بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيْم

اَلْحَمْدُ لِلّهِ رَبِّ الْعَالَمِيْن،وَالصَّلاۃ وَالسَّلامُ عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن۔

خواتین کے خصوصی امراض کا مرد ڈاکٹر سے علاج کرانے کا شرعی حکم

عورتوں کے خصوصی امراض کا مرد ڈاکٹر سے علاج کرانا مثلاً حمل کے دوران فالواپ اور ولادت کا عمل، اسی طرح مردوں کے ایسے امراض کا علاج عورت ڈاکٹر سے کرانا جن میں مرد کے جسم خاص کر ستر والے حصہ کو دیکھنا ضروری ہو، یہ ایسے مسائل ہیں جن سے واقفیت اِن دنوں بعض شرعی پابندیوں کی وجہ سے بے حد ضروری ہے کیونکہ اس میں دو جنسوں کا اختلاط ہوتا ہے اور مرد عورت کے ستر اور عورت مرد کے ستر کو دیکھتی ہے جو عمومی حالات میں ناجائز ہے۔ نیز شرم وحیا کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ مردوں کے ایسے امراض کا علاج مرد ڈاکٹر ہی کرے جن میں انسان کے جسم کے پردے والے اعضاء کا دیکھنا ضروری ہو، اور عورتوں کے وہ امراض جن میں جسم کے اعضاء کا کھولنا ضروری ہو عورت ڈاکٹر ہی کرے تاکہ کسی طرح کافتنہ پیدا نہ ہو اور شرم وحیا کا احترام بھی باقی رہے۔ یہ مسئلہ صرف حمل وولادت تک محدود نہیں بلکہ دیگر امراض، ایکسرے، الٹراساؤنڈ، ای سی جی، ایم آر آئی، سٹی اسکین اور دیگر آپریشن وغیرہ کے متعلق بھی ہے۔ قرآن وحدیث کی روشنی میں علماء کرام نے کہا ہے کہ انتقال کے بعد عورت کو غسل عورتیں اور مرد کو غسل مرد حضرات دیں، یہ شرم وحیا اور بنی نوع انسان کے اُس تقدس کو باقی رکھنے کے لئے ہے جو اللہ تعالیٰ نے عطا کیاہے۔ حمل اور ولادت کے مسائل خصوصی اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ اس میں عورت کے اُس حصہ کو متعدد مرتبہ دیکھا جاتا ہے جس کا دیکھنا شوہر کے علاوہ کسی دوسرے شخص حتی کے اس کے ماں باپ کے لئے بھی جائز نہیں ہے۔

قرآن وحدیث کی واضح تعلیمات کی روشنی میں اصل قاعدہ یہی ہے کہ عورت اپنے جسم کے اعضاء کو شوہر کے علاوہ کسی دوسرے شخص کے سامنے نہ کھولے اور اسی طرح مرد اپنے جسم کے اعضاء خاص کر ناف سے لے کر گھنٹے تک کسی دوسرے شخص کے سامنے نہ کھولے۔ ہاں بعض بیماریوں کے علاج کے لئے ضرورت کے مطابق اجازت ہے۔ عورتوں کے وہ امراض جن میں جسم کے اعضاء کو دکھانا ضروری ہو تو ہمیں حتی الامکان یہی کوشش کرنی چاہئے کہ عورت ڈاکٹر سے ہی علاج کرایا جائے۔ اسی میں ہماری اور معاشرہ کی بھلائی ہے۔ عورت ڈاکٹر مہیا نہ ہونے پر بدرجہ مجبوری مرد ڈاکٹر سے بھی رجوع کرنے کی گنجائش ہے لیکن اس بات کا خاص خیال رکھا جائے کہ جسم کے صرف اُسی حصہ کو دکھلایا جائے جس کی ضرورت ہو، نیز اُس موقع پر نرس کے علاوہ شوہر یا کوئی دوسرا محرم یا کم از کم کوئی دوسری عورت بھی ساتھ میں رہے۔ عورت تنہا اس نوعیت کے علاج کے لئے مرد ڈاکٹر کے پاس ہرگز نہ جائے۔ اسی طرح مرد کے ایسے امراض کے علاج کے لئے جن میں جسم کے خاص اعضاء کا دیکھنا ضروری ہو، مرد ڈاکٹر سے ہی رجوع کیا جائے۔ مرد ڈاکٹر کے نہ ملنے پر بدرجہ مجبوری عورت ڈاکٹر کو بھی نرس کی موجودگی میں جسم کے اعضاء حتی کے ناف سے گھنٹے تک کے حصہ کو بھی دکھایا جاسکتا ہے۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ ہمیں حتی الامکان یہی کوشش کرنی چاہئے کہ مریض کی جنس سے ہی ڈاکٹر کو تلاش کیا جائے۔ مثلاً جس ہسپتال میں علاج چل رہا ہے وہاں الٹراساؤنڈ کرنے والے دو حضرات ہیں، ایک مرد اور دوسری عورت۔ لیکن جس وقت عورت الٹراساؤنڈ کرانے کے لئے گئی وہاں مرد ڈاکٹر ڈیوٹی پر ہے، اور فوری طور پر الٹراساؤنڈ کرانا ضروری نہیں ہے تو انتظار ہی کرنا چاہئے تاکہ عورت ڈاکٹر سے ہی مریضہ کا الٹراساؤنڈ کرایا جائے۔ ہاں اگر الٹراساونڈ ایکسرے یا اسی نوعیت کا کوئی دوسرا ٹیسٹ فوری طور پر کرانا صحت کے لئے ضروری ہے تو بدرجہ مجبوری گنجائش ہے۔ اسی طرح بدرجہ مجبوری مرد مریض کا علاج یا اس کا الٹراساونڈ یا ایکسرے عورت ڈاکٹر یا نرس بھی کرسکتی ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا خوف انتہائی ضروری ہے۔

ڈاکٹر کی بھی دینی واخلاقی وانسانی ذمہ داری ہے کہ اگر وہ دوسری جنس کے مریض کا علاج کررہا ہے تو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے دستانوں کا استعمال کرکے صرف جسم کے اُسی حصہ کو دیکھے جس کی اشد ضرورت ہو اور نرس کو اپنے اور مریض کے درمیان زیادہ سے زیادہ شامل کرے۔

ڈاکٹری کی تعلیم حاصل کرنے والوں سے درخواست ہے کہ مرد ڈاکٹر حضرات حتی الامکان ایسے امراض کے علاج کے لئے تخصص کریں جو امراض مردوں میں زیادہ پائے جاتے ہیں۔ اسی طرح خواتین ڈاکٹر اُن امراض کے علاج میں تخصص کریں جو عورتوں میں زیادہ پائے جاتے ہیں مثلاً حمل وولادت۔ ہسپتالوں کے مالکوں سے درخواست ہے کہ حتی الامکان عورتو ں کے امراض کے علاج کے لئے خواتین ڈاکٹر ہی رکھیں خواہ اُس کے لئے انہیں کچھ خرچہ زیادہ ہی برداشت کرنا پڑے۔ شہر کے ذمہ داروں سے درخواست ہے کہ اپنے شہر میں ایسے ہسپتال یا نرسنگ ہوم قائم کرنے کی ضرور کوشش کریں جن میں ہر جنس کے خاص امراض کے لئے اُسی جنس کے ڈاکٹر مہیا کئے جائیں۔ عام لوگوں سے درخواست ہے کہ اپنے بچیوں کو ایسی تعلیم بھی دلائیں جس کے بعد وہ عورتوں کے امراض کے لئے متخصص بنیں تاکہ ہماری ماں اور بہنیں مرد ڈاکٹروں کے پاس جانے سے بچ سکیں۔ آخر میں مریض یا مریضہ سے عرض ہے کہ بدرجہ مجبوری دوسری جنس کے ڈاکٹر کے پاس علاج کرانے کی صورت میں یہ اچھی طرح جان لے کہ اللہ تعالیٰ کی پکڑ بہت سخت ہے۔ اس پوری کائنات کو پیدا کرنے والے نے شوہر بیوی کے علاوہ ہر شخص کے لئے حرام قراد دیا ہے کہ وہ کسی دوسرے شخص کو جسم کے پردے والے اعضاء کو دکھائے، سوائے علاج کی ضرورت کے لئے بدرجہ مجبوری۔ عورتوں کے خصوصی امراض کے علاج کے لئے حتی الامکان عورت ڈاکٹر سے ہی رجوع کیا جانا چاہئے تاکہ عورت بھی اپنی بیماری کو صحیح طور پر بتاسکے اور اس کا صحیح علاج ممکن ہو۔

 محمد نجیب قاسمی سنبھلی (www.najeebqasmi.com)