بسم الله الرحمن الرحيم

اَلْحَمْدُ لِله رَبِّ الْعَالَمِيْن،وَالصَّلاۃ وَالسَّلام عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن۔

خواتین کے خصوصی مسائل

۱۔ حیض ونفاس کے مسائل:
شریعت اسلامیہ میں حیض اُس خون کو کہتے ہیں جو عورت کے رحم (بچہ دانی)کے اندر سے متعینہ اوقات میں بغیر کسی بیماری کے نکلتا ہے۔ چونکہ یہ خون تقریباً ہر ماہ آتا ہے، اس لئے اس کو ماہواری (MC) بھی کہتے ہیں۔ اس خون کو اللہ تعالیٰ نے تمام عورتوں کے لئے مقدر کردیا ہے۔ حمل کے دوران یہی خون بچہ کی غذا بن جاتا ہے۔ لڑکی کے بالغ ہونے (۱۲۔ ۱۳ سال کی عمر) سے تقریباً ۵۰۔۵۵ سال کی عمر تک یہ خون عورتوں کو آتا رہتاہے۔ حیض کی کم از کم ، اور زیادہ سے زیادہ مدت کے متعلق علماء کی رائے متعدد ہیں، البتہ عموماً اس کی مدت ۳ دن سے ۱۰ دن تک رہتی ہے۔
نفاس اُس خون کو کہتے ہیں جو رحم مادر سے بچہ کی ولادت کے وقت اور ولادت کے بعد خارج ہوتا ہے۔ نفاس کی کم از کم مدت کی کوئی حد نہیں ہے، (ایک دو روز میں بھی بند ہوسکتا ہے) اور اس کی زیادہ سے زیادہ مدت ۴۰ دن ہے۔ (مسلم، ابوداؤد، ترمذی) لہذا ۴۰ دن سے پہلے جب بھی عورت پاک ہوجائے، یعنی اس کا خون آنا بند ہوجائے، تو وہ غسل کرکے نماز شروع کردے۔ خون بند ہوجانے کے بعد بھی۴۰ دن تک انتظار کرنا اور نماز وغیرہ سے رکے رہنا‘ غلط ہے۔
حیض یا نفاس والی عورتوں کے لئے مندرجہ ذیل امور ناجائز ہیں :
ان دونوں حالت میں صحبت کرنا۔ (سورۂ البقرہ ۲۲۲) البتہ ان ایام میں سوائے مجامعت کے ہر جائز شکل میں استمتاع کیا جا سکتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا : سوائے مجامعت (ہم بستری) کے ہر کام کرسکتے ہو (مسلم)
نماز اور روزہ کی ادائیگی۔ (مسلم) حیض سے پاک وصاف ہوجانے کے بعدعورت روزے کی قضا کرے گی، لیکن نماز کی قضا نہیں کرے گی۔ (بخاری ومسلم) نماز روزہ میں فرق کی وجہ اللہ ہی زیادہ جانتا ہے۔ پھر بھی علماء کرام نے لکھا ہے کہ نماز ایسا عمل ہے جس کی بار بار تکرار ہوتی ہے، لہذا ممکن ہے کہ مشقت اور پریشانی سے بچنے کے لئے اس کی قضاکا حکم نہیں دیا گیا، لیکن روزہ کا معاملہ اس کے بر عکس ہے (سال میں صرف ایک مرتبہ اس کا وقت آتا ہے)، لہذا روزہ کی قضا کا حکم دیاگیا۔
قرآن کریم بغیر کسی حائل (کپڑے) کے چھونا۔ قرآن کریم کو صرف پاکی کی حالت میں ہی چھوا جاسکتا ہے، لہذا ناپاکی کے ایام میں عورت کسی کپڑے مثلاً باہری غلاف کے ساتھ ہی قرآن کو چھوئے۔ (سورہ الواقعہ ۷۹، نسائی)

بیت اللہ کا طواف کرنا ۔ (بخاری ومسلم) البتہ سعی (صفا مروہ پر دوڑنا) ناپاکی کی حالت میں کی جاسکتی ہے۔ (بخاری)
مسجد میں داخل ہونا۔ (ابوداؤد) اگر عورت مسجد حرام یا کسی دوسری مسجد میں ہے اور ناپاکی کا وقت شروع ہوگیا تو عورت کو چاہئے کہ فوراً مسجد سے باہر نکل جائے، البتہ صفا مروہ یا مسجد حرام کے باہر صحن میں کسی جگہ بیٹھ سکتی ہے۔
بغیر چھوئے قرآن کریم کی تلاوت کرنا ۔ (ابوداؤد) اس سلسلہ میں علماء کی رائے مختلف ہیں، البتہ تمام علماء اس بات پر متفق ہیں کہ زیادہ احتیاط اسی میں ہے کہ ان ایام میں قرآن کریم کی تلاوت بغیر دیکھے بھی نہ کی جائے۔ البتہ قرآن کریم میں وارد اذکار اور دعائیں ان ایام میں پڑھی جاسکتی ہیں۔
 
نوٹ:
میاں بیوی کا حیض کی حالت میں صحبت کرنا، اور پیچھے کے راستے کو کسی بھی وقت اختیار کرنا حرام ہے ۔
حیض (ماہواری۔MC)کو وقتی طور پر روکنے والی دوائیں استعمال کرنے کی شرعاً گنجائش ہے۔
حیض یا نفاس والی عورت کا خون جس نماز کے وقت شروع ہوا، اگر خون شروع ہونے سے قبل نماز کی ادائیگی نہ کرسکی تو
پھر اس نماز کی قضا اس پر واجب نہیں ہے۔ البتہ جس نماز کے وقت میں خون بند ہوگا ، غسل کرکے اس نماز کی ادائیگی
اس کے ذمہ ہوگی۔
۲۔ استحاضہ کے مسائل:
حیض یا نفاس کے علاوہ بیماری کی وجہ سے بھی عورت کو کبھی کبھی خون آجاتا ہے جسکو استحاضہ کہا جاتا ہے۔ اس بیماری کے خون (استحاضہ) کے نکلنے سے وضو تو ٹوٹ جاتا ہے، مگر نماز اور روزہ کی ادائیگی اس عورت کے لئے معاف نہیں ہے ۔ نیز ان بیماری کے ایام میں صحبت بھی کی جاسکتی ہے۔ (ابوداؤد، نسائی)
 
نوٹ:
اگر کسی عورت کو بیماری کا خون ہر وقت آنے لگے یعنی خون کے قطرے ہر وقت نکل رہے ہیں کہ تھوڑا سا وقت بھی نماز کی ادائیگی کے لئے نہیں مل پارہا ہے تو اس کا حکم اس شخص کی طرح ہے جس کو ہر وقت پیشاب کے قطرات گرنے کی بیماری ہوجائے کہ وہ ایک وقت کے لئے وضو کرے اور اس وقت میں جتنی چاہے نماز پڑھے ، قرآن کی تلاوت کرے، دوسری نماز کا وقت شروع ہونے پر اس کو دوسرا وضو کرنا ہوگا۔ (بخاری ومسلم)
۳۔ مانع حمل کے ذرائع کا استعمال :
شریعت اسلامیہ نے اگرچہ نسلوں کو بڑھانے کی ترغیب دی ہے، لیکن پھر بھی ایسے اسباب اختیار کرنے کی اجازت دی ہے جس سے وقتی طور پرحمل نہ ٹھہرے، مثلاً دواؤں یا کنڈوم کا استعمال، یا عزل کرنا (منی کو شرمگاہ کے باہر نکالنا)۔ (بخاری)
۴۔ اسقاط حمل (Abortion) :
اگر حمل ٹھہر جائے تو اسقاط حمل جائز نہیں ہے۔ (سورہ بنی اسرائیل ۳۱، سورہ الانعام ۱۵۱)
البتہ شرعی وجہ جواز پائے جانے کی صورت میں بہت بھی نہایت محدود دائرہ میں حمل کا اسقاط جائز ہے۔
چار مہینے مکمل ہوجانے کے بعد حمل کا اسقاط بالکل حرام ہے، کیونکہ وہ ایک جان کو قتل کرنے کے مترادف ہے۔
اگر کسی وجہ سے حمل کے برقرار رہنے سے ماں کی جان کو خطرہ ہوجائے تو ماں کی زندگی کو بچانے کے لئے چار ماہ کے بعد بھی اسقاط حمل جائزہے۔ یہ محض دو ضرر میں سے بڑے ضرر کو دور کرنے، اور دو مصلحتوں میں سے بڑی مصلحت کو حاصل کرنے کی لئے اجازت دی گئی ہے۔
۵۔ رضاعت (دودھ پلانے) سے حرمت کا مسئلہ:
اگر کوئی عورت کسی دو سال سے کم عمر کے بچے کو اپنا دودھ پلادے تو وہ دونوں ماں بیٹے کے حکم میں ہوجاتے ہیں، لیکن قرآن وحدیث کی روشنی میں‘ جمہور علماء کرام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ رضاعت (دودھ پلانے) کے لئے بنیادی شرط یہ ہے کہ دودھ چھڑانے کی مدت سے پہلے بچے نے دودھ پیا ہو۔ جیساکہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :جن عورتوں کا ارادہ ‘ دودھ پلانے کی مدت پوری کرنے کاہے، وہ اپنی اولاد کو دو سال مکمل دودھ پلائیں۔ (سورہ البقرہ ۲۳۳)
نیز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا : رضاعت سے حرمت صرف اسی وقت ثابت ہوتی ہے جب کہ رضاعت (دودھ پلانا) دودھ چھڑانے کی مدت سے پہلے ہو۔ (ترمذی) یعنی دودھ پلانے سے ماں بیٹے کا رشتہ اسی وقت ہوگا جبکہ دودھ چھڑانے کی مدت سے پہلے بچے کو دودھ پلایا جائے۔ امام ترمذی ؒ نے اس حدیث کو ذکر کرنے کے بعد فرمایا : حدیث صحیح ہے اور صحابہ کرام کا عمل بھی یہی تھاکہ رضاعت سے حرمت اسی وقت ثابت ہوگی جب دودھ چھڑانے کی مدت سے پہلے بچے نے دودھ پیا ہو۔ دودھ چھڑانے کی مدت کے بعد کسی مرد کو دودھ پلانے سے کوئی حرمت ثابت نہیں ہوتی ہے۔ (ترمذی)۔
امام ابوحنیفہ ؒ نے اگرچہ ڈھائی سال تک بچے کو دودھ پلانے کی گنجائش رکھی ہے، البتہ علماء احناف کا فتویٰ دو سال تک ہی دودھ پلانے کا ہے۔ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کا دودھ پی لے تو اس سے نکاح پر کوئی فرق نہیں پڑتا ہے، البتہ ایسا کرنے سے بچنا چاہئے۔ صحابہ کرام کے زمانے سے آج تک امت مسلمہ کے 99.99% محدثین، مفسرین ، مفکرین ، فقہا، نیز چاروں امام اور جمہور علماء کرام اس بات پر متفق ہیں کہ کسی مرد کو عورت کا دودھ پلانے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی ہے، یعنی دونوں کے درمیان کسی بھی شکل میں ماں بیٹے کا رشتہ نہیں بن سکتاہے، اس کے لئے بنیادی شرط ہے کہ دودھ چھڑانے کی مدت سے پہلے بچے کو دودھ پلایا جائے۔
محمد نجیب قاسمی، ریاض (This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.)