بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيْم

اَلْحَمْدُ لِلّهِ رَبِّ الْعَالَمِيْن،وَالصَّلاۃ وَالسَّلامُ عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن۔

میت کی جانب سے قربانی کا حکم

قربانی کا حکم: امت مسلمہ قرآن وحدیث کی روشنی میں قربانی کے اسلامی شعار ہونے اور ہر سال قربانی کا خاص اہتمام کرنے پر متفق ہے، البتہ قربانی کو واجب یا سنت مؤکدہ کا نام دینے میں اختلاف چلا آرہا ہے۔ صحابہ وتابعین عظام سے استفادہ کرنے والے ۸۰ ہجری میں پیدا ہوئے حضرت امام ابوحنیفہؒ اور علماء احناف نے قرآن وحدیث کی روشنی میں ہر صاحب حیثیت پر اس کے وجوب کافیصلہ فرمایا ہے۔ حضرت امام مالک ؒ بھی قربانی کے وجوب کے قائل ہیں، حضرت امام احمد بن حنبلؒ کا ایک قول بھی قربانی کے وجوب کا ہے۔ ہند وپاک کے علماء کا بھی یہی موقف ہے۔ علامہ ابن تیمیہ ؒ نے بھی قربانی کے واجب ہونے کے قول کو ہی راجح قرار دیا ہے۔ البتہ فقہاء وعلماء کی دوسری جماعت نے قربانی کے سنت مؤکدہ ہونے کا فیصلہ فرمایا ہے، لیکن عملی اعتبار سے امت مسلمہ کا اتفاق ہے کہ قربانی کا اہتمام کرنا چاہئے اور وسعت کے باوجود قربانی نہ کرنا غلط ہے خواہ اس کو جو بھی نام دیا جائے۔ "جواہر الاکلیل شرح مختصر خلیل" میں امام احمد بن حنبلؒ کا موقف تحریر ہے کہ اگر کسی شہر کے سارے لوگ قربانی ترک کردیں تو ان سے قتال کیا جائے گا کیونکہ قربانی اسلامی شعار ہے۔

قربانی کے وجوب کی رائے مندرجہ ذیل دلائل کی روشنی میں احتیاط پر مبنی ہے:

۱) اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا: نماز پڑھئے اپنے رب کے لئے اور قربانی کیجئے۔ (سورۂ الکوثر ۲) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے قربانی کرنے کاحکم ( امر) دیا ہے، عربی زبان میں امر (حکم) کا صیغہ عموماً وجوب کے لئے ہوا کرتا ہے۔

۲) نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس شخص میں قربانی کرنے کی وسعت ہو پھر بھی قربانی نہ کرے تو (ایسا شخص) ہماری عیدگاہ میں حاضر نہ ہو۔ (مسند احمد ۲/۳۲۱،،، ابن ماجہ۔ باب الاضاحی واجبہ ھی ام لا؟) عصر قدیم سے عصر حاضر تک کے جمہور محدثین نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔ اس حدیث میں نبی اکرمﷺ نے قربانی کی وسعت کے باوجود قربانی نہ کرنے پر سخت وعید کا اعلان کیا ہے اور اس طرح کی وعید عموماً ترک واجب پر ہی ہوتی ہے۔

۳) نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس شخص نے نماز عید سے قبل قربانی کرلی تو اسے اس کی جگہ دوسری قربانی کرنی ہوگی۔ قربانی نماز عید الاضحی کے بعد بسم اللہ پڑھ کر کرنی چاہئے۔ (بخاری۔کتاب الاضاحی۔باب من ذبح قبل الصلاۃ اعاد، مسلم۔کتاب الاضاحی۔باب وقتہا) اگر قربانی واجب نہیں ہوتی تو حضور اکرم ﷺنماز عیدالاضحی سے قبل قربانی کرنے کی صورت میں دوسری قربانی کرنے کا حکم نہیں دیتے، باوجودیکہ اُس زمانہ میں عام حضرات کے پاس مال کی فراوانی نہیں تھی۔

۴) نبی ا کرم ﷺ نے عرفات کے میدان میں کھڑے ہوکر فرمایا : اے لوگو! ہر سال ہر گھر والے پر قربانی کرنا ضروری ہے۔ (مسند احمد ۴/۲۱۵، ،، ابوداود ۔باب ماجاء فی ایجاب الاضاحی،،،، ترمذی۔ باب الاضاحی واجبۃ ہی ام لا)


۵) حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دس سال مدینہ منورہ میں قیام فرمایا اور اس عرصۂ قیام میں آپ مسلسل قربانی فرماتے تھے۔ (ترمذی ۱/۱۸۲) مدینہ منورہ کے قیام کے دوران رسول اللہ ﷺ سے ایک سال بھی قربانی نہ کرنے کا کوئی ثبوت احادیث میں نہیں ملتا، اس کے برخلاف احادیث صحیحہ میں مذکور ہے کہ مدینہ منورہ کے قیام کے دوران آپ ﷺ نے ہر سال قربانی کی، جیساکہ مذکورہ حدیث میں وارد ہے۔

میت کی جانب سے قربانی: اگرچہ اس مسئلہ میں علماء کا اختلاف ہے، لیکن جمہور علماء امت نے مندرجہ ذیل دلائل شرعیہ کی روشنی میں تحریر کیا ہے کہ میت کی جانب سے بھی قربانی کی جاسکتی ہے۔

۱) نبی اکرم ﷺ اپنی طرف سے قربانی کرنے کے علاوہ امت کے افراد کی طرف سے بھی قربانی کیا کرتے تھے۔ (بیہقی ۹/۲۶۸)اس قربانی کو آپ ﷺ زندہ افراد کے لئے خاص نہیں کیا کرتے تھے، اور نہ ہی نبی ا کرم ﷺ کا کوئی قول حتی کی کسی صحابی کا قول کتب حدیث میں موجود ہے کہ قربانی صرف زندہ افراد کی طرف سے کی جاسکتی ہے۔ نیز قربانی کرنا صدقہ کی ایک قسم ہے، قرآن وحدیث کی روشنی میں صدقہ میت کی طرف سے باتفاق امت کیا جاسکتا ہے۔ علامہ ابن تیمیہ ؒ نے کہا کہ میت کی جانب سے قربانی کرنا افضل ہے اور میت کی جانب سے قربانی زندہ شخص کی قربانی کی طرح کی جائے گی۔ (مجموع الفتاوی ۲۶/ ۳۰۶)

۲) حدیث میں ہے کہ تیسرے خلیفہ اور حضور اکرم ﷺ کے داماد حضرت علی رضی اللہ عنہ دو قربانیاں کیا کرتے تھے، ایک نبی اکرم ﷺ کی جانب سے جبکہ دوسری اپنی طرف سے۔ جب ان سے سوال کیاگیا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی اکرم ﷺ نے مجھے قربانی کرنے کی وصیت فرمائی ہے اور اسی لئے میں آپﷺکی طرف سے بھی قربانی کرتا ہوں اور ہمیشہ کرتا رہوں گا۔ (ترمذی ۔ کتاب الاضاحی عن رسول اللہ ﷺ۔ باب ما جاء فی الاضحیہ عن المیت ،،،،، ابوداود ۔ کتاب الضحایا۔باب الاضحیہ عن المیت) امام ترمذی ؒ (۲۰۹ھ۔۲۷۹ھ) نے اس حدیث کو ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ اس سلسلہ میں علماء امت کا اختلاف ہے۔ ایک جماعت نے میت کی جانب سے قربانی کی اجازت دی ہے جبکہ دوسری جماعت نے اختلاف کیا ہے۔ غرضیکہ حدیث کی معروف کتب تحریر کئے جانے سے قبل ہی امام ابوحنیفہؒ ، امام احمد بن حنبل ؒ نیز علماء احناف اور جن علماء نے ان احادیث کو قابل عمل تسلیم کیا ہے، میت کی جانب سے قربانی کرنے کی اجازت دی ہے۔ اور یہی قول زیادہ مستند وقوی ہے کیونکہ میت کی جانب سے قربانی کرنا ایک صدقہ ہے اور حج وعمرہ بدل نیز میت کی جانب سے صدقہ کی طرح میت کی جانب سے قربانی بھی کی جاسکتی ہے کیونکہ ہمارے پاس قرآن وحدیث میں کوئی ایسی دلیل موجود نہیں ہے جس کی بنیاد پر کہا جائے کہ دیگر اعمال تو میت کی جانب سے کئے جاسکتے ہیں لیکن قربانی میت کی جانب سے نہیں کی جاسکتی ہے۔

میت کی جانب سے قربانی کرنے کی دو صورتیں ہیں: اگر میت نے وصیت کی تھی اور قربانی میت کے مال سے کی جارہی ہے تو اس قربانی کا گوشت صدقہ کرنا ضروری ہے، گوشت مالداروں کے لئے کھانا جائز نہیں ہے۔ اگر میت نے قربانی کرنے کی کوئی وصیت نہیں کی بلکہ ورثاء اور رشتہ داروں نے اپنی خوشی سے میت کے لئے قربانی کی ہے (جیساکہ عموماً عید الاضحی کے موقعہ ہم اپنے والدین اور دیگر رشتہ داروں کی طرف سے قربانی کرتے ہیں) تو اس کا گوشت مالدار اور غریب سب کھاسکتے ہیں۔تمام گوشت صدقہ کرنا ضروری نہیں، بلکہ جس قدر چاہیں غریبوں کو دے دیں اور جس قدر چاہیں خود استعمال کرلیں یا رشتہ داروں کو تقسیم کردیں۔ جیسا کہ فقہ حنفی کی مستند کتاب (رد المختار ج۹ ص ۴۸۴) میں تحریر ہے جو ملک شام کے مشہور حنفی عالم علامہ ابن عابدین ؒ نے تحریر فرمائی ہے۔

اس موضوع سے متعلق چند دیگر احادیث:

حضرت عائشہؓ ، حضرت ابو ہریرہؓ، حضرت جابرؓ، حضرت ابورافعؓ ، حضرت ابو طلحہ ؓ انصاری اور حضرت حذیفہ ؓ کی متفقہ روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے دو مینڈھے قربان کئے۔ ایک اپنی طرف سے اور دوسرا امت کی طرف سے۔ (بخاری، مسلم، مسند احمد، ابن ماجہ)۔ امت مسلمہ کا اتفاق ہے کہ قربانی کاثواب دوسروں حتی کہ زندوں کو بھی پہنچتا ہے ۔

ایک شخص نے رسول اللہ ﷺسے عرض کیا کہ میری ماں کا اچانک انتقال ہوگیا ہے۔ میرا خیال ہے کہ اگر انہیں بات کرنے کا موقع ملتا تو وہ ضرور صدقہ کرنے کے لئے کہتیں۔ اب اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کروں تو کیا ان کے لئے اجر ہے؟ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ہاں۔ (بخاری، مسلم، مسند احمد، ابو داود، نسائی) امت مسلمہ کا اتفاق ہے کہ صدقہ کاثواب میت حتی کہ زندوں کو بھی پہنچتا ہے ۔

حضرت سعدؓ بن عبادہ نے حضور اکرم ﷺ سے پوچھا کہ میری والدہ کا انتقال ہوگیا ہے۔ کیا میں ان کی طرف سے صدقہ کروں؟ آپ ﷺنے فرمایا: ہاں۔ (مسند احمد، ابوداود، نسائی اور ابن ماجہ) ۔ اسی مضمون کی متعدد دوسری روایات حضرت عائشہؓ ، حضرت ابوہریرہؓ اور حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے بخاری، مسلم ، مسند احمد، نسائی، ترمذی، ابوداود اور ابن ماجہ وغیرہ میں موجود ہیں، جن میں رسول اللہ ﷺنے میت کی طرف سے صدقہ کرنے کی اجازت دی ہے اور اسے میت کے لئے نافع بتایا ہے۔

حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کی روایت ہے کہ قبیلہ خشعم کی ایک عورت نے رسول اللہ ﷺسے عرض کیا کہ میرے باپ کو فریضۂ حج کا حکم ایسی حالت میں پہنچا ہے کہ وہ بہت بوڑھے ہوچکے ہیں، اونٹ کی پیٹھ پر بیٹھ بھی نہیں سکتے ہیں۔ آپ ﷺنے ارشاد فرمایا: تم ان کی طرف سے حج ادا کرو۔ بخاری، مسلم

رسول اللہ ﷺنے فرمایا : تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر تمہارے باپ پر قرض ہو اور تم اس کو ادا کردو تو وہ ان کی طرف سے ادا ہوجائے گا؟ اس شخص نے کہا جی ہاں۔ تو آپ ﷺنے ارشاد فرمایا: بس اسی طرح تم ان کی طرف سے حج ادا کرو۔ مسند احمد، نسائی

حضرت عبد اللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں کہ قبیلۂ جہینہ کی ایک عورت نے نبی اکرم ﷺسے سوال کیا کہ میری ماں نے حج کرنے کی نذر مانی تھی مگر وہ اس سے پہلے ہی مرگئیں۔ اب کیا میں ان کی طرف سے حج ادا کرسکتی ہوں؟ رسول اللہ ﷺنے فرمایا : تیری ماں پر اگر قرض ہوتا تو کیا تو اس کو ادا نہیں کرتی، اسی طرح تم لوگ اللہ کا حق بھی ادا کرو۔ اور اللہ اس کا زیادہ مستحق ہے کہ اس کے ساتھ کئے ہوئے عہد پورے کئے جائیں۔ بخاری، نسائی

ایک شبہ کا ازالہ: یہ کہا جاتا ہے کہ حضور اکرم ﷺ سے اپنی بیویوں یا اولاد کے انتقال کے بعد ان کی جانب سے قربانی کرنا ثابت نہیں ہے۔ یہ ایسا ہی ہے کہ کہا جائے کہ حضور اکرم ﷺ کا اپنی بیویوں یا اولاد کے انتقال کے بعد ان کی جانب سے حج یا عمرہ بدل کرنا ثابت نہیں ہے، حالانکہ دیگر احادیث کی روشنی میں پوری امت مسلمہ حج وعمرہ بدل کے صحیح ہونے پر متفق ہے باوجویکہ آپ ﷺنے اپنی بیویوں یا اولاد کے انتقال کے بعد ان کی جانب سے حج یا عمرہ ادا نہیں فرمایا۔ یقیناًنبی اکرم ﷺ نے اپنی بیویوں یا اولاد کے انتقال کے بعد ان کی جانب سے الگ الگ قربانی نہیں کی لیکن آپ ﷺاپنی جانب سے ہمیشہ قربانی کیا کرتے تھے، اور دوسری قربانی کے ثواب میں سب کو شامل فرمالیا کرتے تھے۔ نیز اس وقت اتنی فراوانی بھی نہیں تھی کہ میت میں سے ہر ہر فرد کی جانب سے الگ الگ قربانی کی جائے۔ غرضیکہ دلائل شرعیہ کی روشنی میں خیر القرون سے آج تک فقہاء وعلماء کی ایک بڑی جماعت میت کی جانب سے قربانی کرنے پر متفق رہی ہے۔ اگر کوئی شخص انتقال شدہ اپنے رشتہ داروں کی جانب سے قربانی نہیں کرنا چاہتا ہے تو نہ کرے لیکن جو حضرات حضور اکرمﷺ کے قول وعمل اور صحابہ وتابعین وفقہاء وعلماء امت کے اقوال کی روشنی میں اپنا پیسہ خرچ کرکے قربانی کرنا چاہتے ہیں، ان کو منع کرنے کے لئے قرآن وحدیث کی دلیل درکار ہے جو کل قیامت تک بھی پیش نہیں کی جاسکتی ہے۔

دوسرے شبہ کا ازالہ: فرمان الہٰی ہے:کو ئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ آدمی کو وہی ملتا ہے جو اس نے کمایا۔ (سورہ النجم ۳۸۔ ۳۹) اسی طرح فرمان رسول ﷺہے : انسان کے انتقال کے بعد اس کے عمل کا سلسلہ منقطع ہوجاتا ہے مگر تین عمل: صدقۂ جاریہ، ایسا علم جس سے لوگ فائدہ اٹھائیں اور نیک لڑکے کی دعا جو وہ اپنے والد کے لئے کرے۔ (ابن ماجہ ، ابن خزیمہ) یہاں مراد یہ ہے کہ عمومی طور پر ہر شخص اپنے ہی عمل کی جزا یا سزا پائے گا۔ لیکن باپ یا بیوی یا کسی قریبی رشہ دار کے انتقال کے بعد اگر کوئی شخص ان کی نماز جنازہ پڑھتا ہے یا ان کے لئے مغفرت کی دعا کرتا ہے یا ان کی طرف سے حج یا عمرہ بدل کرتا ہے یا قربانی کرتا ہے یا صدقہ کرتا ہے یا اللہ تعالیٰ کے پاک کلام کی تلاوت کرکے اس کا ثواب میت کو پہونچاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اِس عمل کو قبول فرماکر میت کو اس کا ثواب عطا فرمائے گا ان شاء ا للہ۔کیونکہ اگر یہاں عموم مراد لیا جائے تو پھر ایصال ثواب، قربانی اور حج بدل وغیرہ کرناسب ناجائز ہوجائیں گے،بلکہ دوسرے کے حق میں دعائے استغفار حتی کہ نمازِ جنازہ بھی بے معنی ہوجائے گی، کیونکہ یہ اعمال بھی اُس شخص کا اپنا عمل نہیں ہے جس کے حق میں دعا کی جارہی ہے۔ رسول اکرم ﷺکے ارشادات میں اس طرح کی متعدد مثالیں ملتی ہیں، جیسے نبی اکرم ﷺ ارشاد فرمایا کہ جس نے نماز فجر اور عصر کی پابندی کرلی تو ووہ جنت میں داخل ہوگیا۔ (بخاری،مسلم) اس حدیث کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم صرف ان دو وقت کی نماز کی پابندی کرلیں، باقی جو چاہیں کریں،ہمارا جنت میں داخلہ یقینی ہے۔ نہیں ، ہر گز ایسا نہیں ہے، بلکہ نبی اکرم ﷺ کا یہ ارشاد ان دو نمازوں کی خاص اہمیت کو بتلانے کے لئے ہے کیونکہ جو ان دو نمازوں کی پابندی کرے گا وہ ضرور دیگر نمازوں کا اہتمام کرنے والا ہوگا، اور نمازوں کا واقعی اہتمام کرنے والا دیگر ارکان کی ادائیگی کرنے والا بھی ہوگا، ان شاء اللہ۔ اسی طرح اس حدیث میں ان تین اعمال کی خاص اہمیت بتلائی گئی ہے۔
محمد نجیب قاسمی سنبھلی، ریاض (www.najeebqasmi.com)