بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيْم

اَلْحَمْدُ لِلّهِ رَبِّ الْعَالَمِيْن،وَالصَّلاۃ وَالسَّلامُ عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن۔

سعودی عرب میں ماہِ رمضان کے شب وروز

ماہِ رمضان کے شروع ہوتے ہی ہر روزہ دار کانظام عمل کسی حد تک تبدیل ہوجاتا ہے، اور ایسا کیوں نہ ہو کہ آسمانوں میں بھی تبدیلی رونما ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی خاص رحمتیں بندوں پر نازل ہوتی ہیں۔ بندوں کے بے شمار گناہوں کی مغفرت ہوتی ہے۔ نیکیوں کا اجرو ثواب بڑھا دیا جاتا ہے۔ سرکش شیاطین قید کردیے جاتے ہیں۔ جنت روزانہ روزہ داروں کے لیے سجائی جاتی ہے۔ بے شمار لوگوں کے لیے جہنم سے نجات کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ چنانچہ اپنے حقیقی مالک کی رضا کے لیے پوری دنیا کے مسلمان اِس ماہ مبارک کا اپنی استطاعت وتوفیق کے بقدر استقبال کرتے ہیں۔ دیگر ممالک کی طرح سعودی عرب میں بھی ماہ رمضان کی آمد پر خصوصی انتظامات کیے جاتے ہیں۔ رمضان سے قبل زندگی گزارنے کے لیے ضروری اشیاء مثلاً چاول، تیل، چینی، کھجور وغیرہ سستے داموں میں فروخت کی جاتی ہیں۔ اوسط طبقہ کے افراد رمضان کے آفر کا فائدہ اٹھاکر نہ صرف ماہِ رمضان بلکہ مزید چند ماہ کے لیے یہ اشیاء خرید کر رکھ لیتے ہیں۔ ماہ رمضان میں بھی اشیاء کی قیمتوں پر کافی حدتک کنٹرول رہتا ہے۔ سعودی عرب میں پھلوں کی پیداوار کم ہوتی ہے، لیکن اللہ کے فضل وکرم سے دنیا کا ہر پھل آسانی سے مناسب دام پر دستیاب ہوجاتا ہے۔ بجلی کا تو مسئلہ ہی نہیں ہے، بجلی سالوں میں صرف اُسی وقت چند لمحوں کے لیے جاتی ہے جب نیٹ ورک میں کوئی خرابی آجائے۔ کھانے پینے کی چیزوں میں عمومی طور پر ملاوٹ نہیں ہوتی ہے۔ کسی طرح کا خوف نہیں ہے، رات میں بھی کسی وقت صرف میاں بیوی اکیلے اپنی گاڑی سے سینکڑوں میل کے سفر پر نکل جاتے ہیں۔ غرضیکہ وہ سہولیات اور آرام جو بر صغیر میں اعلیٰ طبقہ کو بھی نہیں ملتیں وہ یہاں عام لوگوں کو میسر ہیں۔ سعودیوں کی آبادی تین کروڑ اور تیس لاکھ ہے، تقریباً ایک کروڑ باہر کے لوگ سعودی عرب میں کام کرتے ہیں، جن میں سے سب سے زیادہ ہندوستان کے تیس لاکھ ہیں، اس کے بعد پاکستان اور مصر کے لوگ ہیں۔ سعودی عرب دنیا کا چوتھا ملک ہے جہاں سب سے زیادہ باہر کے لوگ کام کرتے ہیں۔

نبی اکرم ﷺ کی تعلیمات کے مطابق 29 شعبان کو رؤیت ہلال کی شہادتوں کی بنیاد پر سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد پہلا روزہ شروع ہوتا ہے، ورنہ 30 شعبان کے بعد ماہ رمضان شروع ہوتا ہے۔ چاند کا مطلع مختلف ہونے کی وجہ سے عمومی طور پر خلیجی ممالک میں چاند کی پہلی تاریخ برصغیر سے ایک روز قبل رہتی ہے۔ سعودی عرب میں برصغیر کی طرح لوگ چاند دیکھنے کی کوشش نہیں کرتے بلکہ مغرب اور عشا کے درمیان ٹیلی ویزن کے سامنے بیٹھ کر حکومت کے اعلان کا انتظار کرتے ہیں۔ حکومت، علماء کرام اور موسم فلکیات کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹیاں چاند دیکھنے کے جدید آلات سے آراستہ پورے ملک میں جگہ جگہ چاند دیکھنے کا اہتمام کرتی ہیں۔ سعودی عرب کی تمام مساجد میں نماز کا وقت ہوتے ہی اذان ہوتی ہے، اس وجہ سے ایک شہر کی تمام مساجد میں ایک ہی وقت میں نماز ادا ہوتی ہے۔ چاند کا اعلان ہوتے ہی لوگ مساجد کا رخ کرتے ہیں، سعودی عرب میں مساجد کثرت سے موجود ہیں۔ قیمتی قالین سے مزین تمام ہی مساجد اےئرکنڈیشنڈ ہوتی ہیں۔ اذان کی طرح پانچوں نمازیں، نماز تراویح اور آخری عشرہ میں نماز تہجد لاؤڈاسپیکر سے ادا کی جاتی ہے۔ سعودی عرب میں پانچوں نمازوں کی اذان کے بعد سے نماز کی ادائیگی تک پورا بازار اور عام دکانیں سختی کے ساتھ بند رہتی ہیں۔ البتہ نماز تراویح کے فرض نہ ہونے کی وجہ سے نمازِ تراویح کی ادائیگی کے دوران بازار کھلے رہتے ہیں۔ ماہ مبارک میں نماز عشا کے فوراً بعد نماز تراویح کا اہتمام ہوتا ہے۔ مسجد حرام (مکہ مکرمہ)، مسجد نبوی (مدینہ منورہ)، اسلام کی پہلی مسجد ’’مسجد قبا‘‘ اور بعض دیگر مساجد میں ۲۰ رکعات تراویح، جبکہ عام مساجد میں ۸ رکعات تراویح اور اس کے بعد دو سلام سے وتر کی تین رکعات ادا کی جاتی ہیں، البتہ کسی کسی مسجد میں کبھی کبھی ایک سلام سے تین وتر بھی پڑھے جاتے ہیں۔ برصغیر کے کچھ لوگ حفاظ کرام کی موجودگی میں بعض گھروں میں جمع ہوکر بیس رکعات تراویح میں پورا قرآن سننے کا اہتمام کرتے ہیں۔ وتر کی تیسری وآخری رکعات میں دنیا وآخرت کی کامیابی اور تمام مسلمانوں کی عافیت کے لیے عربی زبان میں لمبی لمبی دعائیں بھی کی جاتی ہیں۔ بسا اوقات دعاؤں کی طوالت سے نمازی تھک بھی جاتے ہیں۔ ہاں یہ بات قابل تقلید ہے کہ امام تراویح میں قرآن کریم اطمینان کے ساتھ ٹھہر ٹھہر کرپڑھتا ہے،جس سے وعیدوں والی آیات پر رونا بھی آجاتا ہے۔ کم وبیش ڈیڑھ گھنٹے میں نماز عشا، تراویح اور وتر سے فراغت ہوتی ہے۔ سعودی عرب میں گرمی بہت پڑتی ہے۔ گرمی کے موسم میں درجہ حرارت کم وبیش۴۵ ڈگری رہتا ہے، کبھی کبھی ۵۰ ڈگری تک پہنچ جاتا ہے۔ مگر معیار زندگی کے بہتر ہونے کی وجہ سے پیاس اور بھوک کا زیادہ احساس نہیں ہوتا۔ رمضان میں عموماً اسکولوں کی چھٹی کردی جاتی ہے، جس کی وجہ سے راتوں میں شاہراہوں اور شوپنگ سینٹروں میں جمع غفیر نظر آتا ہے۔ مغرب سے سحری تک تمام ہوٹل اور دکانیں کھلی رہتی ہیں، غرضیکہ خرید وفروخت عموماً رات میں ہی ہوتی ہے۔ لیکن سحری کے بعد سے کوئی بھی ریسٹورنٹ حتی کہ چائے کا ہوٹل بھی نہیں کھلتا ہے۔ سحری کھاکر نماز فجر کی ادائیگی کے بعد عام طور پر لوگ سوتے ہیں۔ سعودی عرب کی حکومت کی جانب سے رمضان میں ڈیوٹی کے اوقات ۲ گھنٹے کم کردئے جاتے ہیں۔ مرد حضرات عموماً ۱۰ بجے دفتر جاتے ہیں، جبکہ خواتین عمومی طور پر ظہر تک سوتی ہیں۔ مرد حضرات اوّل وقت میں نماز عصر کی ادائیگی کے بعد سوکر اپنی نیند مکمل کرتے ہیں، جبکہ خواتین مطبخ کے کام کاج میں مصروف رہتی ہیں، کچھ خواتین قرآن کی تلاوت کرتی ہیں اور کچھ خواتین خادمات کو گھر کا کام سونپ کر دوبارہ اپنے شوہر کے ساتھ آرام فرماتی ہیں۔ ذائقہ دار چاٹ کے بجائے مختلف قسم کے پھل افطار کے لیے دسترخوان پر موجود ہوتے ہیں، سعودی معاشرہ پکوڑیوں سے ناواقف ہے البتہ چکن، مٹن اور پنیر کے سموسوں اور لسّی کا استعمال خواب ہوتا ہے۔ کھجوروں کے ساتھ مختلف قسم کے شربت اور کھانے والا زیتون موجود رہتا ہے۔ سلاد کے ساتھ چنا پیس کر اس پر زیتون ڈال کر ’حمص‘ نام کی ڈش بھی تیار کی جاتی ہے۔ دلیہ کو گوشت کے ساتھ ملاکر ’جریش‘ نامی ڈش کافی پسند کی جاتی ہے جو صحت کے لیے انتہائی مفید ہے۔ سعودی لوگ روٹی کے مقابلہ میں چاول زیادہ کھاتے ہیں، اس لیے بریانی کی طرح مرغی اور چاول سے بنائی گئی خاص ڈش خوب کھائی جاتی ہے۔ بکرے کے گوشت کے ساتھ باسمتی چاول سے بنائی گئی ڈش ’’مندی‘‘ سعودی عرب کی مرغوب غذا ہے۔ ولیمہ وغیرہ کی اہم تقریبات میں عموماً مندی ہی کھلائی جاتی ہے، بہت بڑے تھال میں چاول اور اس کے چاروں اطراف مغزیات ہوتے ہیں اور درمیان میں آگ پر بھونا ہوا پورا بکرا کھوپڑی کے ساتھ رکھا ہوا ہوتا ہے، لوگ اُسی بڑے تھال میں سے بکرے کا گوشت نوچ نوچ کر خوب مزے لے لے کر کھاتے ہیں۔ مغرب اور عشا کے درمیان عموماً لوگ اپنے گھروں میں رہتے ہیں۔

حضور اکرم ﷺ کے فرمان کی روشنی میں ثواب حاصل کرنے کے لیے سعودی عرب میں جگہ جگہ پر افطار کا انتظام کیا جاتاہے، جس میں لاکھوں لوگ مفت افطار کرتے ہیں۔ افطار میں اتنی سخاوت سے کام لیا جاتا ہے کہ لوگ بچا ہوا کھانا گھر لاکر سحری تک کھاتے رہتے ہیں۔ اس طرح فیملی کے بغیر رہنے والوں خاص کر بنگلادیشی ورکرس کے ذاتی مصارف اس ماہ مبارک میں بہت کم ہوجاتے ہیں۔ مسجد حرام اور مسجد نبوی میں بھی روزانہ دنیا کے کونے کونے سے آئے ہوئے لاکھوں اللہ کے مہمان افطار کرتے ہیں۔ ایک ہی دسترخوان پر مختلف ملک، زبان اور رنگوں کے لوگ ایک دوسرے کی ضیافت اشاروں سے کرتے ہیں۔ مسجد حرام اور مسجد نبوی کے اندر افطار میں مختلف قسم کی کھجوریں، پانی، لّسی، چائے، قہوہ اور جوس وغیرہ پیش کیا جاتا ہے، بڑی حیثیت والے لوگ بھی معتمرین اور زائرین کو افطار پیش کرنے میں اپنی سعادت سمجھتے ہیں، اس لیے وہ محبت اور اخوت کے جذبہ سے ایسی ایسی کھجور پیش کرتے ہیں جو بازار میں دستیاب بھی نہیں ہوتیں۔ مسجد نبوی میں دودھ اور آٹے سے تیار کردہ خاص قسم کی ایک روٹی بھی پیش کی جاتی ہے جو ذائقہ میں بے مثال ہوتی ہے۔ دونوں حرم کے صحن میں ہر قسم کے کھانے افطار میں موجود ہوتے ہیں، لیکن ورکرس چند منٹوں میں پورے حرم کو صاف کردیتے ہیں۔ اذان اور نمازِ مغرب میں پندرہ منٹ کا وقفہ رہتا ہے۔

رمضان کے آخری عشرہ میں تراویح کے علاوہ سعودی عرب کی ہر مسجد میں آدھی رات کے بعد وقت کی تعیین کے ساتھ نماز تہجد جماعت کے ساتھ ادا کی جاتی ہے۔ نماز تہجد میں عموماً ۸ سے ۱۲ رکعات اداکی جاتی ہیں، بعض مساجد میں اس سے کم بھی پڑھی جاتی ہیں، اور پھر تین رکعات وتر ادا کیے جاتے ہیں۔ نماز تہجد جماعت کے ساتھ رمضان کے آخری عشرہ میں روزانہ پابندی کے ساتھ حضور اکرم ﷺ، صحابۂ کرام، تابعین، تبع تابعین اور اس کے بعد کے زمانوں میں نہیں ملتی، مگر چونکہ لوگ اس ماحول کی وجہ سے نماز تہجد کا اہتمام کرلیتے ہیں، لہذا پڑھنے کی گنجائش ہے، اگرچہ حضور اکرم ﷺ اور صحابۂ کرام کے نقش قدم پر چل کر نمازتہجد کا گھر میں انفرادی طور پر ہی پڑھنا زیادہ بہتر وافضل ہے۔ حرمین میں نماز تہجد میں روزانہ ڈیڑھ پارہ پڑھا جاتا ہے جس سے تقریباً پندرہ پارے نماز تہجد میں مکمل ہوتے ہیں۔ رمضان کے آخری عشرہ میں مسجد حرام (مکہ مکرمہ) اور مسجد نبوی (مدینہ منورہ) میں نماز عشا کے فوراً بعد ۲۰ رکعات نماز تراویح اور پھر آدھی رات کے بعد نماز تہجد کی دس رکعات اور تین رکعات وتر ادا کئے جاتے ہیں۔ وتر کی آخری رکعات میں خوب لمبی لمبی عربی زبان میں دعائیں کی جاتی ہیں۔ سعودی عرب کی عام مساجدمیں نماز تراویح میں ختم قرآن کا اہتمام کم ہوتا ہے، لیکن مسجد حرام اور مسجد نبوی میں پابندی کے ساتھ ۲۹ ویں شب کو نماز تراویح میں ختم قرآن ہوتا ہے۔ تراویح کی بیسویں رکعات میں تقریباً ۳۰ منٹ کی دعا ہوتی ہے۔ ۲۷ ویں شب میں شب قدر ہونے کی توقعات زیادہ ہوتی ہیں، جس رات کی عبادت ایک ہزار سال کی عبادت سے زیادہ افضل ہے، اس وجہ سے ۲۹ ویں شب کی طرح ۲۷ ویں شب میں قدم رکھنے کی جگہ مسجد حرام میں نہیں ملتی۔ ۲۷ ویں اور ۲۹ ویں شب میں مسجد حرام میں حج کی طرح کم وبیش تیس لاکھ مجمع ہوتا ہے۔ غرضیکہ سعودی عرب میں رمضان خاص کر آخری عشرہ میں عموماً رات بھر عبادت کی جاتی ہے۔ ہاں اس کا ایک نقصان ہے کہ لوگوں میں دن میں کام کرنے کی وہ طاقت نہیں رہتی جو ہونی چاہئے، اس وجہ سے حکومتی اداروں میں رمضان خاص کر آخری عشرہ میں کام کم ہوتا ہے۔ ۲۴ رمضان کے بعد تمام حکومتی ادارے دس روز کے لیے بند ہوجاتے ہیں۔ پرائیویٹ کمپنیوں میں بھی کم وبیش ایک ہفتہ کی چھٹی رہتی ہے۔ سعودی عرب میں صرف عید الفطر اور عید الاضحی ہی کے موقع پر چھٹیاں ہوتی ہیں۔

سعودی عرب کے ہر بڑے شہر میں ایسے مخصوص علاقے ہیں جہاں ہندوستانی، پاکستانی اور بنگلادیشی بڑی تعداد میں رہتے ہیں۔ ان علاقوں کے ہوٹلوں میں ماہ مبارک میں ہر وہ چیز آسانی سے مل جاتی ہے جو برصغیر کے لوگ افطار یا سحری میں کھاتے ہیں۔ برصغیر کے لوگ آپس میں ایک دوسرے کو افطار کی دعوت دے کر اپنی سماجی زندگی کو باقی رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ میرا امسال سعودی عرب میں مسلسل بیسواں ماہ رمضان گزر رہا ہے۔ بار گاہ الٰہی میں دعا گو ہوں کہ ہمیں قرآن وحدیث عمل کرنے والا بنائے۔ آمین۔

ڈاکٹر محمد نجیب قاسمی سنبھلی (www.najeebqasmi.com)