Print

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيْم

اَلْحَمْدُ لِلّهِ رَبِّ الْعَالَمِيْن،وَالصَّلاۃ وَالسَّلامُ عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن۔

اولاد کی تربیت ایک اہم ذمہ داری

عموماً ہم اولاد اس لئے چاہتے ہیں کہ اولاد سے ہمیں خوشی اور زندگی میں طاقت ملتی ہے جبکہ بے اولاد شخص زندگی میں تنہائی محسوس کرتا ہے۔اولاد بڑھاپے کی لاٹھی سمجھی جاتی ہے جبکہ بے اولاد بڑھاپے کی اس امید سے محروم ہوتا ہے۔ اولاد ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک ہوتی ہے اور بے اولاد کی زندگی اس رنگ ونور سے خالی ہوتی ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ اولاد ہمارے مرنے کے بعد ہمارے وجود کی نشانی بھی ہوتی ہے۔ غرضیکہ اولاد اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہونے کے ساتھ ساتھ دنیاوی زندگی کی زیب وزینت بھی ہے، جیساکہ ارشاد ربانی ہے: مال اور اولاد دنیاوی زندگی کی زینت ہیں۔(سورۃ الکہف ۴۶) ابنیاء کرام نے اللہ تعالیٰ سے اولاد عطا کرنے کی دعا بھی کی، چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی : میرے پروردگار! مجھے ایک ایسا بیٹا دیدے جو نیک لوگوں میں سے ہو۔ چنانچہ ہم نے انہیں ایک بردبار لڑکے کی خوشخبری دی۔ (سورۃ الصافات ۱۰۰ و ۱۰۱) حضرت زکریا علیہ السلام نے دعا کی: اور مجھے اپنے بعد اپنے چچا زاد بھائیوں کا اندیشہ لگا ہوا ہے اور میری بیوی بانجھ ہے۔ لہٰذا آپ اپنے پاس سے ایک ایسا وارث عطا کردیجئے جو میرا بھی وارث ہو اور یعقوب کی اولاد سے بھی میراث پائے۔ اے پروردگار! اسے ایسا بنائیے جو (خود آپ کا) پسندیدہ ہو۔۔۔ (آواز آئی کہ :) اے زکریا! ہم تمہیں ایک ایسے لڑکے کی خوشخبری دیتے ہیں جس کا نام یحیے ہوگا۔۔۔ (سورۃ مریم ۵ و۶ و ۷)

اولاد سے متعلق نیک بندوں کی دعا بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے پاک کلام میں ذکر فرمائی ہے: ہمارے پروردگار! ہمیں اپنی بیوی بچوں سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما ۔(سورۃ الفرقان، آیت ۷۴)

مذکورہ بالا آیاتِ قرآنیہ سے معلوم ہوا کہ اولاد اللہ کی عطا کردہ ایک عظیم نعمت ہے، لہٰذا ہمیں اس نعمت کی قدر کرنی چاہئے، اور وہ یہ ہے کہ ہم ان کی تعلیم وتربیت میں کوئی کوتاہی نہ کریں۔اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا :اے ایمان والو! تم اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں۔  (سورۃ التحریم۶) مفسرین کرام نے اس آیت کی تفسیر میں تحریر کیا ہے کہ ہر شخص پر فرض ہے کہ اپنی بیوی اور اولاد کو فرائض شرعیہ اور حلال وحرام کے احکام کی تعلیم دے اور اس پر عمل کرانے کی کوشش کرے۔ رسول اللہ ﷺ نے اسی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: تم میں سے ہر ایک ذمہ دار ہے اور اس کی ذمہ داری کے متعلق پوچھا جائے گا۔ امیر اپنی رعایا کا، مرد اپنے اہل وعیال کا، عورت اپنے شوہر کے گھر اور بچوں کی ذمہ دار ہے۔  (بخاری ومسلم)


بچوں کی دینی تعلیم وتربیت کے لئے چند امور کا خاص خیال رکھیں:

بچوں کو توحید کی تعلیم دیں:

اولاد کی تربیت کے لئے والدین کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی اولاد کو سب سے پہلے توحیدکی تعلیم دیں۔ بچوں کی شروع سے ہی ایسی اسلامی تربیت کریں کہ وہ زندگی کی آخری سانس تک موحد رہیں۔ان کا عقیدۂ توحید زندگی کے کسی موڑ پر نہ لڑکھڑائے۔ بچوں کے ذہن پر ایام طفولت سے یہ نقش کردیں کہ جس ذات کی ہم عبادت کرتے ہیں، اس کا نام اللہ ہے، وہ اپنی ذات وصفات میں منفرد ہے، اس جیسی کوئی ذات نہیں، اس کی بادشاہت میں کوئی شریک نہیں، ساری کائنات کا نفع ونقصان، موت وحیات، بیماری وشفا، اس کے دست قدرت میں ہے۔ وہ غنی ہے، اور ہم سب اس کے محتاج ہیں۔جس وقت بچہ بولنا سیکھے سب سے پہلے اسے اپنے خالق ومالک "اللہ" کا مبارک نام سیکھائے، پھر کلمہ توحید (لا الہ الا اللہ) سکھائے۔ حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اپنے بچوں کی زبان سب سے پہلے لا الہ الا اللہ سے کھلواؤ۔ بچہ جب تھوڑا سا سمجھنے لگے تو اس کی سمجھ کے مطابق اسے حلال وحرام کی تعلیم دیں۔ (حاکم) اللہ کی وحدانیت کی تعلیم کے ساتھ ان کو حضور اکرم ﷺ کے آخری نبی ورسول ہونے کی تعلیم دیں اور ان کو بتائیں کہ کل قیامت تک صرف اور صرف نبی اکرم ﷺ کے نقش قدم پر چل کر ہی دونوں جہاں کی کامیابی وکامرانی حاصل کی جاسکتی ہے۔

بچوں کو قرآن کریم پڑھائیں:

قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا پاک کلام ہے جو اللہ تعالیٰ نے قیامت تک آنے والے انس وجن کی رہنمائی کے لئے آخری نبی حضور اکرم ﷺ پر وحی کے ذریعہ نازل فرمایا، اپنے بچوں کو سب سے قبل ناظرہ پڑھائیں، چھوٹی چھوٹی سورتیں یاد کرائیں، اگر حافظ قرآن بنائیں تو نور علی نور۔ رسول اللہ ﷺ نے امت کو بکثرت قرآن کی تلاوت کا حکم دیا کیونکہ قرآن کل قیامت کے دن پڑھنے والوں کی سفارش کرے گا اور قرآن کی سفارش قبول کی جائے گی۔ (مسلم) رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: قرآن کریم پڑھنے والے اور اس پر عمل کرنے والے کے والدین کو ایسا تاج پہنایا جائے گا جس کی روشنی اور چمک سورج کی روشنی اور چمک سے بھی زیادہ ہوگی۔ ابوداود

بچوں کی نماز کی نگرانی کریں:

ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی ذات سے نمازوں کا اہتمام کرکے اپنی اولاد کی بھی نمازوں کی نگرانی کرے۔ جس طرح اولاد کی دنیاوی تعلیم اور ان کی دیگر ضرورتوں کو پورا کرنے کی دن رات فکر کی جاتی ہے اسی طرح بلکہ اس سے زیادہ ان کی آخرت کی فکر کرنی چاہئے کہ وہ کس طرح جہنم کی آگ سے بچ کر ہمیشہ ہمیشہ کی جنت میں داخل ہونے والے بن جائیں۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: بچے جب سات سال کے ہو جائیں تو نماز کا حکم دیں اور جب دس سال کے ہوجائیں تو نماز میں کوتاہی کرنے پر ان کی پٹائی کریں۔ دس سال کی عمر میں ان کے بستر الگ کردیں۔ (ابوداود) عام طور پر بچے سات سال کی عمر میں سمجھ دار ہوجاتے ہیں، اس وقت ان کو خدا پرستی کے راستے پر ڈالنا چاہئے اور ان کو نماز پڑھنے کی ترغیب دینی چاہئے، دس سال کی عمر میں ان کا شعور کافی پختہ ہوجاتا ہے اور بلوغ کا زمانہ قریب آجاتا ہے، اس لئے نماز کے معاملہ میں ان پر سختی کرنی چاہئے، نیز اس عمر کو پہنچ جانے پر ان کو الگ الگ لٹانا چاہئے، ایک ساتھ ایک بستر پر لٹانے میں مفاسد کا اندیشہ ہے۔ نماز کے ساتھ بچوں کو وقتاً فوقتاً روزے بھی رکھواتے رہیں تاکہ بلوغ سے قبل وہ روزہ رکھنے کے عادی بن جائیں۔

اللہ تعالیٰ اپنے پاک کلام میں ارشاد فرماتا ہے: (اے محمد!) اپنے گھر کے لوگوں پر نماز کی تاکید رکھ اور خود بھی اس پر جما رہ۔ (سورہ طہ۱۳۲) اس خطاب میں ساری امت نبی اکرم ﷺ کے تابع ہے، یعنی ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے کہ وہ خود بھی نماز کی پابندی کرے اور اپنے گھر والوں کو بھی نماز کی تاکید کرتا رہے۔اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا قرآن کریم میں ذکر فرمائی: اے میرے پالنے والے! مجھے نماز کا پابند رکھ اور میری اولاد میں سے بھی (یعنی مجھے اور میری اولاد کو نماز کا پابند بنادے) (سورہ ابراہیم۴۰) حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے ساتھ اپنی اولاد کے لئے بھی نماز کی پابندی کرنے کی دعا مانگی، جس سے معلوم ہوا کہ ہر شخص کو اپنے ساتھ اپنے گھر والوں کی بھی نمازکی فکر کرنی چاہئے۔
بچوں کو قرآن وحدیث کی بنیادی تعلیم سے روشناس کریں:

اب عمومی طور پر ہمارے بچے اسکول وکالج پڑھنے جاتے ہیں۔ یقیناًہم اپنے بچوں کو ڈاکٹر، انجینئر اور لیکچرار بنائیں لیکن سب سے قبل ان کو مسلمان بنائیں۔ لہٰذا اسلام کے بنیادی ارکان کی ضروری معلومات کے ساتھ حضور اکرم ﷺ کی سیرت اور اسلامی تاریخ سے ان کو ضرور بالضرور روشناس کرائیں۔ اگر ہمارا بچہ ڈاکٹر یا انجینئر بنا لیکن شریعت اسلامیہ کے بنیادی احکام سے ناواقف ہے تو کل قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے سامنے ہمیں جواب دینا ہوگا۔گرمی وغیرہ کی چھٹیوں کا فائدہ اٹھاکر بچوں کو قرآن وحدیث کی تعلیم دینے کا خصوصی بندوبست کریں۔ روز مرہ استعمال ہونے والی دعاؤں کو یاد کراکر ان کو پڑھانے کا اہتمام کرائیں۔ احادیث میں چالیس حدیثیں یاد کرنے کی خصوصی فضیلت وارد ہوئی ہے، لہٰذا چھوٹی چھوٹی حدیثیں اردو یا انگریزی یا عربی زبان میں یاد کرائیں۔ اس وقت ہندوستان میں تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، لہٰذا علماء کرام کی تحریر کردہ تاریخ کی کتابیں ان کو ضرور پڑھائیں۔

بچیوں کو شرم وحیا والے لباس پہنائیں:

ان دنوں ہماری مسلم لڑکیوں حتی کہ دینی گھرانوں کی بچیوں کا لباس غیر اسلامی ہوتا جارہا ہے۔ مختلف تقریبات میں ایسا لباس پہن کر ہماری مسلم بچیاں شریک ہوتی ہیں کہ دنیا کا کوئی بھی عالم اس کے جواز کا فتوی نہیں دے سکتا ہے، اس لئے ہمیں اپنی بچیوں کو ابتداء سے ہی تنگ لباس پہننے سے روکنا چاہئے تاکہ بالغ ہونے تک وہ ایسا لباس پہننے کی عادی بن جائیں جس میں شرم وحیا ہو، جیساکہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ الاعراف آیت ۲۶میں تقوی کا لباس پہننے کی تعلیم دی ہے۔ تقوی کا لباس وہی ہوگا جو نبی اکرم ﷺ کی تعلیمات کے خلاف نہ ہو، مثلاً ایسا تنگ اور باریک لباس نہ ہو جس سے جسم کے اعضاء نظر آئیں، نیز عورتوں کا لباس مردوں کے مشابہ نہ ہو۔

بچوں کو ٹی وی اور انٹرنیٹ کے غلط استعمال سے روکیں:

معاشرہ کی بے شمار برائیاں ٹی وی اور انٹرنیٹ کے غلط استعمال سے پھیل رہی ہیں، لہذا فحش وعریانیت اور بے حیائی کے پروگرام دیکھنے سے اپنے آپ کو بھی دور رکھیں، اور اپنی اولاد وگھر والوں کی خاص نگرانی رکھیں تاکہ یہ نئے وسائل ہمارے ماتحت لوگوں کی آخرت میں ناکامی کا سبب نہ بنیں کیونکہ ہم سے ہمارے ماتحت لوگوں کے متعلق بھی سوال کیا جائے گا جیسا کہ قرآن وحدیث کی روشنی میں ذکر کیا گیا۔

بچوں کو کرکٹ دیکھنے میں وقت ضائع کرنے سے روکیں:

ان دنوں ہمارے بچے کرکٹ میچ دیکھنے اور اس سے متعلق دیگر معلومات حاصل کرنے میں کافی وقت لگاتے ہیں، ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے بچوں کے وقت کی نگرانی کریں تاکہ بچوں کی زندگی کا قیمتی وقت ایسی جگہ نہ لگے جس میں ان کا نہ کوئی دنیاوی فائدہ ہے اور نہ اخروی۔

بچوں کو ادب سکھائیں:

بچوں کو بڑوں کا ادب کرنے، چھوٹوں پر شفقت کرنے، سب سے اچھے لہجے میں گفتگو کرنے، پڑوسی ، یتیم، رشتہ داروں اور بیواؤں کا خیال رکھنے اور عام لوگوں کی خدمت کرنے کی ترغیب دیتے رہیں۔ کھانے پینے اور سونے وغیرہ میں نبی اکرم ﷺ کی سنتوں پر عمل کرنے ترغیب دیتے رہیں۔گالی گلوچ، جھوٹ، غیبت، چوری، رشوت اور سگریٹ نوشی سے دور رہنے کی ان کو تعلیم دیتے رہیں۔خود بھی پوری زندگی صرف حلال روزی پر اکتفاء کریں اور بچوں کو بھی صرف حلال روزی کھانے کی ترغیب دیتے رہیں۔ وقتاً فوقتاً ان کو موت یاد دلاکر اخروی زندگی کی تیاری کے لئے ان کی ذہن سازی کرتے رہیں۔
آخر میں میری والدین سے درخواست ہے کہ ہم اپنے بچوں کی دنیاوی زندگی کو بہتر سے بہتر بنانے کی اپنی حد تک ضرور کوشش کریں لیکن یہ ذہن میں رکھیں: جس دن نہ کوئی مال کام آئے گا، نہ اولاد۔ ہاں جو شخص اللہ کے پاس سلامتی والا دل لے کر آئے گا۔ (سورۃ الشعراء ۸۸ و ۸۹) یعنی جو اس دنیاوی زندگی میں نیک عمل کرے گا، اسی کو نجات ملے گی۔ اگر ہم نے اپنی قیمتی زندگی‘ اپنی اور اولاد کی دنیاوی زندگی کے مسائل کو حل کرنے میں لگادی اور ہم اپنی اخروی زندگی کی تیاری نہ کرسکے تو ہمارے لئے ناکامی ہی ناکامی ہے۔ لہٰذا ہم یہ دنیاوی فانی زندگی اخروی زندگی کو سامنے رکھ کر گزاریں۔ اگر ہم نے اولاد کی صحیح تعلیم وتربیت کی ہی ہے تو ہمارے مرنے کے بعد اولاد کے ذریعہ کئے جانے والے نیک اعمال کا ثواب ہمیں بھی ضرور ملے گا ان شاء اللہ۔

ڈاکٹر محمد نجیب قاسمی سنبھلی (www.najeebqasmi.com)