بسم الله الرحمن الرحيم

اَلْحَمْدُ لِله رَبِّ الْعَالَمِيْن،وَالصَّلاۃ وَالسَّلام عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن۔

ذِکْرِ اِلٰھِی اور اس کے لئے تسبیح کا استعمال

ہمیں فرائض کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ اپنے مالک ، خالق ، رازق اور غفور ورحیم کے ذکر کا اہتمام روزانہ خاص طور پر صبح وشام کے وقت کرنا چاہئے، اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اور نبی اکرم انے اپنے ارشادات میں ذکر کی بہت زیادہ تاکید فرمائی ہے، جن میں سے چند آیات واحادیث شریفہ مندرجہ ذیل ہیں:
اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے : اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ کا بہت ذکر کیا کرو۔ اور صبح وشام اسکی تسبیح بیان کیا کرو۔(سورۂ احزاب۔۴۱، ۴۲)
اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں دوسری جگہ ارشاد فرماتا ہے : اللہ تعالیٰ کی تسبیح ہر وقت کیا کرو، خصوصاً شام کے وقت اور صبح کے وقت۔(سورۂ الروم ۔ ۱۷)
اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے : خوب سمجھ لو، اللہ تعالیٰ کے ذکر ہی سے دلوں کو اطمینان ہوا کرتا ہے۔(سورۂ الرعد۔ ۲۸)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: جو شخص اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے اور جو ذکر نہیں کرتا، ان دونوں کی مثال زندہ اور مردہ کی طرح ہے، یعنی ذکر کرنے والا زندہ اور ذکر نہ کرنے والا مردہ ہے۔ (بخاری، باب فضل ذکر اللہ عز وجل(
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: اس گھر کی مثال جس میں اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے زندہ شخص کی طرح ہے یعنی وہ آباد ہے، اور جس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر نہیں کیا جاتا، وہ مردہ شخص کی طرح ہے یعنی وہ ویران ہے۔ (مسلم، باب استحباب صلاۃ النافلۃ فی بیتہ)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ کے ذکر سے بڑھ کر کسی آدمی کا کوئی عمل عذاب سے نجات دلانے والا نہیں ہے۔۔ (رواہ الطبرانی فی الصغیر والاوسط ورجالہما رجال الصحیح۔ مجمع الزوائد ۱۰/۷۱)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے ذکر کی عام فضیلت کے ساتھ بعض خصوصی اذکار میں معین تعداد کی خاص فضیلت بھی ذکر فرمائی ہے مثلاً:
حضرت فاطمہؓ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  سے اپنی کمزوری کی وجہ سے ایک خادم طلب کیا۔ حضور اکرم ا نے فرمایا کہ میں اس سے زیادہ بہتر چیز تم کو نہ بتادوں اور وہ یہ ہے کہ تم سونے سے پہلے ۳۳ مرتبہ سبحان للہ، ۳۳ مرتبہ الحمد للہ اور ۳۴ مرتبہ اللہ اکبر پڑھ لیا کرو۔ یعنی ان تسبیحات کا اہتمام دن بھر کی تھکان کو دور کردے گا۔ (بخاری، باب التکبیروالتسبیح عن المنام)
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا : کیا تم میں سے کوئی شخص ہر روز ۱۰۰۰ نیکیاں کمانے سے عاجز ہے؟ حاضرین میں سے ایک نے سوال کیا کہ ہم میں سے کوئی آدمی ۱۰۰۰ نیکیاں کس طرح کما سکتا ہے؟ تو حضور اکرم انے ارشاد فرمایا : جو شخص ۱۰۰ مرتبہ سبحان اللّٰہ پڑھے اس کے لئے ۱۰۰۰ نیکیاں لکھ دی جائیں گی اور اس کے ۱۰۰۰ گناہ معاف کردئے جائیں گے ۔ (مسلم، باب فضل التھلیل والتسبیح والدعاء)
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا : جس شخص نے دن میں ۱۰۰ مرتبہ سبحان اللّٰہ وبحمدہ پڑھا تو اسکے گناہ معاف ہوجاتے ہیں خواہ وہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔ (بخاری)
نوٹ: اس طرح کے مضمون پر مشتمل احادیث میں گناہ صغیرہ مراد ہوتے ہیں، یعنی چھوٹے چھوٹے گناہ معاف ہوجاتے ہیں لیکن گناہ کبیرہ کی معافی کے لئے توبہ شرط ہے۔ نیز حقوق العباد کی معافی کے لئے پہلی اور بنیادی شرط بندہ کے حق کا ادا کرنا ہے۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا : جس شخص نے صبح اور شام سبحان اللّٰہ وبحمدہ ۱۰۰ مرتبہ پڑھا تو کوئی شخص قیامت کے دن اس سے افضل عمل لے کر نہیں آئے گا، سوائے اس شخص کے جس نے اس کے برابر یا اس سے زیادہ پڑھا ہو۔ (مسلم، باب فضل التھلیل والتسبیح والدعاء)
حضور اکرم ا نے ارشاد فرمایا : اللہ کے سامنے توبہ کیا کرو ، اس لئے کہ میں خود دن میں ۱۰۰ مرتبہ اللہ تعالیٰ کے سامنے توبہ کرتا ہوں۔ (مسلم، باب استحباب الاستغفار)
تسبیح کا استعمال:
ان مذکورہ اور اس طرح کی دوسری بے شمار احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ شریعت اسلامیہ میں بعض اذکار گنتی کے ساتھ بھی مطلوب ہیں۔ اور یہ تعداد مختلف طریقوں سے پوری کی جاسکتی ہے، مثلاً صرف دائیں ہاتھ کی انگلیوں سے، دونوں ہاتھ کی انگلیوں سے، کنکریوں سے یا کھجور یا کسی اور چیز کی گٹھلی سے یا اسی طرح تسبیح کے ذریعہ۔ نبی اکرم ا نے ذکر کے لئے گنتی کرنے کا کوئی خاص طریقہ معین نہیں فرمایا ہے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  اپنے داہنے ہاتھ پر تسبیح پڑھا کرتے تھے۔ (ابو داؤد ۱۵۰۲) یہ حدیث ایک سند کے علاوہ باقی تمام سندوں سے دائیں (یمین) لفظ کے بغیر وارد ہوئی ہے۔ اس لئے اکثر محدثین نے دائیں لفظ کے اضافہ کوشاذ تسلیم کیا ہے، یعنی یمین کا لفظ راوی (محمد بن قدامہؒ ) نے اپنی طرف سے بڑھایا ہے، غرضیکہ اصل حدیث یہ ہے کہ نبی اکرم ا اپنے مبارک ہاتھ پر تسبیح پڑھا کرتے تھے۔ (ترمذی ۳۴۱۱ اور ۳۴۸۶ نسائی۸۱۹ اور ۱۲۷۸ ابن ماجہ، ابوداؤد ۵۰۶۵، مسند احمد ۲/۲۰۴، بیہقی، صحیح ابن حبان، مصنف عبدالرزاق، مصنف ابن ابی شیبہ، بزار، الادب المفرد للبخاری ۱۲۱۶)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  سے دائیں یا بائیں ہاتھ کی تحدید کے بغیر ہاتھ پر تسبیح پڑھنا ثابت ہے، حضرت عبد اللہ بن عمرو ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کو اپنے ہاتھ مبارک کی انگلیوں پر تسبیح شمار کرتے دیکھا۔ (ترمذی، باب ما جاء فی عقد التسبیح بالید)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے عورتوں کو دائیں یا بائیں ہاتھ کی تحدید کے بغیر انگلیوں پر تسبیح پڑھنے کا حکم دیا۔ (ترمذی، باب فی فضل التسبیح)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کے سامنے صحابہ کرام کا مختلف چیزوں پر گنتی کرکے ذکر کرنااحادیث صحیحہ سے ثابت ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے زندگی میں ایک مرتبہ بھی کسی صحابی کو انگلیوں کے علاوہ کسی اور چیز پر گنتی کرکے ذکر کرنے سے نہیں روکا ۔
ام المؤمنین حضرت صفیہ بنت حییؓ فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  میرے پاس تشریف لائے ، میرے پاس چار ہزار کھجور کی گٹھلیاں رکھی ہوئی تھیں جن پر میں تسبیح پڑھا کرتی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا : حیی کی بیٹی! یہ کیا ہے؟ میں نے عرض کیا: ان گٹھلیوں پر میں تسبیح پڑھ رہی ہوں۔ (ترمذی ۴/۲۷۴ ۳۵۵۴، رواہ الحاکم فی المستدرک ۱/۷۳۲ وقال ہذا حدیث صحیح، ووافقہ الذھبی ۱/۵۴۷)
حضرت سعد بن ابی وقاصؓ فرماتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کے ساتھ ایک صحابیہؓ کے پاس گیا جن کے سامنے گٹھلیاں یا کنکریاں رکھی ہوئی تھیں جن پر وہ تسبیح پڑھا کرتی تھیں۔ (ترمذی ۵/۵۶۲ ۳۵۶۸، ابوداؤد ۔ باب التسبیح بالحصی ۱۵۰۰)
حضرت ابوہریرہ ؓ گٹھلیوں پر تسبیح پڑھا کرتے تھے۔ (ترمذی ۸/۷۱، مسند احمد ۲/۵۴۰، ابوداؤد ، مصنف ابن ابی شیبہ ۲/۱۶۰)
حضرت جویریہ بنت الحارث ؓ گٹھلیوں پر تسبیح پڑھا کرتی تھیں۔ (مسند احمد، ابو داؤد)
تسبیح کے متعلق مشاہیر علماء کرام کے اقوال:
متعدد احادیث صحیحہ کی روشنی میں اکثر محدثین، فقہاء اور علماء کرام کی رائے یہی ہے کہ اذکار کی گنتی کے لئے انگلیوں کے علاوہ کھجور یا کسی اور چیز کی گٹھلی یا کنکری یا تسبیح کا استعمال کیا جاسکتا ہے، اگرچہ انگلیوں کا استعمال زیادہ بہتر ہے، کیونکہ یہ چیزیں مقصود عبادت نہیں ہیں بلکہ عبادت کا ذریعہ ہیں، مثلاً مساجد میں اسپیکر کا استعمال عبادت مقصودہ نہیں ہے بلکہ عبادت کے ایک جزء کے اداکرنے کا ذریعہ ہے، لہذا مساجد میں اسپیکر کے استعمال کی طرح تسبیح کا استعمال بھی بدعت نہیں ہے۔ ہند وپاک اور بنگلادیش کے علماء کرام بھی قرآن وسنت کی روشنی میں امام ابو حنیفہ ؒ اور دیگر فقہاء کی رائے کو ہی اختیار کرتے ہیں کہ تسبیح پر بغیر کسی کراہیت کے ذکر کیا جاسکتا ہے۔ مشہور مفسر قرآن علامہ السیوطی ؒ نے اپنے کتابچہ "المنحۃ فی السبحۃ" میں دلائل کے ساتھ تسبیح پر ذکر کرنے کے جواز پر جمہور علماء کاموقف تحریر فرمایا ہے۔
سعودی عرب کے مشہور ومعروف عالم دین وسابق مفتی اعظم شیخ عبد العزیز بن باز ؒ نے بھی یہی وضاحت کی ہے جو ان کی ویب سائٹ پر اس لنک کے ذریعہ پڑھی اور سنی جاسکتی ہے:


خلاصۂ کلام: مذکورہ احادیث صحیحہ ومشاہیر علماء کرام کے اقوال کی روشنی میں ذکر الہی کے لئے صرف داہنا ہاتھ یا دونوں ہاتھ یا تسبیح وغیرہ کا استعمال بغیر کسی کراہیت کے کیا جاسکتا ہے۔ اگر کوئی شخص دونوں ہاتھ یا تسبیح کے ذریعہ ذکر کرتا ہے تو کسی شخص کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ اِس عمل کو بدعت کہے یا اُس شخص کو اُس کے عمل سے روکنے کی کوشش کرے، کیونکہ نبی اکرم انے کنکری یا گٹھلی وغیرہ پر صحابہ کرام یا صحابیات کو ذکر کرنے سے کبھی نہیں روکا، اسی طرح نبی اکرم ایا کسی صحابی یا تابعی یا تبع تابعی سے بائیں ہاتھ پر ذکر کرنے سے کوئی انکار حدیث کی کسی کتاب میں نہیں ملتا، تو ہمیں کیا حق حاصل ہے کہ ہم کسی شخص کو بائیں ہاتھ پر یا تسبیح پر ذکر کرنے سے روکیں۔ اگر ذکر کرنے کے لئے صرف دائیں ہاتھ پر ہی اکتفاء ضروری ہے تو قرآن کریم کو چھونے، اسکی طباعت اور جلدسازی کے لئے، اسی طرح بیت اللہ کا غلاف تیار کرنے اور اسکو بیت اللہ پر چڑھانے ، نیز مسجد کی تعمیر اور جانماز وغیرہ کو تیار کرنے میں صرف داہنے ہاتھ کے استعمال پر ہی اکتفاء کرنا ہوگا۔
محمد نجیب سنبھلی قاسمی (www.najeebqasmi.com)