بسم الله الرحمن الرحيم

اَلْحَمْدُ لِله رَبِّ الْعَالَمِيْن،وَالصَّلاۃ وَالسَّلام عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن

70 سال گزرنے کے بعد بھی شراب پر پابندی کیوں نہیں؟

ڈاکٹر محمد نجیب قاسمی سنبھلی

ایک ارب اور پچیس کروڑ آبادی والے ہندوستان میں سینکڑوں سال سے مختلف مذاہب کے ماننے والے لوگ ایک ساتھ رہ رہے ہیں۔ ہندوستان میں موجود تمام مذاہب میں شراب نوشی یا تو حرام ہے یا نقصان دہ ہونے کی وجہ سے اس سے بچنے کی تعلیم دی گئی ہے۔ کسی بھی مذہب میں شراب نوشی کی ترغیب موجود نہیں ہے۔ نیز آزادی کے بعد ہندوستان کے دستور میں یہ تحریر کیا گیا کہ پورے ہندوستان میں شراب نوشی پر پابندی لگانے کی کوشش کی جائے۔ مگر افسوس کی بات ہے کہ ملک کی آزادی کے ۷۰ سال گزرنے کے باوجود شراب نوشی پر مکمل طور پر پابندی آج تک نہیں لگائی جاسکی۔ ہاں بعض صوبوں میں آج بھی پابندی ہے۔ بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے بہار میں شراب نوشی پر پابندی لگاکر ایک قابل ستائش کام کیا ہے۔ اس وقت ہندوستان کے ۱۳ صوبوں میں بی جے پی کی حکومت اور چار صوبوں میں بی جے پی کی تایید سے دوسری پارٹیوں کی حکومتیں قائم ہیں، نوٹ بندی،گوشت بندی اور طلاق بندی جیسے مسائل پر تو بی جے پی سرگرم ہے لیکن اِن ۱۷ صوبوں میں سے گجرات کے علاوہ کسی بھی صوبہ میں شراب بندی نہیں ہے، اور یہ پابندی بھی بی جے پی نے نہیں لگائی ہے بلکہ آزادی کے بعد سے یہ پابندی چلی آرہی ہے۔ حالانکہ ہر خاص وعام جانتا ہے کہ ہندوستان میں فروخت ہونے والی شراب عام لوگوں کی صحت کے لیے انتہائی مضر ہے۔ شراب نہ صرف پینے والوں کی صحت کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ وہ اقتصادی، ماحولیاتی اور سماجی متعدد پہلؤوں سے بھی ملک کے پورے معاشرہ کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ مگر شراب پر عائد ٹیکسوں کے ذریعہ بے تحاشہ حاصل ہونے والی رقم کی وجہ سے صوبائی حکومتیں شراب نوشی پر پابندی لگانے کے لیے تیار نہیں ہیں ۔ انگریزی اخبار The Hindu کے Business Line کے مطابق تامل ناڈو کی شراب بنانے والی صرف ایک مشہور کمپنی (Tasmac) نے ۲۰۱۲ میں ۲۲ ہزار کروڑ روپیہ تامل حکومت کو بطور ٹیکس ادا کیا۔ کیرالا جہاں حکومت کی آمدنی کا ۲۲ فیصد شراب نوشی سے ہوتا ہے، میں آٹھ ہزار کروڑ روپئے شراب پر عائد ٹیکس کے ذریعہ حاصل ہوتے ہیں۔ غرضیکہ جن صوبوں میں شراب پر پابندی نہیں ہے، وہاں حکومت کو عام لوگوں کے خون پسینے کی محنت سے کمائی گئی رقم کا بڑا حصہ ٹیکس کی شکل میں ملتا ہے جو حکومت کی مجموعی آمدنی کا کم وبیش۲۰ فیصد ہے۔ 

آزادی کے بعد سے نافذ قوانین میں سے کچھ قوانین کو مرکزی حیثیت حاصل ہے، جو پورے ہندوستان کے لیے ہوتے ہیں، دہلی مرکز کی حکمراں پارٹی اُس کے نفاذ کی ذمہ دار ہوتی ہے، جبکہ کچھ قوانین صوبائی ہیں، جن کے متعلق ہر صوبہ اپنی خود پالیسی بناکر اس کو نافذ کرتا ہے۔ گائے کاٹنے اور اس کا گوشت کھانے کا قانون بھی صوبائی (State List) ہے یعنی ہر صوبائی حکومت اپنے صوبہ کے لیے فیصلہ کرنے میں آزاد ہے۔ اسی وجہ سے بعض صوبوں میں آزادی کے بعد سے ہی گائے کاٹنے اور اس کا گوشت کھانے وفروخت کرنے کی مکمل اجازت ہے، جبکہ دیگر صوبوں میں گؤ کشی کی اجازت نہیں ہے۔ اسی طرح شراب بھی صوبائی قانون کے تحت آتا ہے۔ چنانچہ بعض صوبوں مثلاً گجرات، بہار، ناگالینڈ، منی پور اور لکشادیپ میں آج بھی شراب پر مکمل پابندی ہے۔ کیرالا میں ۲۰۲۴ تک شراب پر مکمل پابندی کا ہدف سامنے رکھ کر ۲۰۱۴ سے جزوی پابندی نافذ کردی گئی ہے ۔ آندھراپردیش، ہریانہ، میزورم اور تامل ناڈو جیسے اہم صوبوں میں بھی متعدد مرتبہ شراب نوشی اور اس کی خرید وفروخت پرپابندی عائد رہی ہے۔ نیز زیادہ تر صوبوں میں ۲۱ سال سے کم عمر والے شخص پر شراب پینے پر پابندی ہے، بعض صوبوں میں ۲۵ سال کی عمر سے کم والے شخص پر شراب پینے کی پابندی ہے، جبکہ چند صوبوں میں یہ عمر ۱۸ سال ہے۔ قومی وعلاقائی ومذہبی تہوار کے موقع پر بھی شراب کی دکانیں بند رہتی ہیں۔ 

غرضیکہ ہندوستانی قوانین کی روح کا تقاضا ہے کہ شراب نوشی اور اس کے کاروبار پر پابندی لگائی جائے۔ اور ہندوستان میں موجود مذاہب کی تعلیمات کا تقاضا بھی یہی ہے کہ شراب نوشی پر پابندی عائد کی جائے۔ تین طلاق کے متعلق قرآن پڑھے بغیر قرآن کی آیات کا حوالہ دینے والوں کو چاہئے کہ وہ شراب کے متعلق تمام مذہبی تعلیمات خاص کر قرآن وحدیث کا مطالعہ کریں۔ ہندوستان میں سب سے زیادہ ہندو مذہب کے ماننے والے لوگ ہیں۔ ہندو مذہب کی کتابوں میں تحریر ہے کہ شراب پینا گناہ ہونے کی وجہ سے منع ہے اور شراب پینے والوں کو بڑی سزا ملنی چاہئے، البتہ دوا کے طور پر شراب کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ہندوستان میں دوسرے نمبر پر مسلمان ہیں۔ مذہب اسلام نے شراب نوشی کو حرام قرار دے کر شراب کا کاروبار کرنے والوں، شراب کے کارخانوں میں ملازمت کرنے والوں، شراب فروخت کرنے والوں، شراب پینے والوں حتی کہ کسی بھی طریقہ سے شراب کے ذریعہ آمدنی حاصل کرنے والوں پر لعنت بھی فرمائی ہے۔ شریعت اسلامیہ میں شراب پینے کو انسان کو ہلاک کرنے والے سات بڑے گناہوں میں سے ایک قرار دیا گیا۔ سورۃ المائدہ آیت ۹۰ میں شراب نوشی کو اللہ تعالیٰ نے شیطانی کام قرار دے کر اُس سے دور رہنے کی تعلیم دی اور فرمادیا کہ کامیابی اسی میں ہے کہ شراب کے قریب بھی نہ جاؤ۔ غرضیکہ قرآن وحدیث کی روشنی میں پوری امت مسلمہ کا اتفاق ہے کہ شراب پینا حرام ہے خواہ مقدار میں کم ہی کیوں نہ ہو۔ پہلے شراب عموماً بعض چیزوں مثلاً انگور کو سڑاکر بنائی جاتی تھی جس کو دیسی شراب کہتے ہیں۔ اب نئی ٹکنولوجی کے ذریعہ بھی شراب تیار ہوتی ہے، جس کو انگریزی شراب کہتے ہیں۔ لیکن شرعی اعتبار سے دونوں کا ایک ہی حکم ہے کہ ہر وہ چیز جو نشہ پیدا کرے اس کا پینا حرام ہے، جیسا کہ حضور اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ہر نشہ آورچیز حرام ہے۔ مسلم

عیسائی مذہب جو ملک کی آبادی کا 2.3 فیصد ہے، میں شراب نوشی کے متعلق دو رائے ہیں، ایک رائے کے مطابق شراب پینا حلال ہے، لیکن اتنی مقدار میں شراب پینا کہ عقل چلی جائے غلط ہے۔ عیسائی مذہب کے ماننے والے دیگر حضرات کا موقف ہے کہ شراب پینا گناہ ہے اور اس سے بچنا ضروری ہے، حتی کہ بعض عیسائی حضرات چائے اور کوفی تک بھی نہیں پیتے ۔ عیسائی مذہب میں شراب کی حرمت کی رائے اختیار کرنے والے پادریوں نے انجیل سے ہی ثابت کیا ہے کہ شراب پینا حرام ہے اور شراب کی حلت کے قائلین کے دلائل کا مدلل جواب بھی دیا ہے جو اُن کی کتابوں میں مذکور ہے۔ ہندوستان کی آبادی کا 1.7فیصد لوگ سکھ مذہب کو مانتے ہیں، جس کی ابتدا گرونانک صاحب نے پنجاب میں کی تھی۔ سکھ مذہب میں شراب پینا سختی کے ساتھ منع ہے۔ بدھ مذہب کے پیروکار عام طور پر شراب نوشی سے اجتناب کرتے ہیں کیونکہ اس میں نقصانات بہت زیادہ ہیں۔ جین مذہب کے ماننے والے شراب نوشی کے سخت خلاف ہیں کیونکہ ان کی مذہبی تعلیمات کے مطابق الکوہل کے مشروبات کی بالکل اجازت نہیں ہے۔ غرضیکہ ہندوستان کے دستور کے ساتھ گنگا جمنی تہذیب والے اِس ملک کے باشندوں کی مذہبی تعلیمات میں بھی شراب نوشی سے بچنا ہے۔

شراب پینے کے بعض فوائد ہیں لیکن مجموعی طور پر شراب پینے کے نقصانات بہت زیادہ ہیں، جیساکہ ہم اپنی آنکھوں سے ایسے لوگوں کے احوال دیکھتے ہیں جو شراب پینے کے عادی بن جاتے ہیں۔ ۲۵ مئی ۲۰۱۶ کو The Indian Express میں شائع شدہ رپورٹ کے مطابق شراب نوشی کی وجہ سے ہر ۹۶ ویں منٹ میں ایک شخص کی موت واقع ہوجاتی ہے۔ اسی اخبار کی رپورٹ کے مطابق بڑے جرائم اور حادثات کرنے والے زیادہ تر لوگ شراب پینے والے لوگ ہوتے ہیں۔ اسی طرح خواتین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ اور چوری ڈکیتی کرنے والے لوگ بھی عموماً شرابی ہوتے ہیں۔ رپورٹ میں تامل ناڈو میں ۳۰ سال سے کم کی عمر والی عورتوں کے بڑی تعداد میں بیوہ ہونے کی اصل وجہ شراب نوشی کو بیان کیا گیا ہے۔ اسی اخبار میں اقتصادیات کے ایک ماہر کا تجزیہ ذکر کیا گیا کہ کیرالا کے ہسپتالوں میں داخل مریضوں میں سے ۲۵ فیصد مریض نشہ کے شکار ہوتے ہیں، نیز جرائم کرنے والوں میں سے ۶۹ فیصد لوگ نشہ کی حالت میں ہوتے ہیں۔ ملک میں صاف شفاف ہوا کے لیے آواز اٹھائی جاتی ہے لیکن شراب بنانے والی فیکٹریوں کے ذریعہ جو فضا میں آلودگی پیدا ہوتی ہے وہ لوگوں کی صحت کے لیے بہت نقصان دہ ہے، اس کے لیے کوئی آواز نہیں اٹھائی جاتی۔ 

ہندوستان کے مشہور انگریزی اخبار The Hinduکی رپورٹ کے مطابق ۷۰ فیصد سڑکوں کے حادثات شراب نوشی کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ NDTV کی خبر کے مطابق ہندوستان میں ہر چار منٹ میں سڑک حادثہ میں ایک آدمی مرجاتا ہے۔ صرف ۲۰۱۳ میں سڑک حادثوں میں مرنے والوں کی تعداد ایک لاکھ سینتیس ہزار سے زیادہ ہے جو ہندوستان کی جنگوں میں مرنے والوں کی مجموعی تعداد سے بھی کہیں زیادہ ہے۔ یہ تو وہ تعداد ہے جو دستاویزوں میں درج ہے، حقیقت میں مرنے والوں کی تعداد اس سے بھی زیادہ ہوسکتی ہے۔ ہزاروں افراد سڑک حادثہ کا شکار ہوکر ہمیشہ کے لیے دوسروں کے محتاج بن جاتے ہیں۔ شراب کی وجہ سے بڑھ رہے سڑک حادثوں پر لگام لگانے کے لیے حال ہی میں سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ ہائی وے کے ۵۰۰ میٹر کے دائرے میں شراب فروخت نہیں کی جاسکتی۔ اندازہ لگائیں کہ شراب نوشی کی وجہ سے کتنی عورتیں بیوائیں ہوتی ہیں، کتنے بچے یتیم بن جاتے ہیں، کتنے بچے گھر کے سرپرست کو کھو دینے کی وجہ سے تعلیم سے محروم رہ جاتے ہیں، غرضیکہ ہمارا پورا معاشرہ شراب نوشی کی وجہ سے پوری طرح سے متاثر ہے۔ کتنے گھروں میں شراب نوشی کی وجہ سے روزانہ جھگڑے ہوتے ہیں۔ شراب پینے والے لوگ گھر کے ضروری اخراجات پر شراب خریدکر پینے کو ترجیح دیتے ہیں۔ بچے بھوک سے لاچار ہیں اور بچوں کی تعلیم کے لیے فیس جمع نہیں کی گئی لیکن شراب کا عادی گھر کے ضروری اخراجات کو چھوڑکر شراب کی دکان پر جاکر صحت کے لیے انتہائی مضر شراب پیتا ہے۔ 

تین طلاق کے نام پر مسلم خواتین کے ساتھ سیاسی ہمدردی کا اظہار کرنے والوں کو جاننا چاہئے کہ ہندوستان کی عدالتوں سے حاصل ہوئی معلومات کے مطابق مسلم خواتین کے مقابلہ میں ہندو خواتین طلاق سے کہیں زیادہ متاثر ہیں۔ اور یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ طلاق کے مقابلہ میں شراب نوشی کی وجہ سے خواتین زیادہ متاثر ہیں، شراب کے نشہ میں چور ہوکر شوہر اُن کی پٹائی کرتا ہے، شراب پی کر ڈرائیونگ کرنے کی وجہ سے ہوئے سڑک حادثوں میں کتنی خواتین بیوہ ہوجاتی ہیں؟ خواتین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے والے زیادہ تر لوگ شراب پینے والے ہوتے ہیں۔ اسی لیے ہندوستان میں شراب پر پابندی کے لیے خواتین سب سے آگے رہتی ہیں۔ لہٰذا خواتین کے ساتھ ہمدردی یہ نہیں کہ تین طلاق کے نام پر سیاست کی جائے بلکہ سچی ہمدردی یہ ہے کہ شراب پر مکمل پابندی عائد کرکے خواتین کی دلی تسکین کا سامان مہیا کیا جائے۔ 

یقیناًانسان اپنے لباس اور کھانے پینے میں آزادی کا خواہش مند ہوتا ہے، لیکن دنیا کے اصول وضوابط اور اجتماعی زندگی کسی حد تک اس کی خواہش پر قدغن لگادیتی ہے۔ اگر کوئی شخص برہنہ ہوکر سڑک پر گھومے تو اس کے خلاف کاروائی کی جاتی ہے۔ زہر کھانا قانوناً جرم ہے ، غیر صحی غذائیں فراہم کرنے والے ہوٹل بند کردئے جاتے ہیں۔ اسی طرح شراب نوشی کے نقصانات انفرادی اور اجتماعی اتنے زیادہ ہیں کہ وہ پورے معاشرہ کے لیے مہلک ثابت ہورہے ہیں، اس لیے حکومت کو چاہئے کہ وہ شراب نوشی کے ذریعہ حاصل ہونے والی بڑی رقم کو نہ دیکھ کر عام لوگوں کی صحت، خوشگوار زندگی اور معاشرہ کو بہتر بنانے کے لیے شراب نوشی پر مکمل طور پر پابندی نافذ کریں۔ اگر فوری طور پر شراب نوشی پر مکمل پابندی عائد کرنا مشکل ہے تو سخت شرائط لگاکر جزوی پابندی لگائی جائے تاکہ ملک کو دستور کے مطابق آہستہ آہستہ شراب نوشی سے پاک کیا جاسکے۔ اگر شراب کی فیکٹریوں اور دکانوں پر قانونی کاروائی شروع کردی جائے تو قوانین پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے زیادہ تر فیکٹریوں اور دکانوں پر خود ہی تالے لگ جائیں گے۔ 

 

ڈاکٹر محمد نجیب قاسمی سنبھلی (www.najeebqasmi.com)

بسم الله الرحمن الرحيم

اَلْحَمْدُ لِله رَبِّ الْعَالَمِيْن،وَالصَّلاۃ وَالسَّلام عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن