بسم اللہ الرحمن الرحیم
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِےْن، وَالصَّلاۃُ وَالسَّلامُ عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِےْمِ وَعَلٰی آلِہِ وَاَصْحَابِہِ اَجْمَعِےْن۔
والدین کی فرمانبرداری
قرآن وحدیث میں والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی خصوصی تاکید کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے متعدد مقامات پر اپنی توحید وعبادت کا حکم دینے کے ساتھ والدین کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے کا حکم دیا ہے، جس سے والدین کی اطاعت ان کی خدمت اور ان کے ادب واحترام کی اہمیت واضح ہوجا تی ہے۔ احادیث میں بھی والدین کی فرمانبرداری کی خاص اہمیت وتاکید اور اسکی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو والدین کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے والا بنائے۔ ان کی فرمانبرداری کرنے والا بنائے۔ ان کے حقوق کی ادائیگی کما حقہ ادا کرنے والا بنائے۔
آیات قرآنیہ:
*
اور تیرا پروردگار صاف صاف حکم دے چکا ہے کہ تم اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرنا۔ اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرنا۔ اگر تیری موجودگی میں ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کے آگے اف تک نہ کہنا، نہ انہیں ڈانٹ ڈپٹ کرنا بلکہ ان کے ساتھ ادب واحترام سے بات چیت کرنا۔ اور عاجزی ومحبت کے ساتھ ان کے سامنے تواضع کا بازو پست رکھنا۔ اور دعا کرتے رہنا کہ اے میرے پرودگار! ان پر ویسا ہی رحم کر جیسا کہ انہوں نے میرے بچپن میں میری پرورش کی ہے ۔۔۔۔۔ (سورہ بنی اسرائیل ۲۳ ، ۲۴) جہاں اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کرنے کا حکم دیا وہیں والدین کے ساتھ احسان کرنے کا حکم بھی دیا ۔ ایک دوسری جگہ اپنے شکر بجا لانے کے ساتھ والدین کے واسطے بھی شکر کا حکم دیا ۔ اللہ اکبر، ذرا غور کریں کہ ماں باپ کا مقام ومرتبہ کیا ہے توحید وعباد ت کے بعداطاعت وخدمت والدین ضروری قرار دیا گیا کیونکہ جہاں انسانی وجود کا حقیقی سبب اللہ ہے تو وہیں ظاہری سبب والدین ۔اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ والدین کی نافرمانی ہے، جیساکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ کے ساتھ شرک کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا بہت بڑا گناہ ہے۔ بخاری
ماں باپ کی نافرمانی تو کجا ، ناراضگی وناپسندید گی کے اظہار اور جھڑکنے سے بھی روکا گیا ہے اور ادب کے ساتھ نرم گفتگو کا حکم دیا گیا ہے’’ وَلَاَ تْنہَرْ ہُمَا وقُلْ لَّہُما قَوْلًا کَرِیْمَا‘‘ ساتھ ہی ساتھ بازوئے ذلت پست کرتے ہوئے تواضع وانکساری اور شفقت کے ساتھ برتاؤ کا حکم ہوتا ہے ’’ واخْفِضْ لَہُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمۃِ‘‘ اور پوری زندگی والدین کے لئے دعا کرنے کا حکم ان کی اہمیت کو دوبالا کرتا ہے وقُلْ رَّبِّ ارْحَمْہماکَما رَبّیَانِی صَغِیْرًا۔ * اور تم سب اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ نیک برتاؤ کرو ۔ سورہ النساء ۳۶
*
ہم نے ہر انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی نصیحت کی ہے ۔ سورہ العنکبوت ۸
احادیث شریفہ:
*
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ اللہ کو کونسا عمل زیادہ محبوب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنا۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے کہا کہ اس کے بعد کونسا عمل اللہ کو زیادہ پسند ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: والدین کی فرمانبرداری۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے کہا کہ اس کے بعد کونسا عمل اللہ کو زیادہ محبوب ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے راستہ میں جہاد کرنا۔ بخاری، مسلم
*
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں اللہ تعالیٰ سے اجر کی امید کے ساتھ آپ کے ہاتھ پر ہجرت اور جہاد کرنے کے لئے بیعت کرنا چاہتا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تمہارے ماں باپ میں سے کوئی زندہ ہے؟ اس شخص نے کہا : (الحمد للہ) دونوں حیات ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے پوچھا : کیا تو واقعی اللہ تعالیٰ سے اجر عظیم کا طالب ہے؟ اس نے کہا ہاں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اپنے والدین کے پاس جا اور ان کی خدمت کر۔ مسلم
*
ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر دریافت کیا: میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کو ن ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہاری ماں ۔ اس شخص نے پوچھا پھر کون؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہاری ماں۔ اس نے پوچھا پھر کون؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہاری ماں۔ اس نے پوچھا پھر کون؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہارا باپ۔ بخاری
*
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: باپ جنت کے دروازوں میں سے بہترین دروازہ ہے۔ چنانچہ تمہیں اختیار ہے خواہ (اس کی نافرمانی کرکے اور دل دکھاکے) اس دروازہ کو ضائع کردو یا (اس کی فرمانبرداری اور اس کو راضی رکھ کر) اس دروازہ کی حفاظت کرو۔ ترمذی
*
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی رضامندی والد کی رضامندی میں ہے اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی والد کی ناراضگی میں ہے۔ ترمذی
*
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کو یہ پسند ہو کہ اس کی عمردراز کی جائے اور اس کے رزق کو بڑھادیا جائے اس کو چاہئے کہ اپنے والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرے، اور رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرے۔ مسند احمد
*
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے والدین کے ساتھ اچھا سلوک کیا اس کے لئے خوشخبری ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی عمر میں اضافہ فرمائیں گے۔   مستدرک حاکم
*
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ شخص ذلیل وخوار ہو ، ذلیل وخوار ہو،ذلیل وخوار ہو۔ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! کون ذلیل وخوار ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ شخص جو اپنے ماں باپ میں سے کسی ایک یا دونوں کو بڑھاپے کی حالت میں پائے پھر (ان کی خدمت کے ذریعہ) جنت میں داخل نہ ہو۔مسلم
قرآن وحدیث کی روشنی میں امت مسلمہ کا اتفاق ہے کہ والدین کی نافرمانی بہت بڑا گناہ ہے۔ والدین کی ناراضگی اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا سبب بنتی ہے۔ لہذا ہمیں والدین کی اطاعت اور فرمانبرداری میں کوئی کوتاہی نہیں کرنی چاہئے۔ خاص کر جب والدین یا دونوں میں سے کوئی بڑھاپے کو پہنچ جائے تو انہیں ڈانٹ ڈپٹ کرنا حتی کہ ان کو اُف تک نہیں کہنا چاہئے۔ ادب واحترام اورمحبت وخلوص کے ساتھ ان کی خدمت کرنی چاہئے۔ ممکن ہے کہ بڑھاپے کی وجہ سے ان کی کچھ باتیں یا اعمال آپ کو پسند نہ آئیں، آپ اس پر صبر کریں، اللہ تعالیٰ اس صبر کرنے پر بھی اجر عظیم عطا فرمائے گا، ان شاء اللہ۔
قرآن وحدیث کی روشنی میں علماء نے والدین کے حسب ذیل بعض حقوق مرتب کئے ہیں ، اللہ تعالیٰ ہم سب کو والدین کے حقوق ادا کرنے والا بنائے :
دوران حیات حقوق: ان کا ادب واحترام کرنا۔ ان سے محبت کرنا۔ ان کی فرمانبرداری کرنا۔ ان کی خدمت کرنا۔ ان کو حتی الامکان آرام پہنچانا۔ ان کی ضروریات پوری کرنا۔ وقتاً فوقتاً ان سے ملاقات کرنا۔
بعد از وفات حقوق: ان کے لئے اللہ تعالیٰ سے معافی اور رحمت کی دعائیں کرنا۔ ان کی جانب سے ایسے اعمال کرناجن کا ثواب ان تک پہنچے۔ ان کے رشتے دار ، دوست ومتعلقین کی عزت کرنا۔ ان کے رشتے دار ، دوست ومتعلقین کی حتی الامکان مدد کرنا۔ ان کی امانت وقرض ادا کرنا۔ ان کی جائز وصیت پر عمل کرنا۔ کبھی کبھی ان کی قبر پر جانا ۔
نوٹ: والدین کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اولاد کے درمیان مساوات قائم رکھیں اور ان کے حقوق کی ادائیگی کریں۔ عموماً غیر شادی شدہ اولاد سے محبت کچھ زیادہ ہوجاتی ہے، جس پر پکڑ نہیں ہے، لیکن بڑی اولاد کے مقابلے میں چھوٹی اولاد کو معاملات میں ترجیح دینا مناسب نہیں ہے، جس کی وجہ سے گھریلو مسائل پیدا ہوتے ہیں، لہذا والدین کو حتی الامکان اولاد کے درمیان برابری کا معاملہ کرنا چاہئے۔ اگر اولاد گھر وغیرہ کے اخراجات کے لئے باپ کو رقم دیتی ہے تو اس کا صحیح استعمال ہونا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے والدین کی فرمانبردای کرنے والا بنائے اور ہماری اولاد کو بھی ان حقوق کی ادائیگی کرنے والا بنائے۔
محمد نجیب قاسمی سنبھلی، ریاض (www.najeebqasmi.com)