنانے میں مدد حاصل کریں۔
زکوٰۃ کتنی ادا کرنی ہے:
اوپر ذکر کئے گئے نصاب پر صرف ڈھائی فیصد(2.5% ) زکوٰۃ ادا کرنی ضروری ہے۔ شریعت اسلامیہ نے دنیا کے موجودہ نظام کی طرح آمدنی پر ٹیکس نہیں لگایا یعنی اگر آپ کی لاکھوں روپئے کی آمدنی ہے لیکن وہ خرچ ہوجاتے ہیں توکوئی زکوٰۃ واجب نہیں، بلکہ ضروریات زندگی سے بچنا، بچے ہوئے مال کا نصاب کو پہنچنا ا ور اس پر ایک سال کا گزرنا وجوب زکوٰۃ کے لئے ضروری ہے۔
سامان تجارت میں کیا کیا داخل ہے:
مال تجارت میں ہر وہ چیز شامل ہے جس کو آدمی نے بیچنے کی غرض سے خریدا ہو۔ لہذا جو لوگ Investment کی غرض سے پلاٹ خریدلیتے ہیں اور شروع ہی سے یہ نیت ہوتی ہے کہ جب اچھے پیسے ملیں گے تو اس کو فروخت کرکے اس سے نفع کمائیں گے، تو اس پلاٹ کی مالیت پر بھی زکوٰۃ واجب ہے۔ لیکن پلاٹ اِس نیت سے خریدا کہ اگر موقع ہوا تو اس پر رہائش کے لئے مکان بنوالیں گے یا موقع ہوگا تو اس کو کرائے پر چڑھادیں گے یا کبھی موقع ہوگا تو اس کو فروخت کردیں گے یعنی کوئی واضح نیت نہیں ہے بلکہ ویسے ہی خرید لیا ہے، تو اس صورت میں اس پلاٹ کی قیمت پر زکوٰۃ واجب نہیں ہے۔
کس دن کی مالیت معتبر ہوگی؟
زکوٰۃ کی ادائیگی کے لئے اُس دن کی قیمت کا اعتبار ہوگا جس دن آپ زکوٰۃ کی ادائیگی کے لئے اپنے مال کا حساب لگا رہے ہیں۔ یعنی زیورات کی زکوٰۃ میں زکوٰۃ کی ادائیگی کے وقت پرانے سونے کے بیچنے کی قیمت کا اعتبار ہوگا۔ یعنی آپ کے پاس جو زیورات موجود ہیں اگر ان کو مارکیٹ میں بیچیں تو وہ کتنے میں فروخت ہوں گے، اس قیمت کے اعتبار سے زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی۔
ہر ہر روپے پر سال کا گزرنا ضروری نہیں:
ایک سال مال پر گزر جائے۔ اسکا مطلب یہ نہیں کہ ہر سال ہر ہر روپے پر مستقل سال گزرے۔ یعنی گزشتہ سال رمضان میں اگر آپ ۵ لاکھ روپے کے مالک تھے، جس پر ایک سال بھی گزر گیا تھا۔ زکوٰۃ ادا کردی گئی تھی۔ اِس سال رمضان تک جو رقم آتی جاتی رہی اُس کا کوئی اعتبار نہیں، بس اِس رمضان میں دیکھ لیں کہ آپ کے پاس اب کتنی رقم ضروریات سے بچ گئی ہے، اور اُس رقم پر زکوٰۃ ادا کردیں۔ مثلاً اِس رمضان میں ۶ لاکھ روپے آپ کے پاس ضروریات سے بچ گئے ہیں تو ۶ لاکھ کا 2.5% زکوٰۃ ادا کردیں۔ ہاں اگر کوئی قابل ذکر رقم روٹین کے علاوہ دستیاب ہوئی ہے تو اس کی زکوٰۃ اس کے سال مکمل ہونے پر ہی ادا کرنی ہوگی۔
زکوٰۃ اور رمضان:
زکوٰۃ کا رمضان میں ہی نکالنا ضروری نہیں ہے بلکہ اگر ہمیں صاحب نصاب بننے کی تاریخ معلوم ہے تو ایک سال گزرنے پر فوراً زکوٰۃ کی ادائیگی کردینی چاہئے خواہ کوئی سا بھی مہینہ ہو۔ مگر لوگ اپنے صاحب نصاب بننے کی تاریخ سے عموماً ناواقف ہوتے ہیں اور رمضان میں ایک نیکی کا اجر ستر گنا ملتا ہے تو اس لئے لوگ رمضان میں زکوٰۃ کی ادائیگی کا اہتمام کرتے ہیں اور پھر ہر سال رمضان میں ہی زکوٰۃ ادا کرتے ہیں ۔ زکوٰۃ ایک سال مکمل ہونے سے قبل بھی نکالی جاسکتی ہے اور اگر کسی وجہ سے کچھ تاخیر ہوجائے تو بھی زکوٰۃ ادا ہوجائے گی، لیکن قصداً تاخیر کرنا صحیح نہیں ہے۔
مستحقین زکوٰۃ یعنی زکوٰۃ کس کو ادا کریں ؟
اللہ تعالیٰ نے سورۂ التوبہ آیت نمبر ۶۰ میں ۸ مستحقین زکوٰۃ کا ذکر کیا ہے :
فقیر یعنی وہ شخص جس کے پاس کچھ تھوڑا مال واسباب ہے لیکن نصاب کے برابر نہیں۔
مسکین یعنی وہ شخص جس کے پاس کچھ بھی نہ ہو۔
جو کارکن زکوٰۃ وصول کرنے پر متعین ہیں۔
جن کی دلجوئی کرنا منظور ہو۔
وہ غلام جسکی آزادی مطلوب ہو۔
قرضدار یعنی وہ شخص جس کے ذمہ لوگوں کا قرض ہو اور اُس کے پاس قرض سے بچا ہوا بقدر نصاب کوئی مال نہ ہو۔
اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والا۔
مسافر جو حالت سفر میں تنگدست ہوگیا ہو۔
جن لوگوں کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں ہے:
۱۔ اُس شخص کو جس کے پاس ضروریاتِ اصلیہ سے زائد بقدرِ نصاب مال موجود ہو۔
۲۔ سیّد اور بنی ہاشم۔ بنی ہاشم سے حضرت حارثؓ بن عبدالمطلب،حضرت جعفرؓ، حضرت عقیلؓ، حضرت عباسؓ اور حضرت علیؓ کی اولادمراد ہیں۔
۳۔ اپنے ماں، باپ، دادا ، دادی ، نانا ، نانی کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں ہے۔
۴۔ اپنے بیٹے، بیٹی ، پوتا ، پوتی ، نواسہ، نواسی کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں ہے۔
۵۔ کافرکو زکوٰۃ نہیں دی جاسکتی ہے۔
نوٹ: بھائی ، بہن، بھتیجہ، بھتیجی، بھانجا، بھانجی، چچا، پھوپھی، خالہ، ماموں، ساس، سسر، داماد وغیرہ میں سے جو حاجتمند اور مستحق زکوٰۃ ہوں، انہیں زکوٰۃ دینے میں دوہرا ثواب ملتا ہے، ایک ثواب زکوٰۃ کا اور دوسرا صلہ رحمی کا۔
زکوٰۃ سے متعلق چند متفرق مسائل:
اگر کسی شخص کے پاس سونے یا چاندی کے علاوہ نقدی یا بینک بیلینس بھی ہے تو ان پر بھی زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی، البتہ دو بنیادی شرطیں ہیں :
۱۔ نصاب کے مساوی یا زائد ہو۔ ۲۔ ایک سال گزر گیا ہو۔
Diamond
پر زکوٰۃ واجب نہ ہونے پر امت مسلمہ متفق ہے، کیونکہ شریعت اسلامیہ نے اس کو قیمتی پتھروں میں شمار کیا ہے۔ ہاں اگریہ تجارت کی غرض کے لئے ہوں تو پھر نصاب کے برابر یا زیادہ ہونے کی صورت میں زکوٰۃ واجب ہوگی۔
زکوٰۃ جس کو دی جائے اُسے یہ بتانا کہ یہ مالِ زکوٰۃ ہے ضروری نہیں بلکہ کسی غریب کے بچوں کو عیدی یا کسی اور نام سے دیدینا بھی کافی ہے۔
دینی مدارس میں غریب طالب علموں کے لئے زکوٰۃ دینا جائز ہے۔
زکوٰۃ کی رقم کو مساجد، مدارس، ہسپتال، یتیم خانے اور مسافر خانے کی تعمیر میں صرف کرنا جائز نہیں ہے۔
اگر عورت بھی صاحبِ نصاب ہے تو اُس پر بھی زکوٰۃ فرض ہے، البتہ اگر شوہر خود ہی عورت کی طرف سے بھی زکوٰۃ کی ادائیگی اپنے مال سے کردے تو زکوٰۃ ادا ہوجائے گی۔
محمد نجیب قاسمی، ریاض (This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.)