Print

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيْم

اَلْحَمْدُ لِلّهِ رَبِّ الْعَالَمِيْن،وَالصَّلاۃ وَالسَّلامُ عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن۔

دیش ورودھیوں کی جانب سے مسلم پرسنل لاء میں مداخلت برداشت نہیں

جمہور علماء کا فیصلہ: تین طلاق دینے سے تین ہی طلاق پڑتی ہیں

ہندوستانی قوانین کے مطابق ہر مسلمان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اسلامی تعلیمات کے مطابق اپنی زندگی گزارے، مگر بعض دیش ورودھی اور ملک میں نفرت وعداوت پھیلانے والے دہشت گرد وقتاً فوقتاً مسلم پرسنل لاء بورڈ پر حملہ کرتے رہتے ہیں، حالانکہ مسلمانوں کے لئے مسلم پرسنل لاء بنایا گیا ہے اور مسلمانوں کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے، لیکن بعض حضرات جن کا تعلق اکثریتی فرقہ سے ہے، جن کے لئے مسلم پرسنل لاء نہیں ہے، وہ مسلم پرسنل لاء بورڈ پر ہنگامہ کرتے رہتے ہیں۔ ہندوستان میں مسلم پرسنل لاء کے نفاذ کے باوجود اکثریتی فرقہ کو مکمل حق حاصل ہے کہ وہ اپنے مذہب کے اعتبار سے زندگی گزارے۔ ہندوستانی مسلمان نہ تو کوئی مظاہرہ یا احتجاج کرتے ہیں کہ اکثریتی فرقہ اپنے مذہب پر عمل کیوں کرتا ہے اور نہ ہی مسلمانوں کی طرف سے کوئی تحریک ہے کہ اکثریتی فرقہ بھی مسلم پرسنل لاء پر عمل کرے۔

ہندوستانی قوانین کے مطابق ہر مذہب کے ماننے والوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی مذہبی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارے۔ یہی وہ ہندوستان کی ہزاروں سال پرانی روایت ہے جس کو بھگوا دہشت گرد ختم کرنا چاہتے ہیں۔ ملک میں نفرت وعداوت کا بیج بونے والے دیش ورودھی ملک کو ترقی کی راہ پر لے جانے اور ملک میں امن وسلامتی قائم رکھنے کے بجائے صرف اور صرف اپنے سیاسی مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے وہ اس طرح کے موضوعات اٹھاتے رہتے ہیں تاکہ مسلمانوں میں اختلافات پیدا کئے جائیں اور وہ ان مسائل میں الجھ کر ترقی نہ کرسکیں۔
ہمارے بعض مسلمان بھائی اپنے آپ کو دانشور سمجھ کر بعض شرعی مسائل میں ان کی ہاں میں ہاں ملانے لگتے ہیں ، جس کی وجہ سے تین طلاق، ایک سے زیادہ شادی، طلاق کے بعد عورت کا نان ونفقہ، اسلام میں خواتین کا مقام، خواتین کے لئے پردہ، لاوڈاسپیکر پر اذان، مساجد ومدارس کی تعمیر اور وراثت جیسے بعض مسائل میڈیا کی زینت بن جاتے ہیں۔ بعض حضرات قرآن وحدیث کے دلائل سے واقفیت کے بغیر شرعی مسائل میں اپنی رائے پیش کرنا شروع کردیتے ہیں۔ ان دنوں ایک بار میں دی گئیں تین طلاق کے موضوع پر بعض حضرات کے مضامین اخباروں میں شائع ہوئے۔ چنانچہ میں نے ضرورت محسوس کی کہ عام مسلمانوں کو یہ بتایا جائے کہ ۱۴۰۰ سال سے امت مسلمہ کا ۹۸ فیصد سے زیادہ طبقہ قرآن وحدیث کی روشنی میں اس بات پر متفق چلا آرہا ہے کہ ایک بار تین طلاق دینے پر تین ہی طلاق واقع ہوں گی۔ مسئلہ چونکہ سو فیصد دینی ہے لہٰذا عقلی گھوڑے دوڑانے کے بجائے صرف قرآن وحدیث وعلماء امت کے اقوال کی طرف رجوع کیا جانا چاہئے۔ جہاں تک عقل کی بات ہے تو پوری دنیا میں کسی بھی جگہ پر ایسا نہیں ہوتا کہ تین کی گنتی کو ایک تسلیم کرلیا جائے، مثلاً اگر کسی شخص نے کسی شخص کے تین گولیاں ماری ہیں تو صرف یہ کہہ کر کہ گولیاں مارنا چونکہ قانون کے خلاف تھا، لہٰذا صرف ایک گولی مارنا تسلیم کیا جائے گا۔
موضوع بحث مسئلہ (تین طلاق) پر گفتگو کرنے سے قبل نکاح کی حقیقت کو سمجھیں کہ نکاح کی حیثیت اگر ایک طرف باہمی معاملہ ومعاہدہ کی ہے تو دوسری طرف یہ سنت وعبادت کی حیثیت بھی رکھتا ہے۔ شریعت کی نگاہ میں یہ ایک بہت ہی سنجیدہ اور قابل احترام معاملہ ہے جو اس لئے کیا جاتا ہے کہ باقی رہے یہاں تک کہ موت ہی میاں بیوی کو ایک دوسرے سے جدا کرے۔ یہ ایک ایسا قابل قدر رشتہ ہے جو تکمیل انسانیت کا ذریعہ اور رضائے الہی واتباع سنت کا وسیلہ ہے۔ اور یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس کے ٹوٹنے سے نہ صرف میاں بیوی متاثر ہوتے ہیں بلکہ اس سے پورے گھریلو نظام کی چولیں ہل جاتی ہیں اور بسا اوقات خاندانوں میں جھگڑے تک کی نوبت آجاتی ہے۔ اسی لئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں میں طلاق سے زیادہ گھناؤنی اور کوئی چیز نہیں ہے ۔ (ابوداود) اسی لئے علماء کرام نے فرمایا ہے کہ طلاق کا لفظ کبھی مذاق میں بھی زبان پر نہ لایا جائے۔

اسی لئے جو اسباب اس بابرکت اور مقدس رشتہ کو توڑنے کا ذریعہ بن سکتے ہیں انہیں راہ سے ہٹانے کا شریعت نے مکمل انتظام کیا ہے۔ چنانچہ میاں بیوی میں اختلاف کی صورت میں سب سے پہلے ایک دوسرے کو سمجھانے کی کوشش کی جائے ، پھر ڈانٹ ڈپٹ کی جائے۔ اور اس سے بھی کام نہ چلے اور بات بڑھ جائے تو دونوں خاندان کے چند افراد مل کر معاملہ طے کرنے کی کوشش کریں۔ لیکن بسا اوقات حالات اس حد تک بگڑ جاتے ہیں کہ اصلاح حال کی یہ ساری کوششیں بے سود ہوجاتی ہیں اور رشتہ ازدواج سے مطلوب فوائد حاصل ہونے کے بجائے میاں بیوی کا باہم مل کر رہنا ایک عذاب بن جاتا ہے۔ ایسی ناگزیر حالت میں کبھی کبھی ازدواجی زندگی کا ختم کردینا ہی نہ صرف دونوں کے لئے بلکہ دونوں خاندانوں کے لئے باعث راحت ہوتا ہے، اس لئے شریعت اسلامیہ نے طلاق اور فسخ نکاح (خُلع) کا قانون بنایا، جس میں طلاق کا اختیار صرف مرد کو دیا گیا کیونکہ اس میں عادتاً وطبعاً عورت کے مقابلہ فکروتدبر اور برداشت وتحمل کی قوت زیادہ ہوتی ہے۔ لیکن عورت کو بھی اس حق سے یکسر محروم نہیں کیا گیا بلکہ اسے بھی یہ حق دیا گیا ہے کہ وہ شرعی عدالت میں اپنا موقف پیش کرکے قانون کے مطابق طلاق حاصل کرسکتی ہے جس کو خُلع کہا جاتا ہے۔

مرد کو طلاق کا اختیار دے کر اسے بالکل آزاد نہیں چھوڑ دیا گیا بلکہ اسے تاکیدی ہدایت دی گئی کہ کسی وقتی وہنگامی ناگواری میں اس حق کا استعمال نہ کرے۔ نیز حیض کے زمانہ میں یا ایسے پاکی میں جس میں ہم بستری ہوچکی ہے طلاق نہ دے کیونکہ اس صورت میں عورت کی عدت خواہ مخواہ لمبی ہوسکتی ہے۔ بلکہ اس حق کے استعمال کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ جس پاکی کے ایام میں ہم بستری نہیں کی گئی ہے ایک طلاق دے کر رک جائے، عدت پوری ہوجانے پر رشتہ نکاح خود ہی ختم ہوجائے گا، دوسری یا تیسری طلاق کی ضرورت نہیں پڑے گی اور اگر دوسری یا تیسری طلاق دینی ہی ہے تو الگ الگ پاکی میں دی جائے۔ پھر معاملۂ نکاح کو توڑنے میں یہ لچک رکھی گئی ہے کہ دوران عدت اگر مرد اپنی طلاق سے رجوع کرلے تو نکاح سابق بحال رہے گا۔ نیز عورت کو ضرر سے بچانے کی غرض سے حق رجعت کو بھی دو طلاقوں تک محدود کردیا گیا تاکہ کوئی شوہر محض عورت کو ستانے کے لئے ایسا نہ کرے کہ ہمیشہ طلاق دیتا رہے اور رجعت کرکے قید نکاح میں اسے محبوس رکھے جیسا کہ سورۃ البقرۃ کی آیات نازل ہونے سے پہلے بعض لوگ کیا کرتے تھے، بلکہ شوہر کو پابند کردیا گیا کہ اختیار رجعت صرف دو طلاقوں تک ہی ہے۔ تین طلاقوں کی صورت میں یہ اختیار ختم ہوجائے گابلکہ میاں بیوی اگر باہمی رضا مندی سے بھی دوبارہ نکاح کرنا چاہیں توایک خاص صورت کے علاوہ یہ نکاح درست اور حلال نہیں ہوگا۔ فَاِنْ طَلَّقَہَا فَلَا تَحِلُّ لَہ مِنْ بَعْدُ حَتّٰی تَنْکِحَ زَوْجاً غَيْرَہ (سورۃ البقرہ ۲۳۰) میں یہی خاص صورت بیان کی گئی ہے، جس کا حاصل یہ ہے کہ اگر کسی شخص نے تیسری طلاق دے دی تو دونوں میاں بیوی رشتہ نکاح سے منسلک ہونا بھی چاہیں تو وہ ایسا نہیں کرسکتے یہاں تک کہ یہ عورت طلاق کی عدت گزارنے کے بعد دوسرے مرد سے نکاح کرے، دوسرے شوہر کے ساتھ رہے ، دونوں ایک دوسرے سے لطف اندوز ہوں۔ پھر اگر اتفاق سے یہ دوسرا شوہر بھی طلاق دیدے یا وفات پاجائے تو اس کی عدت پوری کرنے کے بعد پہلے شوہر سے نکاح ہوسکتا ہے۔ یہی وہ جائز حلالہ ہے جس کا ذکر کتابوں میں ملتا ہے۔

اب موضوع بحث مسئلہ کی طرف رجوع کرتا ہوں کہ اگر کسی شخص نے حماقت اور جہالت کا ثبوت دیتے ہوئے ابغض الحلال طلاق کے بہتر طریقہ کو چھوڑکر غیر مشروع طور پر طلاق دیدی مثلاً تین طلاقیں ناپاکی کے ایام میں دے دیں یا ایک ہی طہر میں الگ الگ وقت میں تین طلاقیں دے دیں یا الگ الگ تین طلاقیں ایسے تین پاکی کے ایام میں دیں جس میں کوئی صحبت کی ہو یا ایک ہی وقت میں تین طلاقیں دے دیں، تو اس کا کیا اثر ہوگا ؟ مذکورہ بالا تمام غیر مشروع صورتوں میں تین ہی طلاق پڑنے پر پوری امت مسلمہ متفق ہے، سوائے ایک صورت کے، کہ اگر کوئی شخص ایک مرتبہ میں تین طلاق دے دے تو کیا ایک واقع ہوگی یا تین۔ فقہاء صحابہ کرام حضرت عمرفاروقؓ ، حضرت عثمانؓ ، حضرت علیؓ ، حضرت عبد اللہ بن عباسؓ ، حضرت عبد اللہ بن عمرؓ ، حضرت عبداللہ بن عمروؓ، حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ وغیرہ وغیرہ تین ہی طلاق پڑنے کے قائل تھے۔ جمہور علماء ومحدثین ومفسرین کی رائے کے مطابق تین ہی طلاق واقع ہوں گی۔ نیز چاروں امام (امام ابوحنیفہؒ ، امام مالکؒ ، امام شافعیؒ اور امام احمد بن حنبلؒ ) کی متفق علیہ رائے بھی یہی ہے کہ ایک مرتبہ میں تین طلاق دینے پر تین ہی واقع ہوں گی۔ علماء کرام کی سری چھوٹی سی جماعت (غیر مقلدین) نے جن دو احادیث کو بنیاد بناکر ایک مجلس میں تین طلاق دینے پر ایک واقع ہونے کا فیصلہ فرمایا ہے، جمہور علماء ومحدثین ومفسرین نے ان احادیث کو غیر معتبر قرار دیا ہے۔

قرآن وحدیث کی روشنی میں ۱۴۰۰ سال سے امت مسلمہ کی ۹۸ فیصد سے زیادہ تعداد اسی بات پر متفق ہے کہ ایک مجلس کی تین طلاقیں تین ہی شمار کی جائیں گی، لہذا اگر کسی شخص نے ایک مرتبہ میں تین طلاقیں دیدیں تو اختیار رجعت ختم ہوجائے گانیز میاں بیوی اگر باہمی رضا مندی سے بھی دوبارہ نکاح کرنا چاہیں تویہ نکاح درست اور حلال نہیں ہوگا یہاں تک کہ یہ عورت طلاق کی عدت گزارنے کے بعد دوسرے مرد سے نکاح کرے، دوسرے شوہر کے ساتھ رہے، دونوں ایک دوسرے سے لطف اندوز ہوں۔ پھر اگر اتفاق سے یہ دوسرا شوہر بھی طلاق دیدے یا وفات پاجائے تو اس کی عدت پوری کرنے کے بعد پہلے شوہر سے نکاح ہوسکتا ہے۔ خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت میں ایک مجلس میں تین طلاقیں دینے پر بے شمار مواقع پر باقاعدہ طور پر تین ہی طلاق کا فیصلہ صادر کیا جاتا رہا ،کسی ایک صحابی کا کوئی اختلاف حتی کہ کسی ضعیف روایت سے بھی نہیں ملتا۔ اس بات کو پوری امت مسلمہ مانتی ہے۔ لہذا قرآن وحدیث کی روشنی میں جمہور فقہاء کرام خاص کر چاروں ائمہ اور ان کے تمام شاگردوں کی متفق علیہ رائے بھی یہی ہے کہ ایک مجلس میں تین طلاق دینے پر تین ہی واقع ہوں گی۔ بعض فقہاء مثلاً ابن قدامہ حنبلیؒ نے یہ وجہ بیان کی ہے کہ نکاح ایک ملک ہے ، جسے متفرق طورپر زائل کیا جاسکتا ہے ، تو مجموعی طور پر بھی زائل کیا جاسکتا ہے ، جیسا کہ تمام ملکیتوں کا یہی حکم ہے۔

علامہ ابن عبد الہادیؒ نے علامہ ابن رجبؒ سے نقل کیا ہے کہ میرے علم میں کسی صحابی اور کسی تابعی اور جن ائمہ کے اقوال حلال وحرام کے فتویٰ میں معتبر ہیں ، ان میں سے کسی سے کوئی ایسی صریح بات ثابت نہیں جو بیک لفظ تین طلاق کے ایک ہونے پر دلالت کر ے ، خود علامہ ابن تیمیہؒ نے تین طلاق کے حکم میں مختلف اقوال پیش کر نے کے دوران کہا: ’’دوسرا مذہب یہ ہے کہ یہ طلاق حرام ہے اور لازم ونافذ ہے ، یہی امام ابوحنیفہؒ ، امام مالک ؒ اور امام احمدؒ کا آخری قول ہے، ان کے اکثر تلامذہ نے اسی قو ل کو اختیار کیا ہے ، اور یہی مذہب سلف صحابہ وتابعین کی ایک بڑی تعداد سے منقول ہے ‘‘۔اور علامہ ابن قیم ؒ نے کہا: ’’ ایک لفظ کی تین طلاق کے بارے میں چار مذہب ہیں ۔ پہلا مذہب یہ ہے کہ تین طلاق واقع ہوجاتی ہے،یہی مذہب ائمہ اربعہ ، جمہور تابعین اور بہت سے صحابۂ کرام کا ہے ‘‘ ۔ علامہ قرطبیؒ نے فرمایا : ’’ہمارے علماء نے فرمایا کہ تمام ائمہ فتاویٰ ایک لفظ سے تین طلاق کے لازم ہونے پرمتفق ہیں اور یہی جمہور سلف کا قول ہے ‘‘۔ علامہ ابن عربی ؒ نے اپنی کتاب الناسخ والمنسوخ میں کہا ہے اور اسے علامہ ابن قیمؒ نے بھی تہذیب السنن میں نقل کیا ہے : ’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے الطلاق مرتان (یعنی طلاق دومرتبہ ہے) آخر زمانہ میں ایک جماعت نے لغزش کھائی اور کہنے لگے : ایک لفظ کی تین طلاق سے تین نافذ نہیں ہوتی ، انھوں نے اس کو ایک بنادیا اور اس قول کو سلف اول کی طرف منسوب کردیا۔ حضرت علیؓ، حضرت زبیرؓ، حضرت ابن عوفؓ، حضرت ابن مسعودؓ اور حضرت ابن عباسؓ سے روایت کیا اور حجاج بن ارطاۃ کی طرف روایت کی نسبت کردی ؛ جن کا مرتبہ ومقام کمزور اور مجروح ہے ، اس سلسلہ میں ایک روایت کی گئی جس کی کوئی اصلیت نہیں‘‘۔انہوں نے یہاں تک کہا ہے کہ: ’’ لوگوں نے اس سلسلہ میں جواحادیث صحابہ کی طرف منسوب کی ہیں ، وہ محض افتراء ہے ، کسی کتاب میں اس کی اصل نہیں اور نہ کسی سے اس کی روایت ثابت ہے ‘‘۔ اور آگے کہا : ’’حجاج بن ارطاۃ کی حدیث نہ امت میں مقبول ہے اور نہ کسی امام کے نزدیک حجت ہے ‘‘۔

۱۳۹۳ھ میں سعودی عرب کے بڑے بڑے علماء کرام نے بحث ومباحثہ کے بعد قرآن وحدیث کی روشنی میں صحابہ کرام، تابعین اور تبع تابعین کے اقوال کو سامنے رکھ کریہی فیصلہ کیا کہ ایک وقت میں دی گئی تین طلاقیں تین ہی شمار ہوں گی۔ یہ پور ی بحث اور مفصل تجویز مجلۃ البحوث الاسلامیہ ۱۳۹۷ھ میں ۱۵۰ صفحات میں شائع ہوئی ہے جو اس موضوع پر ایک اہم علمی دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔ فیصلہ کے الفاظ یہ ہیں :مسئلہ موضوعہ کے مکمل مطالعہ ، تبادلۂ خیال اور تمام اقوال کا جائزہ لینے اور ان پر وارد ہونے والے اعتراضات پر جرح ومناقشہ کے بعد مجلس نے اکثریت کے ساتھ ایک لفظ کی تین طلاق سے تین واقع ہو نے کا قول اختیارکیا۔ اس مجلس کے جن علماء نے تین طلاق کو ایک قرار دیا ہے ، انھوں نے صرف اس صورت کا یہ حکم بیان کیا ہے ’’ جب کوئی شخص یوں طلاق دے کہ میں نے تین طلاق دی (یا دیا) ؛ لیکن جب کوئی یوں کہے کہ میں نے طلاق دیا، میں نے طلاق دیا، میں نے طلاق دیا، تو اس صورت میں وہ بھی نہیں کہتے کہ ایک طلاق پڑے گی‘‘۔ یعنی اس صورت میں ان کے نزدیک بھی تین طلاق واقع ہوگی ۔ سعودی عرب کے علماء نے اس فیصلہ کے ۴۴ سال گزرنے کے بعد اس موضوع پر بحث ومباحثہ کی دوبارہ ضرورت محسوس نہیں کی بلکہ اسی فیصلہ کو آج بھی آخری فیصلہ تسلیم کیا جاتا ہے۔

خلاصۂ کلام: صحابۂ کرام، تابعین، تبع تابعین، جمہور علماء کرام ومحدثین ومفسرین ،نیز چاروں ائمہ (امام ابوحنیفہؒ ، امام مالکؒ ، امام شافعیؒ اور امام احمد بن حنبلؒ ) ، ہندوستان ،پاکستان، بنگلادیش، افغانستان اور سعودی عرب کے جمہور علماء کی قرآن وحدیث کی روشنی میں متفق علیہ رائے یہی ہے کہ ایک مرتبہ میں تین طلاق دینے پر تین ہی واقع ہوں گی۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت میں ایک مرتبہ میں تین طلاقیں دینے پر صحابۂ کرام کے سامنے بے شمار مواقع پر باقاعدہ طور پر تین ہی طلاق کا فیصلہ صادر کیا گیا ۔ صرف ایک چھوٹی سی جماعت (غیر مقلدین) نے ایک دفعہ میں تین طلاق دینے پر ایک واقع ہونے کا فیصلہ فرمایا ہے۔ غرضیکہ امت مسلمہ کا ۹۸ فیصد سے زیادہ طبقہ ایک بار میں تین طلاق دینے پر تین ہی کے واقع ہونے پر متفق ہے۔ احتیاط کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ تین طلاق کو تین ہی مانا جائے ورنہ قرآن وحدیث کی روشنی میں جمہور علماء کی رائے کے مطابق پوری زندگی حرام کاری ہوگی۔ عقل بھی یہی کہتی ہے کہ تین کو تین ہی رکھا جائے، اس کو ایک کیوں تسلیم کرلیا جائے۔ مضمون کی طوالت سے بچنے کے لئے دلائل پر بحث نہیں کی گئی ہے۔موضوع بحث مسئلہ میں دلائل اور تمام حوالوں کے لئے میرے مضمون (تین طلاق کا مسئلہ) اور سعودی عرب کے علماء کا فیصلہ جو میرے مضمون کے آخر میں موجود ہے، کا مطالعہ کریں جو میری ویب سائٹ (www.najebqasmi.com) پر موجود ہے۔

ڈاکٹر محمد نجیب قاسمی سنبھلی ، ریاض