بسم الله الرحمن الرحيم

اَلْحَمْدُ لِله رَبِّ الْعَالَمِيْن،وَالصَّلاۃ وَالسَّلام عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن۔

علم کی روشنی، مدارس کا نصابِ تعلیم اور عظیم خدمات

علم کی اہمیت قرآن وحدیث کی روشنی میں:
انسان نے جب سے شعور کی آنکھیں کھولی ہیں علم کی اہمیت مسلم رہی ہے، کائنات کی تمام مخلوقات پر حضرت انسان کی برتری علم کی وجہ سے ہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی پہلی وحی کی ابتداء "اِقْرَأ"کے لفظ سے فرما کر قیامت تک آنے والے انسانوں کو زیور علم سے آراستہ ہونے کا پیغام دیا اور "بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ" اور اس کے بعد کی آیات سے اُس علم کے متعلق وضاحت بھی فرمادی کہ اصل علم وہ ہے جس کے ذریعہ انسان اپنے حقیقی خالق ومالک ورازق کو پہچانے جس نے ایک ناپاک قطرہ سے حضرت انسان کو ایک خوبصورت شکل میں پیدا فرمایا۔ غرض یہ کہ پہلی وحی سے اللہ تعالیٰ نے انسان کو یہ تعلیم دی کہ علم کا سب سے پہلا اور بنیادی مقصد مولائے حقیقی کو مان کر رب چاہی زندگی گزارنا ہے ۔
اسی طرح "ن وَالْقَلَمِ وَمَا یَسْطُرُوْن" (سورۃ القلم) میں اللہ تعالیٰ نے قلم کی قسم کھاکر لکھنے پڑھنے کی خاص اہمیت کو رہتی دنیا تک واضح کردیا۔ "وَالْقَلَمِ" میں قلم سے مراد تقدیر کا قلم ہے اور "وَمَا یَسْطُرُوْن" سے وہ فیصلے مراد ہیں جو فرشتے لکھتے ہیں۔معلوم ہوا کہ اصل علم وہ ہے جو تقدیر پر ایمان کی تعلیم دیتا ہو اور ظاہر ہے کہ قرآن وحدیث اور ان دونوں سے ماخوذ علوم میں ہی تقدیر پر ایمان لانے کی تعلیمات ملتی ہیں۔
سورۃ الزمر آیت نمبر (۹) میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "قُلْ هل یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَالَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ" کیا اہل علم اور نہ جاننے والے برابر ہوسکتے ہیں؟ مذکورہ آیت کے ابتدائی حصہ اور اس سے قبل آیت میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا کہ کیا کافر شخص اس مؤمن کے برابر ہوسکتا ہے جو رات کی گھڑیوں میں عبادت کرتا ہے اور آخرت کی زندگی کو سامنے رکھ کر یہ دنیاوی وفانی زندگی گزارتا ہے۔ اس کے بعد آنے والی آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے میرے ایمان والے بندو! اپنے رب سے ڈرو۔ معلوم ہوا کہ جاننے والے کی نہ جاننے والے پر فضیلت اس وقت ہوگی جب کہ جاننے والا اللہ کو مان کر زندگی گزارنے والا بنے۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: تم میں سے جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جن کو علم عطا کیا گیا ہے اللہ ان کے درجوں کو بلند کرے گا ۔ (سورۃ المجادلۃ: ۱۱)معلوم ہوا کہ علم اسی صورت میں باعثِ عزت ورفعت ہے جب کہ جاننے والا ایمان کی عظیم دولت سے مالامال ہو۔
اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے حبیب حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے: اے پیغمبر! جب قرآن وحی کے ذریعہ نازل ہو رہا ہو تو اس کے مکمل ہونے سے پہلے جلدی نہ کیا کرو اور یہ دعا کرتے رہا کرو کہ ’’اے میرے پروردگار! میرے علم میں ترقی عطا فرما‘‘۔(سورۃ طہٰ: ۱۱۴) اس آیت سے جہاں یہ معلوم ہوا کہ علم ایک ایسا سمندر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں اور انسان کو ہر وقت علم میں ترقی کی کوشش اور دعا کرتے رہنا چاہیے خواہ وہ علم کی بلندیوں پر پہنچ جائے، وہیں یہ رہنمائی بھی ملی کہ قرآن وحدیث اور ان دونوں سے ماخوذ علم ہی اصل علم ہے ۔
علم کی اہمیت کے ساتھ اللہ تبارک وتعالیٰ نے علمائے کرام کے متعلق یہ اعلان فرمادیا: اللہ سے اس کے بندوں میں سے وہی لوگ ڈرتے ہیں جو علم رکھتے ہیں۔ (سورۃالفاطر:۲۸ ) ابتداء اسلام سے اب تک جتنی بھی مشہور ومعروف تفسیریں تحریر کی گئی ہیں ان میں تحریر ہے کہ اس مذکورہ آیت میں علماء سے مراد وہ علماء ہیں جو اللہ کے کلام کو پڑھتے پڑھاتے ہیں ، اللہ کی ذات وصفات کا علم رکھتے ہیں ، اللہ کی مخلوقات میں غور وفکر کرکے اللہ جل جلالہ کی عظمت ، کبریائی وبڑائی کا اعتراف کرتے ہیں اور ذات باری سے خوف وخشیت رکھتے ہیں۔معلوم ہوا کہ اسی علم سے دونوں جہاں میں بلند واعلیٰ مقام ملے گا جس کے ذریعہ اللہ کا خوف پیدا ہواور ظاہر ہے کہ یہ کیفیت قرآن وحدیث اور ان دونوں علوم سے ماخوذ علم سے ہی پیدا ہوتی ہے۔
جس طرح باری تعالیٰ نے علم اورعلماء کی خاص فضیلت اپنے پاک کلام میں ذکر فرمائی ہے، رحمۃ للعالمین حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم  نے بھی علم کی خاص اہمیت وفضیلت کو بار بار ذکر فرمایا ہے، میں صرف ایک حدیث پیش کر رہا ہوں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم  نے فرمایاکہ جو شخص طلب علم کی راہ میں چلتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کا راستہ آسان کردیتا ہے اور جو لوگ جب کبھی کسی خانۂ خدا میں جمع ہوکر کتاب اللہ کی تلاوت کریں اور اس کے درس وتدریس میں مشغول ہوں تو ان پر اللہ کی رحمت نازل ہوتی ہے اور فرشتے انہیں گھیر لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے پاس والوں میں ان کا ذکر کرتا ہے۔ (صحیح مسلم) حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم  نے اپنے اس مختصر مگر جامع کلام میں فرمایا کہ علم اسی وقت قابل قدر وباعث رحمت ہوگا جب کہ وہ جاننے والے کو جنت تک پہنچانے والا ہو۔ اس کے بعد قرآنی حلقوں کا ذکر فرماکر حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم  نے واضح طور پر فرمادیا کہ اصل علم وہ ہے جو قرآنی تعلیمات پر مشتمل ہو۔
خواتین وحضرات!
انسان تین ذرائع میں سے کسی ایک ذریعہ سے علم حاصل کرتا ہے، ایک انسان کے حواس یعنی آنکھ ، کان ، منہ اور ہاتھ پاؤں، دوسرا ذریعہ عقل اور تیسرا ذریعہ وحی ہے۔ انسان کو بہت سی باتیں اپنے حواس کے ذریعہ معلوم ہوتی ہیں ، جب کہ بہت سی عقل کے ذریعہ اور جو باتیں ان دونوں ذرائع سے معلوم نہیں ہوسکتیں ان کا علم وحی کے ذریعہ عطا ہوتا ہے۔ حواس اور عقل کے ذریعہ حاصل شدہ علم میں غلطی کے امکان ہوتے ہیں، لیکن وحی کے ذریعہ حاصل شدہ علم میں غلطی کے امکان بالکل نہیں ہوتے، کیوں کہ یہ علم خالق کائنات کی جانب سے انبیاء کے ذریعہ انسانوں کو پہنچتا ہے۔ غرض وحی الٰہی انسان کے لیے وہ اعلیٰ ترین ذریعہ علم ہے جو اسے اس کی زندگی سے متعلق ان سوالات کے جواب مہیا کرتا ہے جو عقل وحواس کے ذریعہ حل نہیں ہوسکتے ، یعنی صرف عقل اور مشاہدہ انسان کی رہنمائی کے لیے کافی نہیں ہے ، بلکہ اس کی ہدایت کے لیے وحی الٰہی ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ چوں کہ وحی عقل اور مشاہدے سے بڑھ کر علم ہے ، لہٰذا ضروری نہیں کہ وحی کی ہر بات کا ادراک عقل سے ہوسکے۔ اسلام نے پہلے دونوں ذرائع سے حاصل ہونے والے علم کے حصول سے منع نہیں کیا ہے بلکہ ان علوم کو بھی حاصل کرنے کی ترغیب دی ہے، مگر ان دونوں ذرائع سے حاصل ہونے والا علم یقینی نہیں بلکہ اس میں غلطیوں کے امکانات ہوتے ہیں ، جبکہ وحی یعنی قرآن وحدیث کا علم یقینی ہے۔
ہمارا یہ ایمان ہے کہ علوم قرآن وسنت سب سے اعلیٰ علم ہیں ، لیکن ہمیں حواس خمسہ اور عقل کے ذریعہ بھی علم حاصل کرنے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے ، تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ مسلمانوں نے ہر دور میں تعلیم کے ہر میدان میں اپنا پرچم بلند رکھا ہے، اس کے ہر گوشے کو اپنی ناقابل فراموش خدمات سے منور کیا ہے۔ مگر افسوس کی بات ہے کہ عصر حاضر میں مسلمانوں کی بڑی تعداد نے قرآن وحدیث کی تعلیم کو بھی ترک کر دیا اور حواس خمسہ وعقل کے ذریعہ حاصل ہونے والے علوم میں بھی بہت پیچھے رہ گئے ، چنانچہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنا کھویا ہوا وقار دوبارہ حاصل کریں جس کے لیے ہمیں اپنا رشتہ قرآن وحدیث سے مضبوطی کے ساتھ جوڑ کر دیگر علوم میں بھی سبقت حاصل کرنی ہوگی۔
مدارس کا قیام:
آئیے سب سے پہلے ان مساجد ومدارس، دینی اداروں وخانقاہوں وتربیت گاہوں اور قضاء وفتویٰ کی خدمات کرنے والے اداروں کی بات کرتے ہیں جو اپنی دینی خدمات میں مصروف ہیں اور ملت اسلامیہ کی رہبری ورہنمائی کا فریضہ بحسن وخوبی انجام دے رہے ہیں۔مدارس کے قیام کی ابتداء چوتھی صدی ہجری کے آخر سے منسوب کی جاتی ہے ، لیکن حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں میں دینی تعلیم کے اہتمام کا سلسلہ عہد نبوی ہی میں شروع ہوچکا تھا۔ دارارقم ،درس گاہ مسجد قبا ، مسجد نبوی اور اصحاب صفہ کے چبوترہ میں تعلیم وتربیت کی مصروفیات اس کے واضح ثبوت ہیں۔ چوتھی وپانچویں صدی ہجری کی معروف دینی درس گاہوں میں مصر کا جامعہ ازہر ، اصفہان کا مدرسہ ابوبکر الاصفہانی ، نیشاپور کا مدرسہ ابو الاسحاق الاسفرائینی اور بغداد کا مدرسہ نظامیہ شامل ہیں۔غرضیکہ مدارس کی تاریخ وتاسیس کی کڑی عہد رسالت سے جاکر ملتی ہے اور مدارس میں پڑھائی جانے والی کتب حدیث کی سند کا سلسلہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم   تک پہنچتا ہے۔ جنوبی ہند کے ساحلی علاقوں (مالابار) میں عرب تاجروں کی نوآبادیات میں مساجد کا قیام ودینی تعلیم کے اہتمام کا سلسلہ ساتویں صدی عیسوی میں شروع ہوچکا تھا ، لیکن برصغیر میں مدارس کا قیام دوسری صدی ہجری یعنی آٹھویں صدی عیسوی میں ہوا۔ جہاں تک شمالی ہند میں مدارس کے داغ بیل پڑنے کا تعلق ہے تو اس کی ابتدا ترکوں کی فتوحات کے زمانہ میں ہوگئی تھی ، مگر ۱۲۰۶ عیسوی میں جب دہلی میں مسلم حکومت قائم ہوئی تو دہلی کے علاوہ دوسرے شہروں وقصبوں ودیہاتوں میں کثیر تعداد میں مکاتب ومدارس قائم ہوئے۔
مدارس کے قیام کا مقصد:
مدارس کے قیام کا بنیادی مقصد کتاب وسنت اور ان سے ماخوذ علوم وفنون کی تعلیم وتعلم ، توضیح وتشریح ، تعمیل واتباع ، تبلیغ ودعوت کے ساتھ ایسے رجال کار پیدا کرنا ہے جو اس تسلسل کو قائم وجاری رکھ سکیں ، نیز انسانوں کی دنیاوی زندگی کی رہنمائی کے ساتھ ایسی کوشش کرنا ہے کہ ہر ہر انسان جہنم سے بچ کر جنت میں جانے والا بن جائے۔
مدارس میں کیا پڑھایا جاتا ہے؟
اب آئیے ایک نظر اس پر بھی ڈالیں کہ مدارس میں کیا پڑھایا جاتا ہے۔ مدارس میں یہ علوم پڑھائے جاتے ہیں: علم تجوید ، علم تفسیر ، علم اصول تفسیر، علم حدیث ، علم اصول حدیث ، علم فقہ ، علم اصول فقہ ، علم میراث ، علم عقائد، علم نحو ، علم صرف ، علم منطق ، علم فلسفہ، علم بلاغت اور زمانہ کی ضرورت کے مطابق بعض دیگر علوم۔
مدارس کے نصاب میں تبدیلی:
وقتاً فوقتاً مدارس کے نصاب میں تبدیلی کی بات اٹھتی رہتی ہے، اس پر غور وخوض کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ مدارس میں نصاب کی تبدیلی کے لیے عموماً تین موقف ہیں:
ایک موقف ان حضرات کا ہے جو اس نصاب کو موجودہ زمانے میں بے کار سمجھتے ہیں ، ایسے لوگوں کا خیال ہے کہ مدارس کے نصاب میں بڑے پیمانے پر تبدیلی کرنے کی ضرورت ہے جس میں عصری علوم اس حد تک شامل کیے جائیں کہ مدارس کے فضلاء کالج اور یونیورسٹیوں کے فارغین کے ساتھ قدم سے قدم ملاکر دنیاوی زندگی میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی تگ ودو میں لگ جائیں ۔ یہ عموماً وہ حضرات ہیں جنہوں نے مدارس میں نہ تو باقاعدہ تعلیم حاصل کی ہے اور نہ ہی مدارس کے نصاب سے بخوبی واقف ہیں۔ حیرت کی بات ہے کہ یہ حضرات ایک یا دو فیصد طلبہ جو مذہبی تعلیم حاصل کر رہے ہیں ان کی دنیاوی تعلیم کی تو فکر کر رہے ہیں ، مگر ۹۸ یا ۹۹ فیصد بچے جو عصری تعلیم کے شعبوں میں ہیں ان کی دینی تعلیم وتربیت کی کوئی فکر نہیں کرتے۔
ایک طبقہ وہ ہے جو اس نصاب میں ادنی سی تبدیلی بھی گوارہ نہیں کرنا چاہتا بلکہ جو لوگ تبدیلیوں کا مشورہ دیتے ہیں ان کی رائے پر توجہ بھی دینے کے لیے تیار نہیں ہے۔
ظاہر ہے کہ یہ دونوں ہی نقطۂ نظر غلط ہیں، پہلا اس لیے کہ مدارس کی تعلیم کا بنیادی مقصد علوم قرآن وسنت کی ترویج، اشاعت اور حفاظت ہے، نیز امت محمدیہ کی دنیاوی زندگی میں رہنمائی کے ساتھ اس بات کی کوشش وفکر کرنا ہے کہ امت محمدیہ کا ہر ہر فرد اخروی زندگی میں کامیابی حاصل کرے۔ اخروی زندگی کو نظر اندار کرکے ڈاکٹر یا انجینئر یا ڈیزائنر بنانا مدارس کے قیام کا مقصد نہیں۔ جس طرح دنیاوی تعلیم میں بھی انجینئرنگ کرنے والے طالب علم کو میڈیکل کی تعلیم نہیں دی جاتی، وکالت کی تعلیم حاصل کرنے والے طالب علم کو نقشہ بنانا نہیں سکھایا جاتا، کیونکہ میدان مختلف ہیں، اسی طرح قرآن وحدیث کی تعلیم میں تخصص کرنے والے طالب علم کو انگریزی وحساب وسائنس وغیرہ کے سبجیکٹ ضمناً ہی پڑھائے جاسکتے ہیں۔ دوسرا طبقہ بھی غلط سوچ رکھتا ہے کیوں کہ مدارس کے بنیادی مقصد (قرآن وحدیث کی تعلیم) پر قائم رہتے ہوئے زمانہ کی ضرورت اور اس کے تقاضوں کے مطابق بعض علوم کا حذف واضافہ کیا جانا چاہئے۔
ان دونوں نقطۂ نظر کے درمیان ایک معتدل نقطۂ نظر یہ بھی ہے کہ مدارس اسلامیہ کو موجودہ رائج نظام کے تحت ہی چلنا چاہئے، یعنی علوم قرآن وسنت کو ہی بنیادی طور پر پڑھایا جائے اور ظاہر ہے کہ قرآن وحدیث کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا، لہٰذا قرآن وحدیث کی وہی کتابیں پڑھائی جائیں جن کے تعلیم وتعلم کا سلسلہ سینکڑوں سالوں سے جاری ہے، مگر تفسیر قرآن، شرح حدیث اور فقہ وغیرہ پر کچھ کتابیں دور حاضر کے اسلوب میں از سر نو مرتب کرکے شامل کی جائیں، نیز نحو وصرف وعربی ادب وبلاغت پر آسان ومختصر کتابیں تحریر کی جائیں، منطق اور فلسفہ جیسے علوم کی بعض کتابوں کو حذف کرکے انگریزی، حساب اور کمپیوٹر جیسے جدید علوم پر مشتمل کچھ کتابیں نصاب میں شامل کی جائیں۔ غرضیکہ علوم کتاب وسنت کی بالادستی کو قائم رکھتے ہوئے تقاضائے وقت کے مناسب بعض علوم وفنون کا اضافہ کرلیا جائے، لیکن مدارس کے نصاب میں اس نوعیت کی تبدیلی نہ کی جائے کہ اصل مقصد ہی فوت ہوجائے جیساکہ شاعر مشرق علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:ان مکتبوں کو اسی حال میں رہنے دو، غریب مسلمانوں کے بچے کو انہی مدارس میں پڑھنے دو، اگر یہ ملا اور درویش نہ رہے تو جانتے ہو کیا ہوگا؟ جو کچھ ہوگا میں انہیں اپنی آنکھوں سے دیکھ آیا ہوں، اگر ہندوستانی مسلمان ان مدرسوں کے اثر سے محروم ہوگئے تو بالکل اس طرح ہوگاجس طرح اندلس میں مسلمانوں کی آٹھ سو برس کی حکومت کے باجود آج غرناطہ اور قرطبہ کے کھنڈرات اور الحمراء کے نشانات کے سوا اسلام کے پیروؤں اور اسلامی تہذیب کے آثار کا کوئی نقش نہیں ملتا، ہندوستان میں بھی آگرہ کے تاج محل اور دلی کے لال قلعے کے سوا مسلمانوں کی آٹھ سو سالہ حکومت اور ان کی تہذیب کا کوئی نشان نہیں ملے گا۔ ماہنامہ دارالعلوم دسمبر ۹۴ بحوالہ دینی مدارس
اسی طرح مشہور ومعروف عالم دین علامہ سید سلیمان ندوی ؒ نے فرمایا: ہم کو یہ صاف کہنا ہے کہ عربی مدرسوں کی جتنی ضرورت آج ہے، کل جب ہندوستان کی دوسری شکل ہوگی اس سے بڑھ کر ان کی ضرورت ہوگی، وہ ہندوستان میں اسلام کی بنیاد اور مرکز ہوں گے، لوگ آج کل عہدوں اور ملازمتوں کے پھیر اور ارباب اقتدار کی چاپلوسی میں لگے ہوں گے اور یہی دیوانے ملا آج کی طرح کل بھی ہوشیار ہوں گے۔ اس لیے یہ مدرسے جہاں بھی ہوں جیسے بھی ہوں ان کو سنبھالنا اور چلانا مسلمانوں کا سب سے بڑا فرض ہے۔ (ماہنامہ فکر ولی اللہ مارچ ۲۰۰۳)۔
مدارس کی چند اہم خدمات: مدارس اسلامیہ کی درجنوں خدمات ہیں یہاں صرف ایک درجن خدمات پیش ہیں:
قرآن وحدیث کی خدمت میں مدارس نے جو کردار ادا کیا ہے وہ تاریخ کا ایک ناقابل فراموش حصہ ہے ، برصغیر میں قرآن وحدیث کی مختلف طریقوں سے بالواسطہ یا بلا واسطہ خدمت انجام دینے میں انہیں مدارس اسلامیہ کا رول ہے اور یہ وہ شرف ہے جو کسی اور ادارہ کو نصیب نہیں ہوا، اگر یہ کہا جائے کہ برصغیر میں مدارس اسلامیہ کے وجود کے بغیر علوم قرآن وحدیث کا فروغ ناممکن تھا تو بالکل مبالغہ نہ ہوگا ۔
انہی مدارس کے فارغین میں وہ لوگ بھی ہیں ، جنہوں نے اپنی دور اندیشی اور بالغ نظری کا ثبوت دیتے ہوئے مسلمانوں کی عصری تعلیم کے لیے اسکول ، کالج اور یونیورسٹی کی بنیاد رکھی ، چنانچہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کی بنیاد’’شیخ الہند‘‘ مولانا محمود الحسن ؒ نے ہی رکھی تھی، مولانا محمد علی جوہرؒ نے اس ادارہ کی نشوونما میں اہم رول ادا کیا۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے لئے علامہ شبلی نعمانی ؒ کی عظیم خدمات کو تاریخ نظرانداز نہیں کرسکتی۔ ان کے علاوہ اور بھی بہت سے علماء ہیں جنہوں نے نہ صرف مسلمانوں کی دینی تعلیم کی طرف توجہ دی ، بلکہ ان کو عصری تعلیم سے بھی آراستہ کرنے کے لیے غیر سرکاری اسکولوں اور کالجوں کو قائم کیا۔ عصر حاضر میں مفکر ملت مولانا محمد ولی رحمانی دامت برکاتہم نے ’’رحمانی۳۰‘‘ کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا ہے ، یہ ادارہ روز اول سے ہی اپنے عزائم ومقاصد کی طرف کامیابی کے ساتھ رواں دواں ہے چنانچہ بے شمار طلبہ اس ادارہ سے استفادہ کرکے اپنے ملک اور قوم کا نام روشن کررہے ہیں۔ اسی طرح مولانا غلام محمد وستانوی صاحب کی خدمات تعلیم سے ادنی سی واقفیت رکھنے والے شخص سے بھی چھپی ہوئی نہیں ہیں۔
مدارس کا ایک خاص امتیاز یہ ہے کہ اس نے اپنا فیض پہنچانے میں کسی خاص طبقہ یا کسی خاص جماعت کو دوسرے طبقہ یا جماعت پر فوقیت نہیں دی بلکہ اس نے اپنے دروازے امیر اورغریب سب کے لیے یکساں طور پر کھلے رکھے ، اتنا ہی نہیں بلکہ غریبوں میں تعلیم کو عام کرنے میں سب سے بڑا کردار مدارس ہی کا ہے ، چنانچہ اگر سروے کیا جائے تو یہی نتیجہ نکلے گا کہ آج اسکولوں کی بہ نسبت مدارس میں غریب طلبہ کی تعداد بہت زیادہ ہے۔
دیہی علاقوں میں تعلیم وتعلم کا نظم جتنا مدارس نے کیا ہے اتنا کسی دوسرے سرکاری یا غیر سرکاری اداروں نے نہیں کیا ، مدارس کے فارغین نے اسلامی تعلیم کو عام کرنے، مسلمانوں سے جہالت کو دور کرنے اور مسلم گھرانوں کو علم کی روشنی سے منور کرنے کے لیے نہ صرف بڑے شہروں یا قصبوں پر توجہ دی ہے بلکہ گاؤں اور دیہاتوں کا بھی رخ کیا ہے، تاکہ کوئی بھی گوشہ علم دین سے خالی نہ رہ جائے۔ اتنا ہی نہیں بلکہ بنگال اور یوپی کے بعض علاقوں میں مدارس میں غیر مسلم بچے بھی تعلیم حاصل کررہے ہیں۔
اردو زبان کی ترویج واشاعت میں مدارس نے بھرپور حصہ لے کر اردو زبان کی خاموش خدمت کی ہے اور آج بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔ مدارس اور مکاتب کی تعداد لاکھوں میں ہے اور ان کاذریعہ تعلیم اردو ہے۔ اسلامیات کا بڑا سرمایہ اردو زبان میں ہے بلکہ اردو زبان میں سب سے زیادہ کتابیں اسلامیات کی ہی ہیں۔
ہندوستان کی آزادی کے حوالے سے دیکھا جائے تو اس میں بھی مدرسوں کا ایک اہم کردار سامنے آتا ہے ، چنانچہ ہندوستان کو آزادکرانے میں جن مسلمانوں نے نمایاں کردار ادا کیا ہے ان میں سے ایک بڑی تعداد مدارس کے فضلاء کی تھی۔
بڑے بڑے شہروں اور قصبوں میں مدارس کے زیر انتظام دار القضاء اور دار الافتاء قائم کئے گئے ہیں جہاں مسلمانوں کے عائلی مسائل قرآن وسنت کی روشنی میں حل کئے جاتے ہیں۔ دار الافتاء کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ لاکھوں لوگ عدالتوں اور کورٹ کچہریوں کا چکر لگانے سے بچ گئے۔ اسی کے ساتھ دوسرا اہم فائدہ اصحاب معاملہ کو یہ ہوا کہ کسی معاوضہ کے بغیر دار الافتاء کے ذریعہ ان کے مسائل جلد حل ہوگئے۔
ہر قوم کی ایک تہذیب ہوتی ہے اور یہ تہذیب ہی اس قوم کی شناخت اور اس کے وجود کا سبب ہوتی ہے۔ مدارس اسلامیہ نے مسلمانوں کو اسلامی تہذیب وتمدن پر قائم رہنے کی نہ صرف تلقین کی ہے بلکہ عمل کرکے اس کو محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ آج عالمی سطح پر دشمنان اسلام کا مقصد ہے کہ اسلامی تہذیب کو ختم کرکے مسلمانوں پر اپنی تہذیب تھوپ دیں۔ مدارس اسلامیہ اور علماء کرام ان کے مقصد کی تکمیل میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں، لہٰذا دشمنان اسلام مدارس کو بدنام کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ لیکن پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا۔
دنیا کے اطراف واکناف میں مسلمانوں کی فلاح وبہبود کے لیے مختلف ناموں سے چلنے والی جماعتوں اور تنظیموں میں بھی مدارس کا اہم رول ہے۔ آج مسلمانوں کی سیاسی، سماجی اور تعلیمی سطح پر خدمت انجام دینے والی تنظیموں کی سرپرستی زیادہ تر فضلاء مدارس ہی کررہے ہیں۔
تعلیم کے ساتھ ساتھ نوجوان طلبہ کی تربیت اور ان کی اصلاح میں مدارس کا رول اہم ہے ، چنانچہ مدارس میں فجر کے وقت جاگنے سے لے کر عشاء کے بعد سونے تک سبھی طلبہ کے کھانے پینے ، پڑھنے لکھنے ، کھیلنے کودنے اور دیگر ضروری امور کی پابندی نہایت منظم طریقہ سے کرائی جاتی ہے۔ شریعت کی تعلیمات کے مطابق ان کی تربیت اور ذہن سازی کی جاتی ہے اور ان کو معاشرت کے اصول وآداب بھی بتائے جاتے ہیں تاکہ مدرسہ سے فارغ ہونے کے بعد گھر اور سماج میں ایک باوقار اور مثالی زندگی گزار سکیں۔
مدارس میں جو کچھ پڑھایا جاتا ہے وہ اس قدر جامع ہوتا ہے کہ اس کو مزید سمجھنے کے لئے طلبہ کو الگ سے ٹیوشن کی ضرورت پیش نہیں آتی اور اگر درس کے دوران کوئی مسئلہ سمجھ میں نہیں آتا تو طلبہ بعد میں بھی بغیر کسی معاوضہ کے اساتذہ سے رجوع کرلیتے ہیں۔
برصغیر میں قائم مدارس ومکاتب میں لاکھوں کی تعداد میں لوگ روزگار سے جڑے ہوئے ہیں اور وہ کم تنخواہ کے باوجود قناعت کرتے ہیں۔
غرضیکہ علماء کرام نے مساجد ومدارس ومکاتب کے ذریعہ بچہ کی ولادت کے وقت کان میں اذان دینے سے لے کر نماز جنازہ پڑھانے تک امت مسلمہ کی دینی وتعلیمی وسماجی رہنمائی کے لئے ایسی خدمات پیش کی ہیں کہ ایک مسلمان بھی ایسا نہیں مل سکتا جو ان خدمات سے مستفیض نہ ہوا ہو۔
عصری درس گاہوں میں دینی تعلیم وتربیت کی ذمہ داری:
جیساکہ ذکر کیا گیا کہ اسلام نے عصری علوم کو حاصل کرنے سے منع نہیں کیا ہے، مگر یہ حقیقت ہے کہ آج جو طلبہ عصری درس گاہوں سے پڑھ کر نکلتے ہیں ان میں ایک بڑی تعداد دین سے بے بہرہ لوگوں کی ہوتی ہے اور ایک قابل لحاظ تعداد تو دین سے بیزار لوگوں کی ہوتی ہے۔ اس کی ذمہ داری علماء کرام پر بھی عائد ہوتی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ آج بھی مسلم سماج پر علماء کی جو گرفت ہے اس کی کوئی مثال نہیں ملتی، مساجد کا نظام علماء کے ہاتھ میں ہے، مدارس کی بہار ان ہی کے دم سے قائم ہے، بہت سی دینی جماعتوں اور تنظیموں میں وہ قبلہ نما کا درجہ رکھتے ہیں، لیکن موڈرن ایجوکیشن اور ٹیکنیکل تعلیم کی طرف انہوں نے خاطر خواہ توجہ نہیں کی ہے۔ لہٰذا علماء کرام کی ذمہ داری ہے کہ وہ خود آگے بڑھ کر عصری تعلیم کے ایسے ادارے قائم کریں جن میں بنیادی دینی تعلیم نصاب میں داخل کی جائے اور پوری اہمیت اور توجہ کے ساتھ طلبہ کی دینی تعلیم وتربیت کا نظم کیا جائے تاکہ دین دار ڈاکٹر، دین دار انجینئر، دین دار وکیل بن کر مختلف شعبوں میں اسلامی فکر وعمل کی ترجمانی کریں۔ مسلمانوں کے زیر اہتمام یونیورسٹیوں، کالجوں اور اسکولوں کے ذمہ داروں سے درخواست ہے کہ دینی تعلیم وتربیت کو صرف نام کے لیے نہ رکھا جائے کہ نہ اساتذہ اسے اہمیت دیں اور نہ طلبہ وطالبات، بلکہ شرعی ذمہ داری سمجھ کر ان کی دینی تعلیم وتربیت پر خاص توجہ دی جائے۔ بچوں کے والدین اور سرپرستوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ اسکولوں وکالجوں کا انتخاب ایمان وعقیدے کی حفاظت کی فکر کے ساتھ کریں۔
محمد نجیب قاسمی سنبھلی (www.najeebqasmi.com)