بسم الله الرحمن الرحيم

اَلْحَمْدُ لِله رَبِّ الْعَالَمِيْن،وَالصَّلاۃ وَالسَّلام عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن۔

سونے یا چاندی کے زیورات پر زکاۃ

حضرت عمر فاروقؓ ، حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ ، حضرت عبد اللہ بن عباسؓ، حضرت عبداللہ بن عمروبن العاصؓ، اسی طرح مشہور ومعروف تابعین حضرت سعید بن جبیرؒ ، حضرت عطاءؒ ، حضرت مجاہدؒ ، حضرت ابن سیرینؒ ، امام زہریؒ ، امام ثوریؒ ، امام اوزاعی ؒ اور امام اعظم ابوحنیفہ ؒ قرآن وسنت کی روشنی میں عورتوں کے سونے یا چاندی کے استعمالی زیور پر وجوبِ زکاۃ کے قائل ہیں، اگر وہ زیور نصاب کے مساوی یا زائد ہو اور اس پر ایک سال بھی گزر گیا ہو، جس کے مختلف دلائل پیش کئے جاتے ہیں:
قرآن وسنت کے وہ عمومی حکم جن میں سونے یا چاندی پر بغیر کسی (استعمالی یا غیر استعمالی ) شرط کے زکاۃ واجب ہونے کا ذکر ہے اور ان آیات واحادیث شریفہ میں زکاۃ کی ادائیگی میں کوتاہی کرنے پر سخت ترین وعیدیں وارد ہوئی ہیں۔ متعدد آیات واحادیث میں یہ عموم ملتا ہے، اختصار کی وجہ سے صرف ایک آیت اور ایک حدیث پر اکتفاء کرتا ہوں:
جو لوگ سونا یا چاندی جمع کرکے رکھتے ہیں اور ان کو اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے (یعنی زکاۃ نہیں نکالتے) سو آپ ان کو ایک بڑے دردناک عذاب کی خبر سنادیجئے، جو اس روز واقع ہوگا کہ ان (سونے وچاندی) کو دوزخ کی آگ میں تپایا جائے گا، پھر ان سے لوگوں کی پیشانیوں اور ان کی کروٹوں اور ان کی پشتوں کو داغا جائے گا۔ اور یہ جتایا جائے گا کہ یہ وہ ہے جس کو تم اپنے واسطے جمع کرکے رکھتے تھے۔ سو اب اپنے جمع کرنے کا مزہ چکھو۔۔۔۔۔ (سورۂ التوبہ ۳۴،۳۵)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: جس مال کی زکاۃ اداکردی جائے وہ کنز تم (جمع کئے ہوئے) میں داخل نہیں ہے۔ (ابوداؤد، مسند احمد) غرضیکہ جس سونے وچاندی کی زکاۃ ادا نہیں کی جاتی ہے، کل قیامت کے دن وہ سونا وچاندی جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا، پھر اس سے ان کی پیشانیوں، پہلوؤں اور پشتوں کو داغا جائے گا۔۔۔۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو تمام مال اور سونے وچاندی کے زیورات پر زکاۃ کی ادائیگی کرنے والا بنائے تاکہ اس دردناک عذاب سے ہماری حفاظت ہوجائے۔ آمین۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: کوئی شخص جو سونے یا چاندی کا مالک ہو اور اس کا حق (یعنی زکاۃ) ادا نہ کرے تو کل قیامت کے دن اس سونے وچاندی کے پترے بنائے جائیں گے اور ان کو جہنم کی آگ میں ایسا تپایا جائے گاگویا کہ وہ خود آگ کے پترے ہیں۔ پھر اس سے اس شخص کا پہلو، پیشانی اور کمر داغ دی جائے گی اور قیامت کے پورے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہوگی، باربار اسی طرح تپاتپاکر داغ دئے جاتے رہیں گے ، یہاں تک کہ ان کے لئے جنت یا جہنم کا فیصلہ ہوجائے۔(مسلم، کتاب الزکاۃ)

اس آیت اور حدیث میں عمومی طور پر سونے یا چاندی پر زکاۃ کی عدم ادائیگی پر دردناک عذاب کی خبر دی گئی ہے خواہ وہ استعمالی زیور ہوں یا تجارتی سونا و چاندی۔ غرضیکہ قرآن کریم میں کسی ایک جگہ بھی استعمالی زیور کا استثنی نہیں کیا گیاہے۔
حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ اس کے ساتھ اسکی بیٹی تھی جو دو سونے کے بھاری کنگن پہنے ہوئے تھی۔ نبی اکرم ا نے اس عورت سے کہا کہ کیا تم اس کی زکاۃ ادا کرتی ہو؟ اس عورت نے کہا : نہیں۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا : کیا تم چاہتی ہو کہ اللہ تعالیٰ ان کی وجہ سے کل قیامت کے دن آگ کے کنگن تمہیں پہنائے۔ تو اس عورت نے وہ دونوں کنگن اتارکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کی خدمت میں اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کے لئے پیش کردئے۔ (ابو داؤد، کتاب الزکاۃ، باب الکنز ما ہو وزکاۃ الحلی۔ مسند احمد۔ ترمذی ۔ دار قطنی) شارح مسلم امام نووی ؒ نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ نبی اکرم ا میرے پاس تشریف لائے اور میرے ہاتھ میں چھلا دیکھ کر مجھ سے کہا کہ اے عائشہ! یہ کیا ہے؟ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! یہ میں نے آپ کے لئے زینت حاصل کرنے کی غرض سے بنوایا ہے۔ تو نبی اکرم انے کہا : کیا تم اس کی زکاۃ ادا کرتی ہو؟ میں نے کہا : نہیں۔ نبی اکرم انے فرمایا : تو پھر یہ تمہیں جہنم میں لے جانے کے لئے کافی ہے۔ (ابوداؤد ۱/۲۴۴، دار قطنی)
محدثین کی ایک جماعت نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔ امام خطابی ؒ نے (معالم السنن ۳/۱۷۶) میں ذکر کیا ہے کہ غالب گمان یہ ہے کہ چھلا تنہا نصاب کو نہیں پہونچتا، اس کے معنی یہ ہیں کہ اس چھلے کو دیگر زیورات میں شامل کیا جائے ، نصاب کو پہونچنے پر زکاۃ کی ادائیگی کرنی ہوگی۔ امام سفیان ثوری ؒ نے بھی یہی توجیہ ذکر کی ہے۔
حضرت اسماء بنت زید ؓ روایت کرتی ہیں کہ میں اور میری خالہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کی خدمت میں حاضر ہوئیں، ہم نے سونے کے کنگن پہن رکھے تھے۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے کہا : کیا تم اس کی زکاۃ ادا کرتی ہو؟ ہم نے کہا : نہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا :کیا تم ڈرتی نہیں کہ کل قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان کی وجہ سے آگ کے کنگن تمہیں پہنائے؟ لہذا ان کی زکاۃ ادا کرو ۔ (مسند احمد) محدثین کی ایک جماعت نے حدیث کو اس صحیح قرار دیا ہے۔
متعدد احادیث صحیحہ میں زیورات پر زکاۃ کے واجب ہونے کا ذکر ہے، یہاں طوالت سے بچنے کے لئے صرف تین احادیث ذکر کی گئی ہیں۔
استعمالی زیور میں زکاۃ واجب نہ قرار دینے والا امت مسلمہ کا دوسرا مکتب فکر عموماً دو دلیلیں پیش کرتا ہے:
عقلی دلیل: اللہ تعالیٰ نے اسی مال میں زکاۃ کو واجب قراردیا ہے جس میں بڑھوتری کی گنجائش ہو، جبکہ سونے اور چاندی
کے زیورات میں بڑھوتری نہیں ہوتی۔ ۔۔ حالانکہ حقیقتاً زیورات میں بھی بڑھوتری ہوتی ہے چنانچہ سونے کی قیمت
کے ساتھ زیورات کی قیمت میں بھی اضافہ ہوتا ہے، آج کل تو تجارت سے زیادہ margin سونے میں موجودہے۔
چند احادیث وآثار صحابہ : وہ سب کے سب ضعیف ہیں جیساکہ شیخ ناصر الدین البانی ؒ نے اپنی کتاب (ارواء الغلیل فی
تخریج احادیث منابر السبیل) میں دلائل کے ساتھ تحریر کیا ہے۔
برصغیر کے جمہور علماء کرام نے قرآن وحدیث کی روشنی میں یہی تحریر کیا ہے کہ استعمالی زیورات میں نصاب کو پہنچنے پر زکاۃ واجب ہے۔ ۔۔۔ سعودی عرب کے سابق مفتی عام شیخ عبد العزیز بن بازؒ کی بھی قرآن وسنت کی روشنی میں یہی رائے ہے کہ استعمالی زیور پر زکاۃ واجب ہے۔ تفصیلات کے لئے انٹرنیٹ کے اس لنک پر کلک کیجئے۔
http://www.binbaz.org.sa/mat/13841
اصولی بات:
موضوع بحث مسئلہ میں امت مسلمہ زمانۂ قدیم سے دو مکاتب فکر میں منقسم ہوگئی ہے، ہر مکتب فکر نے اپنے موقف کی تایید کے لئے احادیث نبویہ سے ضرور سہارا لیا ہے لیکن اس حقیقت کا کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ قرآن کریم میں جہاں کہیں بھی سونے یا چاندی پر زکاۃ کی ادائیگی نہ کرنے پر سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں کسی ایک جگہ بھی استعمالی یا تجارتی سونے میں کوئی فرق نہیں کیا گیا ہے۔ نیز استعمالی زیور کو زکاۃ سے مستثنیٰ کرنے کے لئے کوئی غیر قابل نقد وجرح حدیث احادیث کے ذخیرہ میں نہیں ملتی ہے، بلکہ بعض احادیث صحیحہ استعمالی زیور پر زکاۃ واجب ہونے کی واضح طور پر رہنمائی کررہی ہیں۔ شیخ ناصر الدین البانی ؒ جیسے محدث نے بھی ان میں سے بعض احادیث کو صحیح تسلیم کیا ہے۔ نیز استعمالی زیور پر زکاۃ کے واجب قرار دینے کے لئے اگر کوئی حدیث نہ بھی ہو تو قرآن کریم کے عمومی حکم کی روشنی میں ہمیں ہر طرح کے سونے وچاندی پر زکاۃ ادا کرنی چاہئے خواہ اس کا تعلق استعمال سے ہو یا نہیں،تاکہ کل قیامت کے دن رسوائی،ذلت اور دردناک عذاب سے بچ سکیں۔ نیز استعمالی زیور پر زکاۃ کے واجب قرار دینے میں غریبوں،مسکینوں، یتیموں اور بیواؤں کا فائدہ ہے تاکہ دولت چند گھروں میں نہ سمٹے بلکہ ہم اپنے معاشرہ کو اس رقم سے بہتر بنانے میں مدد حاصل کریں۔

احتیاط:
وہ مذکورہ بالا احادیث جن میں نبی اکرم انے استعمالی زیور پر بھی وجوب زکاۃ کا حکم دیا ہے ، ان کے صحیح ہونے پر محدثین کی ایک جماعت متفق ہے، البتہ بعض محدثین نے سند حدیث میں ضعف کا اقرار کیا ہے۔ لیکن احتیاط اسی میں ہے کہ ہم استعمالی زیور پر بھی زکاۃ کی ادائیگی کریں تاکہ زکاۃ کی ادائیگی نہ کرنے پر قرآن وحدیث میں جو سخت ترین وعیدیں وارد ہوئی ہیں ان سے ہماری حفاظت ہوسکے۔ نیز ہمارے مال میں پاکیزگی کے ساتھ اس میں نمو اور بڑھوتری اسی وقت پیدا ہوگی جب ہم مکمل زکاۃ کی ادائیگی کریں گے، کیونکہ زکاۃ کی مکمل ادائیگی نہ کرنے پر مال کی پاکیزگی اور بڑھوتری کا وعدہ نہیں ہے۔ نیز جو بعض صحابہ یا تابعین استعمالی زیور میں زکاۃ کے وجوب کے قائل نہیں تھے ، ان کی زندگیوں کے احوال پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ تو اپنی ضروریات کے مقابلے میں دوسروں کی ضرورتوں کو پورا کرنے میں اپنی دنیا وآخرت کی کامیابی سمجھتے تھے اور اپنے مال کا ایک بڑا حصہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرتے تھے۔ تاریخی کتابیں ایسے واقعات سے بھری ہوئی ہیں۔ اِس وقت امت مسلمہ کا بڑا طبقہ زکاۃ کی ادائیگی کے لئے بھی تیار نہیں ہے چہ جائیکہ دیگر صدقات وخیرات وتعاون سے اپنے غریب بھائیوں کی مدد کرے، لہذا استعمالی زیور پر زکاۃ نکالنے میں ہی احتیاط ہے تاکہ ہم دنیا میں غریبوں،یتیموں اور بیواؤں کی مدد کرکے کل قیامت کے دن نہ صرف عذاب سے بچ سکیں، بلکہ اجر عظیم کے بھی مستحق بنیں۔
چند وضاحتیں:
اگر زیورات استعمال کے لئے نہیں ہیں بلکہ مستقبل میں کسی تنگ وقت میں کام آنے (مثلاً بیٹی کی شادی) کے لئے رکھے
ہوئے ہیں یا سال سے زیادہ ہوگیا اور ان کا استعمال بھی نہیں ہوا، تو اس صورت میں سونے کے زیورات پر زکاۃ کے واجب
ہونے پر تقریباً تمام علماء کرام کا اتفاق ہے، یعنی امت مسلمہ کا دوسرا مکتب فکر بھی متفق ہے۔
زیورات کی زکاۃ میں زکاۃ کی ادائیگی کے وقت پرانے سونے کے بیچنے کی قیمت کا اعتبار ہوگا۔ یعنی آپ کے پاس جو سونا موجود ہے اگر اس کو مارکیٹ میں بیچیں تو وہ کتنے میں فروخت ہوگا اس قیمت کے اعتبار سے زکاۃ ادا کرنی ہوگی۔
Diamond
پر زکاۃ واجب نہ ہونے پر امت مسلمہ متفق ہے، کیونکہ شریعت اسلامیہ نے اس کو قیمتی پتھروں میں شمار
کیا ہے۔ ہاں اگریہ تجارت کی غرض کے لئے ہوں تو پھر نصاب کے برابر یا زیادہ ہونے کی صورت میں زکاۃ واجب ہوگی۔

اگر کسی شخص کے پاس سونے یا چاندی کے علاوہ نقدی یا بینک بیلینس بھی ہے تو ان پر بھی زکاۃ ادا کرنی ہوگی، البتہ دو بنیادی
شرطیں ہیں :
۱۔ نصاب کے مساوی یا زائد ہو۔
۲۔ ایک سال گزر گیا ہو۔
محمد نجیب قاسمی سنبھلی (This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.)