السلام علیکم ورحمۃا للہ وبرکاتہ،،، ضبط ولادت (Birth Control) سے متعلق بعض معلومات پر مشتمل ایک امیج سوشل میڈیا کے ذریعہ ارسال کی گئی تھی، جس پر وارد چند سوالات کا ایک وضاحتی جواب پیش خدمت ہے:

سب سے پہلے صحیح بخاری وصحیح مسلم ودیگر کتب حدیث میں وارد ایک حدیث پیش کررہا ہوں: صحابی رسول حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نبی اکرم ﷺ کے زمانہ میں جب قرآن نازل ہورہا تھا، عزل کرتے تھے، اور ہم کو نبی اکرم ﷺ نے ایسا کرنے سے منع نہیں کیا۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ صحابی رسول حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ حضور اکرم ﷺ کی وفات کے بعد بعض صحابۂ کرام کے عزل کرنے کو بیان کررہے ہیں۔مشہور محدث علامہ نووی ؒ فرماتے ہیں کہ عزل کا مطلب ہے کہ شوہر اپنی بیوی کے ساتھ صحبت کرے، جب منی نکلنے کا وقت قریب آجائے تو منی باہر نکال دے۔ یعنی اُس زمانہ کے اعتبار سے حمل نہ ٹھہرنے کا یہ ایک ذریعہ تھا۔ دیگر احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ وقتی طور پر مانع حمل کے اسباب اختیار تو کئے جاسکتے ہیں، لیکن جو مقدر میں ہے وہ مل کر رہے گا۔
اس موقع پر ایک اور حدیث ذکر کرنا مناسب سمجھتا ہوں: حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے حضور اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھ کو ایک حسب ونسب والی خاتون ملی ہے لیکن وہ عورت بانجھ ہے(یعنی اس کے اولاد نہیں ہوسکتی) کیا میں اس سے نکاح کرسکتا ہوں؟ آپ ﷺ نے اس سے شادی کرنے کو منع فرمادیا، پھر دوسرا شخص حاضر ہوا تو اس کو بھی منع فرمادیا، پھر تیسرا شخص حاضر ہوا تو اس کو بھی منع فرمادیا اور فرمایا کہ تم ایسی خواتین سے نکاح کرو کہ جو اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہوں اور مرد (یعنی شوہر سے) محبت کرنے والی ہوں اس لئے کہ میں تم سے امت کو بڑھاؤں گا۔ (نسائی ۔ کتاب النکاح ۔ باب کراہےۃتزویج العقیم،، ۔ ابوداود ۔ کتاب النکاح ۔ باب النہی عن تزویج من لم یلد من النساء) اسلام کے ابتدائی دور سے لے کر آج تک تمام مفسرین، محدثین، فقہاء ، دانشور اور علماء اس بات پر متفق ہیں کہ حضور اکرم ﷺ کے فرمان کے مطابق اولاد کی کثرت مطلوب ہے، نیز نبی اکرم ﷺسے کسی ایک موقع پر بھی بچوں کو کم پیدا کرنے کی کوئی ترغیب دور دور تک کہیں نہیں ملتی حالانکہ نبی اکرم ﷺاپنی امت کے لئے بہت زیادہ شفیق اور رحم کرنے والے تھے، بلکہ آپ ﷺنے اپنے عمل سے بھی امت مسلمہ کو زیادہ بچے کرنے کی ترغیب دی کہ آپﷺکی چار لڑکیاں اور تین لڑکے پیدا ہوئے۔ آپﷺکے سامنے صحابہ کرام کی ایک بڑی جماعت کے آپﷺسے بھی زیادہ بچے پیدا ہوئے لیکن آپﷺنے کسی ایک صحابی کو ایک مرتبہ بھی یہ نہیں کہا کہ اب بس کرو، اور ان ہی کی تربیت کرلو، حالانکہ رسول اللہﷺکی بعثت کا اصل وبنیادی مقصد لوگوں کی تربیت ہی تھا۔ معلوم ہوا کہ کثرت اولاد بچوں کی بہترین تربیت سے مانع نہیں ہے، اگر ہے تو حضور اکرمﷺنے صحابہ کرام کو کثرت اولاد سے کیوں نہیں روکا؟ حضور اکرم ﷺکی زندگی نہ صرف صحابہ کرام کے لئے موڈل ہے بلکہ قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کے لئے بہترین اسوہ (نمونہ) ہے۔

غرضیکہ جمہور علماء کا اتفاق ہے کہ ہر زمانہ کے اعتبار سے وقتی مانع حمل کے مہیا اسباب اختیار کرنے کی گنجائش تو ہے مگر یہ ترغیبی عمل نہیں ہے۔ نیز ہمارا یہ ایمان ہے کہ جو چیز بھی مقدر میں ہے وہ مل کر رہے گی اور رازق وخالق ومالک کائنات صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور ہر بچہ اپنے ساتھ اپنا رزق لے کر آتا ہے۔ میرے لکھنے کا اصل مقصد یہ تھا کہ اِن دنوں بعض حضرات وقتی مانع حمل کے اسباب (مثلاً کنڈوم کا استعمال، مانع حمل دوا کھانا وغیرہ) کو حرام سمجھتے ہیں اور پھر بھی استعمال کرتے ہیں، اسی لئے میں نے تحریر کیا کہ اُن کو معلوم ہوجائے کہ وقتی مانع حمل کے اسباب اختیار کرنا حرام نہیں ہے، بلکہ شرعی اعتبار سے ان کی گنجائش ہے اگرچہ ترغیبی عمل نہیں ہے۔ دوسرے بعض حضرات وقتی مانع حمل کے اسباب (مثلاً کنڈوم کا استعمال، مانع حمل دوا کھانا وغیرہ) کو حرام سمجھ کر یہ اسباب اختیار نہیں کرتے ہیں، لیکن حمل ٹھہرنے کے بعد اسقاط حمل (Abortion) کی تدبیروں میں لگ جاتے ہیں حالانکہ اسقاط حمل (Abortion) حرام ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہئے کہ اگر ہم اولاد کے درمیان وقفہ چاہتے ہیں تو مانع حمل کے جائز طریقے پہلے سے اختیار کرلیں، تاکہ بعد میں اسقاط حمل کا معاملہ ہی درپیش نہ ہو، کیونکہ حمل ٹھہرنے کے بعد اسقاط حمل (Abortion) کرانا حرام ہے۔

اس امیج میں عبارت کم تھی، نیز ظاہر ہے کہ اس طرح کی امیج میں حوالوں کا ذکر نہیں کیا جاسکتا ہے، اس لئے بعض الفاظ کے استعمال اور حوالوں کے ذکر نہ کرنے پر بعض حضرات کا سوال تھا۔جو میں سمجھتا ہوں کہ وہ دور ہوگیا ہوگا، باقی جو میں نے تحریر کیا تھا کہ دو یا تین بچوں کی ولادت کے بعد ، اس کا مقصد ہرگز یہ نہیں ہے کہ اس سے کم یا زیادہ کی صورت میں وقتی مانع حمل کے اسباب اختیار کرنا حرام ہے۔ یعنی کوئی بھی شخص کسی بھی وقت وقتی مانع حمل کے اسباب اختیار کرسکتا ہے، اگرچہ یہ ترغیبی عمل نہیں ہے۔ اور ولادت کے سلسلہ کو بالکل ختم کرنا جائز نہیں ہے، ہاں اگر عورت کی صحت کے لئے انتہائی ضروری ہے تو پھر گنجائش ہے، خواہ وہ ایک بچہ کی ولادت کے بعد یا اس سے زیادہ کی صور ت میں۔ حمل ٹھہرنے کے بعد اسقاط حمل (Abortion) کی کوئی گنجائش نہیں ہے، الّا یہ کہ عورت کی جان کو خطرہ لاحق ہوجائے۔ اجازت محض دو ضرر میں سے بڑے ضرر کو دور کرنے، اور دو مصلحتوں میں سے بڑی مصلحت کو حاصل کرنے کے لئے ہے۔ محمد نجیب قاسمی سنبھلی