Print

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيْم

اَلْحَمْدُ لِلّهِ رَبِّ الْعَالَمِيْن،وَالصَّلاۃ وَالسَّلامُ عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن۔

شرعاً مرد کو عورت کا سربراہ ونگراں متعین کیا گیا ہے

اللہ تعالیٰ اپنے پاک کلام میں ارشا دفرماتا ہے: اور اسی نے (اللہ تعالیٰ نے) نر ومادہ (مرد وعورت) کے دو جوڑے پیدا کئے ہیں۔ (سورۃ النجم ۴۵) اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے مردو عورت کو بنی نوع انسان کے دو حصوں کے مانند پیدا کیا ہے اور دونوں کو اس کائنات کی آبادی کے لئے شریک رکھا ہے۔ دونوں کو ہی اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کا مکلف کیا گیا ہے۔ غرضیکہ مرد کی طرح عورت کو بھی ایمان، نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج، والدین کی فرمانبرداری وغیرہ تمام عبادات کی ادائیگی کا حکم دیا گیا ہے۔ نیز مرد کی طرح عورت کو بھی اعمال صالحہ کرنے پر اجر اور برے اعمال کرنے پر سزا دی جائے گی۔

مرد وعورت دونوں بشریت وانسانیت میں برابر ہیں یعنی جس طرح مرد کے عورت پر کچھ حقوق ہیں اسی طرح عورت کے بھی مرد پر حقوق ہیں جن کی ادائیگی دونوں پر ضروری ہے۔ جیساکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا: اور (مردوں پر ) عورتوں کا حق ہے جیسا کہ (مردوں کا) عورتوں پر حق ہے، معروف طریقہ پر۔ (سورۃ البقرہ ۲۲۸) اس آیت میں میاں بیوی کے تعلقات کا ایسا جامع دستور پیش کیا گیا ہے جس سے بہتر کوئی دستور نہیں ہوسکتا اور اگر اس جامع ہدایت کی روشنی میں ازدواجی زندگی گزاری جائے تو اِس رشتہ میں کبھی بھی تلخی اور کڑواہٹ پیدا نہ ہوگی ان شاء اللہ۔ یہ آیت بتارہی ہے کہ بیوی کے بھی کچھ حقوق ہیں جن کی پاس داری شریعت میں ضروری ہے۔ان حقوق میں جہاں نان ونفقہ اور رہائش کا انتظام شامل ہے وہیں اس کی دل داری اور راحت رسانی کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔ اسی لئے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم میں سب سے اچھا آدمی وہ ہے جو اپنے گھر والوں (یعنی بیوی بچوں) کی نظر میں اچھا ہو۔۔۔ اور ظاہر ہے کہ ان کی نظر میں اچھا وہی ہوگا جو اُن کے حقوق کی ادائیگی کرنے والا ہو۔ دوسری طرف اس آیت میں بیوی کو بھی آگاہ کیا کہ اس پر بھی حقوق کی ادائیگی لازم ہے۔ کوئی بیوی اُس وقت تک پسندیدہ نہیں ہوسکتی جب تک کہ وہ اپنے شوہر کے حقوق کو ادا کرکے اُس کو خوش نہ کرے، چنانچہ احادیث میں ایسی عورتوں کی تعریف فرمائی گئی ہے جو اپنے شوہر کی تابع دار اور خدمت گزار ہوں اور ان سے بہت زیادہ محبت کرنے والی ہوں اور ایسی عورتوں کی مذمت کی گئی ہے جو شوہروں کی نافرمانی کرنے والی ہوں۔

لیکن ان سارے حقائق کے باوجود پوری دنیا تسلیم کرتی ہے کہ مرد وعورت کی تخلیق میں اللہ تعالیٰ نے فرق رکھا ہے، مرد کو جہاں زیادہ جسمانی قوت اور طاقت سے نوازا ہے، وہیں عورت کو رحم دل بنایا ہے۔ جہاں مرد کو اپنے جذبات پر قابو رکھ کر صحیح فیصلہ کرنے کی صلاحیت دی ہے، وہیں عورت کو حیض، حمل، ولادت، نفاس اور بچے کو دودھ پلانے کے مشکل مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ نیز دنیا کے وجود سے لے کر آج تک عملی زندگی میں اور تمام مذاہب میں مردکو عورت پر فوقیت دی گئی ہے، اور اس حقیقت کا انکار کرنا ہٹ دھرمی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ مستشرقین اسلامی تعلیمات کے خلاف تو اپنا قلم اٹھانے کی جسارت کرتے ہیں لیکن اپنی مذہبی کتابوں کی تعلیمات کو نظر انداز کرکے مغربی ممالک میں خواتین کے ساتھ کئے جانے والے مظالم سے چشم پوشی کرتے ہیں۔ حالانکہ عصر حاضر میں الیکٹرونک میڈیا کے ذریعہ معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں کہ مغربی ممالک میں خواتین کے ساتھ کیسا برتاؤ کیا جاتا ہے۔

مرد وعورت میں تخلیقی وجسمانی وعقلی فرق کی وجہ سے شریعت اسلامیہ نے دونوں کے مسائل میں کسی حد تک فرق رکھا ہے۔ یقیناًدونوں میاں بیوی بشریت وانسانیت میں برابر ہیں اور دونوں کے ایک دوسرے پر حقوق ہیں، لیکن شریعت اسلامیہ نے زندگی کے پہئے کو چلانے کے لئے مرد کو کسی نہ کسی حد تک فوقیت دی ہے۔ غرضیکہ مرد عورت کا محافظ ونگراں ہے اور مرد کو سربراہی حاصل ہے، ہاں دونوں میاں بیوی میں حاکم ومحکوم والا تعلق نہیں ہے بلکہ دونوں اپنی اپنی جگہ ایک مستقل حیثیت اور مقام رکھتے ہیں۔

چند مسائل ذکر کررہا ہوں جن میں شریعت اسلامیہ نے بشریت وانسانیت میں برابری کے باوجود مرد وعورت کے درمیان فرق رکھا ہے:

(1) مرد کو سربراہی حاصل ہے:اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا: مرد عورتوں پر حاکم ہیں، اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے اور اس وجہ سے کہ مردوں نے اپنے مال خرچ کئے ہیں۔ جو عورتیں نیک ہیں وہ اپنے شوہروں کا کہنا مانتی ہیں اور اللہ کے حکم کے موافق نیک عورتیں شوہر کی عدم موجودگی میں اپنے نفس اور شوہر کے مال کی حفاظت کرتی ہیں، یعنی اپنے نفس اور شوہر کے مال میں کسی قسم کی خیانت نہیں کرتیں۔ اور جن عورتوں سے تمہیں سرکشی کا اندیشہ ہو تو (پہلے) انہیں سمجھاؤ، اور (اگر اس سے کام نہ چلے تو) انہیں خواب گاہوں میں تنہا چھوڑدو یعنی ان کے بستر کو الگ کردو، (اور اس سے بھی اصلاح نہ ہو تو)انہیں مارسکتے ہو۔(سورۃ النساء ۳۴) اس آیت میں خالق کائنات نے مرد کو عورت پر فوقیت وفضیلت دینے کی دو وجہیں ذکر فرمائی ہیں۔

(A)اللہ تعالیٰ (جو مردوعورت اور ساری کائنات کا پیدا کرنے والا ہے) نے خود مرد کو عورت پر فوقیت دی ہے، لہٰذا ہمیں اللہ تعالیٰ کے اس فیصلہ پر راضی رہنا چاہئے۔ غرضیکہ مرد کو عورت پر فوقیت وفضیلت کی پہلی وجہ وہبی ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ہے، وہ جس کو چاہے عطا کرے۔

(B) مرد کو عورت پر فوقیت دینے کی دوسری وجہ اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمائی ہے کہ مرد حضرات اپنے اور بیوی وبچوں کے تمام اخراجات برداشت کرتے ہیں۔ شریعت اسلامیہ میں لڑکی کی شادی سے قبل اس کے تمام اخراجات والد کے ذمہ رکھے ہیں، اور شادی کے بعد شوہر کے ذمہ رکھے ہیں کہ وہ اپنی بیوی کے کھانے، پینے، رہائش اور لباس وغیرہ کے تمام اخراجات برداشت کرے، جیساکہ سورۃ البقرہ ۲۲۳ اور سورۃ الطلاق ۷ میں بیان کیا گیا ہے۔ نیز حضور اکرمﷺ نے حضرت ہند بنت عتبہؓ سے فرمایا تھا،جب انہوں نے اپنے شوہر حضرت ابوسفیانؓ کے متعلق شکایت کی تھی کہ وہ بخیل ہیں اور وہ ان کے اور بچہ کے اخراجات مکمل طور پر نہیں اٹھاتے، ’’تم اپنے شوہر کے مال میں سے معروف طریقہ سے اتنا مال لے لیا کرو جو تمہیں اور تمہارے بچہ کے لئے کافی ہوجائے۔ (بخاری ۔ کتاب النفقات ۔ باب اذا لم ینفق الرجل فللمراۃ ان تاخذ۔۔۔۔۔)غرضیکہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ایک عام اصول وضابطہ بیان فرمایا کہ مرد کو عورتوں پر سربراہی حاصل ہے اور اس کی دو وجہیں بیان فرمائیں، ایک وہبی یعنی اللہ تعالیٰ نے خود مرد کو عورتوں پر فوقیت دینے کا فیصلہ فرمایا ہے اور دوسری وجہ کسبی ہے یعنی مرد اپنی بیوی اور بچوں پر خرچ کرتا ہے۔

بشریت وانسانیت ودیگر حقوق میں برابری کے باوجود مرد کو عورت پر فوقیت دی گئی ہے، جیساکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پاک کلام میں دوسری جگہ ارشاد فرمایا: ہاں مردوں کو عورتوں پر ایک درجہ فوقیت ہے۔(سورۃ البقرۃ ۲۲۸) یعنی دونوں کے ایک دوسرے پر حقوق ہونے کے باوجود زندگی کے سفر میں اللہ تعالیٰ نے مرد کو امیر اور نگراں بنایا ہے۔ اس لحاظ سے مرد کو ایک درجہ فوقیت حاصل ہے۔

اس موضوع سے متعلق دو آیات قرآنیہ ذکر کرنے کے بعد مناسب معلوم ہوتا ہے کہ محسن انسانیت نبی اکرم ﷺکے چند ایسے ارشادات بھی پیش کردوں جن سے ان مذکورہ بالا آیات کی مزید تفسیر ہوتی ہے۔۔۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اگر کوئی مرد اپنی عورت کو ہم بستر ہونے کے لئے بلائے اور وہ عورت انکار کردے اور پھر شوہر (اس کے انکار کی وجہ سے) رات بھر غصہ کی حالت میں رہے تو فرشتے اس عورت پر صبح تک لعنت بھیجتے رہتے ہیں۔ (بخاری ۔کتاب بدؤ الخلق ۔ باب اذا قال احدکم آمین) (وضاحت) یہ وعید اس صورت میں ہے جب کہ بیوی کو کوئی شرعی عذر نہ ہونے کے باوجود شوہر کے بستر پر آنے سے انکار کردے۔ ۔۔رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اگر عورت نے (خاص طور پر)پانچ نمازوں کی پابندی کی، ماہ رمضان کے روزے اہتمام سے رکھے، اپنی شرمگاہ کی حفاظت کی اور اپنے شوہر کی اطاعت کی تو گویا وہ جنت میں داخل ہوگئی۔ (مُسند احمد) ۔۔۔رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب کوئی شخص اپنی بیوی کو اپنی حاجت پوری کرنے کے لئے (یعنی جماع کے لئے) بلائے تو بیوی کو شوہر کے پاس پہنچ جانا چاہئے اگرچہ وہ چولہے کے پاس ہو۔ (ترمذی۔ باب ماجاء فی حق الزوج) ۔۔۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو عورت اس حال میں مرے کہ اس کا شوہر اس سے راضی وخوش ہو تو وہ جنت میں داخل ہوگی۔ (ترمذی۔ باب ماجاء فی حق الزوج) ۔۔۔رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اگر میں کسی کو یہ حکم کرسکتا کہ وہ کسی (غیر اللہ) کو سجدہ کرے تو میں یقیناًعورت کو حکم کرتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے۔ (ترمذی۔ باب ماجاء فی حق الزوج) مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اگر کسی کو سجدہ کرنا جائز ہوتا تو عورت کو حکم دیا جاتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔۔۔ ایک عورت نے نبی اکرم ﷺ سے کہا کہ مجھے عورتوں کی ایک جماعت نے آپﷺ سے ایک سوال کرنے کے لئے بھیجا ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جہاد کا حکم مردوں کو دیا ہے، چنانچہ اگر ان کو جہاد میں تکلیف پہنچتی ہے تو اُس پر ان کو اجر دیا جاتا ہے اور اگر وہ شہید ہوجاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کے خصوصی بندوں میں شمار ہوجاتے ہیں کہ مرنے کے باوجود وہ زندہ رہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے خصوصی رزق ان کو دیا جاتا ہے، (جیساکہ سورۃ آل عمران آیت ۱۶۹ میں مذکور ہے) ہم عورتیں ان کی خدمت کرتی ہیں، ہمارے لئے کیا اجر ہے؟ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جن عورتو ں کی طرف سے تم بھیجی گئی ہو، ان کو اطلاع کردو کہ شوہر کی اطاعت اور اس کے حق کا اعتراف تمہارے لئے اللہ کے راستے میں جہاد کے برابر ہے، لیکن تم میں سے کم ہی عورتیں اس ذمہ داری کو بخوبی انجام دیتی ہیں۔ (بزاز ، طبرانی) ۔۔۔رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: شوہر کی اجازت کے بغیر عورت کے لئے (نفلی) روزہ رکھنا جائز نہیں ہے۔ بخاری ومسلم

(2 نبوت ورسالت صرف مردوں کے لئے:نبوت ورسالت اللہ تعالیٰ کی جانب سے کسی بھی بندہ کو دیا جانے والا سب سے بڑا اعزاز ومقام ومرتبہ ہے۔ انسان اپنی کوشش اورجد وجہد سے اس مرتبہ کو حاصل نہیں کرسکتا۔ یہ مقام صرف اور صرف اللہ کی عطا پر منحصر ہے۔ دنیا کے وجود سے لے کر آج تک اللہ تعالیٰ کا یہ نظام رہا ہے کہ نبوت ورسالت سے صرف مردوں کو ہی سرفراز کیا گیا ہے، جیسا کہ فرمان الہٰی ہے: اور (اے پیغمبر!) ہم نے تم سے پہلے کسی اور کو نہیں، آدمیوں ہی کو رسول بناکر بھیجا تھا، جن پر ہم وحی نازل کرتے تھے۔ (سورۃ الانبیاء ۷) اسی طرح فرمان الہٰی ہے: اور ہم نے تم سے پہلے جو رسول بھیجے وہ سب مختلف بستیوں میں بسنے والے مرد ہی تھے، جن پر ہم وحی بھیجتے تھے۔ (سورۃ یوسف ۱۰۹) ۔۔۔ نیز قرآن وحدیث میں کسی بھی جگہ پر کسی بھی عورت کے نبی ہونے کا ذکر موجود نہیں ہے۔ حضرت مریم علیہا السلام کے متعلق بعض حضرات نے اختلاف کیا ہے، لیکن ۱۴۰۰ سال سے امت مسلمہ کے جمہور علماء ومفسرین ومحدثین مذکورہ بالا آیات قرآنیہ واحادیث نبویہ کی روشنی میں یہی فرماتے ہیں کہ کسی بھی صنف نازک کو نبوت ورسالت کی ذمہ داری نہیں دی گئی ۔عورت کی جسمانی وعقلی تخلیق اللہ تعالیٰ نے ایسی کی ہے کہ وہ نبوت ورسالت کی ذمہ داری کو انجام نہیں دے سکتی۔

(3 دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کے برابر: مرد وعورت کے پیدا کرنے والے نے یہ اصول وضابطہ بنایا ہے کہ دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کے برابر ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: اور اپنے میں سے دو مردوں کو گواہ بنالو، ہاں ا گر دو مرد موجود نہ ہوں توایک مرد اور دو عورتیں ان گواہوں سے ہوجائیں جنہیں تم پسند کرتے ہو تاکہ اگر ان دو عورتوں میں سے ایک بھول جائے تو دوسری اسے یاد دلادے۔(سورۃ البقرۃ ۲۸۲)

(4) طلاق کا اصل حق مرد کو حاصل ہے: اس مسئلہ کی چند شکلیں بن سکتی ہیں: ۱) صرف عورت کو طلاق کا حق دیا جائے۔ ۲) دونوں کی اتفاق رائے سے طلاق کا فیصلہ کیا جائے۔ ۳) جرح (بحث ومباحثہ) کے بعد عدالت کے ذریعہ طلاق واقع ہو۔ ۴) مرد کو طلاق کا حق دیا جائے البتہ عورت کو قاضی کے پاس اپنا کیس دائر کرنے کا حق دیا جائے جس سے وہ خلع لے سکے۔۔۔ شریعت اسلامیہ نے گھر کے تمام اخراجات، مہر کی ادائیگی حتی کہ طلاق کی صورت میں عدت کے دوران بیوی کے اخراجات، اسی طرح بچوں کی تعلیم وتربیت کے تمام اخراجات شوہر کے ذمہ رکھے ہیں، بیوی کے ذمہ شریعت نے کوئی بھی خرچہ نہیں رکھا ۔ بیوی کو طلاق دینے کا اختیار دینے پر شوہر کو مالی نقصان ہے۔ مثلاً اگر کسی شخص نے کسی عورت سے شادی کی، شوہر نے مہر کی ادائیگی بھی کردی، رہنے کے لئے مکان( مع ساز وسامان) کا بھی انتظام کردیا تو بیوی کا شوہر کو طلاق دینے پر شوہر کو کافی مال کا خسارہ ہوگا۔ نیز اللہ تعالیٰ نے عورت کی تخلیق اس طرح کی ہے کہ اگر عورت کو طلاق کا اصل اختیار ملتا تو طلاق کے واقعات میں بے تحاشا اضافہ ہوتا۔ اگر دونوں میاں بیوی کے اتفاق رائے سے طلاق واقع ہوتی تو عمومی حالات میں اتفاق رائے نہ ہونے کی وجہ سے طلاق ہی واقع نہ ہوتی اور آپس میں لڑتے جھگڑتے رہتے۔ عدالت کے ذریعہ طلاق کی صورت میں اپنے موقف کو صحیح ثابت کرنے کے لئے فریقین جرح (بحث ومباحثہ) میں حد سے تجاوز کرتے جس سے انسانیت بھی مجروح ہوتی، جیسا کہ مغربی ممالک کی عدالتوں میں ہوتا ہے۔۔۔ غرضیکہ ایک ہی شکل باقی بچی اور وہی شریعت اسلامیہ کا فیصلہ ہے کہ طلاق کا اصل اختیار مرد کو دیا جائے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی عطاکردہ صفات کی وجہ سے وہ عورت کے مقابلہ میں زیادہ صبر وتحمل سے کام لیتا ہے، لیکن عورت کو مجبور محض نہیں بنایا گیا بلکہ عورت کو شریعت اسلامیہ نے یہ اختیار دیا ہے کہ وہ شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرے۔ اور شوہر کے طلاق دینے سے انکار کرنے پر بیوی کو شرعی عدالت میں جانے کا حق حاصل ہے تاکہ مسئلہ کا حل نہ ہونے پر قاضی شوہر کو طلاق دینے پر مجبور کرے۔ اس طرح عدالت کے ذریعہ طلاق واقع ہوجائے گی۔

(5 طلاق رجعی کی صورت میں مرد کو رجعت کا حق حاصل ہے:شریعت اسلامیہ نے طلاق رجعی (طلاق کے لفظ کے ساتھ ایک یا دو طلاق دینا) کی صورت میں مرد کو یہ حق دیا ہے کہ وہ بیوی کی اجازت کے بغیر عدت کے دوران رجعت کرلے۔ طلاق رجعی میں عدت کے دوران عورت مرد کو رجعت کرنے سے نہیں روک سکتی ہے۔ دو گواہوں کی موجودگی میں رجعت کرنا بہتر ہے تاکہ بعد میں کوئی اختلاف واقع نہ ہو۔

(6) طلاق یا شوہر کے انتقال پر عورت پر عدت لازم ہے: سورۃ الطلاق ۴، سورۃ البقرہ ۲۲۸ و ۲۳۴ اور سورۃ الاحزاب ۴۹ نیز محسن انسانیت نبی اکرم ﷺ کے اقوال کی روشنی میں پوری امت مسلمہ کا اتفاق ہے کہ مطلقہ یا بیوہ عورت پر عدت گزارنا واجب ہے۔ لیکن عورت کے خلع لینے پر یا بیوی کے انتقال ہونے پر شوہر کے لئے کوئی عدت نہیں ہے۔ عورت کے خلع لینے پر بھی عورت کے ذمہ عدت واجب ہے۔ عورت پر عدت واجب ہونے کے متعدد اسباب ہیں، لیکن ان میں سب سے اہم اللہ تعالیٰ کا حکم ہے اور اللہ کے حکم پر عمل کرنا عبادت ہے۔

(7) مرد کا ایک سے زیادہ شادی کرنا: مرد بیک وقت چار عورتوں سے شادی کرسکتا ہے، جبکہ عورت ایک وقت میں ایک ہی مرد کے نکاح میں رہ سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے پاک کلام میں ارشاد فرماتا ہے: دوسری عورتوں میں سے کسی سے نکاح کرلیا کرو جو تمہیں پسند آئیں، دو دو سے، تین تین سے، اور چار چار سے۔ (سورۃ النساء ۳) مرد کے لئے تعدد ازواج کے جواز کی متعدد وجوہات بھی ہیں لیکن بنیادی طور پر مردو عورت کی تخلیق میں فرق ، نیز خالق کائنات کا فیصلہ ہے جو ہمیں خوشی خوشی تسلیم کرنا چاہئے۔

(8)وراثت میں مرد کے مقابلہ میں عورت کو آدھا حصہ ملتا ہے:اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہے۔ (سورۃ النساء ۱۱ اور ۱۷۶) ماں باپ اور اسی طرح بیوی وشوہر کے حصوں میں بھی شریعت اسلامیہ نے فرق رکھا ہے۔ تفصیلات کے لئے سورۃ النساء کا مطالعہ کریں، جہاں وراثت کے مسائل مذکور ہیں۔ (وضاحت) شریعت اسلامیہ نے صنف نازک پر کوئی بھی خرچہ ذمہ نہیں رکھا ہے، نہ اپنا، نہ اولاد کا اور نہ ہی شوہر کا۔ وراثت میں جو حصہ اسے ملے گا وہ صرف اور صرف اسی کا ہے۔

(9) مردو عورت کا سفر: مرد اپنی بیوی کے بغیر جب چاہے سفر کرسکتا ہے، لیکن شریعت اسلامیہ نے عورت کے سفر کے لئے شوہر یا کسی دوسرے محرم کا ساتھ ہونا ضروری قرار دیا ہے۔ جیساکہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: عورت، جو اللہ تعالیٰ اور آخر ت پر ایمان رکھتی ہے، کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ محرم کے بغیر ایک دن کی مسافت کے سفر پر جائے۔ (بخاری ومسلم) محسن انسانیت نبی اکرم ﷺ کے اقوال وافعال کی روشنی میں جمہور علماء کا اتفاق ہے کہ عورت ۷۸ کیلومیٹر کا سفر بغیر محرم یا شوہر کے نہیں کرسکتی ۔

(10عورتوں کے لئے پردہ کا حکم: سورۃا لنور ۳۱، سورۃ النور ۶۰، سورۃ الاحزاب ۵۹، سورۃ الاحزاب ۵۳ اور سورۃ الاحزاب ۳۳ نیز حضور اکرم ﷺ کے اقوال کی روشنی میں امت مسلمہ کا اتفاق ہے کہ عورت کا غیر محرم سے پردہ کرنا ضروی ہے۔ اسی طرح عورتوں کے لئے ہاتھ، پیر اور چہرے کے علاوہ پورا جسم ستر ہے، یعنی شوہرکے علاوہ کسی محرم وعورتوں کے سامنے ان تین اعضاء کے علاوہ کسی دوسرے عضو کا شرعی عذر کے بغیر کھولنا جائز نہیں ہے، جبکہ مرد کی ستر صرف ناف سے لے کر گھٹنے تک ہے۔

(11) ٰاولاد کی نسبت باپ کی طرف:شرعی قوانین کے اعتبار سے اولاد باپ کی طرف منسوب ہوتی ہے۔ یعنی اولاد کا خاندان وہ کہلائے گا جو باپ کا خاندان ہے، یعنی اگر باپ صدیقی اور ماں انصاری ہے تو اولاد صدیقی کہلائے گی۔ اولاد کا اپنے آپ کو انصاری لکھنا جائز نہیں ہے۔

(12) عورت عقل اور دین میں ناقص ہے: عورت کی تخلیق اللہ تعالیٰ نے ایسی کی ہے کہ وہ عقل اور دین کے اعتبار سے مرد کے مقابلہ میں ناقص ہیں چنانچہ محسن انسانیت نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عید الاضحی یا عید الفطر کے موقعہ پر عید گاہ تشریف لے گئے، وہاں آپ عورتوں کی طرف گئے اور فرمایا: اے عورتوں! صدقہ کرو، کیونکہ میں نے جہنم میں زیادہ عورتوں ہی کو دیکھا ہے۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ایسا کیوں ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم لعن طعن کثرت سے کرتی ہو۔ اور شوہر کی ناشکری کرتی ہو۔ باوجود عقل ا ور دین میں ناقص ہونے کے، میں نے تم سے زیادہ کسی کو بھی ایک زیرک اور تجربہ کار مرد کو دیوانہ بنادینے والا نہیں دیکھا۔ عورتوں نے عرض کیا: ہمارے دین اور عقل میں نقصان کیا ہے یا رسول اللہ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا عورت کی شہادت مرد کی شہادت کے آدھے کے برابر نہیں ہے؟ انہوں نے کہا : جی ہے۔ آپﷺ نے فرمایا بس یہی اس کی عقل کا نقصان ہے۔ پھر آپ ﷺ نے پوچھا کیا ایسا نہیں ہے کہ جب عورت حائضہ ہو تو نہ نماز پڑھ سکتی ہے اور نہ روزہ رکھ سکتی ہے۔ عورتوں نے کہا ایسا ہی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہی اس کے دین کا نقصان ہے۔ (بخاری ۔ باب ترک حائض الصوم) (وضاحت) بعض خواتین بعض مردوں سے عقل اور دین کے اعتبار سے بہتر ہوسکتی ہیں، لیکن شریعت اسلامیہ کا فیصلہ عام مردوں اور عام خواتین کو سامنے رکھ کر کیا گیا ہے۔

(13) لڑکے اور لڑکی کے عقیقہ کے درمیان فرق: رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: (عقیقہ میں) لڑکے کی جانب سے دو بکریاں اور لڑکی کی جانب سے ایک بکری ہے۔ (ترمذی ،مسند احمد) نیز رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: لڑکے کی جانب سے دو بکرے اور لڑکی کی جانب سے ایک بکرا ہے ۔ عقیقہ کے جانور مذکر ہوں یا مؤنث ، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ یعنی بکرا یا بکری جو چاہیں ذبح کردیں۔ ترمذی ،مسند احمد۔

(14) مرد وعورت کی دیت میں فرق: حضور اکرم ﷺ کے اقوال کی روشنی میں صحابۂ کرام کا اجماع ہے، اسی طرح چاروں ائمہ کی متفق علیہ رائے ہے کہ مقتول کی دیت سو اونٹ یا دس ہزار درہم یا ایک ہزار دینار یا اس کے برابر قیمت ہے یا فریقین جو طے کرلیں۔ اور اگر مقتول عورت ہے تو آدھی دیت (یعنی پچاس اونٹ یا پانچ ہزار درہم یا پانچ سو ہزار دینار یا اس کے برابر قیمت ہے یا فریقین جو طے کرلیں۔) صحابۂ کرام، تابعین اور تبع تابعین میں سے کسی کا بھی عورت کی دیت آدھی ہونے میں کوئی اختلاف کتابوں میں مذکور نہیں ہے۔

ان مذکورہ بالا مسائل کے علاوہ متعدد مسائل میں شریعت اسلامیہ نے مرد وعورت کے درمیان فرق رکھا ہے، جن کو اختصار کے مد نظر ذکر نہیں کیا ہے، مثلاً مرد جہاد میں شرکت کرتے ہیں، جبکہ عورتوں پر جہاد فرض نہیں بلکہ ان کے لئے گھر میں رہنا (یعنی بچوں کی تعلیم وتربیت کرنا) اور حج کی ادائیگی کو جہاد قرار دیا گیا ۔ مردوں کو حکم دیا گیا کہ وہ پانچوں نمازیں جماعت کے ساتھ مسجد میں ادا کریں جبکہ خواتین کے لئے گھر کو بہترین مسجد قرار دیا گیا بلکہ خواتین کے لئے گھر کے اندر کوٹھری میں پڑھی گئی نماز کو باہر صحن میں پڑھی گئی نماز سے افضل قرار دیا گیا ہے۔

غرضیکہ میاں بیوی بشریت اور انسانیت میں برابری اور دونوں کے ایک دوسرے پر حقوق کے باوجود جسمانی وعقلی تخلیق میں فرق کی وجہ سے خالق کائنات نے زندگی کے پہئے کو چلانے کے لئے مردکو عورت کا سربراہ ونگراں متعین فرمایا ہے اور مرد کو عورت پر کسی نہ کسی حد تک فوقیت دی ہے۔ لہٰذا مرد کو چاہئے کہ وہ اللہ کی عطا کردہ صفات اور صلاحیتوں کا بہترین استعمال کرکے گھر کے نظام کو بہتر طریقہ سے چلائے۔ بیوی کو نوکرانی یا خادمہ نہ سمجھے بلکہ اس کے تمام حقوق مکمل طور پر ادا کرے، گھریلو معاملات میں بیوی سے ضرور مشورہ کرے لیکن اہم فیصلوں کا اختیار خود رکھے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ کے نظام کے تحت عورت ہی حمل وولادت اور رضاعت کی تمام تر تکلیفیں برداشت کرتی ہے اور پوری دنیا نے خالق کائنات کے اس نظام کے سامنے گھٹنے ٹیک رکھے ہیں، (یعنی کوئی بھی شخص اس نظام کے خلاف آواز اٹھانے کے لئے تیار نہیں ہے کہ ایک مرتبہ عورت یہ تکلیفیں برداشت کرے جبکہ دوسری مرتبہ مرد ان مراحل سے گزریں۔) اسی طرح ہمیں اللہ تعالیٰ کے نظام کے تحت خوشی خوشی اس بات کو تسلیم کرنا چاہئے کہ مردکو عورت پر ایک درجہ فوقیت حاصل ہے اور وہی نظام زندگی کا سربراہ ہے۔

محمد نجیب قاسمی سنبھلی، ریاض (www.najeebqasmi.com)