بسم الله الرحمن الرحيم

اَلْحَمْدُ لِله رَبِّ الْعَالَمِيْن،وَالصَّلاۃ وَالسَّلام عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن۔

عدت کے مسائل

عدت کے معنی: عدت کے لغوی معنی شمار کرنے کے ہیں، جبکہ شرعی اصطلاح میں عدت اس معین مدت کو کہتے ہیں جس میں شوہر کی موت یا طلاق یا خلع کی وجہ سے میاں بیوی کے درمیان جدائیگی ہونے پر عورت کے لئے بعض شرعی احکامات کی پابندی لازم ہوجاتی ہے۔ عورت کے فطری احوال کے اختلاف کی وجہ سے عدت کی مدت مختلف ہوتی ہے، جس کا تفصیلی بیان آگے آرہا ہے۔
عدت کی شرعی حیثیت: قرآن وسنت کی روشنی میں امت مسلمہ متفق ہے کہ شوہر کی موت یا طلاق یا خلع کی وجہ سے میاں بیوی کے درمیان جدائیگی ہونے پر عورت کے لئے عدت واجب (فرض) ہے۔
عدت دو وجہوں سے واجب ہوتی ہے:
شوہر کی موت کی وجہ سے:
اگر شوہر کے انتقال کے وقت بیوی حاملہ ہے تو Delivery ہونے تک عدت رہے گی، خواہ اس کا وقت چار ماہ اور دس روز سے کم ہو یا زیادہ۔ جیساکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا: حاملہ عورتوں کی عدت ان کے وضع حمل تک ہے۔ (سورۂ الطلاق ۴) اس آیت کے ظاہر سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ ہر حاملہ عورت کی عدت یہی ہے خواہ وہ مطلقہ ہو یا بیوہ، جیساکہ احادیث کی کتابوں (کتاب الطلاق )میں وضاحت موجود ہے۔
حمل نہ ہونے کی صورت میں شوہر کے انتقال کی وجہ سے عدت ۴ ماہ اور ۱۰ دن کی ہوگی خواہ عورت کو ماہواری آتی ہو یا نہیں، خلوت صحیحہ (صحبت) ہوئی ہو یا نہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا: تم میں سے جو لوگ فوت ہوجائیں اور بیویاں چھوڑجائیں تو وہ عورتیں اپنے آپ کو چار ماہ اور دس دن عدت میں رکھیں۔ (سورۂ البقرۃ ۲۳۴)
طلاق یا خلع کی وجہ سے:
بعض ناگزیر حالات میں کبھی کبھی ازدواجی زندگی کا ختم کردینا ہی نہ صرف میاں بیوی کے لئے بلکہ دونوں خاندانوں کے لئے باعث راحت ہوتا ہے، اس لئے شریعت اسلامیہ نے طلاق اور فسخ نکاح (خُلع) کا قانون بنایا ہے، جس میں طلاق کا اختیار صرف مرد کو دیا گیا ہے کیونکہ اس میں عادتاً وطبعاً عورت کے مقابلہ فکروتدبر اور برداشت وتحمل کی قوت زیادہ ہوتی ہے، جیسا کہ قرآن میں ذکر کیا گیا ہے۔ (وَلِلرِّجَالِ عَلَےْہِنَّ دَرَجَۃ) (سورۂ البقرۃ ۲۳۸) (الرِّجَالُ قَوَّامُوْنَ عَلَی النِّسَاءِ) (سورۂ النساء ۳۴) لیکن عورت کو بھی اس حق سے یکسر محروم نہیں کیا گیا ہے بلکہ اسے بھی یہ حق دیا گیا ہے کہ وہ عدالت میں اپنا موقف پیش کرکے قانون کے مطابق طلاق حاصل کرسکتی ہے جس کو خُلع کہا جاتا ہے۔
اگر طلاق یا خلع کے وقت بیوی حاملہ ہے تو Delivery ہونے تک عدت رہے گی خواہ تین ماہ سے کم مدت میں ہی ولادت ہوجائے۔ جیساکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا: حاملہ عورتوں کی عدت ان کے وضع حمل تک ہے۔(سورۂ الطلاق ۴)
نوٹ: اگر شوہر کے انتقال یا طلاق کے کچھ دنوں بعد حمل کا علم ہو تو عدت وضع حمل تک رہے گی خواہ یہ مدت ۹ ماہ کی ہی کیوں نہ ہو۔
اگر طلاق یا خلع کے وقت عورت حاملہ نہیں ہے تو ماہواری آنے والی عورت کے لئے عدت ۳ حیض (ماہواری) رہے گی۔ جیساکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا: مطلقہ عورتیں اپنے آپ کو تین حیض تک روکے رکھیں۔ (سورۂ البقرۃ ۲۲۸)

(نوٹ): تیسری ماہواری ختم ہونے کے بعد عدت مکمل ہوگی۔ عورتوں کے احوال کی وجہ سے یہ عدت ۳ ماہ سے زیادہ یا تین ماہ سے کم بھی ہوسکتی ہے۔
جن عورتوں کو عمر زیادہ ہونے کی وجہ سے حیض آنا بند ہوگیا ہو یا جنہیں حیض آنا شروع ہی نہ ہوا ہو تو طلاق کی صورت میں ان کی عدت تین مہینے ہوگی۔ جیساکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا: تمہاری عورتوں میں سے جو عورتیں حیض سے ناامید ہوچکی ہیں، اگر تم کو ان کی عدت کی تعیین میں شبہ ہو رہا ہے تو ان کی عدت تین ماہ ہے اور اسی طرح جن عورتوں کو حیض آیا ہی نہیں ہے ، ان کی عدت بھی تین ماہ ہے۔ (سورۂ الطلاق ۴)
نکاح کے بعد لیکن خلوت صحیحہ (صحبت) سے قبل اگر کسی عورت کو طلاق دے دی جائے تو اس عورت کے لئے کوئی عدت نہیں ہے جیساکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا: اے ایمان والو! جب تم مؤمن عورتوں سے نکاح کرو پھر ہاتھ لگانے (یعنی صحبت کرنے ) سے قبل ہی طلاق دے دو تو ان عورتوں پر تمہارا کوئی حق عدت کا نہیں ہے جسے تم شمار کرو۔ یعنی خلوت صحیحہ سے قبل طلاق کی صورت میں عورت کے لئے عدت نہیں ہے۔ (سورۂ الاحزاب ۴۹)
نوٹ: نکاح کے بعد لیکن خلوت صحیحہ (صحبت) سے قبل شوہر کے انتقال کی صورت میں عورت کے لئے عدت ہے ۔سورۂ البقرۃ کی آیت نمبر ۲۳۴ کے عموم ودیگر احادیث صحیحہ کی روشنی میں امت مسلمہ اس پر متفق ہے۔
نوٹ: نکاح کے بعد لیکن خلوت صحیحہ سے قبل طلاق دینے کی صورت میں آدھے مہر کی ادائیگی کرنی ہوگی۔ (سورۂ البقرہ ۲۳۷)
عدت کی مصلحتیں: عدت کی متعدد دنیاوی واخروی مصلحتیں ہیں جن میں سے بعض یہ ہیں:
عدت سے اللہ تعالیٰ کی رضامندی کا حصول ہوتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو بجالانا عبادت ہے اور عبادت سے اللہ کا قرب حاصل ہوتا ہے۔
عدت کو واجب قرار دینے کی اہم مصلحت اس بات کا یقین حاصل کرنا ہے تاکہ پہلے شوہر کا کوئی بھی اثر بچہ دانی میں نہ رہے اور بچے کے نسب میں کوئی شبہ باقی نہ رہے۔
نکاح چونکہ اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے، اس لئے اس کے زوال پر عدت واجب قرار دی گئی۔
نکاح کے بلند وبالا مقصد کی معرفت کے لئے عدت واجب قرار دی گئی تاکہ انسان اس کو بچوں کا کھیل نہ بنالے۔
شوہر کے انتقال کی وجہ سے گھر /خاندان میں جو ایک خلا پیدا ہوا ہے اس کی یاد کچھ مدت تک باقی رکھنے کی غرض سے عورت کے لئے عدتضروری قرار دی گئی۔
متفرق مسائل:
حاملہ عورت (مطلقہ یا بیوہ) کی عدت ہر صورت میں وضع حمل یا سقوط حمل تک ہی رہے گی۔
شوہر کی وفات یا طلاق دینے کے وقت سے عدت شروع ہوجاتی ہے خواہ عورت کو شوہر کے انتقال یا طلاق کی خبر بعد میں پہونچی ہو۔
مطلقہ یا بیو ہ عورت کو عدت کے دوران بلا عذر شرعی گھر سے باہر نکلنا نہیں چاہئے۔
کسی وجہ سے شوہر کے گھر عدت گزارنا مشکل ہو تو عورت اپنے میکے یا کسی دوسرے گھر میں بھی عدت گزار سکتی ہے۔ (سورۂ الطلاق ۱)
عورت کے لئے عدت کے دوران دوسری شادی کرنا جائز نہیں ہے، البتہ رشتہ کا پیغام عورت کو اشارۃًدیا جاسکتا ہے۔ ( البقرۃ۲۳۴/ ۲۳۵)
جس عورت کے شوہر کا انتقال ہوجائے تو اس کو عدت کے دوران خوشبو لگانا، سنگھار کرنا، سرمہ اور خوشبو کا تیل بلاضرورت لگانا، مہندی لگانا اور زیادہ چمک دمک والے کپڑے پہننا درست نہیں ہے۔
اگر چاند کی پہلی تاریخ کو شوہر کا انتقال ہوا ہے تب تو یہ مہینے خواہ ۳۰کے ہوں یا ۲۹کے ہوں، چاند کے حساب سے پورے کئے جائیں گے اور ۱۱ تاریخ کو عدت ختم ہوجائے گی۔
اگر پہلی تاریخ کے علاوہ کسی دوسری تاریخ میں شوہر کا انتقال ہوا ہے تو ۱۳۰ دن عدت رہے گی۔ علماء کی دوسری رائے یہ ہے کہ جس تاریخ میں انتقال ہوا ہے، اس تاریخ سے چار ماہ کے بعد ۱۰دن بڑھادئے جائیں مثلاً ۱۵ محرم الحرام کو انتقال ہوا ہے تو ۲۶ جمادی الاول کو عدت ختم ہوجائے گی۔
اگر عورت شوہر کے انتقال یا طلاق کی صورت میں عدت نہ کرے یا عدت تو شروع کی مگر مکمل نہ کی تو وہ اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے قانون کو توڑنے والی کہلائے گی جو بڑا گناہ ہے، لہذا اللہ تعالیٰ سے توبہ واستغفار کرکے ایسی عورت کے لئے عدت کو مکمل کرنا ضروری ہے۔
عدت کے دوران عورت کے مکمل نان ونفقہ کا ذمہ دار شوہر ہی ہوگا۔
محمد نجیب قاسمی (www.najeebqasmi.com)