بسم الله الرحمن الرحيم

اَلْحَمْدُ لِله رَبِّ الْعَالَمِيْن،وَالصَّلاۃ وَالسَّلام عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن۔

قرض حسن اور انفاق فی سبیل اللہ کا بہترین بدلہ

اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل سلیم عطا فرماکر اور اسے اشرف المخلوقات قراردے کر دنیا میں بھیجا۔ عقل کی ہدایت اور نگہبانی کے لئے اس کو شریعت کی روشنی سے نوازا تاکہ انسان اللہ تعالیٰ کی عبادت واطاعت کرے اور ایک نیک و صالح اور منصفانہ معاشرہ کی تعمیر کا کام انجام دے۔ اسی مقصد کی تکمیل کے لئے اللہ تعالیٰ نے روزِ اول سے انبیاء ورسل دنیا میں بھیجے۔ اور یہ سلسلہ خاتم الانبیاء حضور اکرم اپر ختم ہوا، جن کو اللہ تعالیٰ نے قیامت تک آنے والے تمام انس وجن کے لئے رسول بناکر بھیجا۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی عبادت واطاعت کا مکلف کرتے ہوئے، اس روئے زمین پر اپنا خلیفہ مقرر کیا تاکہ انسان اللہ تعالیٰ کی شریعت پر عمل کرے اور ایک منصفانہ سماج کی تشکیل کے لئے کوشاں رہے۔ اس مقصد کے حصول کے لئے یقیناًجسمانی ومالی دونوں طرح کی قربانی درکار ہوتی ہے جیساکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : جب تک تم اپنی پسندیدہ چیز اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ نہیں کرو گے ہرگز بھلائی نہیں پاؤگے۔ (سورۂ آل عمران ۹۲) اسی مالی تعاون کے ضمن میں آج قرض حسن ہمارا موضوع ہے ۔ قرض کے معنی کی تفصیل بعد میں آرہی ہے، جبکہ حسن کے معنی بہتر، خوبصورت اور اچھے کے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی چھ آیات میں بارہ مقامات پر قرض کا ذکر فرمایا ہے اور ہر آیت میں قرض کو حسن کے ساتھ بیان کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد (سورۂ ہود ۱) یہ ایک ایسی کتاب ہے کہ اس کی آیتیں محکم کی گئی ہیں، پھر صاف صاف بیان کی گئی ہیں ایک حکیم با خبر کی طرف سے) سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے کلام کا ہر ہر لفظ اپنے اندر متعدد مفاہیم رکھتا ہے ، ان مفاہیم کو قرن اول سے مفسرین قلم بند کررہے ہیں اور یہ سلسلہ کل قیامت تک جاری رہے گا ان شاء اللہ۔
سب سے قبل قرض کے معنی سمجھیں: قرض کے لغوی معنی کاٹنے کے ہیں، یعنی اپنے مال میں سے کچھ مال کاٹ کر اللہ تعالیٰ کے راستے میں دیا جائے تو اللہ تعالیٰ اس کا کئی گنا بدلہ عطا فرمائے گا۔ محتاج لوگوں کی مدد کرنے سے مال میں کمی واقع نہیں ہوتی ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے جو مال غریبوں، مسکینوں اور ضرورت مندوں کو دیا جاتا ہے اللہ تعالیٰ اس میں کئی کئی گنا اضافہ فرماتا ہے، کبھی ظاہری طور پر ، کبھی معنوی وروحانی طور پر اس میں برکت ڈال دیتا ہے، اور آخرت میں تو یقیناً اس میں حیران کن اضافہ ہوگا۔
قرض حسن سے متعلق ۶ آیات قرآنیہ :
کون شخص ہے جو اللہ تعالیٰ کو قرض حسن دے تاکہ اللہ تعالیٰ اُسے کئی گنا بڑھا چڑھاکر واپس کرے، مال کا گھٹانا اور بڑھانا سب اللہ ہی کے اختیار میں ہے ،اور اسی کی طرف تمہیں پلٹ کرجانا ہے۔  (سورۂ البقرۃ ۲۴۵)
اور تم اللہ تعالیٰ کو قرض حسن دیتے رہے تو یقین رکھو کہ میں تمہاری برائیاں تم سے دور کردوں گا اور تمہیں ایسی جنتوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔(سورۂ المائدۃ ۱۲)
کون شخص ہے جو اللہ تعالیٰ کو قرض حسن دے تاکہ اللہ تعالیٰ اسے بڑھا چڑھاکر واپس کرے۔ اور اس کے لئے بہترین اجر ہے۔ (سورۂ الحدید ۱۱)
مردوں اور عورتوں میں سے جو لوگ صدقات دینے والے ہیں، اور جنہوں نے اللہ تعالیٰ کو قرض حسن دیاہے،ان کو یقیناکئی گنابڑھاکر دیا جائے گا، اور ان کے لئے بہترین اجر ہے۔  (سورۂ الحدید ۱۸)
اگر تم اللہ تعالیٰ کو قرض حسن دو تو وہ تمہیں کئی گنابڑھاکر دے گا، اور تمہارے گناہوں کو معاف فرمائے گا۔ اللہ تعالیٰ بڑا قدردان اور بردبار ہے۔ (سورۂ التغابن ۱۷)
اور اللہ تعالیٰ کو قرض حسن دو، جو کچھ نیک اعمال تم اپنے لئے آگے بھیجو گے، اسے اللہ کے ہاں موجود پاؤگے، وہی زیادہ بہتر ہے، اور اس کا اجر بہت بڑا ہے۔  (سورۂ المزمل ۲۰)
قرض حسن سے کیا مراد ہے ؟
قرآن کریم میں استعمال ہوئی اس اصطلاح (قرض حسن) سے اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنا ، غریبوں اور محتاجوں کی مدد کرنا، یتیموں اور بیواؤں کی کفالت کرنا، مقروضین کے قرضوں کی ادائیگی کرنا ، نیز اپنے بچوں پر خرچ کرنا مراد ہے غرضیکہ انسانیت کے کام آنے والی تمام شکلیں اس میں داخل ہیں، جیسا کہ مفسرین قرآن نے اپنی تفسیروں میں تحریر فرمایا ہے۔ اسی طرح قرض حسن میں یہ شکل بھی داخل ہے کہ کسی پریشان حال شخص کو اس نیت کے ساتھ قرض دیا جائے کہ اگر وہ اپنی پریشانیوں کی وجہ سے واپس نہ کرسکا تو اس سے مطالبہ نہیں کیا جائے گا۔
اللّہ نے بندوں کی ضرورت میں خرچ کرنے کو قرض حسن سے کیوں تعبیر کیا ؟
اللہ تعالیٰ نے محتاج بندوں کی ضرورتوں میں خرچ کرنے کو اللہ تعالیٰ کو قرض دینا قرار دیا، حالانکہ اللہ تعالیٰ بے نیاز ہے ، وہ نہ صرف مال ودولت اور ساری ضرورتوں کا پیدا کرنے والا ہے ، بلکہ وہ تو پوری کائنات کا خالق، مالک اور رازق ہے،ہم سب اسی کے خزانے سے کھا پی رہے رہیں، تاکہ ہم بڑھ چڑھ کر انسانوں کے کام آئیں ، یتیم بچوں اور بیوہ عورتوں کی کفالت کریں، غریب محتاجوں کے لئے روٹی کپڑا اور مکان کے انتظام کے ساتھ ان کی دینی وعصری تعلیمی ضرورتوں کو پورا کرنے میں ایک دوسرے سے مسابقت کریں، جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ہمارے گناہوں کو معاف فرمائے ، دونوں جہاں میں اس کا بہترین بدلہ عطا فرمائے اور اپنے مہمان خانہ جنت الفردوس میں مقام عطا فرمائے۔ آمین۔
حضرت ابو الدحداح ؓ کا واقعہ:
حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ جب قرض حسن سے متعلق آیت قرآن کریم میں نازل ہوئی تو حضرت ابو الدحداح ؓ انصاری حضور اکرم ا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ! کیا اللہ تعالیٰ ہم سے قرض طلب فرماتا ہے۔ آپ ا نے فرمایا: ہاں۔ وہ عرض کرنے لگے: اپنا دست مبارک مجھے پکڑا دیجئے (تاکہ میں آپ اکے دست مبارک پر ایک عہد کروں)۔ حضور اکرم ا نے اپنا ہاتھ بڑھایا۔ حضرت ابو الدحداح ؓ انصاری نے معاہدہ کے طور پر حضور اکرم ا کا ہاتھ پکڑ کر عرض کیا یا رسول اللہ! میں نے اپنا باغ اپنے اللہ کو قرض دے دیا۔ ان کے باغ میں کھجور کے ۶۰۰ درخت تھے، اور اسی باغ میں ان کے بیوی بچے رہتے تھے۔ یہاں سے اٹھ کر اپنے باغ گئے اور اپنی بیوی ام الدحداح ؓ سے آواز دے کر کہاکہ چلو اس باغ سے نکل چلو، یہ باغ میں نے اپنے رب کو دیدیا۔ (تفسیر ابن کثیر)
یہ ہے وہ قیمتی سودا جو حضرت ابوالدحداح ؓ نے کیا، ان کے پاس دو باغ تھے، ان میں سے ایک باغ بہت قیمتی تھاجس میں کھجور کے ۶۰۰ درخت تھے، جس کو وہ خود بھی بہت پسند کرتے تھے اور اسی میں وہ اور ان کے بچے رہتے تھے، لیکن مذکورہ آیت کے نزول کے بعد یہ قیمتی باغ ضرورت مند لوگوں کے لئے اللہ تعالیٰ کو قرض دے دیا۔ ایسے ہی لوگوں کی تعریف میں اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام میں ارشاد فرمایاہے: اپنے اوپر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں چاہے خود ان کو کتنی ہی سخت حاجت ہو (سورہ الحشر ۹)۔
قرآن میں قرض حسن کے مختلف بدلے :
دنیا میں بہترین بدلہ۔
دنیا وآخرت میں بہترین بدلہ۔
آخرت میں عظیم بدلہ۔
گناہوں کی معافی۔
جنت میں داخلہ۔
اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے والوں کی مثالیں:
مذکورہ تفصیل سے معلوم ہوا کہ قرض حسن سے مراد اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے بندوں کی مدد کرنا یعنی اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنا ہے، لہذا اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے کے چند فضائل تحریر ہیں:
جو لوگ اپنا مال اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اس کی مثال اس دانے جیسی ہے جس میں سے سات بالیاں نکلیں اور ہر بالی میں سو دانے ہوں اور اللہ تعالیٰ جس کو چاہے بڑھا چڑھا کردے اور اللہ تعالیٰ کشادگی والا اور علم والا ہے۔ (سورۂ البقرہ ۲۶۱)
ان لوگوں کی مثال جو اپنا مال اللہ تعالیٰ کی رضامندی کی طلب میں دل کی خوشی اور یقین کے ساتھ خرچ کرتے ہیں اس باغ جیسی ہے جو اونچی زمین پر ہو، اور زوردار بارش اس پر برسے اور وہ اپنا پھل دگنا لاوے اور اگر اس پر بارش نہ بھی برسے تو پھوار ہی کافی ہے اور اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے۔  (سورۂ البقرہ ۲۶۵)
جس قدر خلوص کے ساتھ ہم اللہ تعالیٰ کے راستے میں مال خرچ کریں گے، اتنا ہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کا اجر وثواب زیادہ ہوگا۔ ایک ریال بھی اگر اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے کسی محتاج کو دیا جائے گا، تو اللہ تعالیٰ ۷۰۰ گنا بلکہ اس سے بھی زیادہ ثواب دے گا۔ مذکورہ بالا آیت کے آخر میں اللہ تعالیٰ کی دو صفات ذکر کی گئی ہیں: وسیع اور علیم۔ یعنی اس کا ہاتھ تنگ نہیں ہے کہ جتنے اجر کا عمل مستحق ہے وہ ہی دے، بلکہ وہ اس سے بھی زیادہ دے گا۔ دوسرے یہ کہ وہ علیم ہے کہ جو کچھ خرچ کیا جاتا ہے اور جس جذبہ سے کیا جاتا ہے، اس سے بے خبر نہیں ہے بلکہ اس کا اجر ضرور دے گا۔
قرض حسن اور انفاق فی سبیل اللّٰہ کس کو دیں؟
جن حضرات کو قرض حسن اور صدقات دئے جاسکتے ہیں، ان میں سے بعض یہ ہیں :
غریب رشتہ دار، یتیم، بیوہ، فقیر، مسکین، سائل، قرضدار یعنی وہ شخص جس کے ذمہ لوگوں کا قرض ہو، اور وہ مسافر جو حالت سفر میں تنگدست ہوگیا ہو، جیساکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
جو مال سے محبت کرنے کے باوجود رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں اور سوال کرنے والے کو دے۔ (سورۂ البقرہ ۱۷۷)
ان کے مال میں مانگنے والے اور محروم کا حق ہے۔  (سورۂ الذاریات ۱۹)
قرض حسن اور انفاق فی سبیل اللّٰہ میں پسندیدہ چیزیں خرچ کریں:
جب تک تم اپنی پسندیدہ چیز اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ نہیں کرو گے ہرگز بھلائی نہیں پاؤگے۔ (سورۂ آل عمران ۹۲)
اے ایمان والو! اپنی پاکیزہ کمائی میں سے خرچ کرو۔  (سورۂ البقرۃ ۲۶۷)
جب (لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّی تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّوْنَ) آیت نازل ہوئی تو حضرت ابوطلحہؓ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ نے محبوب چیز کے خرچ کرنے کا ذکر فرمایا ہے، اور مجھے ساری چیزوں میں اپنا باغ (بَیرحَاء )سب سے زیادہ محبوب ہے، میں اس کو اللہ کے لئے صدقہ کرتا ہوں اور اس کے اجروثواب کی اللہ تعالیٰ سے امید رکھتا ہوں۔ حضور اکرم ا نے فرمایا : اے طلحہ ؓ ! تم نے بہت ہی نفع کا سودا کیا۔ ایک دوسری حدیث میں ہے کہ حضرت ابو طلحہؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرا باغ جو اتنی بڑی مالیت کا ہے وہ صدقہ ہے اور اگر میں اس کی طاقت رکھتا کہ کسی کو اس کی خبر نہ ہو تو ایسا ہی کرتا، مگر یہ ایسی چیز نہیں ہے جو مخفی رہ سکے۔ ( تفسیر ابن کثیر)
اس آیت کے نازل ہونے کے بعد حضرت عمر فاروق ؓ بھی رسول اللہ ا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ مجھے اپنے تمام مال میں سے سب سے زیادہ پسندیدہ مال خیبر کی زمین کا حصہ ہے، میں اُسے اللہ تعالیٰ کی راہ میں دینا چاہتا ہوں۔ آپ انے فرمایا : اسے وقف کردو۔ اصل روک لو، اور پھل وغیرہ اللہ کی راہ میں دے دو۔ (بخاری ، مسلم)
حضرت محمد بن منکدرؓ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضرت زید بن حارثہ ؓ کے پاس ایک گھوڑا تھا جو ان کو اپنی ساری چیزوں میں سب سے زیادہ محبوب تھا۔ (اُس زمانہ میں گھوڑے کی حیثیت تقریباً وہی تھی جو اِس زمانہ میں گاڑی کی ہے) وہ اس کو لے کر حضور اکرم ا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یہ صدقہ ہے، حضور اکرم ا نے قبول فرمالیا اور لے کر ان کے صاحبزادہ حضرت اسامہ ؓ کو دیدیا۔ حضرت زید ؓ کے چہرہ پر کچھ گرانی کے آثار ظاہر ہوئے (کہ گھر میں ہی رہا ، باپ کے بجائے بیٹے کا ہوگیا) حضور اکرم ا نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارا صدقہ قبول کرلیا، اب میں چاہے اس کو تمہارے بیٹے کو دوں یا کسی اور رشتہ دار کو یا اجنبی کو۔
*
غرضیکہ اس آیت کے نازل ہونے کے بعدصحابہ کرام کی ایک جماعت نے اپنی اپنی محبوب چیزیں اللہ تعالیٰ کے راستے میں دیں، جن کو نبی اکرم ا نے ضرورت مند لوگوں کے درمیان تقسیم کیں۔
وضاحت: صحابہ کرام کی تربیت خود حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمائی تھی، اور ان کا ایمان اور توکل کامل تھا ، لہذا ان کے لئے اپنی پسندیدہ چیزوں کا اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنا بہت آسان تھا، جیسا کہ صحابہ کرام کے واقعات تاریخی کتابوں میں محفوظ ہیں۔ جنگ خیبر کے موقع پر حضرت ابوبکر صدیق ؓ کا اپنا سارا سامان اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنا، حضرت عثمان غنی ؓ کا ہر ضرورت کے وقت اپنے مال کے وافر حصہ کو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے خرچ کرنا، وغیرہ وغیرہ ۔
آج ہم ایمان وعمل کے اعتبار سے کمزور ہیں اور اگر ہم (لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّی تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّوْنَ)کا مصداق بظاہر نہیں بن سکتے ہیں تو کم از کم (ےَا اَیُّہَا الَّذِےْنَ آمَنُوا اَنْفِقُوا مِنْ طَیِّبَاتِ مَا کَسَبْتُمْ) پر عمل کرکے اپنی روزی صرف حلال طریقہ سے حاصل کرنے پر اکتفاء کریں اور اسی حلال رزق میں سے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے ضرورت مند لوگوں پر خرچ کریں۔
اللّٰہ کے راستے میں اعلانیہ بھی قرض حسن اور صدقات دئے جا سکتے ہیں:
قرض حسن اور صدقات میں اصل پوشیدگی مطلوب ہے یعنی چپکے سے کسی محتاج کی مدد کرنا، جیساکہ حضور اکرم ا نے ارشاد فرمایا:
تین شخصوں سے اللہ تعالیٰ بہت محبت کرتا ہے۔ ۔۔۔ ان میں سے ایک شخص وہ بھی ہے جو کسی شخص کی اس طرح مدد کرے کہ اللہ تعالیٰ اور سائل کے علاوہ کسی کو خبر تک نہ ہو۔ (ترمذی ، نسائی)
نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن سات لوگ اللہ کے عرش کے سائے میں ہوں گے، ان میں سے ایک وہ شخص ہے جو اس طرح صدقہ کرے کہ اس کے بائیں ہاتھ کو معلوم نہ ہو کہ دائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا۔ (بخاری، مسلم)
اس کے باوجود کہ انفاق فی سبیل اللہ میں شریعت اسلامیہ نے چھپ کر دینے کی خصوصی تعلیمات دی ہیں، لیکن بعض مواقع پر اعلانیہ خرچ کرنے میں بھی مصلحت ہوتی ہے، جیساکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ذکر فرمایا ہے، جن میں سے بعض آیات یہ ہیں:
جو لوگ اپنے مالوں کو رات دن چھپ کر اور اعلانیہ خرچ کرتے ہیں، ان کے لئے ان کے رب کے پاس اجر ہے۔ اور نہ انہیں خوف ہے اور نہ غمگینی۔  (سورۂ البقرۃ۴ ۲۷)
جو کچھ ہم نے انہیں دے رکھا ہے اسے چھپ کر اور اعلانیہ خرچ کرتے ہیں۔۔۔۔ ان ہی کے لئے عاقبت کا گھر ہے۔ (سورۂ الرعد ۲۲)
جو کچھ ہم نے انہیں عطا فرمایا ہے اس میں سے چھپ کر اور اعلانیہ خرچ کرتے ہیں۔وہ ایسی تجارت کے امیدوار ہیں جو کبھی خسارہ میں نہیں ہوگی۔ (سورۂ الفاطر ۲۹)
ان مذکورہ آیات سے معلوم ہوا کہ ہم اعلانیہ بھی اللہ تعالیٰ کے بندوں کی مدد کرسکتے ہیں، جبکہ دیگر آیات واحادیث میں چھپ کر اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کی ترغیب ملتی ہے۔۔۔ علماء کرام نے ان آیات واحادیث کے ظاہری اختلاف کے درمیان کچھ اس طرح تطبیق کی ہے کہ زکوٰۃ کی ادائیگی اعلانیہ ہونی چاہئے، تاکہ اس سے دوسروں کو بھی رغبت ملے ، اور زکوٰۃ کی ادائیگی سے متعلق دوسروں کے شک وشبہات بھی دور ہوجائیں۔ لیکن صدقات اور قرض حسن کی عموماً ادائیگی چھپ کر ہی ہونی چاہئے۔
مگر اس حکمت بالغہ کے باوجود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  اور صحابہ کرام کے زمانہ میں بے شمار مرتبہ زکوٰۃ کے علاوہ دیگر صدقات بھی اعلانیہ جمع کئے گئے ہیں۔ نیز اعلانیہ خرچ کرنے سے بچنے کی اصل حکمت یہ ہے کہ ریا اور شہرت مطلوب نہ ہوجائے، کیونکہ ریا،شہرت اور دکھاوا اعمال کی بربادی کے اسباب میں سے ہیں۔ لہذا خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کے واسطے غریب، محتاج، یتیم اور بیواؤں کی مدد کے لئے اگر کسی پروگرام میں اعلانیہ قرض حسن دیا جائے، تو ان شاء اللہ یہ دکھاوے میں نہیں آئے گا کیونکہ یہ ضروری نہیں ہے کہ جو کام بھی کھلم کھلا کیا جائے وہ ریا ہی ہو، بلکہ دوسروں کو ترغیب دینے کے لئے بھی وقتاً فوقتاً اس طرح کے پروگرام منعقد ہونے چاہئیں ،جیساکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  اور صحابہ کرام کے زمانہ میں جنگوں کے موقعوں پر اعلانیہ صدقات جمع کئے جاتے تھے۔ اگر صدقات اور قرض حسن میں اللہ جل شانہ کی رضا اور خوشنودی حاصل کرنا اصل مطلوب ومقصود ہو توکسی مصلحت سے اس کا اعلان بھی کیا جائے تو وہ ان شاء اللہ ریا میں داخل نہیں ہوگا ۔
قرض حسن یا انفاق فی سبیل اللّٰہ کو ضائع کرنے والے اسباب:
اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول مطلوب نہ ہو۔
ریا یعنی شہرت مطلوب ہو۔
احسان جتانا مقصود ہو۔
قرض حسن یا صدقہ دے کر لینے والے کو طعنہ وغیرہ دے کر تکلیف پہونچائی جائے۔
لہذا صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے کسی کی مدد کی جائے جیساکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا:
اے ایمان والو! اپنی خیرات کو احسان جتاکر اور ایذا پہنچاکر برباد نہ کرو، جس طرح وہ شخص جو اپنا مال لوگوں کے دکھاوے کے لئے خرچ کرے۔  (سورۂ البقرۃ۴ ۲۶)
جو لوگ اپنا مال اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں پھر اس کے بعد نہ تو احسان جتاتے ہیں نہ ایذا دیتے ہیں، ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے، ان پر نہ تو کچھ خوف ہے نہ وہ اداس ہوں گے۔  (سورۂ البقرۃ۲۶۲)
ان لوگوں کی مثال جو اپنا مال اللہ تعالیٰ کی رضامندی کی طلب میں دل کی خوشی سے خرچ کرتے ہیں۔ (سورۂ البقرہ ۲۶۵)
تنگ دستی اور حاجت کے وقت میں بھی اللّہ کی راہ میں خرچ کریں:
قرض حسن یا صدقات کے لئے ضروری نہیں ہے کہ ہم بڑی رقم ہی خرچ کریںیا اسی وقت لوگوں کی مدد کریں جب ہمارے پاس دنیاوی مسائل بالکل ہی نہ ہوں بلکہ تنگ دستی کے ایام میں بھی حسب استطاعت لوگوں کی مدد کرنے میں ہمیں کوشاں رہنا چاہئے، جیساکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
جو محض خوشحالی میں ہی نہیں بلکہ تنگ دستی کے موقع پر بھی خرچ کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان کے رب کی طرف سے اس کے بدلہ میں گناہوں کی معافی ہے اور ایسی جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔ (سورہ آل عمران۱۳۴)
جو مال سے محبت کرنے کے باوجود رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں اور سوال کرنے والے کو دے۔
مفسرین نے تحریر کیا ہے کہ مال کی محبت سے مراد مال کی ضرورت ہے۔ یعنی ہمیں مال کی ضرورت ہے، اس کے باوجود ہم دوسروں کی مدد کے لئے کوشاں ہیں ۔  (سورۂ البقرہ ۱۷۷)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  سے سب سے بہتر صدقہ کے متعلق سوال کیا گیا۔ آپ ا نے فرمایا : اس حال میں بھی خرچ کرو کہ تم صحیح سالم ہو اور زندگی کی توقع بھی ہو، اپنے غریب ہوجانے کا ڈر اور اپنے مالدار ہونے کی تمنا بھی ہو۔ یعنی تم اپنی ضرورتوں کے ساتھ دوسروں کی ضرورتوں کوپورا کرنے کی فکریں کرو۔ (بخاری، مسلم)
قرض حسن یا انفاق فی سبیل اللّٰہ سے مال میں کمی واقع نہیں ہوتی ہے:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: صدقہ کرنے سے مال میں کمی نہیں ہوتی ہے۔ (مسلم)
کسی کی مدد کرنے سے بظاہر مال میں کمی تو واقع ہوتی ہے، لیکن درحقیقت اس سے مال میں کمی نہیں ہوتی ہے ،بلکہ آخرت میں بدلہ کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ اس کا بدلہ دنیا میں بھی عطا فرماتا ہے، جیسا کہ قرآن کی آیات اور نبی اکرم ا کے ارشادات میں تفصیل سے مذکور ہے۔
انفاق فی سبیل اللّٰہ کے فضائل:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: اگر میرے پاس اُحد پہاڑ کے برابر بھی سونا ہو تو مجھے یہ بات پسند نہیں کہ میرے اوپر تین دن گزر جائیں اس حال میں کہ میرے پاس اس میں سے کچھ بھی باقی رہے، سوائے اس کے کہ کوئی چیز قرض کی ادائیگی کے لئے رکھ لی جائے۔ (بخاری، مسلم)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: روزانہ صبح کے وقت ۲ فرشتے آسمان سے اترتے ہیں۔ ایک دعا کرتا ہے : اے اللہ! خرچ کرنے والے کو بدل عطا فرما۔ دسرا دعا کرتا ہے : اے اللہ! مال کو روک کر رکھنے والے کے مال کو برباد کر۔ (بخاری، مسلم)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا دونوں جنت میں اس طرح ہوں گے جیسے دو انگلیاں آپس میں ملی ہوئی ہوتی ہیں۔ (بخاری)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: مسکین اور بیوہ عورت کی مدد کرنے والا اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے۔ ( بخاری،مسلم)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: جو شخص کسی مسلمان کو ضرورت کے وقت کپڑا پہنائے گا، اللہ تعالیٰ اس کو جنت کے سبز لباس پہنائے گا۔ جوشخص کسی مسلمان کو بھوک کی حالت میں کچھ کھلائے گا، اللہ تعالیٰ اس کو جنت کے پھل کھلائے گا۔ جو شخص کسی مسلمان کو پیاس کی حالت میں پانی پلائے گا، اللہ تعالیٰ اس کو جنت کی ایسی شراب پلائے گا، جس پر مہر لگی ہوئی ہوگی۔ ( ابوداؤد، ترمذی)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: تمہیں اپنے کمزوروں کے طفیل سے رزق دیا جاتا ہے اور تمہاری مدد کی جاتی ہے۔ (بخاری)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: اگر تمہارا خادم تمہارے لئے کھانا بناکر لائے تو اسے اپنے ساتھ بٹھا کر کھلاؤ یا اس کھانے میں سے کچھ دیدو، اس لئے کہ آگ کی تپش اور دھوئیں کی تکلیف تو اس نے برداشت کی ہے۔ (ابن ماجہ)
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ ایک عورت اپنی دو بیٹیوں کے ساتھ کچھ مانگنے کے لئے میرے پاس آئی۔ میرے پاس ایک کھجور کے علاوہ کچھ بھی نہیں تھا،جو میں نے اس عورت کو دے دی، اس عورت نے وہ کھجور دونوں بیٹیوں کو تقسیم کردی اور خود نہیں کھائی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کے تشریف لانے پر میں نے اس واقعہ کا ذکر فرمایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: جس شخص کا بیٹیوں کی وجہ سے امتحان لیا جائے اور وہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے تو یہ بیٹیاں اس کے لئے جہنم کی آگ سے آڑ بنیں گی ( بخاری،مسلم)۔
*
معلوم ہوا کہ تمام نبیوں کے سردار حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کی خواہش ہے کہ ہم اپنے مال ودولت کی ایک مقدار محتاج، غریب، مساکین اور یتیم وبیواؤں پر خرچ کریں۔
عام قرض کا بیان:
اب تک اُس قرض کا ذکر کیا گیا جس کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں قرض حسن سے تعبیر کیا ہے جس سے مراد اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے اللہ کے بندوں کے مدد کرنا ہے۔ اب تھوڑی وضاحت عام قرض کے متعلق بھی تحریر کررہا ہوں:
اگر کوئی شخص کسی خاص ضرورت کی وجہ سے قرض مانگتا ہے تو قرض دے کر اس کی مدد کرنا باعث اجروثواب ہے، جیساکہ قرآن وحدیث کی روشنی میں علماء کرام نے تحریر فرمایا ہے کہ ضرورت کے وقت قرض مانگنا جائز ہے اور اگر کوئی شخص قرض کا طالب ہو تو اس کو قرض دینا مستحب ہے، کیونکہ شریعت اسلامیہ نے قرض دے کر کسی کی مدد کرنے میں دنیا وآخرت کے بہترین بدلہ کی ترغیب دی ہے ، لیکن قرض دینے والے کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے فائدہ کے لئے کوئی شرط نہ لگائے، مثلاً میں تمہیں قرض دیتا ہوں بشرطیکہ تم میرا فلاں کام کردو، البتہ قرض لیتے اور دیتے وقت ان احکام کی پابندی کریں جو سورۂ البقرہ کی آیت ۲۸۲ میں اللہ تعالیٰ نے بیان کئے ہیں، یہ آیت قرآن کی سب سے لمبی آیت ہے، اور اس میں قرض کے احکامات ذکر کئے گئے ہیں۔ قرآن وحدیث میں متعدد جگہوں پر محتاج لوگوں کی ضرورت پوری کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔
بھلائی کے کام کرو تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ۔ (سورہ الحج ۷۷)
اچھے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو۔ (سورہ المائدہ ۲)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: جس شخص نے کسی مسلمان کی کوئی بھی دنیاوی پریشانی دور کی ، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی پریشانیوں کو دور فرمائے گا۔ جس نے کسی پریشان حال آدمی کے لئے آسانی کا سامان فراہم کیا، اللہ تعالیٰ اس کے لئے دنیاو آخرت میں سہولت کا فیصلہ فرمائے گا۔ اللہ تعالیٰ اس وقت تک بندہ کی مدد کرتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد کرتا رہے۔ (مسلم)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: اگر کوئی مسلمان کسی مسلمان کو دو مرتبہ قرضہ دیتا ہے تو ایک بار صدقہ ہوتا ہے۔ (نسائی ، ابن ماجہ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: شب معراج میں میں نے جنت کے دروازہ پر صدقہ کا بدلہ ۱۰ گنا اور قرضہ دینے کا بدلہ ۱۸ گنا لکھا ہوا دیکھا۔ میں نے کہا اے جبرئیل! قرض صدقہ سے بڑھ کر کیوں؟ جبرئیل علیہ السلام نے فرمایا کہ سائل مانگتا ہے جبکہ اس کے پاس کچھ مال موجود بھی ہو، اور قرضدار ضرورت کے وقت ہی سوال کرتا ہے۔ ( ابن ماجہ)
حضرت ابودرداء ؓ فرماتے ہیں کہ میں کسی مسلمان کو ۲ دینار قرض دوں، یہ میرے نزدیک صدقہ کرنے سے زیادہ بہتر ہے۔ ۔۔ (کیونکہ قرض کی رقم واپس آنے کے بعد اسے دوبارہ صدقہ کیا جاسکتا ہے یا اسے بطور قرض کسی کو دیا جاسکتا ہے، نیز اس میں واقعی محتاج کی ضرورت پوری ہوتی ہے)۔ (السنن الکبری للبیہقی)

خلاصہ بحث:
اللہ تعالیٰ نے مال ودولت کو انسان کی ایسی دنیاوی ضرورت بنائی ہے کہ عموماً اس کے بغیر انسان کی زندگی دوبھر رہتی ہے۔ مال ودولت کے حصول کے لئے اللہ تعالیٰ نے انسان کو جائز کوششیں کرنے کا مکلف تو بنایا ہے مگرانسان کی جد وجہد اور دوڑ دھوپ کے باوجود اس کی عطا اللہ تعالیٰ نے اپنے اختیار میں رکھی ہے، چاہے تو وہ کسی کے رزق میں کشادگی کردے اور چاہے تو کسی کے رزق میں تمام دنیاوی اسباب کے باوجود تنگی پیدا کردے۔
مال ودولت کے حصول کے لئے انسان کو خالقِ کائنات نے یوں ہی آزاد نہیں چھوڑ دیا کہ جیسے چاہو کماؤ ، کھاؤ۔ بلکہ اس کے اصول وضوابط بنائے تاکہ اس دنیاوی زندگی کا نظام بھی صحیح چل سکے اور اس کے مطابق آخرت میں جزا وسزا کا فیصلہ ہوسکے۔ انہیں اصول وضوابط کو شریعت کہا جاتا ہے جسمیں انسان کو یہ رہنمائی بھی دی جاتی ہے کہ مال کس طرح کمایا جائے اور کہاں کہاں خرچ کیا جائے۔
اپنے اور بال وبچوں کے اخراجات کے بعد شرائط پائے جانے پر مال ودولت میں زکوٰۃ کی ادائیگی فرض کی گئی ہے۔ اسلام نے زکوٰۃ کے علاوہ بھی مختلف شکلوں سے محتاج لوگوں کی ضرورتوں کو پورا کرنے کی ترغیب دی ہے تاکہ جس معاشرہ میں ہم رہ رہے ہیں اس میں ایک دوسرے کے رنج وغم میں شریک ہو سکیں۔ انہیں شکلوں میں سے ایک شکل قرض حسن بھی ہے کہ ہم غریبوں اور محتاجوں کی مدد کریں، یتیموں اور بیواؤں کی کفالت کریں، مقروضین کے قرضوں کی ادائیگی کریں اور آپس میں ایک دوسرے کو ضرورت کے وقت قرض دیں، تاکہ اللہ تعالیٰ دنیا میں بھی ہمارے مال میں اضافہ کرے اور آخرت میں بھی اس کا اجر وثواب دے۔
عزیز بھائیو! اس فانی دنیاوی زندگی کا اصل مطلوب ومقصود اخروی زندگی میں کامیابی حاصل کرنا ہے، جہاں ہمیں ہمیشہ ہمیشہ رہنا ہے، موت کو بھی وہاں موت آجائیگی ، اور جہاں کی کامیابی ہمیشہ کی کامیابی وکامرانی ہے۔ لہذا ہم :
اللہ تعالیٰ کے احکامات نبی اکرم اکے طریقہ پر بجا لائیں۔
صرف حلال رزق پر اکتفاء کریں، خواہ بظاہر کم ہی کیوں نہ ہو۔
حتی الامکان مشتبہ چیزوں سے بچیں۔
زکوٰۃ کے واجب ہونے کی صورت میں زکوٰۃ کی ادائیگی کریں۔
اپنے اور بال وبچوں کے اخراجات کے ساتھ وقتاً فوقتاً قرض حسن اور مختلف صدقات کے ذریعہ محتاج لوگوں کی ضرورتوں کو پورا کرنےکی کوشش کریں۔
اس بات کا ہمیشہ خیال رکھیں کہ کل قیامت کے دن ہمارے قدم ہمارے پروردگار کے سامنے سے ہٹ نہیں سکتے جب تک کہ ہم مال کےمتعلق سوالات کا جواب نہ دے دیں کہ کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا۔
محمد نجیب قاسمی، ریاض (This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.)